زندگی اک سایہ ہے۔جہاں ہر مسافر کچھ دیر آرام کرنے ،جی بہلانے ،سستانے بیٹھ جاتے ہیں۔پھر منزلِ مقصود کی طرف اٹھ کے چلے جاتے ہیں۔زندگی اک خواب ہے جس کی تعبیر ڈھونڈتے ڈھونڈتے زندگیاں بیت جاتی ہیں۔زندگی کے اس سفر میں قدم قدم پر یادیں بکھری پڑی ہیں۔اب ان موتیوں کو اک لڑی میں پرونے کی کوشش کرتا ہوں تو قلم کی روانی میں تیزی آجاتی ہے۔طبیعت پر غم و خوشی کی ملی جلی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔کس قدر جلدی میں یہ حسین اوقات ماضی کا حصہ بن گئے۔بقول سراجی
کراچی تیری گلیوں میں ہماری
جوانی کی حسِیں یادیں پڑی ہیں
یادِ ایام لکھ رہا ہوں۔یادیں قطار میں کھڑی ہیں۔آنکھیں بند کرتا ہوں تو چشمِ تصوُّر کے سامنے آکر ایسا لگتا ہے کہ ماضی کی یادیں نہیں بلکہ اُسی حال میں جی رہا ہوں۔اک اہم یاد کا نام رجب ہے۔خود نام کے ساتھ نورانی کا لاحقہ بھی زیادہ کرتے ہیں۔ہریکون نامی اک گاوں سے تعلق ہے۔جو بلتستان ضلع گنگچھے کا اک بستی ہے۔اک طویل عرصہ ہم پیالہ و ہم نوالہ رہا۔اک ہی درسگاہ میں صبح و شام اک ساتھ گزارے۔میانہ قد ،گورے رنگت،البیلی اداوں کا مالک ہے۔جلالی طبیعت میں اک خاص جوش و جنون کا رنگ ہے۔اک متحرک کارکن ،اک بے باک و جوشیلا مقرر،علوم اسلامی کا رسیا ،اردو ادب کا عاشق ،مطالعہ و کُتُب بینی سے شغف رکھتے ہیں۔اس بار جب میں کراچی پہنچا تو رجب نے بھی اک ماہ کےلیے کراچی کا رُخ کیا۔تقریبا اک ماہ صبح و شام اک ساتھ بیتانے کا موقع ملا ۔فروری کی سرد و خنک راتیں کراچی کے ہوٹلوں ،کیفوں،کتب خانوں میں بقول گھائل
شب بھر پیوں گا جام کسی بے وفا کے نام
شاعر اس جام سے مُراد کیا لیتے ہیں مجھے نہیں معلوم لیکن میں جام سے مُراد کراچی کوئٹہ کیفوں ،ہوٹلوں میں بنتی چاuے لیتا ہوں۔
بقول شاعر
جامِ جم سےمیرا جامِ سُفال اچھا ہے
ہمارے ہاتھوں میں جمشید بادشاہ کا جادوئی پیالہ تو نہیں لیکن ہم زمیں زادوں کے ہاتھوں میں مٹی کا سادہ پیالہ ہے۔ہاں جی کراچی دو دریا کے کنارے ،نصف شب “کلاک ٹاور “کے بالکل روبرو اک طویل و عریض میدان میں کُرسیاں بچھائے اک کوئٹہ کیفے ہے۔جہاں کی چاے اففف ابوالکلام آزاد نے”غُبار خاطر “میں جس تلخ و تریاک چاے کی قصیدہ خوانی کی ہے۔شاید وہی لذت اُس مٹی کے سادہ پیالے میں ،دو دریا کے سرد و خنک ہواوں کی تھپیڑیں کھاتے پینے میں ہے۔ہم دو سر پھیرے دوست جمعرات کی رات محمود آباد سے نکلتے ہیں۔حس مذاق سے بھرپور ،مرنجاں مرنج طبعیت کے مالک ،علی احمد شگری کی تند و تیز باتیں،شبیر کریسی کی البیلی ادائیں،رجب علی ہریکونی ممدوح کی بے ضرر مگر ازیّت ناک باتیں محفل کو زعفرانِ زار بنا دیتا ہے۔ہمارے یارغار علی احمد و شبیر صاحب دونوں کلفٹن میں حضرت شاہ عبداللہ غازی “کے مزار سے بالکل متصل سکونت پزیر تھے۔خاکسار اور رجب صاحب محمود آباد کے تنگ و تاریک گلیوں میں۔حضرت شاہ غازی کے مزار کی زیارت ،فاتحہ خوانی سے فارغ ہو کر وہاں سے یہ سرپھیرے کاروان پیادہ پا نکلتے ہیں۔رات کے سناٹے میں سمندر کی لہریں ساحل کو چومتی ہے۔اور ہم یہ شعر گنگنانے لگ جاتے ہیں
اک نام کیا لکھا تیرا ساحل کی ریت پر
پھر عمر بھر ہوا سے میری دُشمنی رہی
وہ رات جو ساحل کی ریت پر ،کلاک ٹاور کے روبرو ،مٹی کے سادہ پیالے میں چاے کی چسکی لیتے غم دُنیا سے بے فکر چار دوستوں کی سنگت ہے۔زندگی کی قیمتی ترین لمحات میں سے ہے۔
جنوری 2025کے آخری ایام، ماہ فروری تقریبا مکمل ہم دونوں ساتھ رہے۔عون علی لائیبریری میں راتیں کٹتی رہی۔دونوں کی سیمابی طبیعت میں کچھ کرنے کا جنون مشترک رہا۔اسی قلیل ایام میں مادر علمی کے فارغ التحصیل احباب کے ساتھ دو بار نشستیں ہوئی جن میں درپیش مسائل ،حالات حاضرہ ،آئندہ کے چلینجز ،مطالعہ کُتب کے حوالے سے نہایت شاندار و جاندار باتیں ہوئی۔شاید جزئیات لکھوں تو سلسلہ طویل سے طویل تر ہوجاے بوجہ طوالت قلم زد کرتا چلوں۔اک متحرک دوست کا ساتھ ہونا اس ادبی و علمی سفر میں نہایت ممد و معاون ہے۔اس سفر کا یہ گوشہ یادگار رہا۔جو یادوں کے نہاں خانوں سے اُبھر کر دیار غیر میں ازیت کا سامان فراہم کرتے ہیں ۔
جاری ہے
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں