اردو رباعی کی پہچان محمد نصیر زندہ۔۔۔ وحید ریاست بھٹی

تعارفی تحریر کا آغاز رباعی کی پہچان اور  نمائندہ شاعر جناب محمد نصیر زندہ صاحب کے ایک خوب صورت شعر سے کرتے ہیں کہ
جہاں میں کعبہِ نا آفریدہ حرف ہوں میں
سخن وران فن آؤ  مرا طواف کرو
آج کی نشست کا موضوع جناب نصیر زندہ صاحب کی شخصیت اور ان کا تازہ ترین شعری مجموعہ (میرا دوسرا وجود) ہے ، محمد نصیر زندہ تحصیل کلر سیداں کے ایک عظیم رباعی گو کے طور پر مدتوں یاد رکھے جائیں گے ، بل کہ مجھے کہنے دیں کہ کلر سیداں ایک دن ان کے مبارک حوالہ سے اپنی شناخت برقرار رکھے گا ، ابھی علم کے سوتے بالکل خشک نہیں ہوئے ، شعر و ادب کے مداحین کلر سیداں میں خوب پنپ رہے ہیں ۔ الحمدللہ
زندہ صاحب نہ صرف رباعی کے امام تسلیم کئے جاتے ہیں بل کہ انہوں نے غزل اور نظم میں بھی اپنی فنی مہارت اپنے تازہ ترین مجموعۂ کلام میں دکھائی ہے ، مزید عرضِ حال سے پہلے آئیے رباعی کے متعلق چیدہ چیدہ باتیں جان لیتے ہیں ۔
رباعی عربی زبان کے لفظ “ربع” سے مشتق ہے ، جس کے معنی چار چار کے ہیں ، شاعرانہ مفہوم میں وہ صنفِ کلام جس کے چار مصرعوں میں ایک مکمّل مضمون بیان کیا جا سکے ، پہلے دوسرے اور چوتھے مصرعے میں قافیہ کا التزام لازمی ہے ، رباعی اور قطعہ میں یہ فرق ہے کہ قطعہ میں مصرعوں کی تعداد چار سے زیادہ ہو سکتی ہے مگر رباعی میں صرف دوشعر یا چار مصرعے ہی ہو سکتے ہیں ، دوسری بات کہ رباعی کے لئے ایک خاص بحر مقرر ہے جب کہ قطعہ کے لئے ایسا نہیں ۔
رباعی کے چوبیس اوزان متعین ہیں ، استخراج بحرِ ہزج سے کیا جاتا ہے ، جو کہ 12 شجرہ اخرب اور 12 شجرہ اخرم سے تعلق رکھتے ہیں ، دونوں شجروں میں بحرِ ہزج کے رکنِ اصلی کے 10 فروع استعمال ہوتے ہیں ۔
رباعی کی خصوصیات میں شامل ہے کہ نفسِ مضمون مکمّل اور جامع ہو ، جولانی فکر ایک دم اچھوتی ھو ، اندازِ بیاں نہایت دل نشیں ہو ، اور سب سے اہم بات کہ آخری مصرع جو کہ رباعی کی جان کہلاتا ہے اس میں خیال کی دل کشی سمٹ کر رہ جائے اور سامع دم بہ خود و مست ہو جائے ۔
ہم کہہ سکتے ہیں کہ رباعی بہ اعتبارِ صورت مختصر ترین غزل اور بہ اعتبارِ سیرت مختصر ترین نظم کا نام ہے ، پچیس ، تیس الفاظ کے مرکب سے شاعر وہ عرقِ خیال کشید کرتا ہے کہ سننے ، پڑھنے والے خود کو کسی دوسرے جہاں میں محسوس کرتے ہیں ، رباعی کا جہان پچیس ، تیس الفاظ سے آباد ہوتا ہے ، اس حرم سرا میں صرف ایک ملکہ ہی بسیرا کئے ہوتی ہے جسے ہم “رباعی” کہتے ہیں، شاید خیال کی یہی اثر پذیری پیشِ نظر رکھ کر صوفیاء و حکماء نے اس صنفِ سخن کو اپنی محبوب ترین متاع گردانا ہے ۔
رباعی کے پہلے مصرع میں ایک خیال کی کونپل پھوٹتی ہے ، دوسرے مصرع میں وہ کونپل ایک تناور درخت بن کر سطحِ ذہن پر ابھرتی ہے ، تیسرا مصرع اپنے دامن میں رنگ و نور کے دھارے سمیٹ کر چوتھے مصرع کی خدمت میں پیش کرتا ھے اور پھر چوتھے مصرعہ میں شاعر ایک حسین و دل کش باغِ ارم تخلیق کر دیتا ہے ۔
اردو کے مقابلہ میں یہ صنف فارسی میں زیادہ متداول رہی ہے ، فارسی کا پہلا رباعی گو “رودکی” کو تسلیم کیا جاتا ہے ، عمر خیام نے اسے اوجِ ثریّا تک پہنچایا ، کہا جاتا ہے کہ 1700 ۶ میں ایک دکنی شاعر میر عبدالقادر نے اردو ادب کی پہلی رباعی کہی ، بعد میں شعرائے دہلی نے غزل کے ساتھ ساتھ رباعی کی جانب بھی توجہ مبذول کی جن میں میر ، مصحفی ، انشاء ، درد ، سودا ، جرأت ، میر حسن ، مومن اور مرزا غالب وغیرہم نے بھی اس صنف میں مشقِ سخن دکھائی ، الطاف حسین حالی اور اکبر الہ آبادی نے اصلاح معاشرہ کے لئے اس صنف کا خوب استعمال کیا ، جہاں تک تعلق ہے میر انیس و مرزا دبیر کا تو انہوں نے اس صنف کو حسن و عشق کی چھیڑ چھاڑ سے نکال کر عقائد کی درستی و اخلاقی معراج کی زینت بنایا ، دونوں نام ور شعراء مرثیہ گوئی سے پہلے حاضرینِ مجلس کی روحانی ضیافت کے لئے رباعیات پیش کیا کرتے تھے جن میں سانحۂ کربلا و مصائب اہلِ بیت اطہار علیہم السلام بیان کئے جاتے تھے ۔
ماضی قریب کے شعراء میں سے امجد حیدر آبادی ، آسی سکندر پوری ، شفیق جونپوری ، جوش ملیح آبادی ، یگانہ چنگیزی وغیرہ نے بھی اس صنف میں خوب جوہرِ سخن دکھائے ہیں ۔
پیارے دوستو رباعی کے متعلق بنیادی باتیں عرض کرنے کے بعد اب جناب نصیر زندہ صاحب کے حالیہ شائع شدہ مجموعۂ کلام “میرا دوسرا وجود” کی جانب آتے ہیں ، بلا شبہ نصیر زندہ صاحب کا میدان رباعی ہے مگر انہوں نے غزل اور نظم میں بھی اپنی مشاقیت کا ثبوت پیش کیا ہے اور یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہے ہیں کہ وہ ایک قادر الکلام و ہر فن مولا شاعر ہیں ، بہ طورِ نمونہ ان کی ایک غزل آخر میں آپ کی نگاہوں کی معراج بنے گی ۔
نصیر صاحب پیشہ کے اعتبار سے اردو کے ایک کامیاب مدرس رہے ہیں ، ایک دن ہمارے بینک میں تشریف لائے میں نے ملازمت کے حوالہ سے عرض کی تو انہوں نے ایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ بھٹی صاحب بیس ہزار روپے کے عوض آزادی مہنگی تو نہیں ، میں نے دوبارہ عرض کی حضور میں کم فہم سمجھ نہیں پایا؟ فرمانے لگے نوکری کو طلاق دے دی ہے ، ماہانہ مشاہرہ پنشن کی صورت میں بیس ہزار روپے کم ہو گیا ہے مگر آزادی حاصل کر کے بہت سکون محسوس کر رہا ، پھر گذشتہ دنوں تشریف لائے تو ساتھ طاہر یاسین طاہر بھی تھے ، اپنے ہاتھوں اپنا تازہ ترین شعری مجموعہ عنایت فرمایا ، اس کرم گستری پر میں جناب نصیر زندہ صاحب و برادرم طاہر یاسین طاہر کا از حد ممنون و شکر گزار ہوں ۔
گھر آکر چیدہ چیدہ رباعیات و غزلیات کا مطالعہ کیا تو وادی ء  حیرت و استعجاب میں غرق ہو گیا کہ کس قدر عظیم شاعر ہمارے علاقہ میں موجود ہے اور ہم ان کی قدر شناسی سے محروم چلے آرہے ہیں، کتاب کے پس ورق پر زندہ صاحب کو ڈاکٹر مقصود جعفری جیسے عظیم اہلِ علم نے Naseer Zinda : Poet of Immortality کے عنوان سے خراجِ عقیدت پیش کیا ہے ، پروفیسر فتح محمد ملک ، افتخار عارف اور یاسر کیانی نے بھی ان کی شاعرانہ صلاحیتوں کو نہ صرف تسلیم کیا ہے بل کہ کھل کر اظہارِ رائے بھی کیا ہے ۔
کتاب کا آغاز کلر سیداں کے نام ور قلم کار ، صحافی ، دانش ور ، کالم نویس اور شاعر جناب طاہر یاسین طاہر کے ایک جان دار ابتدائیے “جدید رباعی کا کوزہ” سے ہوتا ہے ، برادرم طاہر نے گویا ایک نہیں سات سمندروں کو کوزے میں بند کر دیا ہو ، خود شاعر ہونے کے ناتے طاہر بھائی نے حق ادب دوستی ادا کر دیا ہے ، مسجع و مقفیٰ الفاظ کا آبرومندانہ استعمال کوئی طاہر یاسین طاہر سے سیکھے ۔
آپ کی خدمت میں مزید عرض کرتا چلوں کہ یہ جناب محمد نصیر زندہ صاحب کا پانچواں مجموعۂ کلام ہے ، اس سے پہلے ان کے درج ذیل مجموعے شائع ہو چکے ہیں
01- نقشِ تحیّر
02- عرشِ سخن
03- نقدِ آرزو
04- ھل من مزید ناصر ینصرنا
اب آپ کی خدمت میں زندہ صاحب کی چند رباعیات پیش کرتا ہوں جس سے آپ ان کی فکر آفرینی کا بہ خوبی اندازہ کر سکیں گے
قفل راز و نیاز کھل جائے گا
مے خانۂ عرشِ ناز کھل جائے گا
جرعہ نہ پلا خم علی کا ساقی
بندے پہ خدا کا راز کھل جائے گا
ایک اور رباعی ملاحظہ فرمائیں ، زندہ کہتے ہیں
سر عظمتِ کردار سے ہوتا ہے بلند
سر جرأت انکار سے ہوتا ہے بلند
یہ طرہ و دستار کا محتاج نہیں
سردار کا سر “دار” سے ہوتا ہے بلند
ایک اور رباعی میں جولانی طبع ملاحظہ فرمائیں
پیدا ہونے کی جستجو کرتی ہے
آئینے کی صورت آرزو کرتی ہے
جب چاہتی ہے رازِ نہاں کی تشہیر
فطرت شاعر سے گفتگو کرتی ہے
کربلا کے سب سے ننھے سپاہی حضرت سیدنا علی اصغر علیہ السلام کو زندہ صاحب اپنے جداگانہ اسلوب میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں
قلزمِ اذنِ گہر فشانی مانگے
موجِ دریا تاب روانی مانگے
مقتل میں رقصِ آرزو جاری ہے
موت اصغرِ بے شیر سے پانی مانگے
جدید اندازِ فکر اور سماج سے بغاوت نصیر زندہ صاحب کا موضوعِ خاص ہیں ، فرماتے ہیں
افکار کو روشنی میں ضم کرتا ہے
آفاق کی تقدیر رقم کرتا ہے
ہوتا ہے طلوع جب قلم کا سورج
خورشیدِ کہن کا سر قلم کرتا ہے
زندہ صاحب کے ہاں حسن و عشق کی واردات بھی ملتی ہے ، حسن کی حشر سامانیوں پر ان کی یہ رباعی جدید اردو ادب کے ماتھے کا جھومر قرار دی جا سکتی ہے ، فرماتے ہیں
چوٹی میں موتیا سجایا اس نے
اونچی ایڑی سے قد بڑھایا اس نے
اک حشر سر بزم اٹھانے کے لئے
زور ایڑی چوٹی کا لگایا اس نے
احبابِ ذی وقار اب آخر میں زندہ صاحب کی ایک تازہ ترین غزل پیش کرتا ہوں ، جو یہ پیغام دے رہی ہے کہ اردو کا دامن ابھی خوب صورت غزلیات سے خالی نہیں ہوا ، اس دامن کو نصیر زندہ جیسے آفاقی شاعر نے مزید چاند اور ستارے لگانے ہیں ، نمونہ کلام ملاحظہ فرمائیں
عذابِ طرفہ نظر کے مکان اگ رہے ہیں
حریمِ خاک سے کج آسمان اگ رہے ہیں
خدا نما ہو رہے ہیں جو اہرمن پیدا
بشر کے وہم گزیدہ گمان اُگ رہے ہیں
صریرِ خامۂ تقدیر کن فکاں ہوں میں
مری اذان سے تازہ جہان اُگ رہے ہیں
یہ سحر کار مشینوں کے برق پاش دماغ
مزاحمت کے نئے آسمان اگ رہے ہیں
صبا نے کیا گلوں کے کان میں فسوں پھونکا ؟
بغاوتوں کے چمن میں نشان اگ رہے ہیں
سبو میں گیسوؤں کی جگمگا رہی ہے کرن
اندھیرے روشنی کے درمیان اگ رہے ہیں
حباب آبلہ پا کے ہیں سر کشیدہ خیام
مری مسافتوں کے بادبان اگ رہے ہیں
 آخر میں عرض کرتا چلوں کہ ممتاز شاعر و دانش ور جناب نصیر زندہ کی ادبی  خدمات پر  وفاقی اردو یونیورسٹی  اسلام آباد سے ایم فل ہو چکا ہے، جبکہ پی ایچ ڈی کے دو مقالہ جات میں ان کی رباعیات بہ طور حوالہ درج ہیں ۔ ، میں ان سطورِ میں اربابِ اختیار سے عرض پرداز ہوں کہ جہاں سطحی قسم کے لوگوں کو مختلف اعزازات سے آئے روز نوازا جاتا ہے ، وہیں ایک سچے علم و فن کے علم بردار کو ابھی تک کیوں محروم رکھا گیا ہے ؟ تمغہ امتیاز و دیگر اعزازات زندہ صاحب کو ضرور پیش کئے جائیں کہ یہی زندہ قوموں کا طرہ امتیاز ہوا کرتا ہے ۔
  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply