پاکستان میں شہری بحران /عمر شاہد

پچھلی کئی دہائیوں سے حکمران طبقے نے عوام کو یہ بیانیہ تھمایا ہوا ہے کہ پاکستان ایک دیہاتی معاشرہ ہے جہاں صرف 39 فیصد آبادی شہروں میں رہتی ہے۔ لیکن عالمی بینک کی تازہ رپورٹ نے اس جھوٹے بیانیے کی قلعی کھول دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 88 فیصد آبادی درحقیقت شہری علاقوں میں رہتی ہے۔ یہ انکشاف محض ایک عددی غلطی نہیں، بلکہ پاکستان کے حکمران اشرافیہ کے عظیم فریب اور سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادی تضادات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

1972ء سے لے کر آج تک شہری اور دیہاتی علاقوں کی تعریف کا اختیار صوبائی اور بلدیاتی کمیٹیوں کے حوالے کیا گیا ہے جو کسی واضح معیار کے بغیر کام کرتی ہیں۔ آبادی کا حجم، بنیادی ڈھانچہ، عوامی خدمات کی دستیابی, یہ سب عوامل یکسر نظرانداز کردیے جاتے ہیں۔ یہ کوئی اتفاق نہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ شہری آبادی کو کم دکھانا حکمران طبقات کے مفادات کے تین اہم پہلوؤں کی خدمت کرتا ہے۔

پہلا، یہ لاکھوں کروڑوں روپے کے پراپرٹی ٹیکس سے محروم رکھنے کا ذریعہ ہے۔ اگر یہ علاقے سرکاری طور پر شہری قرار پاجائیں تو ان پر ٹیکس عائد ہوگا، جو جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور ان کے سیاسی نمائندوں کے مفادات کے براہ راست متصادم ہے۔ دوسرا، شہری آبادی کو کم دکھا کر پورے معاشرے کو ایک قدامت پسند، پدرانہ ڈھانچے میں قید رکھا جاسکتا ہے۔ دیہاتی معاشرے کا بیانیہ مذہبی قدامت پسندی، قبائلیت اور جاگیردارانہ رشتوں کو برقرار رکھنے میں معاون ہے.جو حکمران اشرافیہ کی سیاسی طاقت کی بنیاد ہے۔ تیسرا، اس جعلسازی کے ذریعے شہری ترقی کے بجٹ اور وسائل کو چند بڑے شہروں جیسے لاہور، کراچی وغیرہ اور حکمران طبقات کی آبادیوں تک مرتکز رکھا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں شہری کاری کا یہ بحران کوئی منفرد واقعہ نہیں۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کا ایک فطری اور ناگزیر نتیجہ ہے۔ سرمایہ داری دیہی آبادی کو مسلسل شہروں میں منتقل کرکے ایک ‘فاضل محنت کش فوج’ پیدا کرتی ہے، جو اجرتوں کو کم رکھنے اور منافعوں کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کا ایک کلیدی ہتھیار ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس نے پاکستان کے چھوٹے شہروں اور مضافاتی علاقوں کو بے ہنگم طور پر پھیلنے پر مجبور کیا ہے۔ مگر سرمایہ دارانہ ریاست، جو خود انہیں طبقاتی مفادات کا محافظ ہے، ان نئے شہریوں کے لیے بنیادی سہولیات مہیا کرنے سے قاصر ہے۔ کیونکہ سرمایہ دارانہ پیداوار کا مقصد منافع ہے، نہ کہ انسانی فلاح۔ اس لیے یہ نظام ان گنجان آباد بستیوں میں پانی کی فراہمی، صحت، تعلیم اور نقل و حمل کے مسائل حل نہیں کرسکتا۔ یہ بحران محض “ناقص پلاننگ” نہیں، بلکہ نظام کی ساخت میں پیوست ہے۔

اس شہری بحران کا سب سے زیادہ خمیازہ محنت کش عوام بھگت رہے ہیں۔ وہ لاکھوں مزدور، ہنرمند، چھوٹے کاریگر، اور دفاتر میں کام کرنے والے کلرک جو ان غیر رسمی بستیوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ انہیں روزانہ کی بنیاد پر نجی شعبے کے مہنگے ہسپتالوں، اسکولوں اور غیر معیاری نجی ٹرانسپورٹ پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جبکہ ان کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ بنیادی ضروریات پر خرچ ہوجاتا ہے۔

لیکن تاریخ گواہ ہے کہ یہی مزدور طبقہ، جب اپنی طبقاتی پوزیشن کو سمجھتے ہوئے متحد ہوتا ہے، تو صرف اپنے مسائل کا ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے بحران کا حل بن کر ابھرتا ہے۔ شہروں میں ارتکاز نے محنت کشوں کو ایک ایسی طاقت ور اجتماعی قوت بنا دیا ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ فیکٹریوں، ملوں، دفاتر اور تعمیراتی صنعتوں میں کام کرنے والے یہ لاکھوں کروڑوں مزدور ہی درحقیقت معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

عالمی بینک کی یہ رپورٹ درحقیقت ایک انقلابی دستاویز ہے۔ یہ ثابت کرتی ہے کہ پاکستان کا محنت کش طبقہ پہلے ہی شہری ہے، وسیع پیمانے پر منظم ہے، اور اس نے پیداواری عمل کے مراکز پر اپنی موجودگی کو مضبوط کرلیا ہے۔ حکمران طبقہ اس حقیقت سے خوفزدہ ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر ان لاکھوں شہری محنت کشوں کو ان کے حقیقی عددی تناسب میں تسلیم کرلیا جائے، اور اگر انہیں ووٹ کے برابر حقوق، شہری سہولیات اور سیاسی نمائندگی مل جائے، تو موجودہ سیاسی ڈھانچہ ایک رات میں ملیامیٹ ہو سکتا ہے۔

اس لیے یہ شہری بحران درحقیقت سرمایہ دارانہ نظام کا اپنا بحران ہے۔ یہ نظام نہ تو شہری آبادی کے مسائل حل کرسکتا ہے، نہ ہی اس کی ترقی کی ضروریات پوری کرسکتا ہے۔ اس نظام کا واحد ممکنہ انجام معاشی اور سماجی زوال ہے۔ لیکن اس زوال کے ملبے سے ہی ایک نئی حقیقی ترقی کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محنت کش طبقہ اپنی تاریخی مقدر کو سمجھے۔ ان شہری بستیوں، فیکٹریوں اور ملوں کو طبقاتی جدوجہد کے مراکز میں تبدیل کرے۔ ایک سوشلسٹ پروگرام کے تحت ہی شہری اور دیہاتی تضادات ختم ہو سکتے ہیں، وسائل پر اجتماعی ملکیت قائم ہو سکتی ہے، اور منافع نہیں بلکہ انسانی ضرورت کو معیشت کا محور بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان ایک شہری معاشرہ ہے، اور یہاں کی تاریخ اب شہری محنت کش طبقے کے ہاتھوں لکھی جائے گی۔

پاکستان شہری آبادی،عالمی بینک رپورٹ پاکستان،پاکستان دیہی شہری تقسیم،سرمایہ دارانہ نظام پاکستان،محنت کش طبقہ پاکستان،شہری ترقی اور سیاست،پاکستان میں اربنائزیشن،سوشلسٹ پروگرام پاکستان،پراپرٹی ٹیکس اور شہری حقوق،طبقاتی جدوجہد پاکستان

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply