پُڑیا/حسان عالمگیر عباسی

ایک بہت اہم نکتہ نظر سے گزر گیا ہے۔ ہم جواب دینے کے لیے سنتے ہیں۔ ہمارے پیش نظر مسئلے کا حل نکالنا تو بہت دور سمجھنا یا نوعیت جاننا بھی کبھی نہیں رہا۔ ہمارے میڈیا سے لے کر محلے، دکان اور باڑے تک بس ذہنی رومان اور بے ہنگم رقص چل رہا ہے۔ پٹیاری میں بولیوں کے کئی کئی رنگ ہیں اور ترکیبوں کی دکان سجی پڑی ہے۔ تنقید برائے تنقید محلِ نظر رہتا ہے۔ قومی یک جہتی و حب الوطنی اور ملتے جلتے کئی جذبوں سے سرشاریت تو مل جائے گی لیکن جب جب پہاڑ کھودتے ہیں چوہے اور چوہیاں دوڑ رہی ہوتی ہیں۔ حامد میر صاحب بھی کہہ رہے تھے کہ وہ بھی صرف وہی بول سکتے ہیں جتنی انھیں اجازت ہے۔ بار بار اپنی بے بسی کا قصہ سنا رہے تھے۔ یہاں سب ترمیم ترمیم کھیلتے ہیں ، ذہنی آلودگی پھیلاتے ہیں ، مخصوص بحثوں میں قوم کو الجھا کر ذہنی بیماریوں کو دعوت دیتے ہیں اور بالآخر ہوتا وہی ہے جو بند کمرے میں طے ہو چکا ہوتا ہے۔ یہی ترمیم کسی بھی حکومت میں ہوتی تو ہو جانی تھی چونکہ طاقتور حلقوں سے منظوری ہو چکی ہوئی تھی۔ ایسے کارکنان بلکہ نام نہاد کارکنان اکیس توپوں کی سلامی کے حقدار ہیں جنھیں یہ لگتا ہے مسائل کا حل صرف ان کے مسیحاؤں کے پاس ہے اور باقی تو محض جہالت کی پیداوار یا کیچڑ میں عمرِ توانا کو پہنچے ہیں۔ نسل نو بھی جب لفظوں کے بے ہنگم شور سے نہیں بچ پاتے اور اپنے قیمتی جذبات کو سپردِ سیاست کردیتے ہیں تو یہ حیرت کا باعث بن جاتا ہے۔ کسی بھی سطح پہ ڈائلاگ کا رجحان ہی لائقیت ہے۔ کسی زمانے میں مذہبی منافرت کا چرچا تھا۔ اب بھی ہے لیکن سیاست کا بازار کچھ زیادہ گرم ہو چکا ہے۔ کبھی بھی سیاست کا محور ایک خاندان نہیں ہونا چاہیے۔ کسی فرد کا حق بھی نہیں ہے کہ پورے نوجوان طبقے کو اپنا اسیر بنا لے۔ ادارے بننے ہوں گے اور خودکار طریقے ایجاد ہونے چاہییں۔ بہت خوبصورت بات پڑھی ہے کہ کسی کو انسپائر کرنا ہے تو اسے اپنی ذاتی طاقت صلاحیت کی بجائے اس کی طاقت صلاحیت بتانی چاہیے۔ ایک انسان دوسرے انسان کا شیشہ ہوتا ہے۔ کس نے اس جملے کی وضاحت کچھ یوں کی تھی کہ شیشے میں انسان اپنا آپ دیکھتا ہے اور نظر انداز نہیں کرتا جبکہ شیشہ بھی راز رکھ لیتا ہے۔ اس بابت کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ ہمارے پارلیمان سے لے کر بیرک تک دھاندلی موجود ہے لیکن یہ قومی المیہ ہے اور اس کا علاج مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہی بن سکے گا۔ شفافیت ہمارے پارلیمان میں کبھی تھی ہی نہیں تو یہ کیسی شق ہے کہ تمھارا کتا ہے اور میرا ٹومی ہے۔ ایسی ٹامک ٹوئیوں میں کچھ نہیں ہوتا۔ یہ بے وقت کی راگنی ہوتی ہے۔ یہ بہت خوبصورت بات ہے کہ ‘ایسے دستور کو صبحِ بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا’ بلکہ باشعور طبقے ایسے ہی گانے گنگناتے اچھے لگتے ہیں، کسی دہلی کی جامعہ میں سیڑھیوں پہ بیٹھے طلباء تالیوں کی موسیقی میں یہی گنگنا رہے تھے لیکن لفظوں کی محض جگالی بے چارہ ہوتی ہے۔ آج امن جرگے میں ایک مقرر کی گفتگو بہت شاندار تھی کہ حالیہ کئی جنگیں ہوئی ہیں جو بالآخر مذاکرات پہ رک گئی ہیں لہذا ایک ہی نسل کے لوگوں کو غیر کی لڑائی لڑنے کی بجائے بار بار مذاکرات کرنے چاہییں اور مذاکرات ہی سے خیر برآمد ہوتی ہے۔ تاریخ کے کئی حوالوں کو انھوں نے چھیڑا تھا اور اس کمرے میں موجود دیگر لوگ سراہتے ہوئے ڈیسک بجاتے رہے۔ یہاں منہ کھولو تو لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچ جاتی ہے۔ کوئی سیاسی و عسکری و مذہبی حساسیت کا حوالہ دیتا ہے تو کوئی سماجی وابستگی کو بنیاد بنالیتا ہے۔ سنجیدگی تو گویا پارلیمان سے بیرک سے باڑے تک چڑیا ہو گئی ہے۔ اس ساری گفتگو کا موضوع دراصل یہی ہے کہ ہمیں شعور کو از سر نو متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔ شعور دراصل امکانات کا نام ہے۔ مل بیٹھنے کا نام ہے۔ مجھے لاہور کا قصہ اب تک از بر ہے۔ ہمارے ایک استاد تھے۔ انھیں دیکھ کر لگتا تھا کہ ہمارا شعبہ ان ہی کی محنتوں پہ کھڑا ہے۔ ازراہِ عقیدت میں نے کہا سر آپ نہ ہوں تو کچھ نہیں بنے گا تو بہت خوبصورت جواب ملا تھا کہ ایسا نہیں ہوتا بلکہ بہتر لوگ آجاتے ہیں اور یونہی نظام چلتا جا رہا ہے۔ ہمیں سستی پڑیا دانت تلے چبھاتے ہوئے ہانکنے کی لت لگ گئی ہے۔ کل پارلیمانی کاروائی کے دوران ایک صاحبِ بصیرت فرما رہے تھے کہ کل ہی ہمارے ایک ساتھی رخصت ہوئے ہیں۔ ایسا نہ ہو وقت سے پہلے بانی پہ چلتے بنیں۔ یہ بہت ترش رو جملے تھے۔ شرم کا مقام ہے۔ اس ساری گفتگو کا مختصر سا عکس یہ ہے کہ سیاست کسی خاندان کی جاگیر نہیں ہے لیکن یہ کسی ایک انسان کے ارد گرد بھی نہیں گھوم سکتی اور عسکریت محض ایک غیر فطری عمل ہے جو کبھی کبھی کارگر ثابت ہو جاتا ہے اور دیرپا استحکام بہرحال مذاکرات اور امن جرگے ہی ہوتے ہیں۔ سیاست نوجوانوں کو سیکھنے کی اشد ضرورت ہے اور مثبت سیاست یہی ہے کہ سبھی نظریات کو یکجا کیا جائے اور مسائل کا حل نکالا جانا چاہیے اور میڈیا اور دیگر قومی اداروں بالخصوص تعلیمی اداروں کو روح کے مطابق کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ایک تاریخی روایت ہے کہ بھیک وقتی کارگر ہوسکتی ہے لیکن کوئی ہنر دے دینا یا رخ بتا دینا ایک جہان بن سکتا ہے کیونکہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply