• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستان میں سوشل میڈیا کیلئے نئے قوانین،عمل ممکن ہوگا؟۔۔۔مجاہد خٹک

پاکستان میں سوشل میڈیا کیلئے نئے قوانین،عمل ممکن ہوگا؟۔۔۔مجاہد خٹک

فردوس عاشق اعوان نے پارلیمنٹ ہاؤس سے باہر میڈیا سے گفتگو میں سوشل میڈیا کے متعلق نئے قواعد و ضوابط کی تفصیل بتائی ہے جس کے مطابق یوٹیوب، فیس بک، ٹوئٹر سمیت دیگر کمپنیوں کو پاکستان میں رجسٹر کرانا ہو گا، یہاں دفتر قائم کرنا ہو گا، حکومت جس مواد کی شکایت کرے گی اسے چھ گھنٹے سے لے کر چوبیس گھنٹے کے اندر ہٹانا ہو گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تمام کمپنیوں کو اپنے ڈیٹا بیس تک حکومت کو رسائی دینا ہو گی۔ اگر کسی کمپنی نے یہ باتیں تسلیم نہ کیں تو اسے پاکستان میں بلاک کر دیا جائے گا۔

اگر حکومت واقعی ان احمقانہ مطالبات پر سنجیدگی سے سوچ رہی ہے تو اسے علم ہونا چاہیے کہ یہ انٹرنیشنل کمپنیاں اسے گھاس بھی نہیں ڈالیں گی۔ وہ نہ ہی حکومتی شکایت پر کوئی مواد ہٹائیں گی اور نہ ہی اپنے صارفین کے ڈیٹا تک حکومت کو رسائی دیں گی۔ فردوس عاشق اعوان شاید ڈیجیٹل  دنیا سے یکسر نابلد ہیں۔۔۔ یا پھر حکومت سوشل میڈیا کو پوری طرح بند کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔

اس وقت فیس بک ایپ استعمال کرنے والوں کی تعداد ڈھائی ارب اور واٹس ایپ صارفین کی تعداد دو ارب ہو چکی ہے۔ اسی طرح یوٹیوب کے صارفین کی تعداد بھی دو ارب سے زائد ہو چکی ہے۔ پاکستانی حکومت اگر انہیں بلاک بھی کر دے گی تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ چند برس قبل یوٹیوب نے حکومت کا ایک متنازعہ ویڈیو ہٹانے کا مطالبہ نہیں مانا تھا اور دو ڈھائی سال کی پابندی برداشت کر لی تھی۔ حالانکہ حکومت کا مطالبہ سو فیصد جائز تھا۔ اب جبکہ حکومتی مطالبات یکسر ناجائز ہیں تو انہیں تسلیم کرنے کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔

بھارتی حکومت نے واٹس ایپ کو بھارت میں اپنی encryption ختم کرنے کا کہا ہے لیکن کمپنی نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ یہ بات تسلیم نہیں کرے گی اور اپنے صارفین کی پرائیویسی برقرار رکھے گی۔ یاد رہے کہ بھارت میں چالیس کروڑ لوگ واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں اور کمپنی کے لیے یہ سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ اس کے باوجود اس نے سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ پاکستان جیسی چھوٹی مارکیٹ کو قربان کرنے سے کسی بھی سوشل میڈیا کمپنی کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا لیکن وہ کبھی بھی اپنے صارفین کا ڈیٹا حکومت کے حوالے نہیں کریں گی۔

یا تو حکومت کے بزرجمہر جدید دور سے یکسر نابلد ہیں یا پھر وہ سوشل میڈیا کو پابند سلاسل کرنے کے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔ یہ بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ یہ کام وہ حکومت کرنے جا رہی ہے جسے اقتدار میں لانے میں بہت بڑا حصہ سوشل میڈیا کا ہے۔ یہ حماقت کر کے وہ دراصل اپنی ہی بنیادوں پر کلہاڑا چلائے گی۔ کل جب اس کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی تو گونگی کر دی گئی زبانیں اس کے حق میں آواز اٹھانے سے قاصر ہوں گی۔

اس وقت پاکستان میں لاکھوں لوگ سوشل میڈیا اور یوٹیوب کے ذریعے کروڑوں ڈالر (شاید ایک ارب ڈالر سے بھی زیادہ) کا زرمبادلہ ملک میں لا رہے ہیں۔ یہ کمپنیاں بلاک کی گئیں تو لاکھوں لوگوں سے روزگار بھی چھن جائے گا اور حکومتی خزانے میں آنے والے کروڑوں ڈالرز بھی رک جائیں گے۔

حکومت نے ان کمپنیوں کو تین ماہ کا وقت دیا ہے۔ ہمارے پاس بھی یہی تین ماہ ہی ہیں جس دوران حکومتی اقدامات کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی جا سکتی ہے اور اسے اپنا احمقانہ فیصلہ واپس لینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں حکومت کو سمجھانا چاہیے کہ فیس بک اور ٹوئٹر کے مالکان کسی چھوٹے سے گاؤں کے نمبردار نہیں ہیں جسے ایس ایچ او بھیج کر اپنی بات منوائی جا سکے۔ ملک میں سائبر کرائمز کے قوانین بھی موجود ہیں، جعلی خبروں کے سدباب کے لیے پیمرا کا ادارہ بھی قائم ہے اور ہتک عزت کی صدا بلند کرنے کے لیے عدالتوں کے دروازے بھی کھلے ہیں۔ پاکستان ویسے بھی ان ممالک میں ہے جہاں ضرورت سے زیادہ قوانین بن چکے ہیں۔ اس پر مزید آمرانہ قوانین کا بوجھ لادا گیا تو اس کے وزن سے یہاں قدآور شخصیات کی جگہ بونے ہی جنم لیں گے۔ اب تو محسوس ہوتا ہے کہ شاید ایوان اقتدار میں بھی بونوں کا راج بڑھ گیا ہے اور وہ باقی قوم کو بھی اپنے جیسی مخلوق میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *