مینی سے مانو۔۔ربیعہ سلیم مرزا

مانو نے ہلکی سی انگڑائی لے کر کروٹ بدلی توٹینی اور چنٹوبھوک سے بے چین ہو کر چیاؤں چیاؤں کر رہے تھے۔مینی بھی اٹھ گئی تھی ۔مانو نے خود کو موڑکر تینوں بچوں کو اپنی گود میں لے لیاتومینی نے ماں کے سینے میں منہ چھپا کر سکون سے آنکھیں موند لیں ۔
مانو نے اپنی دُم سے بچوں کو ہلکے ہلکے تھپکنا شروع کر دیا ۔

مانو ایک گولڈن براؤن اور سفید بالوں والی بلی تھی ٹینی مینی اور چنٹو اس کے تین بچے تھے ۔مینی تھوڑی بڑی تھی۔ٹینی اور چنٹو جڑواں اور چھوٹے تھے۔ایک پرانے گودام کے کاٹھ کباڑ کے پیچھے انکی رہائش گاہ تھی۔رات کو اگر ہلکا سا بھی کھٹکا ہوتا تو مانو شیرنی کی طرح تینوں کو دبوچ لیتی۔کسی انہونی کا احساس ممتا کو سہما دیتا۔۔

مینی بڑی ہو رہی تھی، وہ اب ماں کے ساتھ اکثر کھانا ڈھونڈنے نکل جاتی ۔مانواسے گھروں کی دیواریں اور سیڑھیاں پھلا نگنا سکھارہی تھی تینوں بچوں نے خوبصورتی اور معصومیت اپنی ماں سے چرائی تھی۔مینی اب اتنی سمجھدار ہو چکی تھی کہ راہ چلتے پیش آنے والے جھگڑوں کو سمجھنے لگی تھی ۔وہ دونوں اکثر آبادی کی طرف نکل جاتیں اور کہیں نہ کہیں انہیں اپنے حصے کا رزق مل ہی جاتا۔جو اکثر گری پڑی بوٹی ، تازہ چھیچھڑے ،اور کبھی کبھار کسی بدنصیب چوہے پر مشتمل ہوتا۔ زندگی پرسکون گزر رہی تھی کہ ایک دن اکیلی گئی ہوئی مانو لاپتہ ہو گئی ۔

صبح سے شام اور پھر رات بھی ہو گئی مگر مانو نہیں آئی ۔مینی کا دل دھڑک رہا تھا۔اسے کچھ کچھ سوجھ رہا تھا کہ ماں کے ساتھ کیا ہوا ہو گا۔اس خیال سے ہی اسے کپکپی آ گئی کہ مانو نے اسے بتایا تھا کہ ظالم بلے، بلیوں کو حاصل کرنے کے لیئے انہیں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں ۔اگربچے ہاتھ لگ جائیں تو ان کو مار بھی دیتے ہیں۔

اس آگاہی کے باوجود وہ ٹینی اور چنٹو کو کچھ نہیں بتا سکی وہ بہت چھوٹے تھے ۔اور ساری رات بھوک سے بلک  رہے۔وہ کبھی بہن بھائیوں کی طرف دیکھتی، کبھی کھلے روشندان کی طرف، جہاں رات آہستہ آہستہ بھیگ رہی تھی ۔

صبح ہونے تک اس نے کئی بار سوچا کہ باہر جائے مگر   اکیلے جانے کی ہمت نہ ہوئی ۔بالآخر بھوک جیت گئی ۔ٹوٹی پھوٹی لکڑیوں اور چیتھڑوں کی اوٹ میں انہیں چھپا کر وہ چھوٹے بہن بھائی کے لیے کھانے کی تلاش میں نکل پڑی۔

دھوپ چھاؤں میں چلتے چلتے، تھڑوں کی اوٹ میں چھپتے چھپاتے، آخر کار وہ اس رحم دل قصاب کی دوکان تک پہنچ ہی گئی ۔جو اکثر ماں بیٹی کو چھیچھڑے ڈال دیا کرتا تھا ۔بھوک اور امید سے بے حال مینی پہ قصاب کی نظر پڑی۔

ایک پل کے لیے دونوں کی آنکھیں ملیں ،قصاب نے مانو کی تلاش میں نظر دوڑائی اور جیسے مایوس ہو کر ایک بڑا چھیچھڑا ،مینی کی طرف پھینکا۔

مینی نے شکر گزار نظر وں سے چھیچھڑا دبوچااور واپسی کی راہ لی۔ابھی آدھا راستہ بھی طے نہ ہوا تھا کہ اسے ہلکی سی غراہٹ سنائی دی ۔لرزاں دل کےساتھ، نظر اٹھائی تو دوکالے، بھدےاور خوفناک بلوں کو للچائی نظروں سے خود کو تاڑتے پایا۔

شکار بھی ہو، شکار کے منہ میں شکار بھی ہو۔اور وہ اُسے کیسے جانےدیتے ۔؟

یہ کب ہوا ہے! دونوں بلے، مینی کی طرف لپکے، مینی گھبرا کے ایسے بھاگی، کہ زندگی بھر یوں نہ بھاگی ہو گی۔ٹریفک اور آتے جاتے لوگوں کا شور بھی اسکی دوڑ کو کم نہ کر سکا۔کانوں میں صرف بدمعاش بلوں کی غراہٹ گونج رہی تھی ۔
خوفناک بلوں سے بچ کر آخرکار وہ گودام تک جاپہنچی ۔

ٹوٹے روشن دان کے باہر لمحہ بھر سانس بھرتے، اندر کی سن گن لی ۔اور کائنات کی پیاری ترین آوازیں سنتے ہی، تمام خدشے ہوا ہوگئے ۔
رات کو مینی نے بچا کھچا چھیچھڑا کھاکے ،اپنے بہن بھائی کو اپنی آغوش میں لپیٹا۔اور سکون کی گہری سانس لی، دل میں اداسی اور آنکھوں کی نمی میں ماں کا عکس بھر کے اس نے پلکیں موند لیں ۔
مینی، اب مانو تھی ۔
اسے کل پھر رزق ڈھونڈنے جانا تھا
اس وقت تک، جب تک مانو کی طرح کھو نہیں جاتی۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *