آخر صدارتی نظام سے دلچسپی کیوں؟۔۔۔۔عمر خالد

سیاست طاقت کا کھیل ہے، اور ہر مقتدر شخص کے نہاں خانہ دل میں اقتدار میں اضافہ کی خواہش ابلتی رہتی ہے۔ اس کے ہر عمل کا محرک طاقت کا ارتکاز ہوتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت کا ارتکاز قوموں پر بڑی تباہیوں کا  سبب بنا۔ صدیوں کے سیاسی تجربہ کے بعد انسان اس نتیجہ پر پہنچا کہ قوموں کی فلاح و بہبود کا راز اختیارات کی تقسیم ہے۔ جنگ عظیم دوم کے بعد جرمنوں نے ازسر نو جائزہ لیا کہ کن اسباب کے تحت ملکی اداروں میں طاقت کا ارتکاز ہوا اور شخص واحد سلطنت کا کرتا دھرتا بن گیا۔ تجزیہ و تحلیل کے بعد آمریت کی تمام باقیات کو اکھاڑ پھینکا گیا اورطاقت کے ارتکاز کی راہیں مسدود کردی گئیں۔

انسانی تاریخ پر نظر ڈالیں تو تاریخ کے ارتکاز کی دو متضاد تصوریں نمایاں ہوتی ہیں۔ ایک فرعون مصر جس کی طاقت و کبریائی کا ذکر جابجا قرآن مجید میں ہوا ہے۔ اور دوسری شخصیت سلیمان علیہ السلام جن کا دور اخلاق و قانون، سیاست و معیشت اور علم و فن میں اپنی مثال آپ تھا۔ چنانچہ طاقت کا ارتکاز اپنی ذات میں اچھائی یا برائی نہیں رکھتا تاہم جن ہاتھوں میں یہ شمشیر ہو ان کے عزم و ارادے اسے خیر و شر بناتے ہیں۔ چونکہ انسان فطرتا ً انتہائی کمزور ہے اکثر جذبات غالب رہتے ہیں، اسی سبب طاقت جب کبھی شخص واحد کے قبضہ میں مرتکز ہوئی تو اندر کا برا آدمی جاگ اٹھا۔ اور زمانے نے ایسے فسادات دیکھے جس کی چکی میں گیہوں گھن سب پسے۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ حق اقتدار کسے حاصل ہوگا؟ آج کے کامیاب سیاسی نظاموں میں طاقت کا اصل مرکز شخص واحد نہیں بلکہ عام شہری ہے۔ شہریوں سے حکومت تشکیل پاتی ہے۔ فرد کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ حکومتی نظم میں اختیارات مستقل طور پر تقسیم ہیں۔ یہ مسیحاؤں  کی بستی نہیں۔ حکمران عوام کے کٹہرے میں حساب دیتا ہے۔ باہمی تنازع میں فیصلہ کن اکثریت بنتی ہے۔ دراصل جمہوری ثقافت صحت مند معاشرے کی نشانی ہے۔ جمہوری ریاست کے وسائل عوام کے معیار زندگی بلند کرنے کی تگ و دو میں صرف ہوتے ہیں۔ ترقی و خوشحالی میں اضافہ ہوتا ہے اور سماج میں ایک عام درجہ کا فرد با اختیار و ذمہ دار بنتا جاتا ہے۔ اس کے برعکس فسطائی ثقافت قومی، نسلی، لسانی تعصب پر کھڑی ہوتی ہے۔ سادہ لوح شہریوں کو رومانویت کے دلدل میں دھکیل کر اشرافیہ کے مفاد میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ باشعور شہریوں کو غداری و ایجنٹ کے تمغوں سے نوازا جاتا ہے۔ جبر، استحصال اور تشدد تو اس کا طرہ امتیاز ہے۔ شہریوں کا معیار زندگی پست ترین اور جنگی خرچے  روز بڑھتے ہیں۔ اگر آپ تجربہ کرنا چاہیں تو تیسری دنیا سے ترقی یافتہ ریاستوں پر ایک سرسری نظر ڈالیں۔ اسی سے ملتی جلتی خصوصیات ہر خطہ میں نمایاں ہوں گی۔

پاکستان مملکت خداداد کا وجود عوام کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ مگر یہاں جمہوری کلچر پروان نہ چڑھ سکا۔ قومی و مذہبی ریاست کی کھینچا تانی جاری رہی۔ آئے روز نت نئے آزمودہ نظام کی بھٹی سے گزرتا رہا مگر بحران قابو نہ آئے۔ اب پھر سے صدارتی نظام کے نعروں کا غلغلہ ہے۔ آخر ہمیں صدارتی نظام سے اتنی دلچسپی کیوں ہے! گورنر جنرل غلام محمد سے جنرل پرویز مشرف تک اور اٹھاون 2-B سے اٹھاوریں ترمیم تک یہی آمریت اور صدارتی نظام تھا جس میں طاقت کا مرکز صدر مملکت ہوتا تھا۔ تاریخ دائروں کے گرد نہیں گھومتی۔ مگر ہم پر فراموشی کی آفت پڑی ہے۔ پاکستان میں صدراتی نظام کی ناکامی کی ایک وجہ اس کی بوقلمونی ہے۔ اس میں متعدد صوبے، مختلف زبانیں، کثیر آبادی اورعلاقائی ضروریات و مفادات شامل ہیں ان سب کی بہتر نمائندگی پارلیمانی نظام سے متوقع ہے۔ پالیمانی نظام میں وزیر اعظم اتنا با اختیار نہیں ہوتا جتنا صدارتی نظام میں صدر ہوتا ہے۔ چنانچہ صدارتی نظام میں غیر معمولی اختیارات کے باعث من مانی کا راستہ کھل جاتا ہے۔ گورنر جنرل غلام محمد نے 1954 میں اپنے وسیع اختیار کو استعمال کرتے ہوئے پہلی قانون ساز اسمبلی کو تحلیل کردیا تھا۔ سکندر مرزا نے انتخابات میں صدارت ہاتھ سے جانے کے خوف سے 8 اکتوبر 1958 کی صبح مارشل لا لگایا۔ جنرل ضیاء الحق نے جونیجو کو برطرف کیا۔ صدر غلام اسحاق خان نے محترمہ بے نظیر کو منصب سے معزول کردیا۔ پھر صدر فاروق لغاری نے دوبارہ 1996 میں بی بی کو نکال دیا۔ 1999 میں جنرل مشرف صدر بنے تو اٹھاون 2-Bکی چھڑی اپنے پاس رکھی۔ اس طویل سفر کے بعد پیپلز پارٹی کے دور میں زرداری صاحب نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صدر کے اختیارات محدود کئے۔

صدارتی نظام کے جواز کے لئے جو قابل قبول ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں سرفہرست اسلامی نظام سیاست اور صدارتی نظام میں مشابہت کا ذکر ہے۔ ماضی میں ہرغیر قانونی عمل پر نظریہ ضرورت، اسلام کی سربلندی، باطل کی سرکوبی کے لیبل چسپاں کیے گئے۔ مذہب کو سیاسی قوت حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا گیا ۔عوام اس فریب کاریوں کو بھگتا بھگتا کر نتگ آچکے ہیں۔ اب صاف شفاف نظام اور کرپشن کی سرکوبی کے لئے اسلامی صدارتی نظام کی آواز بلند کی جارہی ہے۔ کیا اس سے عیاں نہیں ہوتا کہ مقصد عوام کی فلاح و بہبود نہیں بلکہ طاقت کی رسا کشی میں بازی لے جانے کی ہوس ہے۔ ہم اس مایوس اناڑی کی مانند ہیں جو غیر ثابت قدمی کے باعث ہر میدان میں ناکامی سے دو چار ہوتا ہے مگر اصل وجہ پر توجہ دینے کے بجائے روز نئے ہنر سیکھنے میں جت جاتا ہو ۔ جبکہ خدا تعالی کا ارشاد ہے کہ :اللہ کسی قوم نہیں بدلتا جب تک وہ خود کو نہیں بدلتی۔

عمر خالد
عمر خالد
ستاروں کے جھرمٹ میں ایک ذرہ بے نشان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *