شطرنج کا ادب نامہ۔۔بنت الہدیٰ

برصغیر میں زمانۂ قدیم سے شطرنج کھیلی جاتی رہی ہے جس کے نتیجے میں بہت سارے الفاظ اور محاورے اردو زبان کا حصہ بن چکے ہیں۔ مثال کے طور پر شہ دینا، بازی مارنا، مات دینا، چال چلنا، مہرہ بننا وغیرہ۔ صدیوں سے قابلِ استعمال یہ محاورے یا الفاظ اردو زبان میں اس طرح رچ بس گئے ہیں کہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہ الفاظ اور محاورے شطرنج کے کھیل سے آئے ہیں۔

زمانہ قدیم میں سلاطین کا شوق و انہماک شطرنج سے کافی تھا۔ شطرنج کا شمار عوامی نہیں درباری کھیلوں میں  ہوتا تھا، شاید اسی لیے طویل عرصے تک شطرنج کے ساتھ حرام کا لیبل لگا رہا۔۔۔ (دور حاضر میں شطرنج کا شمار آلہ قمہار میں نہیں کیا جاتا اس بنا پر اکثر مجتہدین شطرنج سیکھنا اور کھیلنا جائز قرار دیتے ہیں)۔

زمانے کے تغیرات کے ساتھ اس کھیل کی پہچان اب فقط شاہی و درباری نہیں رہی بلکہ اس کا شمار اعلیٰ   ذہانت کے کھیلوں میں کیا جاتا ہے جس کے لیے خاص علمی قوانین بھی وضع کیے گئے ہیں۔۔ یہ قول صرف مشہور ہی نہیں صادق بھی ہے کہ شطرنج کا کھیل صرف ذہین و فطین افراد ہی کھیل سکتے ہیں۔۔۔

اس کھیل میں کس قدر ذہانت درکار ہے اس بات کا اندازہ آپ اس سے لگا لیں کہ اس فن نے اردو زبان کو شاطر کی اصطلاح دے دی ۔۔۔

اردو کے صاحبِ طرز اور اپنے رنگ کے منفرد شاعر حکیم مومن خاں مومن کا شمار اس دور کے ماہر اور زیرک شاطروں میں ہوتا تھا۔ اودھ کے واجد علی شاہ کا دور شطرنج کے کھلاڑیوں کے لیے کافی سازگار رہا۔

شطرنج کے ایک بار کے کھیل کو بازی کہتے ہیں۔ اب مشاہدہ کیجیے کہ اس بازی لفظ سے کتنے سارے محاورے، الفاظ، اشعار وجود ،میں آگئے۔ بازی مارنا، بازی لگانا، بازی گر، بازیچہ وغیرہ۔اسی طرح بساط پر نظر کریں تو بساط الٹنا، بساط بچھنا وغیرہ محاورے سامنے آتے ہیں۔

بازیچہ پر غالب کا شعر ملاحظہ فرمائیں

بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

معروف ترقی پسند شاعر جاں نثار اختر لکھتے ہیں
ہم سے اک بار بھی جیتا ہے نہ جیتے گا کوئی
وہ  تو ہم جان کے کھا لیتے ہیں ماتیں اکثر

استاد شاعر طرفہ قریشی ناگ پوری فرماتے ہیں

میں بساط شوق بچھاؤں کیا، غمِ دل کی شرط لگاؤں کیا
جوپیادہ چلنے میں طاق تھے وہ تمام مہرے بکھر گئے

“چال چلنا” شطرنج کےکھیل ہی سے نکلا ہے۔ چال میں آنا، چال پر پڑنا وغیرہ۔

بہادر شاہ ظفؔر محتاط انداز میں کہتے ہیں

ہوشیاری سے سمجھ کر چال چلنا چاہیے
کارِ دنیا بھی ظفر شطرنج کا سا کھیل ہے

پروفیسر نصر غزالی شطرنج کی انہی چالوں میں الجھ کر فرماتے ہیں

اسی کے سارے پیادے ،اسی کے شاہ و وزیر
بساطِ زیست پہ شہرہ اسی کی چال کا ہے

خاکسار کا پسندیدہ شعر یوں ہے
زد میں آ سکتا ہے دشمن کا وزیر
عقل کا گھوڑا اڑا کر دیکھیے

لفظ “شہ” اور “مات”سے متعدد محاورے اختراع کیے گئے ہیں مثلاً شہ دینا، شہ پڑنا، مات دینا، مات ہونا وغیرہ۔

اس شہ اور مات پر کچھ مشہور شعراء کے اشعار پیش خدمت ہیں

ہر سمت سے گھر آئے ہیں شطرنج کے مہرے
یہ دیکھ! ابھی شہ ہے ، ابھی مات برادر
(نشتر خانقاہی)

وہ اس کمال سے کھیلا تھا عشق کی بازی
میں اپنی فتح سمجھتا تھا مات ہونے تک
(تاجدار عادل)

زندگی مہرہ ہے اک شطرنج کا
موت کیا ہے زندگی کی مات ہے
(انجم باروی)

راستے بھاگنے کے سب مسدود
شاہ بھی ہے وزیر کی شہ پر
(مجیب اختر)

فرزیں کے لیے گھر کھلنا، پیدل کا کٹنا پر پروفیسر مظفر حنفی کا شعر پڑھیے

کٹ جائیں یہ پیدل تو نکل آئیں گی راہیں
فرزیں کے لیے ورنہ کوئی گھر نہیں کھلتا

شطرنج کا سارا کھیل مہروں کی چال پر منحصر ہوتا ہے۔ مہرے چونکہ بے بس ہوتے ہیں اور ان کا عناں گیر کوئی اور ہوتا ہے اس لیے ہماری زبان میں کسی کا مہرہ بننا محاورہ مستعمل ہوا۔

خانے میں ہے شطرنج کے جب تک، ہوں پُر امید
جب پٹ گیا مہرہ تو کہیں کا بھی نہیں ہے
(جمیل تمنائی)

مگر سیاست کی دنیا میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بھاری بھرکم شخصیت معمولی مہروں (پیادوں) سے پٹ جاتی ہے

عجیب کھیل ہے دنیا تری سیاست کا
میں پیدلوں سے پٹا ہوں وزیر ہوتے ہوئے

احمد کمال حشمی بھی پیادے سے شہ کو مات دلواتے ہوئے یہ خوبصورت شعر رقم کرتے ہیں
وزیر چپ کھڑا تھا اور شہ کو مات ہو گئی
بساطِ زیست پر پیادہ چال ایسی چل گیا

پروفیسر نصر غزالی نے تو بساط ہی کو الٹ کر رکھ دیا

جب بساط الٹی تو جانا کہ تھے شاطر کتنے
کشتی و فیل و پیادہ پہ تھے قادر کتنے

کپڑے یا کاغذ کے جس چوکور ٹکڑے پر شطرنج کھیلی جاتی ہے، اسے بساط کہتے ہیں۔ اس لفظ سے بساط ہونا محاورہ بنا مثلاً اس کی بساط ہی کیا تھی جو اتنا بڑا کام کرجاتا۔ ذوق نے اس لفظ کو بڑی خوبصورتی سے استعمال کیا ہے

کم ہوں گے اس بساط پہ مجھ جیسے بد قمار
جو چال ہم چلے سو نہایت بُری چلے

شطرنج میں پیادہ سیدھا چلتا ہے جب کہ فرزیں (وزیر) ٹیڑھا بھی چل سکتا ہے۔ ترقی اور کامیابی پاکر آدمی کے اندر جو غرور یا ٹیڑھ آجاتی ہے، اس کے اظہار کے لیے عبد الرحیم خان خاناں نے مہروں کی ان چالوں سے استفادہ کرتے ہوئے کہا ہے
پیادہ سے فرزیں بھیو ٹیڑھو ٹیڑہو جائے

بزرگ شاعر علقمہ شبلی فرماتے ہیں
میں نے دیکھا ہے پیادوں کو بھی آگے شبلی
شاہ کو ، مان لوں کیوں ، مات نہیں ہو سکتی

اس قدر مربوط تھیں مہروں کی چالیں دوستو
ہر گھڑی مجھ کو خود اپنی ہار کا خدشہ رہا

وائے وحشت! اسپ و فرزیں ، فیل و رخ سب پٹ گئے
جذبۂ جوشِ ظفر قائم انہیں مہروں پہ تھا

رئیس الدین رئیس نے شطرنج پر اپنا ارادہ اس طرح سے ظاہر کیا ہے

کاش شطرنج پہ ظاہر ہو ارادہ میرا
شاہ کو پیٹنے نکلا ہے پیادہ میرا

ہمدم نعمانی کے پیدل کا جب مزاج بگڑتا ہے تو اس طرح کا شعر وجود میں آتا ہے
اسپ و فرزیں ، فیل و رخ رہ جاتے ہیں ششدر سبھی
جب بگڑجاتا ہے ہمدم میرے پیدل کا مزاج

نسیم فائق کا شعر، شعر نہیں چیلنج ہے
مرے پیادوں کے سامنے اب
تو اپنے شاہ و وزیر لے آ

فتح کا جشن منانے والے تو بہت مل جائیں گے لیکن جان بوجھ کر ہارنے والے؟

ظرف ہمارا شیوہ ہے اور دلداری ہے فطرت اپنی
ہم نے تو شطرنج کی بازی جان کے اکثر ہاری ہے
ایوب رضا

ارشد جمال حشمی کی نگاہ دوربین ہے۔ وہ وزیر پر پیادہ کو ترجیح دیتے ہیں
کماں نہ رکھیے اگر اک بھی تیر باقی ہے
پیادہ ہے تو سمجھیے وزیر باقی ہے

مات تو ہر مقابلے کا لازمی حصہ ہوتا ہے لیکن مات سے پہلے شہ دے کر حریف کھلاڑی کو گھیرے میں لینا اور شکست قبول کرنے کے لیے مجبور کرنا صرف شطرنج میں ہی ممکن ہے۔

ادب میں شطرنج کو جو مقام ملا ہے اس کا سارا کریڈٹ اردو کے شعراء حضرات کا ہی نہیں منشی پریم چند بھی اس کریڈٹ کے حقدار ہیں جنہوں نے “شطرنج کے کھلاڑی” کی تصنیف کی۔

شطرنج عہد قدیم ہی نہیں عہد حاضر میں بھی کھیلا جانے والا وہ کھیل ہے جسے شاطر اذہان بِنا بساط بچھائے ہی کھیلتے نظر آتے ہیں۔ فکر کو پختگی دیتے ہوئے اگر ہر ذی شعور شطرنج کی چالوں سے آگاہی حاصل کرلے تو ہرگز پیادہ ہو یا سوار کسی ظالم و شاطر دماغ کا مہرہ بننا قبول نہیں کرے گا۔
کرونا کی بدولت ملنے والے ان قرنطینیائی لمحات سے مستفید ہوتے ہوئے اپنی جسمانی ورزش کے ساتھ ذہنی ورزش کا بھی انتظام کرتے ہوئے شطرنج کی بازی جمائیے اگر کھیلنا نہیں آتی تو سیکھنے کی کوشش کیجیے۔ گھر بیٹھے کند ہوتی اپنی ذہانت کو کام میں لائیے اور شعر پڑھ کر شاعر زماں قاسمی صاحب کو داد دیجیے۔۔
کتنے ماہر ہیں زماں شطرنج میں
ایک دن بازی جما کر دیکھیے!

بنت الہدی
بنت الہدی
کراچی سے تعلق ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *