رگ جاں میں آگ/ فاروق نتکانی

پیش لفظ افسانہ “رگ جاں میں آگ”

دنیا کہتی ہے کہ زمانہ بدلنے کے لیے طاقت چاہیے —
میں کہتا ہوں، نہیں!
زمانہ بدلنے کے لیے احساس چاہیے۔
ایک لمحہِ احساس پوری صدیوں کے سکوت سے بھاری ہوتا ہے۔
یہی احساس جب بیدار ہوتا ہے،
تو تخت لرزتے ہیں،
تاریخ نئے صفحے پر نام لکھتی ہے،
اور ظالم کا تاج زمین پر گرتا ہے۔

یہ افسانہ اسی لمحے کی گواہی ہے —
جب انسان اپنے خوف سے نکلتا ہے،
جب غلام اپنی زنجیر توڑتا ہے،
اور جب قوم اپنی رگِ جاں میں بہتی آگ کو پہچان لیتی ہے۔

یہ آگ جلانے کے لیے نہیں،
روشن کرنے کے لیے ہے۔
یہ آگ انتقام کی نہیں، ایمان کی ہے۔
یہ وہ آگ ہے جو ظلم کو راکھ نہیں کرتی،
بلکہ دلوں کو چراغ بنا دیتی ہے۔

اے اہلِ قلم!
اے اہلِ درد!
یہ داستان تمہارے لیے لکھی گئی ہے۔
اس میں تمہارا لہو ہے، تمہارا آنسو، تمہارا عزم۔
یہ تمہیں یاد دلاتی ہے کہ تم زندہ ہو —
اور جب تک رگِ جاں میں آگ ہے،
ظلم کا کوئی اندھیرا باقی نہیں رہ سکتا۔
————————————–
افسانہ:
رگِ جاں میں آگ
از فاروق نتکانی

دنیا کی تاریخ میں ایک لمحہ ایسا ضرور آتا ہے جب انسان اپنے ہی وجود سے سوال کرتا ہے:
کیا میں زندہ ہوں، یا صرف سانس لے رہا ہوں؟
یہ سوال ابتدا میں خموش ہوتا ہے، لیکن رفتہ رفتہ دھڑکن کی طرح سنائی دینے لگتا ہے —
پھر یہی دھڑکن ایک شور بن جاتی ہے، اور انسان کے اندر ایک نادیدہ بغاوت جنم لیتی ہے۔

میں ایک ایسے ہی لمحے کا عینی شاہد ہوں — یا شاید اس لمحے کا حصہ۔
شاید یہ لمحہ میری ذات سے شروع ہوا تھا، اور اب میری ذات سے بہت آگے نکل گیا ہے۔
وہ دن عام دنوں سے کچھ مختلف نہ تھا، لیکن ہوا میں ایک بےنام سا بوجھ ضرور تھا۔
سڑکوں پر لوگ چل رہے تھے، جیسے صدیوں سے ایک ہی سمت میں چلتے آئے ہوں —
نہ منزل بدلی، نہ رفتار۔
صرف گرد کے ذرے تھے جو ہر چہرے پر بیٹھ کر احساس کو مٹی بنا دیتے تھے۔

میں نے دیکھا، ایک بچہ گری ہوئی روٹی پر جھک کر مٹی جھاڑ رہا تھا۔
وہ اس مٹی سے روٹی کو پاک نہیں کر رہا تھا،
بلکہ شاید اپنی قسمت کو صاف کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
اس منظر نے میرے اندر کچھ توڑا —
جیسے کسی خاموش تالاب میں اچانک پتھر گر جائے، اور اس کی سطح پر بنتے دائرے دل تک پہنچ جائیں۔

پہلے پہل تو ایک عجیب سا کرب محسوس ہوا،
پھر وہی کرب آہستہ آہستہ ایک شعلے میں بدلنے لگا۔
یوں لگا جیسے میرے بدن کے خلیے دہکنے لگے ہوں،
جیسے خون کی ہر بوند میں کسی نامعلوم صداقت کی سرسراہٹ ہو۔

یہی تو زندگی کا پہلا بیدار لمحہ ہوتا ہے —
جب ہم اپنے آپ سے لڑنا شروع کرتے ہیں،
اور پہلی بار ہمیں اپنی بے بسی پر غصہ آتا ہے۔
یہ غصہ محض احتجاج نہیں ہوتا،
یہ وہ آگ ہوتی ہے جو دل کے خیمے میں چراغ بن کر جلتی ہے،
اور پھر ایک وقت آتا ہے جب وہ چراغ خیمے کو بھی جلا دیتا ہے۔

شہر کی فضا میں ایک سناٹا تھا، مگر اس سناٹے کے اندر شور پوشیدہ تھا۔
دکانوں پر بیٹھے چہرے، دراصل تصویریں تھیں۔
بولنے والے لب، دراصل تربیت یافتہ خاموشیاں۔
یوں لگتا تھا کہ سب کچھ رواں ہے، مگر کچھ بھی زندہ نہیں۔
اور شاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب معاشرے کا ضمیر اپنے سائے سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔

مجھے یاد ہے، میں نے اسی رات اپنی کھڑکی سے باہر دیکھا تھا —
گلی میں جلتی بجھتی روشنیوں کے درمیان
ایک بوڑھی عورت کسی لاش کے قریب بیٹھی تھی۔
وہ نہ رو رہی تھی، نہ چیخ رہی تھی،
بس زمین کو دیکھ رہی تھی — جیسے اس سے جواب مانگ رہی ہو۔
اس کی آنکھوں میں سوال نہیں تھا،
بلکہ سوالوں سے آگے کا ایک سکوت تھا۔
وہ سکوت جو انسان کو اندر سے پگھلا دیتا ہے۔

اُسی لمحے میں نے محسوس کیا کہ میرے اندر کچھ جاگ گیا ہے۔
شاید وہ رگِ جاں تھی —
جو برسوں سے خموش تھی،
جو ظلم، ناانصافی، اور بے حسی کے شور میں دب گئی تھی۔
اب وہ جاگ چکی تھی،
اور اس کی بیداری نے میرے اندر کے خلیوں کو سلگا دیا تھا۔

یہ سلگن عذاب تھی،
لیکن عذاب میں بھی ایک لطیف لذت تھی —
جیسے صدیوں کے مردہ احساسوں کو کوئی آہستہ آہستہ بیدار کر رہا ہو۔
میں نے اپنے اندر بہنے والے درد کو محسوس کیا،
اور سمجھ گیا کہ یہ صرف میرا درد نہیں ہے۔
یہ اس بچے کا بھی ہے جو روٹی جھاڑ رہا تھا،
اس عورت کا بھی جو زمین سے انصاف مانگ رہی تھی،
اور ان سب کا جو زندہ ہیں مگر زندگی سے محروم۔

یہی وہ لمحہ ہے جب فرد کی ذات، قوم کی روح سے ملتی ہے۔
جب دکھ ذاتی نہیں رہتا، اجتماعی بن جاتا ہے۔
اور اجتماعی دکھ، تاریخ کے ہر انقلاب کا پہلا سنگِ میل ہے۔

میں نے اس شب ایک فیصلہ کیا —
میں خاموش نہیں رہوں گا۔
میرے پاس بندوق نہیں، نعرہ نہیں، قبیلہ نہیں —
لیکن میرے پاس ایک چنگاری ہے،
اور چنگاری کو بھڑکنے کے لیے صرف ایک سانس کافی ہوتی ہے۔

صبح کا اجالا طلوع ہوا، مگر روشنی میں وہ تازگی نہ تھی جو کبھی ہوا کرتی تھی۔
یوں لگتا تھا جیسے سورج خود تھک چکا ہو۔
اس کے رنگ پھیکے تھے، اس کی کرنیں زمین کو چھونے سے ہچکچا رہی تھیں۔
فضا میں ایک ایسی خاموشی تھی جسے صرف وہی سن سکتا تھا جس کے اندر شور بیدار ہو چکا ہو۔
میں نے محسوس کیا کہ دنیا کی ہر چیز گویا میرے اندر گونجنے لگی ہے —
کسی کے رونے کی صدا، کسی کے قدموں کی چاپ، کسی کے دل کی دھڑکن۔
اور ان سب کے بیچ ایک ہی آواز تھی جو بار بار دہرا رہی تھی:
“اب بس۔”

انسان جب اندر سے بدلتا ہے تو کائنات بھی اپنی سمت بدلنے لگتی ہے۔
یہی وہ لمحہ تھا جب میری ذات کی تپش فضا میں سرایت کرنے لگی۔
میں سڑک پر نکلا تو دیکھا کہ وہی لوگ جو کل بے خبر تھے، آج ان کے چہروں پر کوئی نیا رنگ ہے۔
وہ خاموش تھے مگر ان کی آنکھوں میں سوال جگمگا رہے تھے۔
ایک مزدور نے اپنی چھالوں بھری ہتھیلی دکھا کر کہا:
“دیکھو، ہم نے زمین کو نرم کیا، مگر زمین نے ہمیں پتھر بنا دیا۔”
میں نے محسوس کیا — یہ جملہ صرف ایک زبان سے نہیں نکلا،
یہ پوری تاریخ کی صدائے احتجاج تھی۔

یہی تو ہوتا ہے جب رگِ جاں میں بہتا لہو اجتماعی روح میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
جب ایک انسان کی تکلیف، پوری قوم کے دل میں دھڑکنے لگتی ہے۔
میں نے محسوس کیا کہ فضا میں ایک نئی توانائی ہے،
ایک غیر مرئی بیداری،
جو دراصل ان دیکھے خلیوں کا شور ہے۔
ہر دل کے اندر ایک ننھی سی بغاوت پل رہی ہے —
ابھی وہ آواز نہیں بنی، مگر خاموشی میں بھی اس کی تھرتھراہٹ سنائی دیتی ہے۔

اسی شام شہر کے ایک چوراہے پر چند لوگ جمع ہوئے۔
کوئی نعرہ نہ تھا، کوئی پرچم نہیں —
بس آنکھوں میں سوال اور لہجوں میں لرزتی ہوئی امید تھی۔
ان میں کوئی عالم تھا، کوئی مزدور، کوئی طالب علم،
اور کوئی ایسا شخص جس کا نام کبھی کسی نے نہ سنا تھا۔
لیکن ان سب کے بیچ ایک عجیب ہم آہنگی تھی،
جیسے مختلف سازوں سے ایک ہی دھن بج رہی ہو۔

کسی نے کہا: “ہم کیوں چپ ہیں؟”
دوسرے نے جواب دیا: “کیونکہ ہم عادتاً چپ ہیں۔”
تیسرے نے سر اٹھایا: “اور جب عادت بدل جائے گی، تب کیا ہوگا؟”
یہ سوال ہوا میں تیر گیا،
اور فضا جیسے لرز گئی۔
میں نے محسوس کیا کہ سوال کبھی تنہا نہیں رہتا —
وہ کہیں نہ کہیں جواب کو جگا دیتا ہے۔

اسی لمحے، ایک آواز بلند ہوئی:
“ظلم کے سامنے خاموش رہنا، ظلم کا پہلا گناہ ہے۔”
یہ آواز کسی نے نہیں دی،
یہ جیسے زمین کے سینے سے اٹھی ہو۔
لوگوں نے ایک دوسرے کو دیکھا،
اور ایک عجیب خاموش تاثر پھیل گیا —
گویا ہر چہرے پر ایک ہی لفظ لکھا ہو: بیداری۔

میں نے اس اجتماع کو بڑھتے دیکھا۔
یہ مجمع نہیں تھا،
یہ ایک ضمیر تھا جو صدیوں بعد خود کو پہچان رہا تھا۔
لوگ باتیں نہیں کر رہے تھے،
وہ بس ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کر رہے تھے —
اور یہی کسی بھی انقلاب کی پہلی شرط ہے:
کہ انسان، انسان کو پہچان لے۔

رات ڈھلی تو شہر کی فضا میں بجلی سی دوڑ گئی۔
کسی نے دیوار پر نعرہ لکھا: “ہم زندہ ہیں!”
بس یہی تین لفظ کافی تھے۔
ان تین لفظوں میں تاریخ کی صدیاں سمٹی ہوئی تھیں۔
میں نے محسوس کیا کہ ظلم کے ایوانوں میں ایک لمحے کی لرزش پیدا ہوئی ہے۔
کسی نے کھڑکی بند کی، کسی نے پردہ ہٹایا،
اور سب نے ایک ہی سوچ میں سرگوشی کی:
“یہ ہوا کہاں سے چلی؟”

وہ ہوا دراصل ان خلیوں کی گونج تھی جو جاگ چکے تھے۔
جنہیں کسی واقعے نے سلگا دیا تھا —
جن کی نیند اب بغاوت بن گئی تھی۔
اور بغاوت جب جاگتی ہے تو وہ صرف تخت نہیں گراتی،
وہ تاریخ کا چہرہ بدل دیتی ہے۔

میں گھر لوٹا تو اپنے آئینے کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
چہرہ وہی تھا مگر آنکھیں بدل چکی تھیں۔
ان میں اب خوف نہیں تھا —
بلکہ ایک عزم تھا جو لفظوں میں نہیں سما سکتا۔
میں نے خود سے کہا:
“یہ آگ اب میرے اندر نہیں رہی،
یہ آگ اب رگِ جاں سے نکل کر ہوا میں پھیل چکی ہے۔”

اور میں جانتا تھا —
جب آگ ہوا میں شامل ہو جاتی ہے،
تو پھر کوئی دیوار اسے روک نہیں سکتی۔

رات لمبی تھی۔ آسمان پر بادلوں نے چاند کو چھپا رکھا تھا۔
ہوا میں راکھ کا ذائقہ تھا، جیسے کسی نے کسی خواب کو جلایا ہو۔
مگر اس سیاہی کے بیچ کہیں ایک روشنی بھی تھی —
وہ روشنی جو شعلے سے نہیں، ایمان سے نکلتی ہے۔

میں نے دیکھا، شہر کے در و دیوار پر کچھ لکھا جا رہا تھا۔
کہیں کسی بچے نے کوئلے سے لکھا: “ہمیں یاد ہے”۔
کہیں کسی عورت نے کپڑے کے ٹکڑے پر خون سے لکھا: “ہم بھولے نہیں”۔
اور کہیں کسی نامعلوم ہاتھ نے دیوار پر کھینچا: “ہم بدل گئے ہیں”۔

یہ الفاظ نعرے نہیں تھے۔
یہ تاریخ کے ضمیر سے نکلے ہوئے وہ جملے تھے
جو نسلیں مٹا نہیں سکتیں۔
یہ اعلان نہیں، اثبات تھے —
کہ رگِ جاں میں بہنے والی آگ اب روشنی بن چکی ہے۔

صبح طلوع ہوئی تو شہر بدلا ہوا تھا۔
وہی گلیاں، وہی چوک، وہی مکانات —
مگر فضا میں ایک عجیب طرح کی ہلچل تھی،
جیسے وقت نے اپنے پر پھڑپھڑائے ہوں۔
لوگ اب ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے،
اور دیکھنے میں ایک پہچان تھی،
جیسے صدیوں کے بعد آئینہ صاف ہوا ہو۔

دکانیں کھل رہی تھیں مگر اب ان میں خریدار نہیں،
ساتھی نظر آ رہے تھے۔
مسجد سے اذان بلند ہوئی تو اس کی گونج
دل کے اندر تک جا پہنچی —
وہ صرف عبادت کی پکار نہیں تھی،
وہ زندگی کی طرف واپسی کا اعلان تھی۔

میں نے محسوس کیا کہ بیداری کا سب سے پہلا ثمرہ
خوف کا زوال ہے۔
اور جب خوف ٹوٹتا ہے تو غلامی کے ستون خود بخود گرنے لگتے ہیں۔
لوگوں نے بولنا شروع کیا —
نرمی سے، مگر سچائی کے ساتھ۔
کسی نے کہا:
“ہم نے بہت انتظار کیا، اب ہم خود وقت بنیں گے۔”
دوسرے نے کہا:
“ہم نے صدیوں سے خاموشی کے جنازے اٹھائے ہیں،
اب ہم لفظوں کو زندگی دیں گے۔”

یہ آوازیں ابتدا میں چھوٹی تھیں،
مگر رفتہ رفتہ پوری فضا میں پھیل گئیں۔
یوں لگتا تھا جیسے فضا نے نیا لہجہ سیکھ لیا ہو۔
وہی فضا جس نے کبھی ظلم کی چیخیں نگل لی تھیں،
اب انصاف کے ترانے دہرا رہی تھی۔

میں اس سب کے بیچ کھڑا تھا۔
مجھے یاد آیا، وہ بچہ جو روٹی جھاڑ رہا تھا —
آج وہی بچہ چوک کے بیچ کھڑا ہے،
اس کی آنکھوں میں مٹی نہیں،
روشنی ہے۔
اور وہ مسکرا کر کہتا ہے:
“اب زمین صاف ہو گئی ہے۔”
میں اس مسکراہٹ میں صدیوں کی تعبیر دیکھ رہا تھا۔
یہ مسکراہٹ وہ پہلی کرن تھی
جس نے اندھیروں کو شکست دی۔

دن گزرتے گئے۔
شہر بدل گیا، لوگ بدل گئے،
اور میں نے محسوس کیا کہ اندر کا شور
اب سکون میں بدلنے لگا ہے۔
لیکن یہ سکون جمود کا نہیں تھا،
یہ فتح کا سکون تھا —
جیسے کوئی زخم بھر گیا ہو مگر نشان باقی ہو۔

میں نے اپنے دل سے پوچھا:
“کیا آگ بجھ گئی؟”
اندر سے آواز آئی:
“آگ نہیں بجھتی، آگ صرف شکل بدلتی ہے۔”
اور میں نے جان لیا —
یہی زندگی کا راز ہے۔
جب آگ روشنی بن جائے،
تو اس سے دنیا کی سمت بدل جاتی ہے۔

اب رگِ جاں میں بہنے والا خون خاموش نہیں،
وہ چراغوں کی لَو بن چکا ہے۔
اور ہر لَو میں ایک کہانی جل رہی ہے —
کسی ماں کے آنسو کی،
کسی مزدور کے پسینے کی،
کسی نوجوان کے خواب کی۔
یہ سب کہانیاں مل کر ایک صداقت بنتی ہیں،
جسے کوئی ظلم مٹا نہیں سکتا۔

میں نے آخری بار آسمان کی طرف دیکھا۔
بادل چھٹ چکے تھے۔
چاند اب پوری آب و تاب سے روشن تھا۔
میں نے محسوس کیا —
یہ وہی روشنی ہے جو کبھی میرے اندر جاگی تھی،
اور آج آسمان پر نقش ہو گئی ہے۔

دنیا شاید اب بھی بے حس ہے،
مگر رگِ جاں میں وہ آگ اب دائمی ہے۔
یہ آگ اب جلانے کے لیے نہیں،
روشن کرنے کے لیے ہے۔
یہ آگ اب انتقام کی نہیں،
احیائے انسان کی علامت ہے۔

julia rana solicitors

میں نے خود سے کہا:
“یہی آگ ابدی ہے —
یہی انسان کی اصل ہے۔”

Facebook Comments

فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply