دیہی علاقوں میں تعلیمی مسائل/ ماریہ بتول

جب شہر کے بچے کمپیوٹر پر سبق پڑھ رہےہیں ،وہیں دیہات کے بچے اب بھی تختی پر حروف جوڑنا سیکھ رہے ہیں ۔اور دیہات کا بچہ اسکول جانے سے پہلے یہ سوچتا ہے کہ آج استاد آئیں گے بھی یا نہیں ۔۔!
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کا اساس ہے۔وہیں قومیں دنیا کے نقشے پر عروج حاصل کرتی ہیں جنھوں نے تعلیم کو اپنا ہتھیار بنایا اور اسے ہر بچے ،ہر فرد تک پہنچایا ۔مگر بد قسمتی سے پاکستان کے دیہی علاقے آج بھی تعلیمی پسماندگی کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔جھاں شہروں کے اسکول جدید عمارتوں ،کمپیوٹر لیبز اور تربیت یافتہ اساتذہ سے مزین ہیں ،وہیں دیہات کے اسکول بنیادی سہولیات سے محروم ،خستہ حال عمارتوں اور غیر حاضر اساتذہ کی وجہ سے زبوں حالی کا شکار ہیں ۔
دیہی علاقے مندرجہ ذیل تعلیمی مسائل کا شکار ہیں ۔
اول الذکر دیہی اسکولوں میں سب سے بڑا مسئلہ عمارتوں اور سہولیات کا فقدان ہے ۔کئی دیہاتوں میں اسکول کچے کمروں یا عارضی جھونپڑیوں پر مشتمل ہیں ۔بعض جگہوں پر بچے درخت کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں کیونکہ کلاس روم یا فرنیچر دستیاب نہیں ۔پینے کے صاف پانی ،بیت الخلاء ،بجلی اور پنکھوں جیسی بنیادی ضروریات تک میسر نہیں ۔گرمیوں میں بچے دھوپ میں تپتے ہیں ۔بارش کے موسم میں اسکول بند ہو جاتے ہیں اور سردیوں میں کھلے صحن میں بیٹھنا دشوار ہو جاتا ہے ۔ایسی حالت میں تعلیم سے دلچسپی برقرار رکھنا بچوں کے لیے کسی امتحان سے کم نہیں ہے ۔
دوسرا تعلیم کے معیار کا دارومدار اساتذہ پر ہوتا ہے ،لیکن دیہی علاقوں میں اکثر اساتذہ کی تعیناتی تو ہو جاتی ہے مگر وہ حاضری نہیں دیتے ۔کئی سرکاری اسکول ایسے ہیں جہاں مہینوں استاد کا دیدار نصیب نہیں ہوتا ۔کچھ اساتذہ شہروں میں رہائش رکھتے ہیں اور صرف تنخواہ لینے کے لیے کبھی کبھار اسکول کا چکر لگا لیتے ہیں ۔نتیجہ یہ ہے کہ بچے بغیر رہنمائی کے محض نام کے طالب علم رہے جاتے ہیں ۔اس مسئلے کا حل تبھی ممکن ہے جب اساتذہ کی حاضری پر سخت نگرانی اور مقامی سطح پر احتسابی نظام قائم کیا جائے ۔
عموماً دیہی علاقوں میں والدین کی اکثریت ناخواندہ ہے ۔اسلیے وہ بچوں کی تعلیم کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتے ۔اکثر والدین اپنے بچوں کو کم عمری میں کھیتوں یا مزدوری پر لگا دیتے ہیں تاکہ گھریلو آمدنی میں اضافہ ہو ۔خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے دیہی معاشرے میں منفی رویے پائے جاتے ہیں ۔”لڑکیوں کو پڑھنے کی کیا ضرورت ہے یا “تعلیم سے بے راہ روی بڑھتی ہے “جیسے تصورات آج بھی عام ہیں ۔بہت ڈی بچیاں ابتدائی جماعتوں کے بعد اسکول چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں کیونکہ یا تو اسکول دور ہوتا ہے یا والدین اسے غیر ضروری سمجھتے ہیں ۔
مزید برآں ایک اور سنگین مسئلہ نصاب تعلیم کا غیر مؤثر اور پرانا ہونا ہے ۔دیہی اسکولوں میں پڑھائے جانے والے مضامین نہ تو عملی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ ہی بچوں کی فکری تربیت کرتے ہیں ۔کتابیں پرانی ،زبان مشکل اور طریقہ تدریس ناقص ناقص ہے ۔نتیجتآ بچے رٹے بازی کے عادی ہو جاتے ،علم حاصل کرنے کا شوق پیدا نہیں ہوتا ۔جدید نصاب ،سادہ زبان ،اور عملی مثالوں پر مبنی تعلیم دیہی بچوں کے لیے زیادہ مفید ثابت ہوسکتی ہے ۔
تاہم تعلیم صرف حکومت کی نہیں ،بلکہ پورے معاشرے کی زمہ داری ہے ۔اگر حکومت دیہی اسکولوں کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کرے ۔اساتذہ کی تربیت کا بندوست کرے ،اور مقامی برادری کو اسکولوں کے معاملات میں شریک کرے تو تبدیلی ممکن ہے ۔دوسری طرف مخیر حضرات ،این کی اوز،اور عوامی نمائندوں کو بھی آگے آنا چاہیے تاکہ دیہی تعلیمی اداروں میں جان ڈالی جاسکے ۔
مختصراً دیہی علاقوں کے بچے کسی طور کم ذہین یا کم قابل نہیں ۔وہی بچے جب اچھی تعلیم اور رہنمائی پاتے ہیں تو قومی و بین الاقوامی سطح پر نمایاں کارنامے انجام دیتے ہیں ۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی ترقی شہروں کی چمک دمک میں نہیں بلکہ دیہات کے ان بچوں کے روشن مستقبل میں پوشیدہ ہے ۔اور اگر ہم نے تعلیم کا چراغ ہر گاؤں ،ہر بستی ،جھونپڑی تک پہنچا دیا ،تو یقیناً یہ ملک جہالت کے اندھیروں سے نکل کر ترقی و خوشحالی کی منزل پا لے گا ۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply