حرفوں کی زنجیر ۔ جین کا کوڈ ۔ جین (11) ۔۔وہاراامباکر

کوڈ کا لفظ کوڈیکس سے آیا ہے۔ یہ درخت کی چھال کو کہتے ہیں جس پر لکھا جایا کرتا تھا۔ درخت کی چھال سمیت زندگی کے بننے کی وجہ جین ہیں۔ جین زندگی کا کوڈ ہے۔ اور یہ جینیاتی کوڈ چار بیسز کی مدد سے لکھا گیا ہے۔ بالوں کی ساخت، آنکھ کا رنگ، ذہنی بیماری، پھول کی شکل، بیکٹیریا کا کوٹ، طوطے کی چونچ ۔۔۔ اسی جینیاتی کوڈ سے برآمد ہوتی ہے۔ لیکن کیسے؟

جارج بیڈل اور ایڈورڈ ٹاٹئم نے سٹینفورڈ یونیورسٹی کے تہہ خانے میں پھپھوندی پر تجربات کر کے پہلی بار اس کا انفارمیشن فلو بنا لیا تھا۔ جین پروٹین کا کوڈ رکھتے ہیں اور پروٹین فکنشن کو فعال کرتے ہیں۔ بیڈل اور ٹاٹم نے اپنی دریافت سے 1958 کا نوبل انعام جیتا لیکن اس سے ایک اور سوال برآمد ہوا۔ ایک جین آخر کیسے پروٹین بناتی ہے؟

پروٹین کیا ہے؟ یہ 20 سادہ کیمیکلز کے ملاپ سے بنتی ہے جو کہ امینو ایسڈ ہیں۔ میتھیونن، گلائسین، لیوسین وغیرہ۔ یہ ایسڈ زنجیر کی صورت میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ ڈی ان اے کی زنجیر کی طرح نہیں بلکہ پروٹین کی زنجیر قسم قسم کی شکلیں بناتی ہے۔ جس طرح ایک تار کو مروڑ کر کوئی خاص شکل میں بدلا جا سکتا ہے۔ پروٹین کی یہ خاصیت خلیوں میں طرح طرح کے فنکنشن ممکن کرتی ہے۔ یہ لمبے اور کھینچے جانے والے ریشوں کی شکل میں پٹھوں کو بناتے ہیں (مائیوسین)۔ یہ گلوبیولر شکل میں کیمیکل ری ایکشن کرنے والے بن سکتے ہیں (جیسا کہ ڈی این اے پولیمریز کی طرح کی انزائم)۔ یہ رنگدار کیمیکل کے ساتھ بائینڈ ہو سکتی ہے اور آنکھوں کو یا پھولوں کو رنگ دینے والی پگمینٹ بن جاتے ہیں۔ یہ شکنجے کی شکل بن کر دوسرے مالیکیولز کی سواری بن سکتے ہیں (ہیوگلوبن)۔ یہ بتاتے ہیں کہ اعصابی خلیوں میں پیغام کیسے جائے گا۔ ہزاروں اقسام کی پروٹین طرح طرح کے فنکشن کرتی ہیں لیکن ڈی این اے کا چار حرفی کوڈ یہ کیسے کر لیتا ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بیکٹیریا کی جینیات پر کام کرنے والے شاک مونود اور فرانسوئی جیکب کے تجربات سے اندازہ ہوا تھا کہ ڈی این اے اور پروٹین کے درمیان ایک اضافی سٹیپ ہے۔ جینیاتی انفارمیشن پہلے کاپی ہوتی ہے اور پھر اس کاپی سے پروٹین بنتے ہیں۔ لیکن یہ پیغام کیا ہے؟ کوئی پروٹین، نیوکلئیک ایسڈ یا کوئی اور مالیکیول؟ اس کو 1960 میں کیل ٹیک کی لیبارٹری میں پکڑا گیا۔

اس وقت یہ تو معلوم ہو چکا تھا کہ خلیے میں پروٹین بنانے کی فیکٹری ایک خاص مالیکیول رائبوزوم ہے لیکن اس تک کوڈ کیسے آتا ہے۔ اس کو اپنے کام کے دوران پکڑنا مشکل ثابت ہو رہا تھا۔ اس کا آئیڈیا یہ تھا کہ پروٹین سنتھیسز کے دوران اچانک اس کو جما دیا جائے اور اس کانپتے ہوئے مالیکیول کو دیکھ لیا جائے۔ اس کا سیٹ اپ بناتے ہوئے ہفتوں لگے۔ یہ خلیے کے اندر بالکل ٹھیک کام کرتا تھا۔ پکڑا جاتا تھا لیکن باہر لاتے وقت ٹوٹ کر بکھر جاتا تھا۔ جیسے دھند کو ہاتھ میں پکڑنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔ اس پر تجربہ کرنے والے برینر کو ایک دھندلی صبح بائیوکیمسٹری کا ایک سبق یاد آیا اور اچھل کر کھڑے ہوئے، “میگنیشیم! ہمیں اس میں میگنیشیم کا اضافہ کرنا ہے”۔

ان کا اندازہ ٹھیک نکلا۔ تجربے میں اس اضافے نے کام کر دیا۔ مالیکیول اس بار نہیں ٹوٹا۔ بیکٹیریا کے خلیے میں سے یہ پیغام رساں مالیکیول باہر آ گیا۔ اور بہت تھوڑی سی مقدار کے پیغام رساں مالیکیول کے تجزیے نے بتا دیا کہ یہ آر این اے تھا۔ اور ایک خاص قسم کا آر این اے۔ یہ جین کے کوڈ کا ترجمہ کرتے وقت بنتا تھا۔ برینر اور جیکب نے بعد میں دریافت کیا کہ یہ ڈی این اے والی انفارمیشن رکھتا تھا۔ اصل سے کاپی بنتی تھی، جو نیوکلئیس سے باہر آتی تھی اور اس پیغام سے پروٹین بنتی تھی۔ ڈی این اے کی ماسٹر کاپی کسی نایاب کتاب کی طرح نیوکلئیس کی تجوری میں بند رہتی تھی۔ اس کی فوٹو کاپی ہو کر کام کرنے باہر آتی تھی۔ ایک ہی وقت میں متعدد کاپیاں بھی ہو سکتی تھیں اور ڈیمانڈ کے مطابق ان کی تعداد کم یا زیادہ ہو سکتی تھی۔ یہ وہ فیکٹ تھا جو جین کی ایکٹیویٹی اور فنکنشن سمجھنے میں کارآمد رہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن یہ ابتدائی سٹیپ پروٹین بنانے کا مسئلہ حل کرنے کی طرف پہلا قدم تھا۔ یہ پیغام پروٹین میں کیسے تبدیل ہوتا تھا؟ یہ واضح تھا کہ کوئی ایک بیس اتنی انفارمیشن نہیں رکھتی جس سے پروٹین بن سکے۔ امینو ایسڈ 20 طرح کے ہیں اور چار حروف خود سے یہ حالتیں نہیں بتا سکتے۔ راز ان کے کمبی نیشن میں تھا۔ واٹسن اور کرک نے لکھا، “ایسا لگتا ہے کہ کوڈ بیس کی ترتیب میں چھپا ہے”۔

یہ اس طرح ہے جیسے اے، سی یا ٹی خود میں کوئی خاص معنی نہیں رکھتے لیکن ان کے ملنے کی ترتیب بہت مختلف معنی دے دیتی ہے۔ act, cat, tac تینوں ہی ان حروف سے بنتے ہیں لیکن ان سب کا مطلب بہت مختلف ہے۔ جینیاتی کوڈ کو حل کرنا اس ترتیب کے پروٹین کے ساتھ تعلق کے نقشے کو حل کرنا ہے۔ ڈی این اے کے حروف کے کونسے کمبی نیشن پروٹین کا مطلب کونسا امینو ایسڈ ہے۔ یہ ڈی این اے کا کوڈ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تجربات کی ایک بہت دلچسپ سیریز سے کرک اور بینر نے یہ پتا لگا لیا کہ جینیاتی کوڈ تین حروف کے الفاظ پر مشتمل ہے۔ یعنی تین حروف کا تعلق پروٹین کے ایک امینو ایسڈ سے ہے۔ اب اگلا سوال؟ کونسے حروف کا تعلق کس کوڈ سے ہے؟ اس کو جاننے کی دوڑ کئی جگہ پر ہو رہی تھی۔

ایک غلطی، پھر اگلی پھر اگلی، اور پھر کہیں کوئی کامیابی۔ 1965 تک یہ نقشہ تیار تھا۔ مثال کے طور پر ACT کا مطلب تھریونین تھا۔ CAT کا مطلب ہسٹیڈائن تھا۔ CGT کا مطلب ارجینائن تھا۔

ڈی این اے سے آر این اے ۔۔۔ آر این اے سے ترجمہ کر کے امینو ایسڈ ۔۔۔ امینو ایسڈ کی زنجیر سے پروٹین ۔۔۔ پروٹین سے فنکشن ۔۔۔۔ انفارمیشن فلو کے بنیادی حروفِ تہجی سمجھ آنے لگے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرانسس کرک نے اس انفارمیشن فلو کو بائیولوجیکل انفارمیشن کا “سنٹرل ڈوگما” کہا۔ بیکٹیریا سے ہاتھی تک بائیولوجی میں ہر جگہ پر جینیاتی انفارمیشن کا فلو یہی ہے۔ سرخ آنکھ والی مکھی سے نیلی آنکھ والی شہزادی تک بائیولوجیکل انفارمیشن فلو اسی طریقے سے چلتا ہے۔ ڈین این اے آر این اے کو بنانے کی ہدایات دیتا ہے اور آر این اے پروٹین بنانے کی۔ پروٹین سٹرکچر بناتے ہیں، زندگی کا فنکنش کرتے ہیں اور یوں ۔۔۔۔ جین سے زندگی جنم لیتی ہے۔ (اس کا پراسس دیکھنے کے لئے نیچے لنک میں دیا گیا آرٹیکل)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کوڈ کے ایک ایک حرف کی اہمیت کو سمجھا ہو تو اس کی مثال کے لئے ایک قدیم بیماری سکل سیل انیمیا کو دیکھا جا سکتا ہے۔ جوڑوں، سینے اور ہڈیوں میں تیز تکلیف کے اچانک پڑنے والے دورے جیسے کوئی ہڈیوں کے گودے میں پیچ گھما رہا ہے۔ زرد پڑنے والے ہونٹ، انگلیاں اور جِلد۔ کئی طرح کی علامات کی ایک ہی وجہ کا پتا 1904 میں لگا۔ والٹر نوئل جو ڈینٹسٹ بننے کے لئے تعلیم حاصل کر رہے تھے، سینے اور ہڈیوں کی درد کی شکایت کے ساتھ امراضِ دل کے ڈاکٹر کے پاس آئے۔ وہ مغربی افریقہ سے تعلق رکھتے تھے اور یہ بیماری ان کے خاندان میں رہی تھی۔ ان کے خون کو ارنسٹ آئرنز نے مائیکروسکوپ کے نیچے رکھا اور ششدر کر دینے والی دریافت ہوئی۔ نارمل سرخ خلیوں کی شکل فلیٹ رکابی کی طرح ہوتی ہے۔ اس وجہ سے یہ ایک دوسرے کے اوپر فٹ آ جاتے ہیں اور شریانوں اور رگوں میں آسانی سے بھاگتے پھرتے ہیں۔ آکسیجن پہنچاتے رہتے ہیں۔ نوئل کے خون میں ان کی شکل ویسی نہیں تھی۔ پرسرار طور پر یہ درانتی کی شکل کے تھے۔

لیکن ایسا کیا ہوا تھا جس سے انہوں نے ایسی شکل اپنا لی تھی؟ اور یہ وراثت میں کیسے منتقل ہوتی ہے؟ اس کا قصوروار ہیموگلوبن بنانے والی جین تھی۔ (ہیموگلوبن وہ پروٹین ہے جو آکسیجن لے کر جاتی ہے)۔ لینس پالنگ نے 1951 میں دکھایا کہ سکل سیل اور نارمل سیل میں فرق ہیموگلوبن کی پروٹین کا ہے۔ اس سے پانچ سال بعد کیمبرج میں ہونے والے تجزئے میں یہ معلوم ہوا کہ نارمل اور درانتی والے ہیموگلوبن میں فرق صرف ایک امینو ایسڈ کا ہے۔

اگر ایک امینو ایسڈ میں تبدیلی آئی تو اس کا مطلب یہ کہ جین میں ایک ٹرپلٹ تبدیل ہوا۔ اور بعد میں جب اس کو معلوم کیا گیا تو ایسا ہی تھا۔ ڈی این اے میں صرف ایک جگہ پر GAG کی جگہ پر GTG لکھا ہوا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ گلوٹامیٹ پروٹین کی جگہ پر والین پروٹین بنتی تھا۔ اور اس امینو ایسڈ کی تبدیلی سے پروٹین کے فولڈ ہونے کی شکل بدل جاتی تھی۔ ایک سیدھے شکنجے کے بجائے ایک سپرنگ والے گچھے کی شکل اختیار کر لیتی تھی۔ جہاں آکسیجن کی کمی ہوتی تھی، یہ سرخ خلیے کی ممبرین کو سپرنگ کی طرح کھینچتے تھے اور نارمل خلیہ درانتی کی شکل اختیار کر لیتا تھا۔ یہ خون کی چھوٹی رگوں میں بہاوٗ میں مشکلات پیدا کرتا تھا۔ بہت چھوٹے خوددبینی کلاٹ بن جاتے تھے۔ خون کا بہاوٗ متاثر ہونے کا نتیجہ شدید تکلیف کی صورت میں نکلتا تھا۔

یہ روب گولڈبرگ بیماری تھی۔ جین کے سیکونس میں ایک حرف کی تبدیلی سے پروٹین کا سیکوئنس بدل گیا۔ اس سے خلیے کی شکل بدل گئی۔ اس نے شریان میں بہاوٗ پر اثر ڈالا اس نے جسم پر۔ جین، پروٹین، فنکشن اور قسمت ۔۔۔ یہ ایک زنجیر کی صورت میں بندھے ہوئے ہیں۔ ایک بیس میں صرف ایک تبدیلی، قسمت پر بڑا اثر ڈال دیتی ہے۔

(جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *