نوبل انعام برائے ادب 2025ء …… ہنگری کے ادیب لازلو کراسنا ہورکائی کو اُن کی زبردست اور بصیرت انگیز شخصیت کے لیے اور ادب میں ‘‘apocalyptic دہشت کے دورمیں فن کی طاقت کی تصدیق ’’ کے موضوع پر کئے گئے کام پر دیا گیا ہے۔
ہنگری کے 71 سالہ ادیب کراسناہورکائی، ایک مصنف، ناول نگار اور اسکرین رائٹر ہیں۔ کراسنا ہور کائی 1954 میں گیولا، ہنگری میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے ناولوں کے مشکل موضوعات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ اُن کے ناولوں پر اکثر قدیم( پوسٹ ماڈرن )کا لیبل لگایا جاتا ہے۔ اُن کے ناول ‘‘ڈسٹوپین ’’اور‘‘ میلانکولک’’ موضوعات کو پر لکھے گئے ہیں۔ وہ اب تک بین الاقوامی بکر پرائز، پرکس میڈیسس ایٹرنجر، ترجمہ شدہ ادب کے لیے نیشنل بک ایوارڈ اور کوسوتھ اعزازات کے لئے نامزد ہوچکے ہیں۔ کراسنا ہنگری کی بوڈاپسٹ پبلک یونیورسٹی سے فیکلٹی آف ہیومینٹیز اور فیکلٹی آف لاء سے فارغ التحصیل ہیں۔ رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے ہنگری کے ناول نگار اور اسکرین رائٹر Laszlo Krasznahorkai کو رواں ماہ اکتوبر میں ادب کا 2025 کا نوبل انعام دیا ہے۔2002 ء میں ایمرے کرٹیز کے بعد لازلو یہ اعزاز حاصل کرنے والے دوسرا ہنگیرین ادیب ہیں۔
ادب کا نوبل پرائز گذشتہ سال جنوبی کوریا کے مصنف ہان کانگ کو دیا گیا تھا، جنہیں ”ان کے خوبصورت شاعرانہ نثر کے لیے سراہا گیا تھا، جو تاریخی صدمات کا مقابلہ کرتی ہے اور انسانی زندگی کی نزاکت کا اظہار کرتی ہے”۔ ہان جنوبی کوریا کی پہلی مصنفہ اور ادب کا نوبل انعام جیتنے والی 18ویں خاتون ہیں۔
لازلو کا تعلق جنوب مشرقی ہنگری کے چھوٹے قصبے گیولا سے ہے۔ انہوں نے 1987ء میں مغربی برلن جانے کے بعد پہلی باراپنی تحریروں میں کمیونزم کے تحت اپنے تجربات اور مشاہدات وسیع سفر نامہ میں بیان کئے اور قارئین ِ ادب کو متاثر کیا۔ان کے ناول، مختصر کہانیاں اور مضامین جرمنی میں سب سے زیادہ مشہور ہیں، جہاں وہ طویل عرصے تک مقیم رہے، اور ہنگری میں، جہاں انہیں بہت سے لوگ ملک کا سب سے اہم مصنف تصور کرتے ہیں۔امریکی نقاد سوسن سونٹاگ نے لازلو کو عصری ادب کا ”ماسٹر آف دی اپوکیلیپس” کا تاج پہنایا ہے۔
لازلو کراسنا ہورکائی کے بارے میں انگریزی زبان کے مترجم، شاعر جارج سزرٹس رقمطراز ہیں کہ ، ‘‘ وہ ایک متحیر کر دینے والا مصنف ہے۔’’ مزید کہ ‘‘ وہ آپ کو اس وقت تک اپنے قارئین کو اپنی طرف کھینچتا ہے جب تک کہ وہ آپ کے اندر کی بازگشت کواپنے ساتھ منسلک نہ کرلے، یہاں تک کہ یہ ترتیب اور افراتفری کا آپ کا اپنا نظریہ بن جائے”۔تنقیدی لحاظ سے ، کراسناہورکائی نے ایک بار اپنے انداز اور اسلوب کو ”حقیقتاً پاگل پن کی حد تک جانچا ہوا” قرار دیا۔ لمبے لمبے جملوں اور پیراگراف کے چند وقفوں میں تحریر کی دلچسپی نے مصنف کو ” ایک جنونی” کے طور پر ظاہر کیا ہے۔کراسنا ہورکائی کے کئی کہانیاں اور ناولوں کو ہنگری کے نامور ہدایت کار بیلا تارے نے فلمایا ہے۔ اس فہرست میں ان کی پہلی فلم، ‘‘سیٹانٹینگو’’ اور‘‘ دی میلانکولی آف ریزسٹنس’’ قابل ِ ذکر ہیں۔
سویڈش اکیڈمی، 11 ملین سویڈش کراؤن ($ 1.2 ملین) کی مالیت کا انعام دُنیا بھر میں محتلف زمروں (سائنس اور ادب)سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو اُن کی اعلٰی کارکردگی پر نوازتی ہے۔ اکیڈمی نے ایک بیان میں کہا، ”لازلو کراسنا ہورکائی وسطی یورپی روایت میں ایک عظیم مہاکاوی (Apic) مصنف ہے جو کافکاؔ سے لے کر تھامس برنارڈؔتک پھیلی ہوئی ہے۔(” عالمی اد ب میں ، ‘‘ایپک’’ ایک ایسی صنف ِ ادب ہے جس میں بہادری کے کارناموں کے بارے میں ایک طویل داستانی نظم کا حوالہ دیا جاتا۔ اس لفظ کے ادبی اور جدید دونوں معنی ہیں: یہ بہادری کے کاموں کے بارے میں ایک طویل داستانی نظم کا حوالہ ہے(جیسے ہومرؔ کا ایلیاڈ) یا غیر رسمی طور پر، کسی بھی عظیم یا قابل ذکر واقعہ، شخص یا چیز کا۔)
سویڈش ریڈیو سے بات کرتے ہوئے، 71 سالہ کراسنا ہورکائی نے کہا کہ اس نے صرف ایک کتاب لکھنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن اپنا پہلا ناول ”ستانتنگو” پڑھنے کے بعد وہ ایک اور کتاب کے ساتھ اپنی تحریر کو بہتر بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میری زندگی ایک مستقل اصلاح ہے۔انہوں نے کہا کہ بطور ناول نگار ان کی سب سے بڑی تحریک ”تلخی” تھی۔
لازلو کراسنا ہورکائی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا، ‘‘اگر میں اب دُنیا کی حیثیت کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے، اور یہ میراگہرا الہام ہے۔’’ لازلو کے ناول وسطی یورپ کے دور دراز دیہاتوں اور قصبوں سے ہوتے ہوئے ، ہنگری سے جرمنی تک، مشرق بعید کی طرف جانے سے پہلے، جہاں اس کے چین اور جاپان کے سفر نامہ نے قارئین پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ ”ستانتنگو”، ان کی 1985 ء کی پیش رفت، اسی طرح کے ایک دور دراز دیہی علاقے میں ترتیب دی گئی ہے اور ہنگری میں ایک ادبی سنسنی بن گئی۔ سوئیڈش اکیڈمی نے کہا کہ ‘‘یہ ناول طاقتور طور پر تجویز کردہ الفاظ میں، ہنگری کے دیہی علاقوں میں کمیونزم کے زوال سے عین قبل ایک لاوارث اجتماعی فارم پر رہنے والوں کے ایک بے سہارا گروہ کی تصویر کشی کرتا ہے۔’’ اُس وقت پورے خطے میں ایسے اجتماعی فارم قائم کیے گئے تھے جب کمیونسٹ حکمرانی کے آغاز میں زمینیں ضبط کی گئی تھیں، اور یہ فارم1989ء میں ختم ہونے تک بدانتظامی اور غربت کی علامت بن چکے تھے۔اکیڈمی نے مزیدکہا کہ ،‘‘ناول میں ہر کوئی معجزہ ہونے کا منتظر ہے، ایک اُمید جو شروع سے ہی کتاب کے تعارفی (فرانز) کافکا کے نعرے سے متاثر ہوچکی تھی۔’’ اس ناول میں ‘‘خوابوں جیسے مناظر اور عجیب و غریب خصوصیات’’کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ نظم اور خرابی کے درمیان وحشیانہ جدوجہد کو پیش کیا جا سکے ۔لازلونے 2013 ء میں ‘‘ دی وائٹ ریویو’’ کو ایک انٹر ویو میں کافکا ؔ کے ، ‘‘The Castle’’ کا بار بار حوالہ دیا ہے،‘‘جب میں کافکا ؔکو نہیں پڑھ رہا ہوں، میں کافکا ؔکے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ جب میں کافکا ؔکے بارے میں نہیں سوچ رہا ہوں، تو میں اس کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیتا ہوں۔’’
ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان کے سخت ناقد، کراسنا ہورکائی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت یوکرین جنگ پر اپنے موقف کی وجہ سے ”نفسیاتی کیس” تھی۔ اوربان نے کیف کے لیے فوجی امداد کی مخالفت کی اور کہا کہ ہنگری کو جنگ سے باہر رہنا چاہیے۔ لازلونے ‘‘ییل ریویو ’’کوایک انٹرویو میں کہا،‘‘ جب روس کسی پڑوسی ملک پر حملہ کرے تو کوئی ملک غیر جانبدار کیسے ہو سکتا ہے؟’’اس خبر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، اوربان نے اپنے ایک مختصر پیغام میں لکھا: ‘‘ہنگری کے ادب میں نوبل انعام یافتہ لازلو کراسنا ہورکائی ، ہماری قوم کے لیے فخر کا باعث ہے۔ مبارک ہو!’’
لازلوکی زیادہ ترادبی تحریک وسطی یورپ میں کمیونزم کے زوال کے وقت کے تجربات سے حاصل ہوتی ہے۔ 1987ء میں، لازلو ، کمیونسٹ ہنگری سے مغربی برلن چلے گئے، جہاں انھوں نے کہا کہ انھیں‘‘ایک ایسا جمہوری ماحول’’ ملا جس کا انھوں نے پہلے کبھی تجربہ نہیں کیا تھا۔انہوں نے 2023 ء میں Friderikusz Podcast پر ایک انٹرویو میں کہا، ‘‘ میں آزادی کا ذائقہ کبھی نہیں بھولا۔’’
لنکن یونیورسٹی میں کمیونیکیشنز کے پروفیسر جیسن وائٹیکر نے کہا کہ لازلو کی تحریر اکیسویں صدی میں یوکرین میں روس کی جنگ کے ساتھ ساتھ فلسطینی اسرائیل تنازعہ کی خبروں میں ڈوبے ہوئے قارئین کے ساتھ گونج سکتی ہے۔وائٹیکر نے کہا، ‘‘ایسا لگتا ہے کہ ہم بیسویں صدی کے آخر میں اس سے کہیں زیادہ مخالف اور تاریک ماحول میں داخل ہو گئے ہیں جس کی ہم نے امید کی تھی۔’’
لازلو کے ہنگریین فلم ساز بیلا تار کے ساتھ قریبی تخلیقی شراکت داری تھی۔ بیلا تار کی طرف سے ان کے کئی کاموں کو فلموں میں ڈھال لیا گیا ہے، جن میں ‘‘ستانتنگو”، جو سات گھنٹے سے زیادہ چلتی ہے، اور ‘‘دی ورکمسٹر ہارمونیز’’ شامل ہیں۔تار نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کوایک انٹر ویو میں بتایا، ‘‘جب میں نے ‘‘ستانتنگو’’ پڑھا تو مجھے فوراً معلوم ہو گیا کہ مجھے اس پر مبنی ایک فلم ضرور بنانا چاہیے۔’’ 1993ء میں، لازلو نے……………… ”The Melancholy of Resistance” کے لیے سال کے بہترین ادبی کام پر‘‘ جرمن Bestenliste پرائز’’ جیتا۔لازلو ‘‘مین بکر انٹرنیشنل پرائز 2015 ء’’ کے فاتح بھی تھے۔
عالمی سطح پر نوبل ایوارڈز/ انعامات 1901 ء سے ادب، سائنس اور امن کے قابل قدر اور لائق تحسین کوششوں پر دیے جا رہے ہیں۔سوئیڈن کے ڈائنامائٹ کے موجد اور تاجر الفریڈ نوبل کی وصیت سے اس انعامی سلسلے کا آغاز کیا گیا تھا۔ادبی انعام کے ماضی کے فاتحین میں فرانسیسی شاعرہ سلی پرودھومے، جنہوں نے پہلا ایوارڈ حاصل کیا، 1949 ء میں امریکی مصنف ولیم فالکنر اور 1953 ء میں دوسری جنگ عظیم کے برطانیہ کے وزیر اعظم ونسٹن چرچل شامل ہیں۔پچھلے سال کا انعام جنوبی کوریا کی مصنف ہان کانگ نے جیتا تھا جو 18 ویں خاتون بنیں – پہلی خاتون 1909 ء میں سویڈش مصنفہ سیلما لیگرلوف تھیں –
رابندر ناتھ ٹیگور (1861 -1941) ہندوستانی ثقافتی نشاۃ ثانیہ کی ایک مشہور شخصیت تھے۔ وہ ایک کثیرالمطالعہ شاعر، فلسفی، موسیقار، مصنف اور ماہر تعلیم تھے۔ رابندر ناتھ ٹیگورنے اپنی نظموں کے مجموعہ،‘‘گیتانجلی ’’کے لیے 1913 ء میں نوبل انعام برائے ادب جیتنے والے پہلے ایشیائی دانشور اور ادیب تھے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں