پاک افغان مذاکرات/آغر ندیم سحرؔ

پاکستان اور افغانستان جنوبی ایشا کے دو اہم پڑوسی ملک ہیں، دونوں خود کو اسلامی جمہوریہ کہتے ہیں اور دونوں ہی” جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون تنظیم” کے رکن ہیں۔ یہ سارک جنوبی ایشیا کے آٹھ ممالک کی ایک اقتصادی اور سیاسی تنظیم ہے، آبادی کے لحاظ سے دنیا کی یہ سب سے بڑی تنظیم ہے جو تقریباً ایک عشاریہ سینتالیس ارب لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ تنظیم 8 دسمبر 1985ء کو بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، مالدیپ اور بھوٹان نے قائم کی تھی۔

3 اپریل 2007ء کو نئی دہلی میں ہونے والے تنظیم کے 14ویں اجلاس میں افغانستان کو آٹھویں رکن کی حیثیت سے تنظیم میں شامل کیا گیا، افغانستان کو اس تنظیم میں شامل کرنے کی تجویز بھارت نے 13 نومبر 2005ء کو دی تھی۔ جب پاکستان نے آزادی حاصل کی اور اقوام متحدہ میں رکنیت کی کوشش کی تو افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی شمولیت کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

1947ء میں ہی افغانستان نے پاکستان میں علیحدگی پسند تحریکوں کو مسلح کر دیا اور پاکستانی سرزمین کے بڑے حصے پر بے بنیاد دعوے کیے جس سے دونوں ملکوں میں تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ مزید کشیدگی افغانستان میں جنگ کے دوران پیدا ہوئی جس کے دوران لاکھوں افغان مہاجرین نے پاکستان میں پناہ لی، ان مہاجرین کی تعداد لاکھوں میں تھی، ایک اندازے کے مطابق یہ تعدادتیس لاکھ تھی۔ پاکستان نے اس وقت تمام اختلافات پسِ پشت ڈالتے ہوئے افغان بھائیوں کو سہارا دیا، ان کی خوراک، رہائش اور نوکریوں کا بندوبست کیا، ان کو اس بات کا احساس دلایا کہ پاکستان کا آپ برادر اسلامی ملک ہے، یہیں سے اس جنگ کا آغاز ہوا جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں یعنی دہشت گردی اور تشدد پسندی۔

افغانستان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہ ہمسائیہ ملک تو تھا مگر یہ “برادر اسلامی ملک”کبھی نہیں بن سکا، اس نے ہمیں ایک ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا، اس نے پاکستان سے کھایا، پاکستان سے کمایا، پاکستان سے ہمیشہ مدد کی اپیل کی مگر جب پاکستان کا بھروسہ بن گیا، اس نے ہمیں ڈنگ مارا، ہمیں پشت میں خنجر گھونپا اور ہمارے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔

افغانستان سے پہلا اختلاف ڈیورڈ لائن پر ہوا، اس معاہدے کا پس منظر پھر کسی وقت سہی، سردست اتنا عرض کر دینا ضروری ہے 1893ء میں ہونے والے اس معاہدے کے بعد برطانوی حکومت نے امیر عبدالرحمن کو انعامات سے نوازا اور سرحد کا تعین کر دیا، اس کے معاہدے کی رو سے واخان، کافرستان کا کچھ حصہ نورستان، اسمار، موہ مند لال پورہ اور وزیر ستان کا کچھ علاقہ افغانستان کے ساتھ شامل ہوگا، افغانستان استانیہ، چمن، نوچغائی، بقیہ وزیر ستان، بلند خیل، کرم، باجوڑ، سوات، بونیر، دیر، چلاس اور چترال پر دعوے سے دستبردار ہوگیا۔ تقسیم کے پاکستان نے یہ معاہدہ برقرار رکھا۔ افغانستان جب روس اور امریکہ کی جنگ میں تباہ ہو چکا، اس کی معیشت آخری سانسیں لے رہی ہے اور دوسری طرف پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے، پاکستان کے دشمن افغانستان کو اس بات پر اکسا رہے ہیں کہ افغانستان کو ڈیورڈ لائن پر ازسرنو سوچنا چاہیے اور پاکستان سے اپنے خطے واپس لینے چاہیے۔ کابل کی حکومت نے یہ دعوی کیا کہ دریائے اٹک تک کا علاقہ کابل کی فرما روائی میں ہے۔

اب دوسری جانب ذرا ماضی کو یاد کیجیے کہ ہم نے افغانستان کو کس کس موقع پر سہارا دیا، آج بھی لاکھوں افغانی پاکستان میں موجود ہیں، ان کی فیملیاں افغانستان میں ہیں مگر ان کے بزنس اور نوکریاں یہاں پر ہیں، پاکستان نے ان لاکھوں مہاجرین کا شناخت بھی دی، گھر بھی دیا اور روٹی مگر اس سب کے باوجود افغانستان نے بھارت کا گودی ملک بنتا رہا، بھارت کے اکسانے پر پاکستان کو دھمکیاں بھی لگاتا رہا اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال بھی کرتا رہاحالیہ تنازعے کی بھی بنیادی وجہ یہی ہے کہ پاکستان نے افغانستان کو ہزاروں بار سمجھانے کی کوشش کی کہ ہم دونوں اسلامی ملک ہیں، ہمیں تعاون کے ساتھ رہنا چاہیے اور یہ کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ کرے مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمارا کھا کر ہمیں کو آنکھیں نکالنے والا ملک ایک مرتبہ پھر نئی دہلی کے اشارے پر چل رہا ہے۔

عین اس وقت جب افغانی وزیر خارجہ امیر متقی بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر سے ملاقات کر رہے تھے، پاک افغان کشیدگی جاری تھی، پاکستان نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے سربراہ کو جہنم واصل کیا، اس خبر کے ساتھ ہی افغانی وزیر خارجہ نے نئی دہلی میں بیٹھ کر پریس کانفرنس کی اور پاکستان کو دھمکیاں لگائیں۔ افغانی وزیر خارجہ یہ کیسے بھول سکتا ہے کہ بھارت سے ہمارے تعلقات اچھے نہیں ہیں، بھارت سے زیادہ افغانیوں کو ہم نے سپورٹ کیا، اس کے باوجود وہ بھارت کی گود میں بیٹھ گیا اوراس کے اشارے پر ہمیں دھمکیاں لگا رہا ہے۔

اب ترکی اور قطر کی ثالثی میں پاک افغان مذاکرات کا انتہائی اہم دور مکمل ہوا ہے، ان مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہو جائے گی مگر سوال پھر وہاں ہے کہ کیا افغانستان ہمیں بطور “برادر اسلامی ملک”تسلیم کرے گا یہ بھارت کی طرح صرف ہمسایہ بن کر رہے گا۔

دوحہ مذاکرات میں چھے بنیادی دفعات شامل کی گئی ہیں، سرحدی امن و استحکام، مشترکہ سرحدی رابطہ مرکز، دہشت گردی کے خلاف تعاون، پاکستان میں افغان مہاجرین کے ساتھ انسانی سلوک، دونوں ممالک کا تحریک طالبان پاکستان و دیگر ریاست مخالف گروہوں کے خلاف مشترکہ کارروائی پر اتفاق، تجارتی و انسانی رابطے، تاجروں کے لیے خصوصی پاسز کا قیام، میڈیا اور سفارتی آداب، نگرانی و ضمانت اور مدت نفاذ پر مذاکراتی ٹیم نے زور دیا ہے۔

julia rana solicitors london

اگر دونوں مملک راضی ہوں تو یہ معاہدہ از خود دو سال کے لیے مزید بڑھ جائے گا، اللہ کرے یہ دونوں ممالک کے لیے امن، اخوت اور یگانت کو پروان چڑھائے۔ پاکستان کبھی بھی کسی اسلامی ملک کے خلاف بندوقیں نہیں اٹھاتا مگر جب سامنے والا ہمیں کمزور سمجھے گا تو پھر ایسا جواب دیا جائے گا کہ دنیا یاد رکھے گی، موجود ہ صورت حال میں بھی ہم نے یہی کیا، پاکستان فورسز داد کی مستحق ہیں۔

Facebook Comments

آغر ندیم سحر
تعارف آغر ندیم سحر کا تعلق منڈی بہاءالدین سے ہے۔گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔آپ مختلف قومی اخبارات و جرائد میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔گزشتہ تین سال سے روزنامہ نئی بات کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہیں۔گورنمنٹ کینٹ کالج فار بوائز،لاہور کینٹ میں بطور استاد شعبہ اردو اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اس سے قبل بھی کئی اہم ترین تعلیمی اداروں میں بطور استاد اہنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔معروف علمی دانش گاہ اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم اے جبکہ گورنمنٹ کالج و یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم فل ادبیات کی ڈگری حاصل کی۔۔2012 میں آپ کا پہلا شعری مجموعہ لوح_ادراک شائع ہوا جبکہ 2013 میں ایک کہانیوں کا انتخاب چھپا۔2017 میں آپ کی مزاحمتی شاعری پر آسیہ جبیں نامی طالبہ نے یونیورسٹی آف لاہور نے ایم فل اردو کا تحقیقی مقالہ لکھا۔۔پندرہ قومی و بین الاقوامی اردو کانفرنسوں میں بطور مندوب شرکت کی اور اپنے تحقیق مقالہ جات پیش کیے۔ملک بھر کی ادبی تنظیموں کی طرف سے پچاس سے زائد علمی و ادبی ایوارڈز حاصل کیے۔2017 میں آپ کو"برین آف منڈی بہاؤالدین"کا ایوارڈ بھی دیا گیا جبکہ اس سے قبل 2012 میں آپ کو مضمون نگاری میں وزارتی ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔۔۔آپ مکالمہ کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہو گئے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply