• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پاکستان کے ستر سال بمقابلہ دو سال۔۔عامر کاکازئی

پاکستان کے ستر سال بمقابلہ دو سال۔۔عامر کاکازئی

SHOPPING
ولیم  آف آکھام، جو کہ تیرہویں صدی میں انگلینڈ کے ایک مشہور فلاسفر تھے۔ ان کی ایک تھیوری ، جو کہ آکھام ریزر کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تھیوری آف پریسمونی بھی کہلاتی ہے۔ یہ تھیوری اُس زمانے میں مسائل کو حل کرنے کا ایک  ذریعہ سمجھا جاتی  تھی ۔ اس تھیوری کے بقول “کسی مسئلہ کو حل کرنے کے لیے  آسان حل کی طرف جانا چاہیے بنسبت کسی مشکل یا پیچیدہ حل کی طرف”۔
پاکستان کی بدقسمتی کہ ایک “صاحب جی” نے جو واحد چیز  آکسفورڈ یونیورسٹی سے سیکھی وہ یہ تھیوری تھی۔ اسی تھیوری کو   ذہن میں رکھ کر صاحب جی ایک دن اچانک اپنے چار سو کنال کے پہاڑی پر بنے ایک عالیشان بنگلے سے اُٹھے اور غریبوں کی محبت میں شرشار ہو کر، موجودہ دور کے کارل مارکس بن کر، 2014 میں اسلام  آباد ڈی چوک پر ناچ گانے کی ایک محفل سجائی۔ گانے گا گا کر، نقلیں اتار اتار کر، چیخیں مار مار کر، اپنا سینہ پیٹ پیٹ کر ستر سال کی ساری سیاسی قیادت کو  چور کہا۔ یہ کہا کہ سیاسی لوگوں نے ملک لوٹ لیا ہے۔
یاد رہے یہ وہ وقت تھا کہ چینی صدر سی پیک کا افتتاح کرنے کے لیے  آ رہا تھا۔ ملک میں پوری دنیا سے انویسٹمنٹ آنی شروع ہونے والی تھی۔ ملک جنرل مشرف کی شروع کی ہوئی دہشتگردی سے سنبھلنا  شروع ہو چکا تھا۔بجلی اور گیس کے بحران پر قابو پایا جا رہا تھا۔ بزنس ایکٹیویٹیز شروع ہو چکی تھیں۔
تمام عاشقانِ جاوداں نے 2018 کے الیکشن میں گا گا کر اور لہرا لہرا کر اس امید و یقین کے ساتھ ان صاحب جی کو ووٹ دیا تھا کہ جیسے ہی چوروں اور ڈاکوؤں کو جیل میں ڈالا جاۓ گا تو باہر ملکوں میں پڑے تین سو ارب ڈالرز صرف مراد سعید کی ایک فون کال پر پاکستان کے بینکوں میں پہنچ جائیں گے۔ اوور سیز انصافی ڈالرز سے ملک کو مالا مال کر دیں گے۔۔۔سارے بارلے انصافی دوڑ دوڑ کر ملک واپس آ جائیں گے۔ صاحب جی کی صداقت و امانت داری دیکھ کر غیر ملکی انویسٹر پوری دنیا کو چھوڑ کر پاکستان میں اپنی انویسٹمنٹ لے آئیں گے۔ صاحب جی کی کرشماتی شخصیت کے  آگے سارے ادارے بھیگی بلی بن جائیں گے۔ اکیسویں صدی کے آدم سمتھ  سو دن میں معیشت ٹھیک کر دے گا۔ پشاور جنگلہ بس صرف دس کروڑ میں تین مہینے میں بنا کر گینز ورلڈ رکارڈ توڑے گا۔ انصاف کا وہ معیار ہو گا کہ بکری اور شیر ایک گھاٹ پر پانی پیئں گے۔ صاحب جی اور ان کی نکمی ٹیم کے خیال میں ملک چلانا ایک ہسپتال یا ایک چھوٹی سی ملٹی نیشنل کمپنی چلانے کے برابر ہے۔
لیکن ایک نکمے اور بیروزگار سے کوئی کیا امید رکھ سکتا ہے؟ ان ساتھیوں کو چُنا، جن کے اپنے ہاتھ کوئلے کی دلالی میں کالے تھے اور یہ چیخنا شروع کیا کہ یہاں پاکستان میں سارے چور ہیں ، لٹیرے ہیں، کرپٹ ہیں، میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا، ان کو رلاؤں گا۔
نتیجہ کیا نکلا اس بد انتظامی اور افراتفری کا؟
غیر ملکی انویسٹر تو درکنار اپنے ملک کے تاجروں نے ہی سرمایہ لگانا بند کر دیا۔ گروتھ ریٹ تاریخ میں پہلی بار منفی تک پہنچ گیا، جب ملک ڈوبنے کے قریب ہو گیا تو ملک چلانے کے لیے صاحب جی نے ڈرائیوری کر کے، منتے ترلے کر کے پوری دنیا سے چندہ مانگنا شروع کر دیا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خیراتی ادروں کی طرح ملک بھی خیرات پر چل سکتے ہیں؟
انصاف کا وہ معیار کہ ساہیوال میں بچوں کے سامنے ان کے ماں باپ کو حکومتی کارندے دہشتگرد کہہ کر مار دیتے ہیں مگر جناب یہ کہہ کر بیرون ملک سیر کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں کہ بس میرے  آنے کی دیر ہے۔ پھر انصاف کا بول بالا ہو گا۔ دوسری طرف بلوچیستان میں ریاستی کارندے ایک طالب علم کو صرف شک کی بنیاد پر اس کے والدین کے سامنے گولی مار دیتے ہیں ، مگر صاحب کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ دن دیہاڑے صحافی، سیاست دان ، بیوروکریٹس اغوا ہوتے ہیں مگر صاحب جی کو اپوزیشن کو برا بھلا کہنے سے فرصت نہیں کہ ملک میں امن امان کے بارے میں کوئی نوٹس لیں۔
سفارتی سطح پر کبھی ترکی کو ناراض کیا، کبھی ملیشیا کو، کبھی چین کو، کبھی سعودیہ کو اور کبھی ایران کو اور کبھی امارات کو۔ انڈیا کو ستر سال میں ہمت نہ ہوئی کہ کشمیر کو انڈیا میں ضم کر سکے مگر صاحب جی کے ایک امریکہ کے دورے نے انڈیا کو ہمت دے دی۔ جواب میں صاحب جی نے سارا سارا دن چپ گرُپ کھڑے ہو کر اور گانے گا گا کر مذمت کرتے رہ گۓ ا، اُدھر کشمیر کا ادغام ہو گیا۔
مہنگائی کا دو سال میں پچھلے ستر سال کا ریکارڈ ٹوٹا۔
ستر سال میں آٹے کا تھیلا 600 میں پہنچا مگر 2 سال میں صاحب جی نے 1200 تک پہنچا دیا،
ستر سال میں چینی پچپن روپے تک پہنچی مگر صاحب جی نے دو سال میں 105 تک پہنچا دیا،
گھی کو 110 تک پہنچنے میں ستر سال لگے مگر صاحب جی کی وجہ سے دو سال میں 220 پر پہنچ گئی،
دال ماش اور دال مونگی140سے290 روپے کلو پر پہنچاہی،
مرچ240سے600روپے فی کلو،
غریبوں کا سردیوں کا ڈرائی فروٹ مونگ پھلی دو سال پہلے ایک سو اسی روپے کلو تھا، اب ایک ایمان دار کی حکومت میں دو سو اسی روپے کلو ہے۔
چاول110سے150 روپے کلو
انڈے ستر سے ایک سو ستر
اس وقت پیٹرول کا ریٹ دنیا میں سب سے کم ہے مگر اس نے 75 کا لیٹر پیٹرول 105 پہنچایا،
55 ہزار کا تولہ سونا 1 لاکھ 20 ہزار پر پہنچایا،
ڈالر ستر سال میں سو تک پہنچا مگر صاحب جی نے حکومت میں اتے ہی 170 پر پہنچا دیا،
ڈاکخانے کا 20 والا پارسل 80 پر پہنچایا،
جس وزن کی روٹی دس روپے کی ملتی تھی اب  اس وزن کی تیس کی ملتی ہے۔
بجلی کا 8 روپے یونٹ 20 پر پہنچایا،
گیس کی 110 روپے فی ایم ایم بی ٹی 450 پر پہنچائی،
دوائیوں کی قیمت میں 500% تک کا اضافہ،
ملک پر قرضہ اتنا ستر سال میں نہیں چڑھا جتنا دو سال میں پاکستان مقروض ہوا قرضہ24800 ارب سے36900 ارب ہوا۔ صرف پہلے تیرہ ماہ میں دس ہزار بلین کا قرضہ چڑھا۔
شرمیتی جی ہر کچھ ماہ بعد صاحب جی کو یاد کرواتی ہیں کہ وہ پردھان منتری ہیں، پورا ملک ان کے کنٹرول میں ہے، وہ ملک کو چلا رہے ہیں، تو یہ ہڑبڑا کر اپنے شاہی محل سے اُٹھتے ہیں، مہنگائی کم کرنے کا آرڈر دے کر پھر مدہوشی کےعالم میں سو جاتے ہیں۔ جس ملک کے پاس کبھی اعلیٰ گندم کے بڑے ذخائر ہوتے تھے، اب وہ ملک گھٹیا کوالٹی کی گندم امپورٹس کرنے پر مجبور ہے۔
پاکستانی قوم جنرل مشرف اور اس کی ٹیم  کے بناۓ ہوۓ دہشتگردوں سے بھی بچ گئی، پندرہ سال سے زیاد  ان کے خود کش حملے کو سہہ گئی مگر ان دو سالوں کے بدترین حالات کو برداشت نہ کر سکی۔ لاکھوں چھوٹے چھوٹے تجارتی یونٹ بند ہوۓ۔ تقریباً 6.65 ملین پاکستانی بیروزگار ہوۓ۔ وجہ صرف اور صرف صاحب جی کا نکما پن اور نااہلی ہے۔
رشوت کا ریٹ بقول حکومتی وزیر کے پانچ ہزار سے پچاس ہزار تک پہنچ گیا ہے۔ یہ اب کون سا چور رشوت لے کر ملک لوٹ رہا ہے؟
پاکستان اکہتر میں ٹوٹنے کے بعد اتنا برباد نہیں ہوا تھا، جتنا نقصان صرف دو سال ۔۔۔ جی اپ نے ٹھیک پڑھا کہ صرف دو سال میں تباہ ہوا۔
ایک سادہ سا سوال ہے کہ
جنہیں چور کہا وہ تو سارے جیل میں ہیں ۔۔۔ اب تو حکومت میں سرٹیفائیڈ صادق و امین ہیں تو پھر کون سا ڈاکو پاکستان کو لوٹ رہا ہے؟
ملک کے معاشی حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ورڈ بینک کی پیشنگوئی کے مطابق 2021 میں پاکستان کی گروتھ ریٹ منفی رہے گی جبکہ افغانستان پلس 2.5 گروتھ ریٹ کے ساتھ ترقی کرے گا۔ یہ ستر سال میں پہلی بار ہوا ہے کہ پاکستان، ترقی میں افغانستان سے بھی پیچھے رہے گا۔
حیرت اب یہ ہے کہ دیوانے ابھی بھی تبدیلی کی امید میں بیٹھے ہوۓ ہیں؟ یہ سارے کے سارے فریبِ نظر کے زِیر اثر ہیں یا پھر اپنے اپ کو دھوکا دے رہے ہیں۔ کیا ان کو ڈھڈیال ہزارہ میں  ایڈمیشن کی ضرورت ہے؟
یاد رکھیے
ایک دن  آۓ گا کہ صاحب جی ناکام ہو کر اپنی ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈال کر اپنا سوراخوں والا کرتا جھاڑ کر یا تو بنی گالہ چلا جاۓ گا یا پھر اپنے بچوں کے پاس انگلستان،
مگر
بقول گبر سنگھ “تیرا کیا ہو گا کالیا؟”
آخری سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تب پریمی کیا کریں گے؟ مان جائیں گے، معافی مانگیں گے کہ یہ غلط تھے یا پھر کسی اور امام مہدی کےانتظارمیں بیٹھ جائیں گے ؟ اور اسے پوجنا شروع کر دیں گے؟
حرف آخر :
دو باتوں کو یاد رکھیں، پہلی کہ کسی بھی شعبہ کی یا ادارے کی یا چیز کی جتنی بربادی ایک نکما، اناڑی، بڑبولا، نشئی،ناشناس اور نااہل بندہ کر سکتا ہے، اتنی کوئی اور نہیں کر سکتا۔
دوسری کہ جب کسی ملک کو چلانا ہوتا ہے تو ولیم اکھام کی تھیوری ” آکھام ریزر” کام نہیں آتی۔

Ockham’s razor, Theory   law   of   parsimony

It’s.  a.  principal   in   problem   solving   it   means   that   simpler   solutions   are   more likely   to   correct   than   complex   one”
William   of   ockham
SHOPPING

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *