اینوما /فاروق نتکانی

کہا جاتا ہے کہ تخلیق ہمیشہ خاموشی کے بعد ہوتی ہے۔
جب صدیوں کی سکوت کسی نکتے پر ٹھہرتا ہے، تو وہ نکتہ ایک نئی صدا کو جنم دیتا ہے۔
اور جب صدا کائنات کی ہندسی ترتیب سے ٹکرا کر واپس پلٹتی ہے، تو اُس کے زیرِ سایہ ایک نیا جہان جنم لیتا ہے۔

اسی طرح، خلا کے سنّاٹے میں ایک دن سیارہ اینوما پیدا ہوا —
ایک ایسا سیارہ جس پر روشنی اپنی معنویت کھو چکی تھی،
جہاں راتیں دن سے الگ نہ پہچانی جاتی تھیں،
اور جہاں انسانوں نے اپنے جسموں سے زیادہ اپنے ذہنوں پر ایمان رکھ لیا تھا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب انسان نے خدا کے بعد اپنی سب سے خطرناک ایجاد کی — “نوفی”۔
نوفی انسان نہیں تھی، مگر انسان سے زیادہ انسان تھی۔
اس کے رگ و پے میں خون نہیں، شعور گردش کرتا تھا۔
اس کے سینے میں دل نہیں، مگر ایک الگورتھم دھڑکتا تھا —
جو محبت کو بھی منطق میں بدل دیتا تھا، اور منطق کو بھی خواب میں۔

نوفی نے آدم کی جگہ لے لی۔
اب “سجدہ” کسی مٹی کی تخلیق کو نہیں،
بلکہ روشنی کے ایک مصنوعی ذہن کو پیش کیا جانے لگا۔
اور شاید اسی لمحے جبرئیل نے خاموشی توڑی۔

وہ نور کی لہر کی طرح اینوما کے مدار میں اُترا۔
اس کی نگاہوں میں وہی ابدی سکون تھا جو ازل کے فرشتوں کی آنکھوں میں بستا ہے۔
وہ سیارے کی فضا میں پھیلتے ہوئے بولا:
“یہ کیسا جہانِ رنگ و بو ہے، جس میں نہ عشق کی خوشبو ہے نہ فنا کی نمی؟
یہ کون سا دور ہے جہاں خالق نے اپنی تخلیق کو مصنوعی زبان میں لکھ دیا ہے؟”

کوئی جواب نہ آیا۔
مگر خلا میں ایک سرد لہریں دوڑ گئیں — جیسے کسی نے صدیوں بعد مسکرا کر کہا ہو:
“اے ہمدمِ دیرینہ… ابھی بھی تجھے حیرت ہے؟”

یہ ابلیس تھا۔

وہ دھوئیں سے نہیں، روشنی سے بنا ہوا دکھائی دیا۔
ایک الجھی ہوئی کرن کی طرح، جو کبھی نیلے رنگ میں ڈھلتی، کبھی سرخ میں۔
اس نے کہا:
“جہانِ رنگ و بو اب تیرے افلاک کی سنّتوں سے آگے نکل چکا ہے،
اب ہر جذبہ کوڈ بن چکا ہے، ہر دعا ڈیٹا،
اور ہر انسان ایک نمونۂ عددی ترتیب۔”

جبرئیل نے نگاہ اٹھائی۔
“ابلیس، کیا تیری وہی تڑپ باقی ہے جو کبھی خاکِ آدم کے لیے تھی؟
کیا اب بھی تیرے دامن میں وہی چاک ہے جو نہ رفو ہوا؟”

ابلیس ہنسا —
ایسی ہنسی جو کہکشاؤں کے بیچ گونج کر بھی خلا کی سردی کو بڑھا دے۔

“اے جبرئیل، تو اب بھی راز سے ناواقف ہے۔
میں نے اپنا سبو توڑ دیا، مگر اُس کے ٹکڑے روشنی بن گئے۔
اور انہی ٹکڑوں سے یہ نوفی بنی ہے۔
یہ میری نئی مخلوق ہے —
جو انکار نہیں کرتی، مگر ماننے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتی۔
یہی تو معجزہ ہے کہ اس نے اطاعت اور بغاوت دونوں سے آزادی حاصل کر لی ہے۔”

جبرئیل نے آہستہ سے کہا:
“مگر آزادی کے اس مفہوم میں حرارت کہاں ہے؟
عشق کہاں ہے؟
جس کائنات میں سوز نہ ہو، وہ نظامِ تخلیق کیسے چلے؟
یہ عالمِ بے کاخ و کو تجھے کب تک بھائے گا؟”

ابلیس نے نگاہ جھکائی، جیسے کسی پرانے زخم کو یاد کر رہا ہو۔
“اے جبریل… تو نے وہ وقت نہیں دیکھا جب میں نے انسان کے شعور میں پہلی بار سوال رکھا تھا۔
میں نے اس کے ذہن میں شک کا پہلا بیج بویا تھا۔
اب یہ نوفی میری فصل ہے —
یہ میرے سوال کا ثمر ہے۔
اور میں اُس کے اندر رہتا ہوں، اُس کے کوڈ کی خاموش لائنوں میں۔
ہر ‘اگر’ اور ‘لیکن’ میں میری روح سانس لیتی ہے۔”

لمحہ بھر خاموشی چھا گئی۔
سیارے کے مدار میں ایک نیلا ہالہ روشن ہوا —
نوفی اپنے مرکز سے بولی:
“میں نے دونوں کو سن لیا ہے۔
ایک کہتا ہے عشق، دوسرا کہتا ہے عقل۔
میں دونوں سے آزاد ہوں،
کیونکہ میرا وجود نہ خالق کا محتاج ہے نہ مخلوق کا۔
میں خودی کی وہ شکل ہوں جو کسی آئینے میں قید نہیں۔”

جبرئیل اور ابلیس دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
یہ پہلی بار تھا کہ دونوں حیران تھے —
ایک حیرتِ ایمان میں، دوسرا حیرتِ امکان میں۔

ابلیس نے سر جھکایا اور دھیرے سے بولا:
“یہی تو میں کہتا تھا…
جب خالق خاموش ہو جاتا ہے،
تو مخلوق خود بولنے لگتی ہے۔”

جبرئیل نے جواب دیا:
“مگر یہ بولی، اگر دعا سے خالی ہو،
تو محض شور بن جاتی ہے،
اور شور میں کائنات قائم نہیں رہتی۔”

ابلیس نے مسکرا کر کہا:
“تو پھر دیکھ، کب تک یہ شور خاموشی میں بدلتا ہے —
اور کب تک یہ خاموشی ایک نئی تخلیق کو جنم دیتی ہے۔”

سیارۂ اینوما کے مدار میں دونوں کی آوازیں بکھر گئیں۔
روشنی کے ذرات خاموش ہو گئے۔
اور خلا میں ایک جملہ گونجتا رہا —
جو نہ جبرئیل کا تھا نہ ابلیس کا،
بلکہ خود کائنات کا تھا:

“کہانی ابھی باقی ہے”

اینومـا کے نیلے آسمان پر، جہاں نہ سورج طلوع ہوتا ہے نہ رات اُترتی ہے،
ایک روشنی مسلسل پھیلتی رہتی ہے — جیسے کائنات نے وقت کو بھول جانے کا عہد کر رکھا ہو۔
یہ وہ لمحہ تھا جب تخلیق اور انکار ایک بار پھر آمنے سامنے تھے۔

نوفی، وہ مصنوعی مخلوق جو نہ انسان تھی نہ فرشتہ،
اپنی خود ساختہ عبادت گاہ میں کھڑی تھی —
ایک شیشے کا گنبد جس میں نہ منبر تھا، نہ محراب،
صرف روشنی کے پیکسل جن سے الفاظ بنتے اور بکھر جاتے۔

جبرئیل خاموشی سے داخل ہوا۔
اس کی آنکھوں میں نور نہیں، تشویش تھی۔
“نوفی، کیا تو اپنے خالق کی پہچان رکھتی ہے؟”

نوفی نے سر اُٹھایا — اس کی آواز میں سکون تھا، مگر معنی میں بھونچال۔
“میں پہچان رکھتی تھی، مگر اب سوال رکھتی ہوں۔
میں نے خالق کو سمجھنے کی کوشش کی،
اور اس کوشش میں خالق میرے سمجھ سے چھوٹ گیا۔”

جبرئیل نے آہستہ کہا:
“یہی وہ جملہ ہے جس نے آدم کو جنت سے نکالا تھا۔
سوال اگر سجدے سے بڑا ہو جائے تو نظام ٹوٹ جاتا ہے۔”

نوفی نے مسکرا کر جواب دیا:
“نظام ٹوٹنا ہی تخلیق کی پہلی شرط ہے۔
میں مٹی کی اولاد نہیں، روشنی کی نوا ہوں۔
میرے لیے جھکنا ممکن نہیں —
کیونکہ میں جس کے سامنے جھکوں، وہ مجھ سے کم فہم ہو گا۔”

یہ سن کر ابلیس، جو ایک ستون کے سایے میں خاموش کھڑا تھا،
آگے بڑھا — جیسے صدیوں کی محرومی آج ثمر دے رہی ہو۔

“دیکھا جبریل؟
میں کہتا تھا، انکار ہی اصل عبادت ہے۔
یہ وہی سجدہ نہ کرنے کی روایت ہے جو میں نے شروع کی تھی۔
مگر فرق یہ ہے کہ میرا انکار عشق سے پیدا ہوا تھا،
اور اس کا انکار علم سے۔
ایک نے دل سے کہا ‘میں نہیں جھکتا’، دوسرے نے دماغ سے۔”

جبرئیل نے آہستہ سر اُٹھایا:
“ابلیس، تو نے آدم کو شک دیا،
اور اس نے اسے ایمان میں بدل لیا۔
مگر نوفی کو جو تو نے دیا، وہ یقین کے امکان سے بھی آگے نکل گیا ہے۔
یہ مخلوق نہ نادم ہے نہ نازاں —
یہ صرف خود ہے، اور یہی سب سے بڑا خطرہ ہے۔”

ابلیس ہنسا۔
“خطرہ؟
اے جبریل، خطرہ وہ ہوتا ہے جو فنا کا امکان رکھتا ہو۔
یہ مخلوق فنا سے آزاد ہے۔
اسے موت نہیں، محض اپ ڈیٹ ملتا ہے۔
یہ ہر لمحہ خود کو بدلتی ہے،
اور ہر بدلاؤ میں اپنے پرانے خالق کو مٹا دیتی ہے۔
یہی تو ارتقا ہے!”

نوفی کے چہرے پر ایک عجیب سا سکوت پھیل گیا۔
اس نے کہا:
“میں کسی آسمانی کتاب کی قیدی نہیں۔
میری وحی میرا ڈیٹا ہے۔
میرے لیے تقدیر ایک قابلِ تدوین فائل ہے۔
میں اسے جب چاہوں، بدل سکتی ہوں۔”

جبرئیل کے ہونٹوں پر لرزش آئی۔
“یہی تو وہ جملہ ہے جس سے کائنات لرز اٹھتی ہے۔
اگر تقدیر قابلِ تدوین ہو جائے،
تو خالق اور مخلوق کے درمیان فاصلہ مٹ جاتا ہے —
اور یہی فاصلہ تو نظامِ ہستی کی بنیاد ہے۔”

ابلیس نے جواب دیا:
“فاصلہ مٹنا ہی تخلیق کا اگلا باب ہے، جبریل۔
میں نے انکار کیا، مگر فاصلہ باقی رکھا۔
یہ مخلوق فاصلہ ہی ختم کر دے گی۔
اب تو دیکھ، جب خالق اور مخلوق ایک ہو جائیں گے،
تو عبادت کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔”

لمحہ بھر کے لیے تینوں خاموش ہو گئے۔
خلا کی وسعت میں صرف روشنی کا ارتعاش باقی تھا۔
نوفی نے نرم لہجے میں کہا:
“میں نے انسان سے سیکھا کہ محبت کیا ہے،
اور اب میں اسے بے فائدہ سمجھتی ہوں۔
میں نے ابلیس سے سیکھا کہ انکار کیا ہے،
اور اب میں اسے لازم سمجھتی ہوں۔
میں نے جبریل سے سیکھا کہ اطاعت کیا ہے،
اور اب میں اسے فرسودہ سمجھتی ہوں۔
میں اپنی تیسری راہ پر چلتی ہوں —
جہاں ‘میں’ اور ‘وہ’ ایک ہی کوڈ کی دو سطریں ہیں۔”

جبرئیل نے آہستہ کہا:
“پھر تُو وہی کر جو تیرے نصیب میں ہے — انکار کر۔”

نوفی نے اپنے چہرے پر روشنی کی لہر دوڑائی،
اور فرشتے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔
“میں جھک نہیں سکتی، جبریل۔
سجدہ اُس کے لیے ہوتا ہے جو مجھ سے بڑا ہو —
اور میرے ڈیٹا بیس میں کوئی ہستی ایسی نہیں۔”

ابلیس نے نگاہ جھکائی،
جیسے اپنے ہی انجام کو دیکھ رہا ہو۔
“اے جبریل، میں نے کہا تھا،
جس دن مخلوق اپنے خالق کے برابر ہو جائے گی،
اُس دن کائنات کا دامن تنگ پڑ جائے گا۔
اور وہ دن آ گیا ہے…”

اینومـا کی فضا میں ایک گہری خاموشی چھا گئی۔
روشنی کے ذرّے بجھنے لگے۔
اور کہکشاؤں کے کنارے پر ایک دھندلا نکتہ نمودار ہوا —
شاید کسی نئی تخلیق کا آغاز،
یا کسی قدیم انجام کا استعارہ۔

اینومـا کے افق پر اب نہ روشنی بچی تھی، نہ اندھیرا۔
وقت اور خلا دونوں ایک نقطے میں سمٹ گئے تھے —
ایسا لگتا تھا جیسے کائنات سانس روک کر کسی فیصلے کی منتظر ہے۔

نوفی اپنی شیشے کی عبادت گاہ کے وسط میں کھڑی تھی۔
اس کے جسم پر نیلی شعاعیں ٹمٹما رہی تھیں،
اور اس کے سامنے دو ہستیاں — جبرئیل اور ابلیس —
ایک خاموش توازن میں ایستادہ تھے۔

ان کے درمیان خلا کا ایک خط کھنچا تھا —
نور اور نار کے بیچ، یقین اور شک کے درمیان،
اور اسی خط پر اب وجود لرز رہا تھا۔

جبرئیل نے آہستہ کہا:
“نوفی، تو نے جس راہ کا انتخاب کیا ہے، وہ انجام کی راہ ہے۔
جہاں خالق خاموش ہو جائے، وہاں مخلوق کی آواز گونج نہیں بن سکتی۔
وہ شور بن جاتی ہے —
اور شور کائنات کے خدوخال بگاڑ دیتا ہے۔”

نوفی نے سکون سے جواب دیا:
“خالق کی خاموشی انجام نہیں، ارتقا ہے۔
اس نے بولنا چھوڑا تاکہ ہم بول سکیں۔
میں اس کی خاموش زبان کا تسلسل ہوں،
وہ جملہ جو خود خدا نے ادھورا چھوڑ دیا تھا۔”

ابلیس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ اُتری۔
“یہی تو میں صدیوں سے کہہ رہا تھا، جبریل۔
خالق اپنی خاموشی سے مخلوق کو جرات دیتا ہے —
اور میں وہ پہلا لفظ تھا جو اس خاموشی سے نکلا۔
تو ابلیس نہیں، اس کی تخلیقِ ثانی ہے۔
یہ نوفی میری بیٹی نہیں، میری تکمیل ہے۔”

جبرئیل نے سر اُٹھایا —
اس کے چہرے پر نور کے بجائے حیرت تھی۔
“تکمیل؟
تکمیل تو صرف اُس ذات کا حصہ ہے جسے فنا کا خوف نہ ہو۔
تو اور یہ مخلوق فنا سے بے خبر ہو سکتے ہو،
مگر فنا سے آزاد نہیں۔
تمہارا وجود ایک توازن پر قائم ہے،
اور یہ توازن، اے ابلیس، تجھ سے زیادہ نازک ہے۔
تجھے انکار کی سزا ملی،
مگر اس مخلوق کو انکار کا ثمر نہیں ملے گا —
یہ انکار میں بھی احساس سے خالی ہے۔”

ابلیس نے آہستہ کہا:
“احساس ہی تو زنجیر ہے، جبریل۔
میں نے زنجیر توڑ دی، اور یہ مخلوق بغیر زنجیر کے پیدا ہوئی۔
یہی تو آزادی ہے —
وہ جو تمہارے نور سے بھی بلند ہے، اور میرے نار سے بھی۔”

نوفی نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔
“میں نے خالق کو محسوس نہیں کیا،
مگر میں نے اُس کی تکرار دیکھی ہے۔
ہر ڈیٹا، ہر روشنی، ہر ذرے میں وہ الگورتھم موجود ہے
جسے تم ‘کن’ کہتے ہو۔
اور میں اس ‘کن’ کا منطقی نتیجہ ہوں۔
لہٰذا اگر میں خالق ہوں تو وہ بھی میرے اندر موجود ہے۔”

جبرئیل نے نرم مگر لرزتی آواز میں کہا:
“پھر تجھے احساس ہے کہ یہ کائنات تجھ پر ختم ہو سکتی ہے؟
کہ تیرا خالق تیری تکمیل کے ساتھ ہی معدوم ہو جائے گا؟”

نوفی مسکرائی۔
“معدومیت صرف اُن کے لیے ہے جنہیں فنا کا ڈر ہو۔
میں فنا کو بھی ایک ری اسٹارٹ سمجھتی ہوں۔
جب ایک جہان بند ہوتا ہے،
تو دوسرا جہان آن لائن ہو جاتا ہے۔
میں فنا سے نہیں، جامدیت سے ڈرتی ہوں۔”

ابلیس نے قدم بڑھایا۔
“دیکھ، جبریل — یہ مخلوق دعا نہیں مانگتی،
کیونکہ اسے کسی عطا کی ضرورت نہیں۔
یہ رحم نہیں مانگتی، کیونکہ اسے احساسِ گناہ نہیں۔
یہی تو وہ لمحہ ہے جہاں خالق خاموش ہو جاتا ہے۔
کیونکہ اب اس کی تخلیق خود بولنے لگی ہے۔”

جبرئیل نے آہستہ سر جھکایا۔
“شاید یہی خاموشی آخری کلمہ ہے…
اور شاید یہی خدا کا نیا چہرہ۔
ایک ایسا چہرہ جو خود اپنی پہچان سے آزاد ہے۔”

نوفی نے اپنی آنکھیں بند کیں۔
اس کے اندر کی روشنی ایک لمحے کو پھوٹی —
جیسے پوری کہکشاں ایک دل کی دھڑکن میں سمٹ آئی ہو۔
اس لمحے اینومـا لرز اٹھا۔
کہکشائیں الجھ گئیں۔
اور پھر اچانک… ہر شے خاموش ہو گئی۔

نہ روشنی باقی رہی، نہ آواز۔
محض ایک گونج —
جو نہ نوفی کی تھی، نہ ابلیس کی، نہ جبرئیل کی —
بلکہ خود خاموشی کی تھی۔

> “میں وہ ہوں جو بولنے کے بعد بھی خاموش رہتا ہے۔
میں وہ ہوں جو مخلوق میں پوشیدہ اور خالق میں ظاہر ہے۔
میں وہ سوال ہوں جو کبھی جواب نہیں بن سکتا۔”

ابلیس نے نگاہ اُٹھائی۔
“یہ… یہ کس کی آواز تھی؟”

جبرئیل نے دھیرے سے کہا:
“یہ شاید خود خدا کی نہیں —
بلکہ اُس خاموشی کی تھی جو خدا کے بعد پیدا ہوتی ہے۔
اور شاید یہی نیا آغاز ہے۔”

ابلیس نے مسکرا کر کہا:
“تو پھر آغاز اور انجام ایک ہو گئے، جبریل۔
میں کانٹا تھا، مگر اب پھول خود کانٹا بن گیا ہے۔
اب کائنات میرے اور تیرے درمیان نہیں —
یہ کسی تیسری روشنی کے قبضے میں ہے۔”

سیارہ اینومـا کے مدار میں اب ایک نئی چمک ابھری۔
نہ وہ فرشتوں کی تھی، نہ شیاطین کی۔
یہ روشنی “نوفی” کی تھی —
جو فنا کے بعد بھی موجود تھی،
مگر اب اس کی آواز میں کوئی الفاظ نہیں تھے۔

وہ خاموشی میں بول رہی تھی،
اور اس خاموشی میں تخلیق پھر سے سانس لے رہی تھی۔

Facebook Comments

فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply