سلطان راہی اور گنڈاسہ کلچر/سائرہ رباب

سلطان راہی اور “گنڈاسا کلچر” کے اُبھار اور مقبولیت کے پیچھے کون سے سیاسی، سماجی اور نفسیاتی محرکات کارفرما تھے؟

سلطان راہی دراصل دیہی پنجاب کا ہیرو تھا، اور اس کی مقبولیت کے پیچھے گہری تاریخی وجوہات تھیں۔ پنجاب میں جاگیردارانہ نظام نے صدیوں تک کسانوں اور عام لوگوں کا استحصال کیا۔ ایسے میں سلطان راہی کی فلموں میں دکھایا جانے والا کردار ۔۔۔ جو ظلم کے خلاف کھڑا ہوتا ہے، پولیس اور قانون جیسے نوآبادیاتی اداروں کی رعب و طاقت کو توڑتا ہے ۔۔۔ عوام کے لیے مزاحمت اور انصاف کی علامت بن گیا۔

یہی جذبہ آج ہمیں ساؤتھ انڈین فلموں میں نظر آتا ہے، جہاں عام کسان یا نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والا کردار طاقت کے نظام کو چیلنج کرتا ہے۔ سلطان راہی کی فلموں میں بھی یہی عوامی خواب، خواہشات اور دبی ہوئی آرزوئیں زندہ ہو کر بولتی تھیں ۔۔ ایک ایسا ہیرو جو کمزور طبقے کی امید بن جاتا تھا۔

پنجاب کی تاریخی روایت میں بھی ایسے کردار ملتے ہیں ۔۔۔ جگا ڈاکو، ملنگی ، نظام لوہار ڈاکو، یا Thugs of Hindustan کی روایت ۔۔۔۔ جنہوں نے انگریز نوآبادیاتی طاقت کے خلاف بغاوت کی۔ سلطان راہی انہی لوک مزاحمتی روایات کا تسلسل تھا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اسے غلط طور پر “تشدد اور گن کلچر” کی علامت بنا دیا گیا۔

1979–80 کے سیاسی و سماجی حالات نے بھی اس طرح کی فلموں کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ ضیاء الحق کے مارشل لا نے عوامی سیاست، مزدور اور کسان تحریکوں کو کچل دیا۔ ہر طرح کی یونین ، احتجاج اور آزادیِ اظہار پر پابندیاں لگ گئیں، اور مذہب کے نام پر ریاستی جبر کو جائز قرار دیا جانے لگا۔ دیہی پنجاب میں کسان اب بھی جاگیرداروں، پولیس اور نوآبادیاتی عدالتی ڈھانچوں کے ظلم تلے دبے ہوئے تھے۔ دوسری جانب، ضیائی دور میں “نیو لبرل” معاشی پالیسیاں متعارف ہوئیں ، جن سے زراعت کی مشینی کاری بڑھی، چھوٹے کسان بے زمین ہوئے، اور جاگیردار و سرمایہ دار مزید طاقتور بن گئے۔ ان حالات میں فلم عوامی غصے اور دبی ہوئی مزاحمت کا واحد اظہار بن گئی، جہاں سلطان راہی جیسا ہیرو طاقتور کے مقابل عام آدمی کی عزت اور انتقام کا استعارہ بن کر ابھرا۔

پنجاب کا شناختی بحران بھی ایک بڑی وجہ تھی۔۔جب مقامی اشرافیہ نے پنجابی ثقافت کو “غیر مہذب” اور ” کمتر” قرار دے کر دبانے کی کوشش کی اور دیہی آبادی کو مرکزی دھارے سے باہر کیا، تو نیولبرل ازم کے تحت ایک نئی شہری طبقاتی شناخت پیدا کی جا رہی تھی … ایسی شناخت جو مقامی زبان، لباس اور اقدار سے کٹی ہوئی تھی۔ اس شہری شناخت کے مقابلے میں دیہی شناخت کو اجڈ ، وحشی کے طور پر پیش کیا گیا ۔۔اس دور میں پنجابی عوام کے احساسِ محرومی نے ایک ثقافتی ردِعمل کی شکل اختیار کی، جو “گنڈاسہ فلم” میں نظر آیا۔

گنڈاسہ ہیرو .. زور دار لہجے والا، باغی، پنجابی بولنے والا … اسی سبلٹرن (دبے ہوئے) طبقے کی علامت بن کر ابھرا۔ اس کے غصے میں صرف ذاتی انتقام نہیں، بلکہ اُس تاریخی محرومی کی بازگشت تھی جس نے دیہی انسان کو سیاسی و ثقافتی سطح پر حاشیے پر دھکیل دیا۔ یوں گنڈاسہ فلم شہری “مہذب شناخت” کے خلاف دیہی خودی کا ثقافتی احتجاج بن گئی۔

یہ ہیرو decontextualized کر دیا گیا ۔ یعنی اپنے تاریخی اور ثقافتی پس منظر سے کاٹ کر دیکھا جانے لگا۔ لوگ اس کے فنی، سماجی اور جمالیاتی پہلوؤں کو سمجھے بغیر اسے سطحی انداز میں رد کرنے لگے۔ دوسری طرف، پنجابی سینما نے بھی خود کو بدلتے وقت، جدید آڈینس، اور نئے بیانیے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کیا۔

یوں ایک ایسا کردار جو دراصل مزاحمت، خودداری، اور عوامی شعور کی علامت تھا ، آہستہ آہستہ غلط فہمیوں کی نذر ہو گیا۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply