کراچی میں سرکاری تفریح گاہیں  بدعنوانی کے گڑھ/شیر علی انجم

ابن خلدون اپنی مشہور کتاب المقدمہ میں لکھتے ہیں کہ جب حکمران طبقہ ظلم، جبر اور لوٹ مار کو اپنا شعار بنالے، تو لوگ محنت چھوڑ دیتے ہیں، معیشت کمزور ہوجاتی ہے، اخلاقی اقدار ختم ہوجاتی ہیں، اور بالآخر تہذیب زوال پذیر ہوجاتی ہے۔ یہی حال بالعموم ملک کے چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر ،بالخصوص کراچی کے ساتھ ہوا ہے ۔کراچی، جو کبھی پاکستان کا معاشی اور ثقافتی مرکز سمجھا جاتا تھا، آج بدانتظامی اور بنیادی سہولیات کی کمی کی وجہ سے اپنی مسلسل شناخت کھو رہا ہے۔ طویل لوڈ شیڈنگ، پانی کی قلت، گیس کی عدم دستیابی، اور سڑکوں کی خستہ حالی نے شہریوں کی زندگی کو عذاب بنا دیا ہے۔ ان مسائل سے عارضی چھٹکارا پانے کے لیے اگر کوئی شہری سرکاری پارکس کا رخ کرتا ہے، تو وہاں بھی اسے مافیا کے ہاتھوں لوٹ مار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سرکاری پارکس، جو عوام کے لیے تفریح اور سکون کا ذریعہ ہونا چاہیے تھا، اب منظم استحصال کے مراکز بن چکے ہیں۔ کراچی کے معروف سرکاری پارکس، جیسے سفاری پارک، ہل پارک، یا مختلف ٹاؤنز کے چھوٹے بڑے پارکس، اب عوام کے لیے تفریح گاہوں سے زیادہ لوٹ مار کے اڈوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ان پارکس میں داخلے کے لیے فی کس فیس وصول کی جاتی ہے، جو عام شہری کے لیے ایک اضافی مالی بوجھ ہے۔ داخلے کی فیس کے بعد تفریحی سہولیات، جیسے جھولوں، سواریوں، یا دیگر سرگرمیوں کے لیے ٹھیکیداروں کی جانب سے کم وقت کی سروس اور بھاری فیسیں لی جاتی ہیں۔ ان ٹھیکیداروں نے اپنی من مانی سے فیسوں کے ذریعے شہریوں کو استحصال کا نشانہ بناتے ہیں۔ جس کیلئے یقیناً اس مافیا نے محکمہ بلدیات سندھ اور شہری حکومت سے اجازت نامہ حاصل کی ہوئی ہوگی۔ دوسری طرف ان تفریحی مقامات کی حالت بھی انتہائی مخدوش ہے۔ ذیادہ تر ان پارکوں میں بنیادی سہولیات، جیسے صاف پانی، صاف ستھرے بیت الخلاء، یا مناسب سیٹنگ ایریاز کا بھی فقدان ہے۔ نتیجتاً، ایک عام خاندان جو چند لمحات سکون کے لیے پارک آتا ہے، وہ مہنگی فیسوں اور ناقص سہولیات کی وجہ سے مایوسی کے ساتھ واپس لوٹتا ہے۔ حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ میئر کراچی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے سرکاری پارکس کو عوام کے لیے بحال کر دیا ہے اور یہ کہ شہری ان پارکس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ لیکن حقیقت اس دعوے سے بالکل مختلف ہے۔ پارکس میں شہریوں کو نہ صرف مالی استحصال کا سامنا ہے بلکہ وہ مافیا کے ہاتھوں ذہنی اذیت سے بھی دوچار ہوتے ہیں۔ ٹھیکیداروں کو پارکس کے انتظامات سونپ کر اور ان کی سرگرمیوں پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہ رکھ کر حکام نے مافیا کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ یہ ٹھیکیدار سرکاری وسائل کو ذاتی منافع کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جبکہ شہریوں کو بنیادی سہولیات تک سے محروم رکھا جا رہا ہے۔اس شہر کے ساتھ المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں کے مسائل صرف سرکاری پارکوں تک محدود نہیں ہیں۔ یہ شہر، جو صوبہ سندھ کا صدر مقام ہے، گزشتہ اٹھارہ سالوں سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکمرانی ہے۔ اس طویل عرصے کے باوجود، شہر کو صاف ستھرا رکھنے، بنیادی سہولیات فراہم کرنے، اور شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کوئی قابلِ ذکر اقدامات نہیں کیے گئے۔ بجلی، پانی، گیس، اور سڑکوں کی خستہ حالی جیسے مسائل نے شہریوں کی زندگی کو عذاب بنا دیا ہے ۔پاکستان پیپلز پارٹی اپنے منشور میں روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ بلند کرتی ہے، لیکن کراچی کے شہریوں کے لیے یہ نعرہ محض ایک دھوکہ لگتا ہے۔ کوئی بھی ادارہ یا حکومتی عہدیدار ان مسائل کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ کراچی کی بدحالی اس بات کی عکاس ہے کہ شہر شاید حکومتی ترجیحات کا حصہ ہی نہیں ہے۔ اگر کراچی کو واقعی میں دوبارہ روشنیوں کا شہر بنانا ہے، تو حکومتی اداروں کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی۔ شہریوں کے لیے سہولیات کی فراہمی اور مافیا کے خاتمے کے بغیر کراچی کے عوام کا اعتماد بحال نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وقت ہے کہ کراچی کے شہریوں کو ان کا حق دیا جائے اور شہر کو اس کی کھوئی ہوئی رونق واپس لوٹائی جائے۔

تحریر ۔ شیر علی انجم

Facebook Comments

شیر علی انجم
مصنف بینکاری کے شعبے سے وابستہ ہیں اور معیشت و بین الاقوامی امور اور مسلہ کشمیر، گلگت بلتستان کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply