• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پنجاب کا فرسودہ نظامِ پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ/ڈاکٹر محمد شافع صابر

پنجاب کا فرسودہ نظامِ پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ/ڈاکٹر محمد شافع صابر

آج سے دو ہفتے قبل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز ( سی پی ایس پی )کا لاہور میں کانووکیشن تھا، جس میں میرے جاننے والوں / دوستوں کو ڈگریاں ملیں۔ اسی گروپ فوٹو کو دیکھ کر،ایک جاننے والی ڈاکٹر صاحبہ نے پوچھا کہ کچھ لوگوں نے مختلف رنگ کے گاؤن کیوں پہنے تھے،میں نے کہا جنہوں نے ایم سی پی ایس کیا ہوتا، انہیں ایسا گاؤن پہننا ہوتا ہے۔ پھر انہوں نے ایک واقعہ سنایا جو کہ ہمارے سسٹم ایک مکروہ چہرہ تھا۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ، اس گروپ فوٹو میں ایک ڈاکٹر صاحبہ کو بھی ایم سی پی ایس کی ڈگری ملی تھی۔ ان ڈاکٹر صاحبہ نے ایک مشہور ترین سرکاری ہسپتال سے ایم ڈی کی چار سالہ ٹریننگ حاصل کی تھی،لیکن پورے چار سالوں میں انہیں انکے سپروائزر نے انہیں synopsis کا ٹاپک نہیں دیا۔ یہ اسکے پاس متواتر جاتی رہیں لیکن سپروائزر نے ٹاپک نا دیا۔
تھک ہار کر، ٹریننگ کے آخری چھے مہینوں میں،بے پناہ اصرار کے بعد انکی سپروائزر نے ایک ٹاپک تو دے دیا، لیکن یہ شرط لگا دی کہ اس کا اس ٹاپک سے کوئی تعلق نہیں،نا ہی وہ اسے ڈیفینڈ کرے گی،نا ہی کسی بورڈ میں انکے ساتھ جائے گی۔ یوں اس بیچاری پی جی آر ( پوسٹ گریجویٹ ٹرینی) نے یہ شرط مانتے ہوئےsynopsis ٹاپک لے لیا۔
ان کی ٹریننگ ختم ہو گئی synopsis اپرو نا ہوا۔ انہوں نے بنا سپروائزر کی سپورٹ کے کوشش کی کہ ٹاپک اپرو ہو جائے،لیکن وہ ٹاپک اپرو نا ہوا۔ لوگ کہتے ہیں کہ انہوں کافی محنت کی، لیکن ناکام رہیں ۔ وہ امید کا دامن چھوڑ بیٹھیں ۔
پھر انہوں نے دوبارہ ایم سی پی ایس کی دو سالہ ٹریننگ لی،انہوں نے پہلی بار ہی تحریری اور زبانی (viva) امتحان پاس کر کے ایم سی پی ایس کی ڈگری حاصل کی، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ڈاکٹر صاحبہ لائق ہونے کیساتھ ساتھ ذہین اور محنتی بھی ہیں۔
یہ سچا واقعہ،ہمارے فرسودہ نظام ٹرینگ کی جیتی جاگتی مثال ہے، کہ کیسے نااہل سپر وائزرز کی انا میں بھینٹ چڑھ کر پی جی آرز کس کرب سے گزرتے ہیں ۔ انہیں چار – پانچ سالوں میں synopsis کا ٹاپک نہیں ملتا، انہیں ہر جگہ سپروائزرز کے طعنے اور موڈ سیونگز برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔
کیسے ایک ایکسپرینس لیٹر پر سائن کروانے کے لیے زلیل کیا جاتا ہے۔ کیسے انکو ذلیل کیا جاتا ہے،کیسے کہا جاتا ہے کہ اس ٹاپک سے انکا کوئی لینا دینا نہیں ۔
کیا ان بے حس،نااہل پروفیسرز / سپروائزرز کے ظلم کرتے وقت ہاتھ نہیں کانپتے ۔ یہ لوگوں بعد میں اتنی فضول توجیہہ پیش کرتے ہیں کہ ہم بھی ٹریننگ میں رگڑے گئے تھے،اب تمہاری باری۔ کیوں ہماری باری؟ بھائی کیوں؟ اگر تم تمہارا سپروائزر بغیرت تھا تو لازمی ہے کہ تم نے بھی لازمی بیغیرتی مارنی ہے؟ کیا یہ ضروری ہے جس سسٹم سے آپ گزرے تھے،اب آپ نے اپنے ٹرینی ڈاکٹرز کیساتھ بھی وہی سلوک کرنا ہے؟
ایک پی جی آر پورے صوبے سے مقابلہ کر کے سنٹرل انڈکشن پالیسی (سی آئی پی) کے ذریعے ٹریننگ سیٹ لیتا ہے۔ اسے آگے ملتا کیا ہے؟ toxicity, وارڈز کی سیاست، انسانیت سوز ڈیوٹی روسٹر اور سپروائزرز کی فضول کی باتیں۔ اب ایک عام ڈاکٹر باہر کے امتحان نا دے کو کرے کیا،پھر حکومت کہتی ہے کہ ڈاکٹرز بیرون ملک کیوں جا رہے ہیں ۔ ہمارے بڑے پروفیسرز کا اپنے جوئینر ڈاکٹرز کیساتھ رویہ اس ٹرینڈ کی اہم وجہ ہے ( اس پر تفصیلی بات پھر کھبی سہی).
کچھ سپروائزر یہ سوچتے ہیں کہ تم اتنی جلدی کنسلٹنٹ کیسے بن سکتے ہو؟ ابھی تک تو تمہیں رگڑا نہیں لگا،جیسے کہ ہمیں لگا۔ امتحان پاس ہو گیا تو ہم ہمارے برابر آ جاؤ گے اور یوں امتحان میں فیل کر دئیے جاتے ہیں ۔
کچھ اتنے چھوٹے لوگ پروفیسرز / سپروائزرز بن جاتے ہیں کہ اپنی انا کے خمار میں اپنے ہی ٹرینی ڈاکٹرز کو پوری ٹرینگ میں synopsis ٹاپک نہیں دیتے،جیسے کہ ان ڈاکٹر صاحبہ کیساتھ کیا گیا ۔
پھر کھبی کوئی بی اے پاس ایم پی اے انکے پاس ہسپتال آئے،تو جھک کر اسے ملتے ہیں اور اسکے تصویر بنوانے کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں اور اپنے سے جونئیر گریڈ کے سیکشن آفیسر سے نظریں جھکا کر ملتے ہیں،جبکہ اپنے جونئیر ڈاکٹرز کے سامنے فرعون بن جاتے ہیں ۔ان کو صحیح ہتھکڑیاں لگتی ہیں ،سیاسی حکومتیں انکے ساتھ صحیح کرتی ہیں،یہ لوگ ایسے ہی سلوک کے مستحق ہیں ۔
تحریر۔ ڈاکٹر محمد شافع صابر
دم: ابھی بھی کچھ پروفیسرز اپنے ٹرینی ڈاکٹرز کا خیال رکھتے ہیں ،انکو بہترین ٹریننگ دیتے ہیں،ایسے پروفیسرز ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں ۔ ساری عزت ان جیسے لوگوں کے لئے ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply