شہزادی کا جہیز/عاصم کلیار

غربی بنگال میں جنم لینے والے ہمارے مصنف امیتاگھوش کا بچپن اور لڑکپن شہر کلکتہ میں گزرا جہاں سے شہر دہلی دور مگر چائنا کا شہر کن منگ نزدیک ہے۔ہندونستانی سرحد کی دوسرے طرف چین جیسا وسیع اور معاشی طور پر مضبوط ملک صدیوں سے ایک اژدھا کی صورت ہندونستان کی مجموعی نفسیات کو کچو کے لگانے میں مصروف ہے۔برصغیر کے لوگ چین کے قریب ہونے کے باوجود انگریز راج کے یادگار زمانے سے اب تک زبان و ادب اور معاشرت کے لحاظ سے انگلستان اور یورپ سے متاثر ہیں۔نوے کی دہائی کے بعد عرب امارات کے کلچر کی جھلکیاں بھی ہندونستان کے ثقافتی منظر نامے کا حصہ ہیں اس تبدیلی کا بنیادی وصف اصراف پسندی اور دولت کی نمائش کے ذریعے صرف اپنی ذات کا اظہار مقصود ہے۔
ساٹھ کی دہائی میں ہونے والی چین بھارت جنگ کی تلخ یادیں گھوش کے ماضی کا حصہ ہیں۔اس کا والد سرحد پر لڑنے والوں کے لئے سارا دن گلی گلی چندہ جمع کرتا جبکہ اس کی ماں نے سونے کی چوڑیاں جنگ کے نام پر عطیہ کر دی تھیں۔اس جنگ سے پہلے کلکتہ شہر میں چائنا ٹاؤن کا علاقہ ثقافتی لحاظ سے اپنی الگ شناخت رکھتا تھا۔صدیوں سے آباد چینی باشندے تجارتی سرگرمیوں کے حوالے شہر کے سرکردہ افراد میں شامل ہوتے تھے۔جنگ کے بعد چین سے ملاحقہ متنازعہ سرحدی علاقوں سے حکومت ہند نے آبادی کو جاسوسی کے شک میں جبراً بے دخل کر کے برسوں کیمپوں میں مقید رکھا۔ہر مہینے ان بے گھر افراد کے لئے پولیس میں رپورٹ کو لازم قرار دینے کے ساتھ یہ فرمان بھی جاری ہوا کہ چین سے روابط رکھنے کے گمان میں کسی بھی شخص کو حکومت گرفتار کرنے کی مجاز ہے۔ان اقدمات کے بعد کلکتہ کا چائنا ٹاؤن ویران ہوا۔برسوں سے کلکتہ میں بسنے والے چینی باشندوں نے کاروبار سمیت دوسرے ممالک ہجرت کرنے میں نجات سمجھی۔جس کی وجہ سے کلکتہ کی مقامی منڈی میں تجارتی خسارے کا حجم بڑھنے لگا۔سرحد کی دوسری طرف بسنے والا اژدھا یہ سب تماشا دیکھ کر مسکرانے میں مگن رہا۔
گھوش نے اپنے ناول sea of poppies کے محل وقوع کے طور پر ملک چین کا انتخاب کیا۔ناول لکھنے کے دوران گھوش کو ایک بار پھر اس سوال کا سامنا تھا کہ مکانی اعتبار سے یورپ و امریکہ کی نسبت چین کے قریب ہونے کے باوجود اس کی تہذیب،بری و بحری حدود کے علاوہ چین کی تاریخ کے بارے بھی اس کا علم ناقص کیوں ہے۔وہ ناول لکھنے سے پہلے اس سوال کے جواب کا طلبگار تھا۔ساٹھ کی دہائی میں ہونے والی چین بھارت جنگ کے بعد حکومت ہند نے سفارتی سطح پر چین سے سرد مہری کا رویہ اپنانے کو ترجیح دی۔چین کے خلاف ہر محاذ پر سرکاری پراپیگنڈا کی وجہ سے ہندونستان کے عام لوگ بھی جموریہ چین سے بغیر کسی منطق کے نفرت کرنے لگے۔
اژدھا نے کروٹ لیتے ہوۓ سوچا یہ کیسا ملک ہے جس کے نیتا طاقتور پڑوسی ملک سے دوستی کی بجاۓ بگاڑ پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔
جوانی کی دہلیز پر دستک دیتے ہوۓ ہمارے مصنف نے ملک امریکہ کو دیس بنایا۔کچھ برسوں سے صرف چین ہی امریکہ کے مقابل کھڑا دنیا کے نقشے پر دوسری عالمی طاقت کے طور پر اپنا سکہ منوانے میں کامیاب رہا ہے۔خندہ پیشانی سے مقابلے کی فضا کا خیرمقدم کرنے کی بجاۓ امریکہ بھی چین کے خلاف تجارتی و سفارتی محاذ پر روایتی حربے استعمال کرنے میں مصروف ہے۔ہندونستان کے علاوہ امریکہ میں قیام کے دوران مصنف نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ یہاں بھی بغیر کسی دلیل کے چین سے بغض رکھنے والے لوگ کثیر تعداد میں موجود ہیں۔
اژدھا نے سرگوشی کرتے ہوۓ کہا کہ دشمنوں کی تعداد میں اضافہ میری کامیابی کی دلیل ہے۔
ناول sea of poppies کے لئے ریسرچ کرتے ہوۓ مصنف کو چین کے بارے لکھی ہوئی تاریخ اور سماجی علوم کی قدیم و جدید کتب سے رجوع کے دوران کئی اہم حقائق تک رسائی حاصل ہونے کے علاوہ اوراق گزشتہ میں گم حقیقی داستانوں کی بازیافت نے حیرت میں مبتلا کر دیا۔
انیسویں صدی کے ابتدائی برسوں کے حوالے سے چین کے سمندری نقشوں، بحری اسفار و بندرگاہوں کے بارے تحقیق کرتے ہوۓ گھوش کو اس جانکاری نے تذبذب کا شکار کر دیا کہ چین کا شہر کینٹن ہر کہانی کا لازم جزو کیوں ہے۔ا س زمانے سے اہل یورپ چین کے شہر Guangzhou کو کینٹن کے نام سے پکارتے اور لکھتے ہیں۔شفاف نیلے پانیوں پر تیرتے ہوۓ جہاز صرف مغرب اور ہندونستان کے درمیان ہی تجارت کا وسیلہ نہ تھے بلکہ کینٹن کی بندرگاہ سے بھی ہندونستان کے ساحلوں پر کئی جہاز لنگر انداز ہوتے تھے۔
اپنے تحقیق کے سلسلے میں مصنف پہلی بار 2005 میں چین گیا تو اپنے مختصر قیام کے دوران ہی گھوش کو اندازہ ہو گیا کہ ہمارے ہاں رائج نصاب اور تاریخ کی کتابوں سے چینی تہذیب کے اثرات کو نظر انداز کر کے ہمارے ذہنوں سے تو فراموش کیا جا سکتا ہے۔مگر صدیوں سے ساتھ رہنے والے پڑوسی رہن سہن اور بول چال کے حوالے سے جلد ایک جیسی رسوم کو اپنا لیتے ہیں۔یورپ سے متاثر ہونے کے باوجود چین اب بھی کسی طور ہماری روزمرہ کی زندگی میں شامل ہے۔
کلکتہ کے آبائی گھر یا نیویارک کے شاندار فلیٹ کی لائبریری میں گھوش برسوں سےصبح سویرے چاۓ پینے کا عادی ہے چاۓ کو Guangzhou میں چاہ کہا جاتا ہے۔چاۓ کا کپ China porcelain کا بنا ہوا تھا جسے بنگلہ میں چینی مٹی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ایک پیالے میں رکھی چینی دیکھ کر مصنف کو اندازہ ہوا کہ ہندونستان بھر میں چین کے باشندوں کو چینی کہہ کر پکارا جاتا ہے۔کمرے میں موجود لیپ ٹاپ،پنکھا، کتابیں اور دیگر تمام چیزیں چیخ چیخ کر کہنے لگیں کہ ہم کو چین کے کوزہ گروں نے موجودہ شکل میں ڈھال کر تم تک پہنچایا ہے۔
چاہ،چینی مٹی۔۔
مختلف شکلوں میں چین سے سفر کرتی ہوئی چاۓ کی پتیاں کیتلی سے دلکش نقش و نگار والی China porcelain کی پیالیوں میں کسی دامن کے ساۓ میں،بہتے ہوۓ دریا کے کنارے،گوشہ تنہائی میں کتاب پڑھتے ہوۓ،شانزے لیزے کے کنارے دھندے میں چھپے نیم عریاں کیفے میں یا پھر کسی دستِ حنائی سے لے کر گھونٹ گھونٹ گلے میں اتارنا پوری دنیا میں آج تہذیبی تشخص کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
نباتات نے انسان سے پہلے دھرتی ماتا پر قدم جماۓ۔جو عقل رکھتے تھے انہوں نے پودوں سے زندگی کے رموز سیکھے اور دوسری نسلوں تک اپنے مشاہدے اور علم کو منتقل کیا۔اہل چین چاۓ کی پتیوں اور دوسرے نباتات سے دنیا میں قدم جمانے کی کوشش میں جان لیوا اور کٹھن راستوں پر صدیوں سے گامزن ہیں۔
ہمالہ کے اس پار سے اژدھا نے با آواز بلند رابن فیل کے ان الفاظ کو دہرایا۔
“In the indigenous view, human are viewed as somewhat lesser beings in the democracy of species. We were referred to as the younger brother of creation, so like younger brothers we must learn from our elders. Plants were here first and have had a long time figure things out. They live both above and below ground and hold the earth in place”
نباتات کی خرید و فروخت کے سلسلے میں انسان دوستی اور دشمنی کی تاریخ بھی کئی زمانوں پر محیط ہے۔
۰*۰
شہنشاہ جن ڈنگ کے مقبرے سے دو ہزار قبل ملنے والی چاۓ کی ان پتیوں کی داستان پر حقیقت سے زیادہ فسانے کا گمان ہوتا ہے۔
پرتگال کی شہزادی کیتھرین کی شادی انگلستان کے راجا چارلس سے 1662 مین ہوئی تو وہ جہیز میں ہیرے جواہرات کے علاوہ بمبئ کے چھ جزائر اور ایک منقش صندوقچی میں چاۓ کی پتیوں سمیت پیا گھر روانہ ہوئی۔اقوام یورپ میں پرتگال وہ پہلا ملک تھا جس نے چین کے کچھ علاقوں سمیت ایشیا میں کالونیاں قائم کیں۔سو وہاں چاۓ کا پہنچنا کچھ ایسا محال نہ تھا پرتگال سے براستہ انگلستان یورپ کے باقی ممالک تک چاۓ کو شہزادی کیتھرین نے متعارف کروایا۔ چاۓ جو کبھی خواص کے مشروبات میں شامل تھی بہت ہی کم مدت میں عوام میں چاۓ کی مقبولیت نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔کچھ ہی عرصے میں انگلستان سمیت پورے یورپ میں چاۓ ہر طبقے کے لوگوں کی بنیادی ضروریات کا جزو اول ٹھہری۔چاندی کے عوض بکنے والی چاۓ کی مانگ میں مسلسل اضافے کو دیکھتے ہوۓ اٹھارویں صدی کے آخر میں برطانوی پارلیمنٹ میں یہ قانون پیش کیا گیا کہ سال بھر کی کھپت کے برابر ملک میں چاۓ کے ذخیرے کو لازم قرار دیا جاۓ۔
برطانوی سرکار محکوم ملک امریکہ کے معدنی ذخائر سے نکلنے والی چاندی کے عوض چین سے چاۓ کے کاروبار میں نفع کی شرح کو دیکھتے ہوۓ مطمئن تھی۔
آل انڈیا کمپنی اور تاج برطانیہ چاندی کے عوض چین سے چاۓ خرید کر مہنگے داموں اقوام عالم کو فروخت کر کے برسوں مال و زر بنانے میں مصروف رہے۔ایک زمانے میں تاج برطانیہ کو سالانہ چاۓ کی فروخت سے ہونے والی آمدن آسٹریلیا،نیوزی لینڈ،ویسٹ انڈیز اور ساوتھ افریقہ جیسی کالونیوں سے جمع ہونے والے زرمبادلہ سے کہیں زیادہ تھی۔برطانوی حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں،شاہی خاندان کے کروفر،ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ امریکہ کو سر نگوں رکھنے کے لئے اُٹھنے والے اخراجات چاۓ کی آمدن سے ہی پورے کر سکتی تھی۔
سلطنت برطانیہ کی وسیع حدود جہاں کبھی سورج کو غروب ہونا دشوار تھا وہاں امریکہ کی آزادی کے بعد آمدن اور اخراجات کے گوشواروں میں توازن رکھنا بھی محال ہوتا جا رہا تھا۔چاۓ کے عوض چاندی دینے میں اب فائدہ کم اور خسارہ زیادہ تھا۔سکہ رائج الوقت یا کسی اور چیز کے بدلے چاۓ کی تجارت سے چین صاف طور پر منکر تھا۔
چینی شہنشاہ نے 1793 میں برطانیہ کے تخت نشین جارج سوئم کو ایک مراسلے میں لکھا۔
“We have never valued ingenious articles, nor do we have the slightest need of your country’s manufactures”
چین کی طرف سے چاۓ کے بیج اور پودوں کی بیرون ملک ترسیل پر پابندی کے علاوہ دوسرے دیسوں سے چاۓ کے باغات میں آنے والے باشندوں کی بھی کڑی نگرانی کی جاتی تھی۔
صنعتی انقلاب کے بعد تجارت اور کاروباری لین دین کے اصول اور معیاری تیزی سے بدلنے لگے تھے۔
تاجِ برطانیہ اب عجب کشمکش میں تھا۔اس کے سامنے چاۓ کی پتیاں کسی آسیب کی طرح محو رقصاں مالی و اعصابی مسائل کا سبب بنے کو تھیں۔
افسران و کاروباری حضرات ان مسائل کا حل ڈھونڈنے کے لئۓ گٹھ جوڑ کرنے لگے۔
چاۓ کی درآمد ۔ زر مبادلہ کا خسارہ
چاۓ کی ضرورت ۔ ہر گھر صبح و شام
چاۓ کی کاشت ۔ مزدور و زمین موجود مگر بیج ندارد
مسئلے کا حل ۔ پودے کے مقابل پودا
طبلِ جنگ بجنے کو تھا۔
میدان جنگ کا انتخاب کرنا باقی تھا۔
چاۓ اور افیون صف آرا ہونے کو تھے۔
۰*۰
روزمرہ زندگی میں رات دن چاۓ کو ہمسفر ماننے والے برصغیر کے لوگ شائد اس کی تاریخ سے کچھ ایسے واقف نہیں۔چاۓ کے حوالے سے سرمایہ درانہ نظام کا ظلم اور تاج برطانیہ کی اجارہ داری ان سیاہ مائل سبز پتیوں کی کاشت سے بھی قدیم ہے۔اس مشروب کا تذکرہ انگریز سرکار کے کاغذات میں کہی اور ان کہی کی صورت صدیوں پر محیط ہے۔
اہل یورپ اس جھاڑی سے برصغیر پر قابض ہونے کے بعد متعارف ہوۓ جبکہ اہل ہند اس پودے کی افادیت سے ایک حد آگاہ ہونے کے باوجود اس سے وابستہ کاروباری رموز اور نفع سے نا آشنا تھے۔متحدہ ہندونستان کے چین سے ملحقہ علاقوں اور کشمیر میں چاۓ کی محدود پیمانے پر کاشت کی جاتی تھی جو مقامی لوگ بیچنے کی بجاۓ خود اپنے مصرف میں لاتے۔سرکار انگلشیہ کے لئۓ چین کی چاۓ کا ذائقے اور معیار کے حوالے سے مقابلہ کرنا محال نہیں تو آسان بھی نہ تھا۔
افیون کے نام پر 1839 میں چار سال جاری رہنے والی پہلی جنگ میں شہنشاہ انگلستان کی کامرانی کے لئے محاذ پر مرنے والے ہندونستان کے معمولی لوگ تھے۔اس جنگ میں کامیابی کے بعد اپنی شرائط پر چین کے ساتھ تجارتی معاہدوں اور سنگاپور کی بندرگاہ سمیت انگلستان نے چین کے کچھ علاقے اور لوگوں پر اپنا تصرف قائم کر کے ان سے چاۓ کی کاشت کا طریقہ کار سیکھنے کے بعد آسام کے پہاڑی سلسلے میں ٹی اسٹیٹ قائم کیں۔ان اسٹیٹ کے مالکانہ حقوق ٹیکس کی مراعات سمیت یورپین لوگوں کو دئیے گئے جہاں مزدوری کرنے والے یرغمالی چینی باشندے اور مقامی لوگ غیر انسانی سلوک کے مستحق سمجھے جاتے تھے۔
افیون جنگ سے کم و بیش ایک صدی بعد بھی متحدہ برصغیر کے لوگ چاۓ کو دسترخوان کا حصہ بنانے کی بجاۓ کبھی کبھار دوا کے طور پر استعمال کر لیتے۔آسام کی ٹی اسٹیٹ اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہیں تو پیداوار میں زیادتی اور کھپت کی کمی کو دور کرنے کے لئے مقامی لوگوں کو چاۓ کی طرف راغب کرنے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ وسیع پیمانے پر اشتہاری مہم چلائی گئی۔اس اشتہاری مہم کو کامیاب بنانے کے لئے ستیہ جیت راۓ اور اس وقت کے معروف کمرشل آرٹسٹ آنندہ منشی کی صلاحیتوں سے بھی استعفادہ کیا گیا۔سونے کی چڑیا کو قید کرنے کے بعد چاۓ کے پیداواری علاقے میں ہی مہنگے داموں چاۓ فروخت کر کے زرمبادلہ رکھنے کے لئے بینک آف انگلینڈ کو نئی تجوریاں بنوانا پڑیں۔
۰*۰
اہرام مصر اور سوئٹزلینڈ کے کھنڈرات سے افیون کا ملنا اس کی چھ ہزار سالہ تاریخ کے گواہ ہیں۔ماہرین کا خیال کہ افیون کا پودا مشرقی یورپ کے علاقے بحیرہ اسود کے قریب پایا جاتا تھا۔نباتات سے قربت کے زمانے میں انسان نے اپنی ضروریات کے تحت ان کو استعمال کرنا شروع کیا تو افیون درد سے نجات کے لئۓ کارآمد ثابت ہوئی۔درد سے چھٹکارے پانے کے بعد اک احساس بیخودی کی تلاش میں کسی پوستی نے پھر افیون سے رجوع کیا تو گمان غالب ہے عالمِ سرور میں افیون کی شان میں کوئی قصیدہ بھی پڑھا ہو گا۔
اک لطفِ رائیگاں اور دوا کے طور پر افیون کی افریقہ،یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارت کئی صدیاں پہلے شروع ہو چکی تھی۔اہل ایران سے افیون کوسکندر کی افواج نے متعارف کروایا۔سکندر سمیت کئی سربراہان مملکت اور شہنشاہ افیون سے لگاؤ رکھتے تھے۔سرور کی کسی اور منزل پر پہنچنے کے لئے افیون سے کئی اور نشہ ور سفوف بنائے گئۓ جن کو استعمال کرنے کے طریقے بھی وقت کے ساتھ بدلتے رہے۔اہل سیف سے اہل قلم کیوں پیچھے رہتے سو وہ تخلیق کے کرب کو افیون کے لطف سے کم کرنے کا بہانہ تراشتے تھے۔افیون راجاؤں کے دربار کی زینت اور تخلیق کاروں کی ضرورت کے بعد خواص کے طبقے میں بھی مقبول ہونے کے بعد اونچی دوکان سے مہنگے داموں فروخت ہونے لگی۔محدود پیمانے پر کاشت ہونے کی وجہ سے اس کی قیمت اور مانگ میں فی زمانہ بھی کوئی کمی نہیں آئی۔
۰*۰
پرتگالیوں نے برصغیر کے کچھ حصوں کو کالونی بنانے کے بعد یہاں افیون کی کاشت اور کاروبار کو وسعت دی۔پرتگالیوں کے بعد ڈچ باشندوں نے ہندونستان میں قدم جماۓ تو وہ اس بات سے آگاہ تھے کہ افیون زرمبادلہ بڑھانے میں سب سے زیادہ کارآمد شے ہے۔ہندونستان سے مصالحاجات کے تبادلے کے لئے افیون کے استعمال کے علاوہ ڈچ حکمرانوں نے دوسرے مقبضوعہ علاقوں سمیت یورپ کو افیون برآمد کر کے تجارت کو وسعت دینے کے منصوبے پر توجہ مرکوز رکھی۔کچھ ریاستوں نے ڈچ تاجروں اور حکومت کی جانب سے افیون کی درآمد اور برآمد پر اعتراض کرنے علاوہ پابندی لگانے کی بھی دھمکی دی۔افیون کی آسانی سے دستیابی کے بعد ڈچ کالونیوں سمیت اہل یورپ اور چین میں تمباکو کے ساتھ ساتھ افیون کے استعمال کا فروغ بڑھنے کے بعد طلب اور رسد کا مسلئہ بھی درپیش تھا۔
تاج برطانیہ اور شہنشاہِ ہالینڈ میں رشتے داری کے باوجود ریاست کی بقا اور وسعت کے علاوہ معاملہ نفع اور خسارے کا بھی تھا۔ڈچ حکمرانوں کی برصغیر پر اجاراداری فرمارواں انگلشیہ کو بہت کھٹکھتی تھی۔تجارت کے نام پر پاک و ہند میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے قدم جمنے کے بعد برطانوی حکومت نے اپنا تسلط قائم کیا تو تاج برطانیہ کی شادمانی اور حکمرانی کے جشن ہندونستان بھی میں دھوم دھام سے مناۓ جاتے۔
انگریز سرکار سونے کی چڑیا کو گرفت میں لیتے ہوۓ مستقبل کے منصبوبے بنانے میں مصروف ہوئی۔یہاں کے دستکار،جفا کش لوگ،وسیع میدان اور آسمان کو چھوتے پربت اب جزائیر برطانیہ کے سامنے سرنگوں ہر حکم بجا لانے کو تیار تھے۔
اژدھا بھی سرحد کے اِس اور جھانکتے ہوۓ پریشان ہوا۔
تاریخ کے اوراق پر کچھ اور رقم ہونے کو تھا۔
دنیا کا نقشہ تبدیل ہو چکا تھا۔
افیون دوا سے زیادہ نشہ کی علامت بن چکی تھی۔
رسد کے مقابل کھپت۔۔۔
اب معاملہ ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کا تھا۔
مزدور ہمارے لوگ تھے اور تاجر گورے تھے۔
محنت ہماری تھی تجوریاں مغرب کی بھرنے کو تھیں۔
سونے کی چڑیا میں انکار کی مجال کہاں وہ تو پھڑکنے سے بھی قاصر تھی۔
انگریزوں نے افیون کی کاشت کے لئے پورپ کے زرخیز میدانوں کا انتخاب کیا جس کے بھوج پوری بولنے والے باشندے مشقت کے لئے دکن تک مشہور تھے۔امریکہ سے چاندی کی آمد کا سلسلہ ختم ہو چکا تھا۔چین نے چاۓ برآمد کرنے پر ٹیکس کا حجم بڑھا دیا تھا۔انگریز حکومت نے چاۓ بھی منگوانی تھی اور زر مبادلہ بھی بچانا تھا۔
کرنل واسٹن نے 1767 میں یہ تجویز پیش کی۔
“….Colonel Waston, a shipbuilder, formally proposed that the east India company increase its opium shipments to China”
چین میں 1729 سے افیون کی تجارت پر پابندی کے باوجود اس کی مانگ کو دیکھتے ہوۓ کچھ چینی تاجر منافع کی خاطر ممنوعہ کاروبار سے وابسطہ تھے سرحد کے دونوں طرف ایسے تاجر ہی واسٹن کی تجویز کے لئۓ کارآمد ثابت ہو سکتے تھے۔
انگریز کی تدبیر ،دوراندیشی اور طاقت کے سامنے اژدھا بھی خاموش تھا۔
ایسٹ انڈیا کمپنی نے واسٹن کی تجویز پر عملدرآمد شروع کیا۔ کمپنی بہادر کا پہلا تیر نشانے پر لگا۔مجبور چینی عوام جزو وقتی لذت اور زندگی کی ناہمواریوں کو بھولنے کے لئۓ جلد ہی افیون کے عادی ہوۓ۔ افیون کے جال میں اژدھا کا دیس اسیر ہونے کو تھا۔ کھپت بڑھانے کی اسکیم میں کامیابی کے بعد اب رسد میں اضافہ کرنا باقی تھا۔
کمپنی کے کارندوں نے افیون کی کاشت کے لئے ہندونستان کے صوبے اترپردیش کے زرخیز علاقے پوروانچل کا انتخاب کیا۔سرکار انگلشیہ نے مظلوم مگر سخت جاں کسانوں کی محنت کی بنیاد پر برصغیر میں opium state کے نام سے اک اور ریاست کی بنیاد رکھی۔
“But in the years after 1830, when production started rising steeply, the department’s territories grew in proportion, eventually becoming a kingdom within an empire, extending all the way across Purvanchal,from the vicinity of Agra, in the west, to the borders of Bengal, in the east. Here by the second half of nineteenth century, roughly half a million acres came to be sworn with poppies.
Cultivating this land required the labour of more than a million peasant households, probably some 5-7 million people all together.”
افیون کی تجارت کے حوالے سے دنیا بھر میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے انگریز احکام نے 1799 میں شعبہ افیون قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔جس کا مقصد افیون کی کاشت سے بین الاقوامی منڈی میں اس کی فروخت تک تمام مراحل کی نگرانی کرنا تھا۔شعبے سے متعلقہ افسران انگریز بہادر کے علاوہ بھلا اور کون ہو سکتے تھے۔جونئیر افسر بھی انگلستان سے تعلق رکھنے والے وہ نوجوان ہوتے جو یونیورسٹی جانے سے پہلے ہی تعلیم کو خیر آباد کہہ دیتے تھے۔شعبے کے تحت پوروانچل کے کسانوں سے معائدہ کیا گیا کہ وہ افیون کے علاوہ کوئی فصل کاشت کرنے کے مجاذ نہ ہوں گے۔وہ مقرر کردہ نرخ پر صرف ان آڑھتیوں کو افیون بیچ سکیں گے جن کو شعبے کی سرپرستی حاصل ہو گی۔اپنی شرائط کے مطابق یکطرفہ معاہدے کی وجہ سے انگریز سرکار کے بچھاۓ ہوے افیون کے جال میں بھوج پوری کسان جان کی امان کے طلبگار تاجِ برطانیہ کا خزانہ بھرنے میں کوشاں رہے۔
شعبے کا افسر اک طرز تغافل کے ساتھ عجب سج دھج سے ہندونستان میں قیام کرتا۔نوکروں کی فوج ظفر موج کے مقابل پالتو کتے صاحب بہادر کو زیادہ عزیز ہوتے۔وسیع بال روم میں پیانو کی سرُوں پر محفل شبانہ کا بندوبست کیا جاتا۔ٹینس کورٹ میں میم صاحب اور بابا لوگ تیراکی کے بعد کھیلنے کے لئے پہنچتے۔وسیع بنگلوں کے دلکش سبزہ زاروں میں انگریز بہادر پائپ سے دھواں نکالتے ہوۓ شام کے وقت چہل قدمی کرتے۔گرمیوں کے موسم میں محکمے کے افسران اپنے دربار سمیت شملہ و نینی تال کی جانب کوچ کر جاتے۔
فصلوں کا دورہ کرنے سے پہلے منتخب مقامات پر خیموں کی پوری بستی افسروں کے پہنچنے سے پہلے ایستادہ کی جاتی۔جس میں اصطبل اور غسل خانے بھی شامل ہوتے۔
محکمہ افیون قائم ہونے کے بعد فصل کی پیدوار میں ریکارڈ اضافہ اور اس کی تجارت سے حاصل ہونے والا منافع ایسٹ انڈیا کمپنی کی توقع سے بھی کہیں زیادہ تھا۔
“But after 1830 exports grew rapidly, and opium soon become the keystone of colonial economy: ‘like the yeast in bread dough’ it was the substance ‘upon which the entire structure depended’….’English merchants, led by the British East India company, from 1772 to 1850, established extensive opium supply chains … creating the world’s first drug cartel.” 61
خریدوفروخت سمیت دیگر معاملات سے نپٹنے کے لئے افسروں اور دوسرے کارندوں میں اضافے کی ضرورت محسوس کرتے ہوۓ محکمے کو دو یونٹوں پٹنہ اور بنارس ایجینسی میں تقسیم کر دیا گیا۔داخلی سطح پر محکمانہ وسعت کے بعد تجارت کے حجم کو بڑھانا بھی لازم تھا۔صنعتی انقلاب کے بعد عالمی منڈی میں کاروبار میں جدت کے رحجان کو مد نظر رکھتے ہوۓ کمپنی نے افیون کی خام فصل کی بجاۓ اس سے بننے والی منشیات سے کئی گناہ زیادہ منافع کمانے کے لئۓ فیکڑیاں لگانے کے منصوبے پر کام شروع کیا۔
سرخ اینٹوں کی دیو قامت دیوراروں کے پیچھے 1781 میں کئی ایکڑوں پر مشتمل پٹنہ ایجینسی سے متعلقہ فیکڑی گلزارباغ میں بنائی گئی جبکہ اس کے آٹھ سال بعد بنارس ایجینسی کے خام مال کو منشیات کی صورت فروخت کرنے کے لئۓ کنگا دریا کے کنارے غازی آباد میں فیکڑی لگائی گئی۔1789 میں فیکڑی کی پیداواری صلاحیت کو یکسوئی سے برقرار رکھنے کے لئے غازی آباد کے چالیس ہزار باشندے اس میں کام کرتے تھے۔
فیکڑیوں کی تاریخ اور ان کا مفصل مرقع لکھنے کے لئے مصنف خود ان کا دورہ کرنا چاہتا تھا۔پٹنہ والی فیکٹری تو اک زمانہ پہلے بند کر دی گئی تھی مگر غازی پور والی فیکڑی اب بھی افیون سے ادویات بنانے کے لئے اپنے حجم اور کارکردگی کے لحاظ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔باوجود کوشش کے حکومت ہند نے مصنف کو فیکٹری کا دورہ کرنے کی اجازت نہ دی۔کچھ لوگ ان فیکڑیوں کے بارے مفصل کتابچے و مضامین لکھ گئے تھے جن کی مدد سے گھوش فیکڑیوں کے بارے کسی حد تک ہمیں جانکاری دینے میں کامیاب رہے۔ولایت کے مختلف کتب خانوں میں بھی اس بارے کافی مواد موجود ہے جس سے ہمارے مصنف نے استفادہ کیا۔
میک آرتھ نے فیکڑیوں کے بارے کئی مفصل نقشوں سمیت 1865 میں ایک کتابچہ لکھا جس کو پڑھنا نقشاجات کی جزئیات کی وجہ گھوش کے لئۓ کسی بھی طور ایک ڈاکومینٹری دیکھنے سے کم نہ تھا۔
کپلنگ نے 1899 میں غازی آبادی والی فیکڑی کے بارے ایک طویل مضمون میں لکھا۔
“There are ranges and ranges of gigantic godowns, huge barns that can hold over a half million pounds’ worth of opium….The heart of the whole is laboratory, which is full of sick faint smell of an opium joint…. But everything untoward is ultimately irrelevant because it is all in service of a greater cause—the empire, for which the drug yields such a splendid income.”65 .66
ٹیگور کے ایک ایک عزیز فیکڑی میں کام کرتے تھے جہنوں نے ٹیگور کے غازی آباد میں چھ ماہ قیام کے لئے فیکڑی کے قریب کراۓ پر بنگلے کا بندوبست کیا تھا۔ٹیگور نے اپنے قیام کے دوران غازی آباد کے قرب و جوار میں لارڈ کراؤن والیز کے مقبرے سمیت ہر تاریخی جگہ حاضری بھری مگر وہ فیکڑی جانے سے شائد اس لئے بھی گریزاں رہے کیونکہ ان کے دادا انگریز سرکار کی سرپرستی میں افیون کے غیر قانونی کاروبار سے منسلک تھے۔گمان غالب ہے کہ اسی خلش کے تحت انہوں نے افیون اور اس سے متعلقہ جنگ کے خلاف کئی بارے کئی بار قلم اٹھایا۔اسی ضمن میں وہ اپنے مضمون The death traffic in China میں لکھتے ہیں۔
“A who,e nation, China has been forced by Great Britain to accept the opium poison… When we read the history of unnatural and inhuman bloodshed in war, we have simply a feeling of horror mingled with that of wonder. But in the Indo-China opium traffic,human nature itself sinks down to such depth of despicable meanness, that is hateful even to follow the story to its conclusion”
اہل قلم کے علاوہ مصوروں نے بھی opium فیکڑیوں کی pictorial history مرتب کرنے کی کوشش کی۔مصوری کے یہ شاہکار اس زمانے کی سماجی،صنعتی و معاشی تاریخ کے مستند حوالے ہیں۔مصوری سے دلچسپی رکھنے والے برٹش آرمی کے کپتان والٹر شئرویل نے پٹنہ میں ملازمت کے دوران فیکڑی کے مختلف حصوں کو کینوس کے لئے منتخب کیا۔والٹر کے بناۓ ہوۓ چھ وسیع لیتھوگرافز کرسٹل پیلس لندن میں پہلی بار سلطنت برطانیہ کی طرف سے سر زمین ہند سے چین کے لئے افیون کے عنوان کے تحت 1851 میں ہونے والی نمائش میں پیش کیے گئے۔ان لیتھو گراف میں ہندونستان کے کمزور مزدور غربت کے استعارے کے طور پر سامنے آتے ہیں جبکہ فیکڑی کی وسیع و عریض عمارتیں سرکار انگلشیہ کی سربراہی میں ہندونستان میں صنعتی انقلاب کی طرف اشارہ کرنے کے علاوہ تاج برطانیہ کی لامتناہی سرحدوں کی بھی عکاس ہیں۔
شئرویل کے علاوہ فن مصوری کے پرتاب گڑھ گھرانے سے تعلق رکھنے والے دو ہندونستانی مصوروں نے بھی افیون کی فیکڑیوں کی تصویریں بنائیں۔انیسویں صدی کے مصور سیتا رام شائد ہمیشہ کے لئے گمنامی کے پردے میں ہی پنہاں رہتے اگر ایسٹ انڈیا کمپنی کے دوسرے گورنر جنرل لارڈ Moria کے اس دورے میں بطور درباری مصور شریک نہ ہوتے جو انہوں 5-1814 میں کم و بیش اٹھارہ ماہ کی مدت میں دس ہزار افراد کے لاو لشکر کے ساتھ کلکتہ سے پٹنہ تک کیا تھا۔اس دورے کی تصویریں جھلکیوں کے علاوہ سیتا رام نے پٹنہ کی افیون فیکڑی کی وسیع عمارت اور گودام کی بھی دو تصویریں بنائیں جن کو 1995 میں برٹش لائبریری کے تحت کتابی صورت میں شائع کیا گیا۔
پٹنہ میں اپنا اسٹوڈیو چلانے والے مصور شیوا لال پورٹریٹ میں خاص مہارت رکھتے تھے۔ہندونستانی فنون کے دلدادہ یورپین باشندے دو سونے کے سکوں کے عوض ان سے اپنا کلرڈ پورٹریٹ بنوانے کے طلبگار رہتے۔پٹنہ افیون ایجنسی کے ایجنٹ رابرٹ لائل فیکڑی کی دیواروں کو شیوا لال کے میورال سے مزئن کرنے کے خواہشمند تھے مگر 1857 کے غدر کی وجہ سے یہ منصوبہ پایا تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔شیوا لال نے فیکڑی کے غریب ہندونستانی مزدوروں کے استحصال کو اپنی تصویروں میں نمایاں طور پر پیش کیا۔اس موضوع پر ان کی انیس تصاویر آج بھی البرٹ میوزیم لندن میں محفوظ ہیں۔غریبوں کے استحصال کی یہ داستان کسی نہ کسی شکل میں آج بھی پاک و ہند کی سرزمین پر جاری و ساری ہے۔
انیسویں صدی کے وسط میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ہمارے گھوش کے اجداد نے اپنے وطن بنگال سے ہجرت کے بعد صوبہ بہار،ضلع سارن کے شہر چھپرا کو شائد اس لئے مسکن بنایا کیونکہ اس وقت اس علاقے میں افیون کی وسیع پیمانے پر کاشت اور کاروبار کے سلسلے میں ملازمت کا حصول کچھ ایسا مشکل نہ تھا۔مصنف کے دادا وکالت کے پیشے سے منسلک تھے۔جو گھر میں رسولن بائی کی محفلیں سجانے کے علاوہ باغیچے میں زہریلے پودوں کی افزائش کا شوق بھی رکھتے تھے۔شائد ان پودوں میں افیون بھی شامل ہو جو زہریلا ہونے کے باوجود زہر کش بھی ہے۔چھاپر سے ہی تعلق رکھنے والے ایک لکھاری نے بھوج پوری میں افیون کی کاشت اور کاروبار کے پس منظر میں ناول لکھا جس کا انگریزی ترجمہ بھی دستیاب ہے۔
برسوں بعد بہتر مستقبل کے لئے جب مصنف کے والد نے دوبارہ کلکتہ ہجرت کی تو وہ چھپرا اور بہار کو یاد کرنے کے علاوہ اپنے بہن بھائیوں سے بھوج پوری میں ہی بات کرتے تھے۔صدیوں پہلے ماریشس ہجرت کرنے والے بہاری باشندے بھی شجرکاری سے وابستہ تھے۔شائد گھوش کے اجداد میں سے بھی کسی نے بہار کی بجاۓ ماریشس کو وطن کے طور پر منتخب کیا ہو۔مصنف کی جوانی بھی ماریشس میں ہی گزری۔سو بہار،بھوج پوری اور نباتات سے منصف کے خاندان کی کہانی کسی نہ کسی طور میل کھاتی ہے۔
بہار کے علاقے میں انگریز سرکار افیون کی صرف وہ قسم کاشت کرتی جس پر سفید چاندنی سے نازک پھول کھلتے ہیں کیونکہ ان سفید پھولوں والے پودوں سے افیون زیادہ مقدار میں نکلتی تھی۔بمبئی اور نرمدا کے کنارے رنگ رنگ کے پھولوں والے افیون کے کھیت کمپنی کی حکومت کی عملداری میں نہ تھے۔ان علاقوں کے کسان افیون کی فصل اپنی مرضی کے بھاؤ کے مطابق آڑھتی کو فروخت کرتے جو جائز منافع رکھنے کے بعد چین کو برآمد کر دیتے۔سرکار انگلشیہ کو یہ بات گوارا نہ تھی کیونکہ ان ذرائع سے چین کو افیون برآمد کرنے سے کمپنی کی حکومت کی تجارت اور منافع کی شرح متاثر ہونے کا اندیشہ تھا۔ گورنر جنرل کے حکم پر ان علاقوں پر فوج کشی کی گئی اور مراٹھوں کو شکست دینے کے بعد بمبئ سمیت پایہ تخت کے قریبی علاقے بھی سرکار انگلشیہ کے سامنے سرنگوں ہوۓ۔انگریز احکام نے ان تمام علاقوں میں افیون کی کاشت اور تجارت پر پابندی عائد کر دی تاکہ صرف پٹنہ اور بہار ایجنسی سے افیون برآمد کرنے پر جائز و ناجائز منافع انگریز سرکار کے خزانے میں جمع ہوتا رہے۔
سرحد کے اس پار اژدھا غفلت کے بستر پر خواب خرگوش کے مزے لیتا تھا۔
مگر وقت کسی کی پرواہ کرتاہے۔کولونیل دور کا خاتمہ ہوا دنیا نے دو طویل جنگوں سے بھی عبرت نہ سیکھی وقت کی گردش میں لذتِ کام و دہن کے معیار بھی بدلے۔چاۓ نے ہر ملک پر سر عام راج قائم کیا۔تمدن کے نام پر پوست کی کاشت پر پابندی لگی اس سارے معاملے میں زر،ملک،حکمران،تاجر،شہر ،دہشت گرد اور بینک ملوث تھے اور آج بھی ہیں۔تہذیب داغ داغ ہے افیون کی کاشت اب بھی ہوتی ہے جس کی مصنوعات چاۓ سے کہیں زیادہ مہنگی ہیں۔
اژدھا بھی کب تک سوتا اب اکیلا ہمالہ کے اس پار رہنے والا بیدار و چوکس اژدھا ہی تو ہے۔جو سارے عالم کے سامنے کھڑا اپنی بات کرنے کی جرات رکھتا ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply