سینما محض اسکرین پر چمکتی تصویروں کا کھیل نہیں، بلکہ یہ تہذیب، فلسفہ اور مستقبل کی سائنس کا آئینہ بھی ہے۔ دنیا کے بڑے فلمی مراکز، خصوصاً ہالی وڈ، یورپ اور مشرقِ بعید کی فلم انڈسٹریز، سینما کو ایک intellectual art کے طور پر لیتے ہیں۔ وہاں فلمیں صرف تفریح نہیں کرتیں بلکہ آنے والے کل کے سوالات کو جنم دیتی ہیں—مصنوعی ذہانت کے خطرات، بایوٹیکنالوجی کے اخلاقی پہلو، کائنات کی وسعت میں انسانی وجود کی تنہائی، ماحولیاتی تباہی، عالمی سیاست کے تضادات، اور تہذیبی تصادم جیسے موضوعات پر بحث کرتی ہیں۔
مگر دوسری طرف پاکستانی فلم انڈسٹری ہے، جو اب بھی اسّی اور نوّے کی دہائی کے گھسے پٹے سانچوں میں قید ہے۔ موضوعات دیکھ لیجیے: گجر، مافیا ڈان، زمینوں کے جھگڑے، دشمنیاں، شادی بیاہ کے ناچ گانے، سطحی رومانس، یا پھر روایتی مزاح۔ یہ سب کچھ اس وقت بھی چل رہا ہے جب دنیا کوانٹم فزکس کے فلسفیانہ اثرات پر فلمیں بنا رہی ہے اور پاکستانی فلم میکرز اب تک گھریلو جھگڑوں اور گاؤں کی دشمنیوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔
اصل المیہ سرمایہ یا ٹیکنالوجی کی کمی نہیں، بلکہ ذہنی و فکری دیوالیہ پن ہے۔ ہمارے زیادہ تر رائٹرز اور ڈائریکٹرز نے نہ فلسفہ پڑھا ہے، نہ سوشیالوجی، نہ سائنسی ادب۔ عالمی لٹریچر ان کے لیے اجنبی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ پاکستانی فلم عالمی فکری مکالمے کا حصہ ہی نہیں بن پاتی۔ مثال کے طور پر مغرب میں فلم میکرز نہ صرف ناولز اور سائنسی جرائد پڑھتے ہیں بلکہ اپنے وقت کے بڑے سوالات پر تحقیق بھی کرتے ہیں۔ وہ اپنی فلم کو صرف ایک کہانی نہیں بلکہ ایک تھاٹ ایکسپیریمنٹ سمجھتے ہیں۔
پاکستان میں صورتحال الٹی ہے۔ اکثر فلم رائٹرز، ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز نے انٹرنیشنل لیول کی کتابیں کیا پڑھنی یہ تو اخبار کا اداریہ تک پڑھنے سے گریزاں ہیں۔ ایک مشہور رائٹر صاحب—جو کئی ڈرامے اور فلمیں لکھ چکے ہیں—انہوں نے مجھے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ میرے لکھے ہوئے آرٹیکلز پڑھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے، لہٰذا انہیں نہ بھیجے جائیں۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ ایک آرٹیکل یا اخبار کی فکری تحریر کو “بوجھ” سمجھتے ہیں، وہ کیسے فلسفہ، سائنسی لٹریچر یا عالمی مباحث کو اپنی فلموں کا حصہ بنائیں گے؟
یہ صرف تخلیقی کاہلی نہیں بلکہ ایک علمی غفلت ہے جو پوری انڈسٹری کو mediocrity میں جکڑ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی فلمیں بڑے فیسٹیولز پر جگہ نہیں بناتیں، عالمی ناظرین کو متوجہ نہیں کرتیں اور نہ ہی اپنے معاشرے کے نوجوانوں کو کوئی فکری یا تخلیقی inspiration دیتی ہیں۔
اگر پاکستانی سینما کو واقعی دنیا میں جگہ بنانی ہے تو کیمرے اور بجٹ کے ساتھ ساتھ علمی سرمایہ بھی درکار ہے۔ فلم میکرز کو چاہیے کہ وہ:
1. فلسفے اور سوشیالوجی کی بنیادی کتب پڑھیں۔
2. سائنسی موضوعات (آرٹیفیشل انٹیلیجنس، بایولوجی، ماحولیات، اسپیس سائنس) پر نظر رکھیں۔
3. عالمی لٹریچر اور تاریخ سے مکالمہ کریں۔
4. ان بڑے سوالات کو مقامی بیانیے کے ساتھ جوڑیں تاکہ فلمیں عالمی سطح پر بھی معنی رکھ سکیں۔
پاکستانی معاشرہ ویسے ہی فکری بحران کا شکار ہے، اور سینما اس بحران کی عکاسی بھی کرتا ہے اور اس کو مزید گہرا بھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں صرف گجروں اور گانوں میں الجھی رہیں یا وہ بھی ان سوالات پر سوچ سکیں جن پر دنیا سوچ رہی ہے؟

سینما کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اسے صرف “تفریح” سمجھتے ہیں یا “فکری ذمہ داری” بھی۔ اگر صرف تفریح رہے گا تو پاکستانی فلم کبھی ہالی وڈ، یورپ یا کوریا کے مقابل نہیں آسکے گی۔ لیکن اگر فلم ساز کتاب پڑھنا سیکھ لیں، سوال اٹھانا سیکھ لیں، اور فلسفے و سائنس کو تخلیق میں ڈھال لیں، تو پاکستانی سینما عالمی سطح پر اپنی پہچان بنا سکتا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں