ایک کمرہ ہے۔۔
خاموش، بظاہر خالی، مگر دیواروں کے اندر کہیں الفاظ سانس لے رہے ہیں۔ میں ان کے بیچ بیٹھا ہوں، ایک قلم کے سہارے، جو کبھی میرا نہیں رہا۔
سنو! تمہارے بغیر یہ کمرہ سانس نہیں لیتا۔
اور جب میں تمہیں یاد کرنے بیٹھتا ہوں، تو یاد کے ذرے ہوا میں تحلیل ہونے لگتے ہیں۔
تمہارا چہرہ نہیں بنتا, بس کچھ بکھرے ہوئے لفظ ہیں، جو خود کو تمہارا نام کہنے کی کوشش میں لڑتے رہتے ہیں۔
میں جانتا ہوں، تم اب کوئی شخص نہیں۔
تم وہ خیال ہو، جسے میرے اندر کے خالی پن نے جنم دیا ہے۔ وہ “تم” جو میری ہر تحریر میں چھپ کر دیکھتا ہے کہ میں اسے کب پہچانتا ہوں۔ تم وہ حرف ہو جو ہمیشہ ادھورا رہتا ہے۔۔۔جیسے “محبت” کے بعد کا وقفہ۔
قلم چلتا ہے۔ الفاظ قطار بناتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں شاید اب تم ظاہر ہو جاؤ گے۔ مگر تمہاری جگہ ایک اور میں لکھا جاتا ہے۔ ایک ایسا “میں” جو مجھ سے زیادہ حقیقی لگتا ہے۔
اب سوال یہ نہیں رہا کہ میں تمہیں لکھ رہا ہوں، بلکہ یہ کہ تم مجھے لکھ رہے ہو۔ تمہاری انگلیاں میرے خواب میں اتر کر میرے جملے درست کرتی ہیں۔ میں خود اپنی تحریر کا ایک کردار بن چکا ہوں- وہ کردار جو جانتا ہے کہ وہ خیالی ہے، مگر پھر بھی سچ ہونے کی تمنا رکھتا ہے۔ رات کی تہہ میں کہیں سے ایک ہلکی سی سرگوشی ابھرتی ہے، “تم نہیں لکھ رہے، تم لکھے جا رہے ہو۔”
میں چونک کر صفحے کی طرف دیکھتا ہوں۔
لفظ حرکت کر رہے ہیں۔ تمہارا نام خود بخود ابھرنے لگتا ہے؛ دھندلا، مگر زندہ۔ میں مسکراتا ہوں۔ یہ جان کر کہ تم ہمیشہ غائب رہو گے، کیونکہ تمہارا ہونا، میری تلاش میں ہی پوشیدہ ہے۔
اب جب نیند آنکھوں میں اترنے لگی ہے، میں محسوس کرتا ہوں کہ کمرہ خالی نہیں رہا۔ ہوا میں ہلکی سی خوشبو پھیل رہی ہے؛ کسی نامعلوم تخلیق کی۔ شاید وہ تم ہو۔ یا شاید وہ کہانی، جو میں نے ابھی خواب میں لکھی ہے اور جو جاگنے پر مجھے یاد نہیں رہتی۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں