ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ امن معاہدہ بظاہر کچھ مثبت پہلو رکھتا ہے، جن میں فوری جنگ بندی، دونوں جانب کے قیدیوں کی رہائی، اقوام متحدہ کے زیر انتظام غزہ میں خوراک اور امداد کی ترسیل، اسرائیل کا فلسطینی علاقوں کے جبری الحاق کی ممانعت، اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا اور فلسطینیوں کی اسرائیل کی جانب سے جبری نقل مکانی کی روک شامل ہیں۔ مگر ماضی کے واقعات کو دیکھتے ہوئے اس معاہدے میں کئی ابہام ہیں جو اس کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ یہ ابہام دانستہ بھی ہوسکتے ہیں کیوں کہ امریکہ نہ صرف اسرائیل کا طرف دار ہے بلکہ اُس کے جرائم میں اسلحہ، پیسے اور سفارتی مدد کے ذریعے سے براہ راست شریک ہے۔ پچھلے دوسال میں امریکہ کی جانب سے اقوام متحدہ کی غزہ میں جنگ بندی کی قراردادوں کو چھ دفعہ ویٹو کیا ہے ، جبکہ مجموعی طور پر امریکہ اسرائیل کی حمایت میں پچاس دفعہ سے زیادہ مرتبہ ویٹو استعمال کر چکا ہے۔ سو امریکہ اس تنازعہ میں غیر جانبدار نہیں ہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ انصاف کے بغیر امن لانے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوئیں اور یہ معاہدہ اس بارے میں چُپ ہے کہ کیا اسرائیل اپنے ان بہیمانہ مظالم کا جوابدہ ہوگا جو اس نے کئی دہائیوں سے فلسطینیوں پر روا رکھے ہیں۔ کیا امریکہ کی پشت پناہی اُسے فلسطینیوں کی نسل کشی اور تذلیل ، قیامت خیز بمباری ، عورتوں اور بچوں کے قتل ِعام، فلسطینیوں کو بھوک اور خوف کی اجتماعی سزا اور عالمی قوانین کی پامالی جیسے سنگین جرائم سب سے بچالے گی؟
امن کی کوئی کوشش فلسطینیوں کو شامل کیے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ حماس اور فلسطینی اتھارٹی کو حکومت میں کوئی حصہ نہیں دیا جارہا بلکہ یہ معاہدہ فلسطینیوں پر مسلط کیا جارہا ہے۔ نیز فلسطینی اتھارٹی کے مبہم اصلاحاتی پروگرام کے نام پر فلسطینیوں پر غاصبانہ گرفت مضبوط کرنے کا عندیہ ہے ۔
یہ امن معاہدہ عالمی قوانین سے بھی متصادم ہے۔عالمی قوانین کے تحت ٹرمپ کے زیر نگرانی امن کمیٹی غزہ کا انتظام سنبھالنے کی مجاز نہیں ہے۔ یہ اقوام متحدہ کے ادارے کو مزید بے اختیار کرنے کی جانب ایک قدم ہوگا۔ اس کمیٹی میں ٹونی بلیئر جیسےمتنازع شخص کا شامل ہونا جو عراق میں لاکھوں افرا د کی ہلاکت کا ذمہ دار ہے، اس کمیٹی کو مزید مشکوک بناتا ہے۔ معاہدے کے مطابق یہ کمیٹی غزہ کی تعمیر نو کے لیے فریم ورک تیار کرےگی اور اس کی فنڈنگ سنبھالے گی۔ یہ فلسطینی وسائل اور آبادی کا استحصال ہوگا۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ فلسطینوں کو کب حقِ خود ارادیت ملےگا۔ خدشہ ہے کہ فلسطین اسرائیل کے تسلط سے نکل کر عارضی بین الاقوامی استحکام فورس ( جو اقوام متحدہ سے باہر ہوگی) کے ذریعے سے امریکہ کی غلامی میں جا پہنچے گا۔
معاہدے کے مطابق اسرائیل غزہ کے اردگرد اپنی حفاظت کے لیے فوجی حصار رکھے گا جو اس وقت ختم ہوگا جب اسرائیل کو کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔ اسرائیل کی معاہدوں سے روگردانی( اوسلو ایکارڈ اور کیمپ ڈیوڈ) اور مذاکرات کاروں کے قتل بتاتے ہیں کہ اسرائیل کبھی بھی اپنی فوجی موجودگی نہیں چھوڑے گا۔ حماس اور دوسری مزاحمتی تحریکوں کو غیر مسلح کرنے کے بعد اسرائیل کی چیرہ دستیوں اور مظالم کو روکنا ممکن نہ ہوگا۔ یہ ہاتھ پاؤں باندھ کر قاتلوں کے سامنے پھینکنے کے مترادف ہوگا۔
امن معاہدے میں خصوصی اقتصادی زون کا قیام ، جس کیلیے ترجیحی ٹیرف اور رسائی کی شرطیں فلسطینیوں کی شرکت کے بغیر امریکہ طے کرے گا، استعمار اور نوآبادیت کا اشارہ ہے۔ ٹرمپ کےاعلان کردہ غزہ کے تعمیراتی منصوبوں کی روشنی میں یہ ایک استحصالی منصوبہ نظر آتا ہے ۔ اسی طرح کا نیو لبرل ایجنڈا غاصبانہ قوتوں نے عراق میں بھی اپنایا تھا جس کا نتیجہ وہاںسیاسی اور معاشی عدم استحکام، بدامنی اور قتل و غارت کی صورت میں نکلا تھا۔
معاہدے میں گو فلسطینی ریاست کے قیام کو شرائط سے جوڑ کر مناسب حالات ہونے کے تابع ایک سوچ کے طور پر مانا گیا ہے، مگر بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اس معاہدے میں فلسطینی ریاست کا کوئی ذکر نہیں ہے، اور ہم کسی بھی طرح سے فلسطینی ریاست کا قیام نہیں ہونے دیں گے کیونکہ یہ ہماری زمین ہے۔
یہ امن معاہدہ سطحی ہے اور تنازعے کی حقیقی وجوہات سے دانستہ نظر چرارہا ہے۔ اس میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں، فلسطینوں پر کیے گئے مظالم، پناہ گزینوں، سرحدوں اور قبضہ کیے گئی زمینوں،سچائی، مفاہمت، حق خودارادیت جیسے بنیادی امور کو نظر انداز کیا ہے۔ یہ معاہدہ اُسی استعماری سوچ کاتسلسل ہے جو خطے میں امن لانے میں رکاوٹ ہے۔ یہ امن معاہدہ حل نہیں اور موجودہ شکل میں کسی بھی باشعور حکومت اور فرد کو قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیئے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں