مسافر چین کو عازم ِسفر تھا۔
سفر بھی ایسے آیا کہ سال قبل ایک طالب علم کو ماسٹرز تھیسس کروایا تھا۔ طالب علم نے اس کام پر تحقیقی مقالہ لکھا اور کچھ کانفرنسوں میں بھجوایا۔ چین بلاتا تھا سو مقالہ منتخب ہو گیا سو اب کانفرنس میں شرکت کے لیے ہم دونوں کا چین جانا ٹھہرا۔
کانفرنس لان زو شہر میں تھی۔ اب شہر کا پہلے نام بھی نہ سنا تھا۔ نقشے میں دیکھا تو شمال مغربی چین کے گانسو صوبے کا صدر مقام ہے۔ گانسو کا صوبہ تبت اورصدیوں قبل ہوا سے پھیلی سرخ مٹی کے سطح مرتفع کے درمیان واقع ہے۔ گانسو کے علاقے کا ایک حصہ صحرائے گوبی میں واقع ہے۔اس کی سرحدیں شمال میں منگولیا کے گووی لتائی ، اندرونی منگولیا اورچینی مسلمانوں کے صوبے ننگشیا جبکہ مغرب میں سنکیانگ اور چنگھائی ، جنوب میں سیچوان اور مشرق میں شانسی سے ملتی ہیں۔ دریائے زرد صوبے کے جنوبی حصے سے گزرتا ہے۔ چنگھائی چین کا ایک اندرون ملک صوبہ ہے جو رقبے کے لحاظ سے چین کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور آبادی کے لحاظ سے تیسرا سب سے چھوٹا صوبہ ہے۔ شانسی صوبے کا دارلحکومت شیان ہے۔ شیان میں ایک اندازے کے مطابق پچاس ہزار ہوئی مسلمان ہیں۔ہوئی مسلمان چین کے سب سے نمایاں مسلم نسلی گروہوں میں سے ایک ہیں اور ہوئی مسلمانوں کی تعداد چین میں ایک کروڑ کے لگ بھگ ہے ۔ وہ نسلی طور پر ہان چینی ہیں اور بنیادی طور پر مینڈرن چینی بولتے ہیں جبکہ چین کے سنکیانگ صوبے کے ویغور مسلمان ترک النسل ہیں اور ان کی زبان بھی ترک زبان کے قریب ہے۔ لان زو میں بھی ہوئی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے۔
لان زو سائنسی تحقیق اور تعلیم کا ایک اہم مرکز بھی ہے اور مسافر اس شہر کی کئی یونیورسٹیوں میں سے ایک شمال مغربی یونیورسٹی میں کانفرنس کے لیے جارہا تھا۔ ایک چینی ساتھی نے جب سنا کہ مسافر لان زو کو جاتا ہے تو کہنے لگا ، خوش ہو جا کہ تو وہاں کے کھانے یاد کرے گا۔ قصہ حاتم طائی کی مصداق صدائیں لگائے گا کہ ایک دفعہ کھایا ہے، دوسری دفعہ کھانے کا اشتیاق ہے۔ ہم نے کہا ہمارا مسلہ تو حلال کھانے ہیں، کئی سال قبل چین کے سفر کا ایک تجربہ تھا جس میں مسافر شنگھائی کی گلیوں میں حلال کھانے ڈھونڈتے پھرتا رہا تھا اور حلال کھانا عید کے ہلال کی مانند دیکھنے میں نہ آتا تھا۔ کہنے لگا لان زو مسلمانوں کا علاقہ ہے ، اور کھانوں کی لیے جانا جاتا ہے۔ وہاں کی لان زو بیف نیوڈلز دنیا بھر میں جانی جاتی ہیں۔ تجھے حلال کھانے بڑی آسانی سے دستیاب ہوں گے۔
مسافر کی پہلی فلائیٹ سڈنی کے لیے تھی۔ ورجن ایر لائنز کی یہ فلائیٹ بوئنگ سات تین سات کی تھی۔ اس جہاز میں دونوں جانب تین تین نشستیں ہوتی ہیں جبکہ درمیان میں راہ گذر ہوتی ہے۔ سستی ایر لائن ہونے کی بنا پر پرواز میں کچھ نہیں ملتا گو اس پانچ گھنٹے کی پرواز میں ایک دفعہ پانی اور چائے دیے گئے۔ آغاز ہی کچھ پروفیسرانہ رہا، ایرپورٹ پر سامان بُک کراتے دیکھا کہ لیپ ٹاپ گاڑی میں ہی بھول چکا تھا۔ فون کرکے گاڑی کو واپس بلوایا کہ مقالے سے متعلقہ سب کچھ لیپ ٹاپ کی مٹھی میں تھا۔ سیٹ اکتیس نمبر ملی تھی۔ کہا گیا کہ گو جہاز کے اگلے حصے کے ساتھ برتھ جڑی ہے، مگر مسافر پیدل ٹارمک پر جائے اور جہاز کے پچھلے دروازے سے سیڑھیاں چڑھ کر جہاز میں داخل ہو۔ جہاز پر چڑھے تو پتہ لگا کہ جہاز کی سب سے پچھلی نشست ہے۔
جب جہاز نے پرواز بھری تو سب سامنے تھا، جہاز کی ناک اوپر تھی ، اور مسافر دُم پر تھا۔ دید سامنے تھی، کچھ دباؤ جسم پر تھا جو ذہن پر بھی آن پہنچا تھا۔ اگر آنکھ کھلی ہو تو منظر بھی نظر آتا ہے، غلطیاں سامنے رہتی ہیں، عمل بھی سوچ کے تابع رہتا ہے۔ لاپرواہی اور غفلت ساتھی ہو تو پشیمانی کہیں نہ کہیں سے ہم رکاب ہوجاتی ہے۔
اُس لمحے مسافر کی زندگی اُس کے سامنے تھی۔
پچھلی نشست بے کار نہیں ہوتی، بہت کچھ دکھا دیتی ہے۔ کمرہ جماعت کی پچھلی سیٹ کا اور رنگ ہوتا ہے۔ سب دکھائی دیتا ہے، کون پڑھتا ہے، کون شرارت میں مصروف ہے، کون صنف مخالف ہم جماعت کو متاثر کرنے کی کوشش میں ہے۔ پچھلی سیٹوں والے پڑھائی میں اچھے ہوں نہ ہوں، زندگی کے رنگ سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔
جہاز کی سب سے پچھلی نشست کا بھی اپنا رنگ ہوتا ہے، اوپر کیبن میں سامان نہیں رکھ سکتے کہ اس میں پہلے ہی جہاز والوں کا سامان بھرا ہوتا ہے، نشست سے پیچھےٹوائلٹ ہے کہ لازمی بدبو وقتاً فوقتاً آتی رہتی ہے، ساتھ ہی ایر ہوسسٹوں کا علاقہ ہے جہاں سے کبھی خوشبو اور کبھی کھانے کی مہک آ پہنچتی ہے۔ پچھلی نشست زندگی کے رنگ اور باس لیے ہوتی ہے۔
ساتھ کی نشست پر ایک درمیانی عمر کی عورت تھی، جو دورانِ پرواز اپنی کاپی پر قلم سے کچھ لکھتی رہی۔آج کے دور میں قلم تھامنے والے کم ہی ہیں۔ بات ہوئی تو علم ہوا کہ وہ جاپانی عورت سنگاپور میں رہائش پذیر ہے، میاں اس کا اٹالین ہے اور وہ خود بھی سنگاپور میں کسی ریسٹورنٹ میں اٹالین کھانوں کی شیف ہے۔ دو لڑکے سڈنی میں رہتےہیں جن سے ملنے جارہی تھی۔ کہنے لگی، میرے لڑکوں کے پاس تین قومیتیں ، اٹالین، جاپانی اور آسٹریلین ہیں۔ مسافر نے سوچا کہ انسانی زندگی بھی یک رنگی سے رنگا رنگی کے سفر پر ہے۔ گوت، برادری ، قومیت سب اپنے معنی بدل رہے ہیں۔ اُسی لمحے جہاز نے ایک بڑا غوطہ کھایا، کچھ راہیوں نے اپنی اپنی زبان میں خدا کو یاد کیا جبکہ کچھ نے گالی کا سہارا لیا۔
پچھلی نشست پر بیٹھے مسافر کے سامنے زندگی کے رنگ آشکار تھے۔
سڈنی شہر کی فضا میں داخل ہوئے تو بادل چھائے تھے، سامنے اوپرا ہاؤس اور سڈنی کا مشہور بندرگاہ پل ( سڈنی ہاربر برج) نظر آرہا تھا۔ ایسے میں ایک تصویر کھینچ لی کہ تصور سے تصویر کا سفر طے ہوجائے۔

سڈنی سے آگے بیجنگ کی پرواز لینی تھی سو اب انٹرنیشنل ایرپورٹ پر جانا تھا۔ ہال میں معلوماتی کاؤنٹر پر دو بوڑھے بیٹھے تھے۔ گمان ہے کہ رضاکار تھے۔ ریٹائرڈ افراد کو زندہ رہنے کے لیے مصروفیت چاہیئے ہوتی ہے ۔ بے وقعتی ہو تو وقت کا وار کاری ہوتا ہے۔ سو مغربی ممالک میں دیکھا کہ ریٹائرڈ افراد سے رضاکارانہ کام لیا جاتا ہے۔ اہمیت بھی رہتی ہے، کام بھی ہوجاتا ہے اور صحت مند بھی رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈومیسٹک ایرپورٹ سے باہر نکلیں ، سامنے سے بس لیں کہ وہ انٹرنیشنل ایرپورٹ پر لے جائے گی۔ اگلی پرواز میں وقت کم تھا۔ وقت کم ہواور احساس بھی ہو تو پھر دباؤ بھی چمٹا ہوتا ہے، سو بھاگ بھاگ کر باہر نکل کر بس لی۔
بس چلی اور دس منٹ میں انٹرنیشنل ٹرمینل پر لے گئی۔ عجب پرانی سی عمارت کے سامنے بس رکی تھی۔ بتایا گیا کہ اس عمارت کے طرفی دروازے سے داخل ہوں تو انٹرنیشنل ایرپورٹ پائیں گے۔ مایوسی سی ہوئی کہ دنیا کے کئی انٹرنیشنل ایرپورٹ دیکھے تھے مگریہاں یوں لگا کہ کوئی ویرانی سی ویرانی ہے کہ سڈنی کا ایرپورٹ دیکھ کر سکھر کا ایرپورٹ یاد آیا (خیال ہے کہ سکھر کا ایرپورٹ کچھ دہائیاں قبل دیکھا تھا، اب تو وہ بھی شاید بہتر ہو گیا ہو)۔ اندر داخل ہو کر ایر چائنہ کا کاؤنٹر ڈھونڈا۔ لمبی قطار تھی، زیادہ چینی تھے۔ ایک نوجوان آسٹریلین تھا جو اپنے قد سے لمبا سرف بورڈ بُک کرانے کی کوشش میں کاونٹر سے کاونٹر دُو بہ دُو ہورہا تھا۔ اس کو اضافی بڑے سائز کے سامان کے کاؤنٹر کو بھیجا گیا۔ اب وہ سامان تھامتا تھا اور سامان اُس کو تھامتا تھا۔ مسافر نے جانا کہ شوقین مزاجوں کے یہی قصے ہیں۔
کاونٹر پر ایک چینی خاتون تھی، انگریزی اچھی بولتی تھیں۔ اس نے بورڈنگ پاس عطا کیا۔ اس کے بعد مسافر مسجد کی تلاش میں نکل پڑا کہ کہیں سجدہ ریز ہو۔ رہنمائی ملی کہ ایک کمرہ “پریئر روم” کے نام کا پہلی منزل پر ہے، جہاں اتحاد بین المذاہب کے تحت اپنے اپنے مذہب کے مطابق عبادت ہو سکتی ہے۔ سیڑھیاں چڑھ کر پہلی منزل پر پہنچ گیا۔ ایک جانب “پریئر روم” تیر کے نشان کے ساتھ لکھا نظر آیا۔ عجب تاریک راہداریاں ایک دوسرے میں گڈمڈ تھیں۔ تلاشِ حق میں ایک کونے سے دوسرے کونے میں پھرتے تھے۔ راہداریوں میں کچھ دفاتر تھے، کوئی سامان جہاز پر لادنے سے متعلقہ ، کوئی کسی ایرلائن سے وابستہ مگر وہ شروع میں “پریئر روم” تیر کے نشان سے آگے کچھ نہ پاتے تھے۔ ایسے میں ایک دفتر سے ایک اول جول سا گورا نکلا، لباس کا چناؤ اور بال سب بے ترتیب تھے، چہرے پر بھی کسی اور دنیا کے تاثرات تھے۔ ہم نے اُسے ہی رہبر جانا، سو کمرہِ عبادت کا پوچھا۔ کہنے لگا، کئی سالوں سے یہاں کام کررہا ہوں، یہ جانتا ہوں کہ ایسا کمرہ یہیں کہیں ہے، کہاں ہے علم نہیں، ہے یہیں کہیں، شاید دائیں کو ہے یا شاید بائیں کو ہے۔ کئی رہبروں سے بہتر تھا کہ لاعلمی کو مانتا تھا۔
خیر، تلاش اگر سچی ہو تو منزل مل ہی جاتی ہے۔ تاریک راہداریوں میں ایک راہ سے دوسری میں داخل ہوتے بالآخر کمرہِ عبادت جا پہنچے۔ مسافروں کو گنجائش عطا ہے، سو ظہر سے عشاء کی تمام نمازیں پڑھیں، اور پھر انہیں تاریک راہداریوں سے گھومتے نیچے کی راہ پائی۔ رات اترتی تھی، سواب کھانے کی تلاش منزل ٹھہری۔ ایرپورٹ پر ایک فوڈ کورٹ مل گیا۔ اب باری حلال کھانے کی تلاش کی تھی۔ ایک ایر لائن کے یونیفارم اور حجاب پہنے خاتون کو ایک دکان سے کھانا خریدتے دیکھا تو اُس سے پوچھ کر ہم بھی قطار میں لگ گئے۔ اس رات روسٹ مرغ کے ٹکڑے اور آلو کے چپس شکم کی زینت بنے۔
کھانے کے بعد امیگریشن کا مرحلہ طے کر نےچل پڑے۔ امیگریشن پر لمبی قطار تھی۔ سامان اور آدمی سکین ہوتے ہیں،جامہ تلاشی ہوتی ہے، بیلٹ اتاریے، لیپ ٹاپ بیگ سے نکال کر الگ رکھیں، پانی کی بوتل بھی نامنظور ہے، ٹوتھ پیسٹ کی مقدار کم ہو تو قابلِ قبول ہے۔ اس سے گذر کر ایر چائنہ کی پرواز پر پہنچے، بوئنگ سات آٹھ سات ہے، اس میں تین نشستیں درمیان میں اور تین دونوں جانب ہیں ، سو درمیان میں دو راہ گذر ہیں۔ جہاز پوری طرح بھرا ہے۔ پرواز تقریباً بارہ گھنٹے لے گی، سو مسافر نے سونے کا ارادہ رکھا ہے۔ ارادے اور عمل میں مگر فرق رہا۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں