1. 2007:کی ایک جمعرات تھی ۔ ابھی ہم نے بابا سرفرازکے دربار کے کھلے صحن میں قدم رکھا ہی تھا کہ کسی نے راستہ روک لیا ۔ مکمل سفید براق کپڑوں میں ملبوس اونچے لمبے وجود کو دربار کے دروازے سے برآمد ہوتے دیکھا ضرور تھا لیکن ہر گز یہ گمان نہ تھا کہ ہم بہنیں یوں راستے میں روک لیے جائیں گے ۔ یہ عصر کا وقت تھا کہ انہوں نے ہم دونوں کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ ” اندر منتیں رکھی ہیں ۔۔۔ جاکر اٹھا لو ۔”
” منتیں ؟ “ہم نے اتنا کہہ کر انہیں دیکھا ۔ گہرے سیاہ بالوں میں بیچ کی لمبی مانگ نکال کر دونوں اطراف سلیقے سے جمائے گئے بال ، سر پر اوڑھے سفید جھک دوپٹے سے بھی نمایاں ہورہے تھے ، چہرہ سرخی ، غازے سے بے نیاز تھا ، دوپٹے کے ہم رنگ قمیض اور شلوار پہنے ۔۔اس وجود نے مسکرا کر ذرا زور دے کر کہا ” میں کہہ رہی ہوں نا ! منت اٹھالو ۔”
ہم ان کی بات نظر انداز کرتے ہوئے دربار میں داخل ہوئے وہاں موجود خواتین حیرت زدہ سی ہمیں تک رہی تھیں ۔” شبانہ – – – – – نے ان دونوں کے سر پر ہاتھ رکھا ہے ۔” ایک آواز آئی ۔
” وہ انہیں دعائیں دے رہی تھی” دوسری آواز ائی۔
” کیا کہہ رہی تھی ؟” اشتیاق بھرے سوالات سنائی دے رہے تھے ۔
” پتہ نہیں ۔ انہوں نے کہا تھا منت اٹھا لو ۔” ہم نے نہ سمجھتے ہوئے جواب دیا۔
” ارے تو اٹھاؤ نا ۔۔ یہ رکھیں منتیں ۔۔۔ یہ شبانہ ہیجڑا ہے جسے دعا دے دے اس کے دن پھر جاتے ہیں ۔ ” جمعرات والے دن کام نہیں کرتی ۔ عصر سے مغرب ننگے پیر حاضری دینے آتی ہے ۔۔ ہر جمعرات ۔” جانے کس نے تفصیل کہی ۔
اس کے بعد کافی عرصے تک سفید کپڑوں میں ملبوس ، ننگے پیروں والا وجود اور میک اپ سے بے نیاز وہ چہرہ آنکھوں کے سامنے آتا رہا ۔ ان کے اس روپ سے عقیدت اور پاکیزگی جھلکتی تھی ۔
2.” شبانہ ۔۔۔۔۔ ” یہ نام پہلی بار اپنے گھر میں 10 اپریل 1995 کی صبح سنا تھا کہ پچھلی رات پھوپھی کی رخصتی ہوئی تھی اور ہفتے بھر کی رسومات سے تھکے ، مہمانوں سے بھرے گھر میں تمام افراد بے سدھ سوئے ہوئے تھے اچانک گھر میں ڈھول بجنے اور گانے گانے کی آواز آنے لگی۔ نیند بھری آنکھوں سے دیکھا کہ چار خواجہ سرا صحن میں بیٹھےلہک لہک کر رخصتی کے گیت گا رہے تھے انہیں منع کیاگیا کہ ہمارے ہاں گانے نہیں گائے جاتے تو ان میں سے ایک نے اونچی آواز میں کہا ” تو پھر اللہ میاں کی قوالیاں گالیتے ہیں ۔” بار بار منع کرنے پر وہ خاموش تو ہوگئے مگر ایک ضد تھی ” ہم شبانہ ہیجڑے کے چیلے ہیں ، یہ ہمارا علاقہ ہے ۔۔ہم نیگ لیے بغیر گھر سے نہیں جائیں گے ۔ اور آخر انہیں ایک جوڑا اور کچھ روپے دے کر گھر سے رخصت کیاگیا۔
ـــــــ3. شبانہ ۔۔۔۔۔۔۔ نے کام چھوڑ دیا ہے ، دنیا ترک کردی ہے ، لوگوں سے ملنا ختم کردیا ہے اور سارے پیسے اور دو کلو سونا بابا سرفراز مسجد کے مہتمم کے حوالے کر دیا ہے ۔
یہ غالباً 2015 کی خبر تھی ۔
4.جنوری 2019 میں جب میں حالات بدلنے کی ساری کوششیں کرکے تھک گئی ،تہجد اور صلاۃ الحاجت میں مانگی گئی تمام دعاؤں کا جواب خاموشی میں ملا تو خیال آیا کسی دوسرے سے دعا کروائی جائے ۔ دوسرے سے ۔۔۔کس سے ؟ شبانہ ۔۔۔۔۔۔سے ۔۔۔یہ اللہ کی معصوم مخلوق ہیں ان کی دعائیں رد نہیں ہوتیں ۔
فجر کی نماز پڑھ کر آلو گوشت کا تازہ سالن بنایا ، کچھ پیسے ساتھ لیے اور پارسل بنا کر دربار بابا سرفراز کے گرد ان گلیوں میں بھٹکنے لگی جہاں شبانہ کی رہائش کا امکان تھا ۔
ایک دروازہ پر کھڑی خاتون سے ہچکچاتے ہوئے پوچھا ” شبانہ ۔۔۔۔ شبانہ کا گھر کہاں ہے ؟” میں دانستہ ہیجڑا کہنے سے گھبرا رہی تھی ۔ یہ لفظ میری زبان پر آنے سے انکاری تھا ۔ اب تک اتنی سمجھ آگئی تھی کہ یہ لفظ اچھا نہیں ہے ۔
” شبانہ ؟ کون شبانہ ؟ ” خاتون نے کوئی نشانی جاننا چاہی۔
” شبانہ ۔۔۔ وہ ۔۔ مجھے نہیں پتہ انہیں کیا کہوں ۔۔۔ وہ بہت پہلے میری پھوپھی کی شادی پر نیگ لینے آئی تھیں ۔”
اچھا ! شبانہ خالہ ۔۔۔اگلی گلی میں تیسرا دروازہ ان کا ہی ہے ۔ ہم سب شبانہ باجی یا شبانہ خالہ کہتے ہیں انہیں ۔”
اس نے میری مشکل آسان کی ۔
میں نے اگلی گلی کے تیسرے دروازے پر دستک دی ۔جواب ندارد ۔۔۔دوسری بار ، تیسری بار ۔۔۔۔کئی بار دستک دی مگر کوئی جواب نہ ملا ۔ اچانک برابر والا دروازہ کھلا اور ایک تیس پینتیس سالہ خاتون برآمد ہوئیں ۔” کون ہو ؟ کیوں آئی ہو ؟” انہوں نے سوال کیا
” شبانہ خالہ سے ملنا ہے ان سے دعا کروانی ہے ” میں نے جھجھکتے ہوئے کہا ۔
” وہ میری ساس ہیں ۔۔۔ مطلب میرے شوہر کی خالہ ۔۔انہیں پالا ہے انہوں نے ۔۔مگر اب شبانہ خالہ نے دنیا ترک کردی ہے ، کسی سے نہیں ملتیں ۔۔ ان کے چیلے بھی آجائیں تو دروازہ بجا بجا کر واپس چلے جاتے ہیں ، محلے والوں سے بھی ملنا چھوڑ دیا ، پہلے ہمارے ساتھ ہی رہتی تھیں کھانا پینا سب ہمارے ساتھ تھا ۔۔اب اوپر والی منزل پر رہتی ہیں نہ ہم سے ملتی ہیں نہ ہی ہم سے کھانا لیتی ہیں ۔ بالکل اکیلا کرلیا ہے خود کو ۔ صرف صبح باہر نکلتی ہیں کچھ کھانے کو لے آتی ہیں پھر سارا دن بند رہتی ہیں راستے میں بھی کسی سے بات نہیں کرتیں ابھی وہ یہ تفصیل بتاہی رہی تھیں کہ میرا مطلوبہ دروازہ کھلا اور الجھے سفید بالوں والی برہنہ سر ہستی باہر آئی اور کچھ بکتے جھکتے گلی سے نکل گئی ۔ملگجے کپڑوں والی یہ ہرگز وہ نہیں تھیں جنہیں میں نے بارہ سال پہلے سفید پاکیزہ لباس میں اس شام بابا سرفراز کے دربار پر دیکھا تھا ۔
” یہ ۔۔۔ یہ شبانہ خالہ ہیں ؟” میں نے گھبرا کر پوچھا ۔
” ہاں ” مختصر جواب ملا ۔
” یہ تو بہت پیاری تھیں ۔۔کیاہوا ہے انہیں ” انہیں اس حال میں دیکھ کر میں اپنی غرض بھول گئی تھی ۔
” پتہ نہیں ۔۔ کوئی کہتا ہے محبت میں دھوکہ کھایا ہے ، ، کسی نے بتایا تعویذ کروائے ہیں کسی چاہنے والے نے ، کسی نے کہا دماغ الٹ گیا ہے ۔۔پاگل ہوگئی ہیں ۔” ہماری تو ماں ہیں ۔۔ مگر اب ہمیں بھی نہیں پہچانتیں ۔” اندر سے ایک مردانہ آواز نے جواب دیا ۔
میں نے ہاتھ میں دبا سامان خاتون کو پکڑایا اور واپسی کو قدم اٹھائے کہ مجھ میں اس سے زیادہ سننے کی تاب نہیں تھی ۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں