روٹی/حسان عالمگیر عباسی

اگر مسائل کے حل کی حقیقی جگہ لکڑی کا گول میز ہے, تو یہی میز تک پہنچنے سے قبل کئی جانوں کی قربانی محض انسانوں کی اموات ہی نہیں ہیں بلکہ یہ ایک تاریخ کا سیاہ ترین باب شمار ہوتا ہے۔ ہم نے کتابوں کو سرسری سا کھنگالتے ہوئے دیکھ رکھا ہے۔ ان کتابوں کے صفحات میں خون آلود روحوں کی کہانیاں پڑھ رکھی ہیں۔ اس آلودہ ذہنیت سے پنپتے افسانے اور افسانچے بھی دیکھ لیے ہیں۔ رنگوں کی جانچ بھی کر لی ہوئی ہے اور ان رنگوں کے انتخاب کے سلیقے بھی سمجھ لیے ہیں اور انتخاب کے بعد اس رنگ سے جڑی کہانیوں کہاوتوں کی پڑتال تک ہو چکی ہوئی ہے لیکن اس تاریخ کو زمانہِ موجود میں دہراتے ہوئے بھی پا لیا ہے۔ تاریخ کا یہ سیاہ باب مستقبل پہ جس طرح اثرانداز ہو گا اس کے نتائج کا تجزیہ چشمِ نم بن رہا ہے مثلاً کیا ‘بے گناہوں’ کی حالتِ زار چشمِ فلک نہیں دیکھ رہی، کیا یہ چیخ حشر کی وادیوں میں نہیں گونج رہی ہو گی؟ کیا انسان اتنا شریر ہو چکا ہے؟ جن گھروں کو ملبے میں ڈھال دیا ہے اسی جگہ نئی عمارات کھڑی کرنے کی اسکیم بن رہی ہے؟ کیا یہ ہے مادہ پرستی؟ کیا اسے مادہ پسندی کہتے ہیں؟ ادب و ثقافت کی تعظیم کرنے والے جانتے ہیں کہ ایک زندگی کی کیا قیمت ہوتی ہے۔ ایک اینٹ کا کیا مول ہے۔ اینٹ تو اینٹ ایک بجری کے دانے کی کیا وقعت ہے۔ ایک گھونسلے کا بال کتنا قیمتی ہے۔ ایک شہد کی مکھی کا پھولوں سے رس چوسنا مزید برآں یہ مقررہ اوقات و جائےِ مخصوصہ تک پہنچانا کیا معنی سموئے ہوتا ہے! کیسے بارش بنتی ہے۔ کیسے بارش کا تنکا بنتا ہے۔ کیسے تنکے کا ذرہ تنکے سے جڑتا ہے۔ آشیانا کسے کہتے ہیں۔ یہ کیسی عداوت ہے؟ یہ کیسی مساوات ہے؟ یہ کونسا نظام ہے جو چند لوگوں کی خوشیاں گن سکتا ہے؟ اس کا جواب خسارا ہے۔ ان الانسان لفی خسر اس کا جواب ہے۔ جو لقمہ اجل بن گئے چلے گئے لیکن جو قومہ میں ہیں ان کا کیا؟ ان کا کیا جو بھوکے ہیں؟ جن کی ہڈیاں جسم سے باہر لپک رہی ہیں؟ آسودہ خاکوں کا کیا؟ جن کی آنکھیں کھلی ہیں، نم ہیں، مشاھدے میں ہیں اور جسم و روح لاغر ہیں ان کا کیا ہو گا؟ چشمِ غم ذرہ بھی نم ہے تو تصور میں لائیے! ایک گھر کے مکینوں کو پہلے باندھا جائے، آنکھوں پہ پٹی ہو، اور باقی بقیہ کو یہی نتائج کی دھمکی دے دی جائے اور اطراف میں خار دار تاریں بچھا دی جائیں اور اس حصار میں محصورین پہ کتے چھوڑ دیے جائیں؟ انھیں بھوک ننگ افلاس کا جبر سہنا پڑے! یہ تماشہ بن جائیں، سرکس لگے، تماش بین جمع ہوں اور دیکھتے ہی رہ جائیں! زبانیں زنگ زبر ہو جائیں! دماغ سن کر دیے جائیں! یہی تاریخ ہے! جنگل کے باسیوں سے پوچھ لیں! ایسا قانون کسی جنگل میں بھی رائج نہیں ہے۔ کتا ویسے ہی بدنام ہے۔ شیر بھی ویسے ہی وحشی قبیلے کا سردار تصور کیا جاتا ہے۔ چیتے بھی شرمسار ہو جاتے ہوں گے! ہاتھی کی سونڈ تک عاجز ہو جاتی ہے! کیا چیونٹی کی رفتار بھی معلوم ہے؟ ایک انسانی قدم کے نیچے وہ سفر طے کرتے ہوئے اپنی جان کو بار بار قربان کرتی ہے اور تب کہیں وہ خوراک کا بندوبست کر سکتی ہے! یہ محنتیں کس کام کی؟ جنگل سے پلٹ آئیے! انسانوں سے سیکھیے! یہ حقیقت پسندی کے سبق دہراتے ہیں! یہ مساوات کا سوال کرتے ہیں! یہ عدل و انصاف پہ لیکچرز دیتے ہیں! یہ امانت و دیانت و صداقت کے مینار بناتے ہیں! یہ انسان چوپایوں سے بھی نیچے ہیں! ان کا کاروبار تگڑا ہے لیکن پھر بھی خسارے میں جا رہے ہیں! حیرانی ہوتی ہے جب انسانوں کی عقل و شعور سے انسانی وحشت سبقت لے لیتی ہے! یہ محض آلِ یعقوب کا مسئلہ نہیں ہے! دنیا بحیثیت مجموعی ایک ایسے موڑ پہ ہے جہاں سوالوں کے انبار ہیں! یہ انسان اب ادب و ثقافت و تہذیب کے لیکچرز بنائیں گے! تھیوریز گھڑیں گے! اپنے دماغ کو سکون پہنچائیں گے! ترنم بنانے والی ملکاؤں سے آواز کی بھیک مانگیں گے، بانسری والے کی خدمات لیں گے اور نئی نسل سے جھوٹ بولیں گے سب صحیح ہے۔ صحیح تو ہے! انسان اتنا عاقل بالغ ہو چکا ہے رستہ بنا ہی لیتا ہے! بناتا آرہا ہے! بنا لے گا! لیکن سوال وہیں کا وہیں ہے۔ اگر میز ہی اصل جگہ ہے تو نئی نسل کی کھوپڑیوں میں بارود کا مصالحہ بھر کے اوپر والے کہاں جا رہے ہیں؟ نیچے والوں کا کیا بندوبست ہے؟ کوئی راہ؟ کوئی رہبر؟ کوئی رہنما؟ کوئی جادو کی چھڑی؟ کوئی دوا؟ کوئی دارو؟ کوئی لقمہِ حیات؟ کوئی شربتِ دینار؟ کوئی آبِ شفا؟ کوئی عقد؟ کوئی عقیدہ؟ کوئی ثقیف جملہ؟ کوئی سکہ؟ کوئی ثقافت؟ کوئی قلم؟ کوئی دوات؟ کوئی بستہ؟ کوئی چارا؟ کوئی چارا جو؟ کوئی چارا جوئی؟ نو سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی جیسی کہاوت؟ کچھ بھی نہیں ہے؟ تصور میں لائیے! کیسے ماضی و حال و مستقبل ایک لڑی میں پروئے گئے ہیں۔ کیسے ایک شے سے کئی اشیاء جڑی ہوتی ہیں! ایک دکان پہ تھا۔ سبزی کا سوپ بنانا تھا! سبزی کا کہا! سبزی دے دی گئی اور جرمانہ ڈال دیا گیا! وہ گھر بھی پہنچ گئی! جب دکاندار نے کہا کہ تصور میں لائیے کیسے ایک کلو سبزی سے کئی معاملات پیوستہ ہیں! کھیتوں سے منڈی سے گاڑی سے دکان سے گھر سے فرد سے صحت تک کا سفر! کھیت سے کسان سے محنت تک کا معاملہ! انسان سے بکری سے گائے تک کا سفر! گائے سے دودھ سے انسان تک کا معاملہ! یکدم جیسے چار سو ایک سوچ ہی مل گئی تھی! بہرحال حیرانی اپنی جگہ مقید ہے کہ کیا یہی وہ مادہ پرستی ہے جس بارے کئی کتابوں کے صفحات کالے ہیں؟ انسان امید پیدا کر لیتا ہے لیکن اس امید کی قیمت ادا کرتا ہے! یہی امید ایک گول میز کانفرنس سے بھی پیدا ہو سکتی ہے لیکن انسان چاہتا ہے اس کا اسلحہ دنیا تک پہنچے اور روٹی پکتی رہے بھلے توا مظلوم ہی کا ہو۔۔ اصل سوال امید کا نہیں ہے۔ کبھی بھی نہیں تھا۔ اصل سوال مایوسی کا بھی نہیں ہے۔ کبھی تھی ہی نہیں۔ یہ بنتا ہی نہیں ہے! اصل سوال وحشت کا ہے! ابھی انسانیت کو خون دھوتے وقت لگے گا! ممکن ہے انسانوں کی اگلی پوت کوئی راہ ہموار کر پائے گی! ہمیں بہرحال دائروں میں سفر کرتے رہنا چاہیے! یہی بندوبست ہے۔ انتہاؤں میں کیسا بھی بندوبست نہیں ہے! یہ روٹی کا سوال کم جس توے پہ پکتی ہے کا بہرحال زیادہ ہے

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply