فاد ر فرانسس تنویر کا شعری مجموعہ ‘منظر دل کی آنکھوں میں’ / پروفیسر عامرزریں

فادرفرانسس تنویر اُردو اور پنجابی زبان کے معروف شاعر، نغمہ نگار اور موسیقار ہونے کے علاوہ ایک خوب صورت آواز کی خُداداد صلاحیت سے بھی بہرہ مند ہیں۔ کہانت اُن کی الٰہی خدمت کا اہم شعبہ ہے۔ انہوں نے اپنے شعبہء کہانت کے حوالے سے اُردو شاعری میں اچھوتا اور یادگار مذہبی شعری ادب تخلیق کیا ہے۔ تاہم زیرِ نظر شعری مجموعہ ‘‘منظر دل کی آنکھوں میں’’ فرانسس تنویر کے سیکولر یعنی غیر مذہبی کلام کا ایک حسین نقش ہے۔اس مجموعہ کلام میں وہ محبت اور امن کی ترویج کے لئے عصرِ حا ضر میں امن ، محبت اور انسان دوستی کی قدروں کو اپنے شعری اسلوب میں بیان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
وہ اس دُنیا میں طبقاتی تقسیم کے خلاف ہیں۔ ہر ذی شعور اس بات سے واقف ہے کہ دورَ حاضر میں انسان مختلف نوع کے جبرو تشدد ، عدم مساوات اور نا انصافی کے بندھنوں میں مقید ہے۔ لہذا امن و صلح اور محبت کے کومل جذبوں کے تحت اُن کا شعری سُخن ایک روشن فکر سے مزین ہے۔چونکہ فرانسس تنویر کی زندگی کاہنانہ خدمت میں گذری ہے، لہٰذا انہوں نے بلند آہنگ شاعر ہونے کی سعی نہیں کی۔ بلکہ اُن کا کلام تصوف اور روحانی مثالیوں (Ideals)پر مبنی ہے۔ وہ کہیں محبت اور اُنسیت جیسے جذبات کو منظوم کرتے ہیں تو کہیں سماجی ناہمواریوں کے خلاف زمانے سے شکوہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
جب کوئی شاعراپنی ذاتیت، مشاہدات ، تجربات اور جذبات کے ساتھ اپنے ماحول اور گردوپیش میں بسنے والے انسانوں کے جذبوں کی ترجمانی کرتا ہے تو قارئین کی نظر میں وہ ایک کامیاب شاعر کے مرتبہ پر فائز ہو جاتا ہے۔ اسی لئے فادر تنویر کے شعری مجموعہ کلام‘‘منظر دل کی آنکھوں میں’’کے تجزیاتی مطالعہ کے بعد راقم یہ لکھنے پر مجبور ہے کہ فادر تنویر ایک مخلص اور سچے سخنور کی طر ح اپنے دور کی صداقتو ں کے ترجمان ہیں۔
معروف دانشور و نقاد شمیم حنفی صاحب کے مطابق: ‘‘ معاصرِ عہد میں انسان کی نفسیاتی اور جذباتی پیچیدگیوں کے احساس میں شدت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ انسان کے شعور کی گیرائی میں بتدریج اضافہ ہوا ہے ۔ جیسے جیسے وہ اپنی خارجی دُنیا سے زیادہ آگاہ ہوتا جارہا ہے اُس کی الجھنیں اور پیچیدگیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں۔ مادی حقیقتوں کی محدودیت، تخلیقی اور تخیلی صداقتوں کی وسعت کا تصور ان تہذیبی اور معاشرتی عوامل کے ردِ عمل کا اظہار ہے، جو انسانی شخصیت کی ہمہ گیری میں مسلسل تحفیف کرتے جارہے ہیں۔ جسمانی سطح پر غیر محفوظیت، بے اطمینانی اور خوف کے احساسات سائنسی عہد کے انسان کو مذہب اور ما بعد الطبعیات پر پھر سے نظر ڈالنے کی وعوت دیتے ہیں۔ چنانچہ باطنی زندگی کے مظاہر کو اب وہ حقارت اور تمسخر کی نگاہ سے نہیں دیکھتا ۔ اس کا باطن ہی اسے اس کی انفرادیت اور وجود کی وحدت کا شعور دیتا ہے۔نیز اسی سطح پر وہ فکر و عمل ،تصادمات اور ذاتی اجتماعی زندگی کے تضادات کو محسوس کرتا ہے۔’’(‘‘جدیدیت اور نئی شاعری’’ ماہنامہ الحمرا، لاہور، شمارہ دسمبر 2024، ص 160 )
مندرجہ بالا اقتباس کے تحت فادر تنویر کے شعری اسلوب میں زندگی کے مشاہدات و تضادات کا احساس ملتا ہے۔ وہ زندگی کا عین قریب سے مشاہدہ کرتے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے چھوٹی بحر میں خوب صورت غزلیں کہی ہیں۔ یعنی وہ کم الفاظ میں اپنی بات کہنے کا ہنر جانتے ہیں۔ اُن شعری اسلوب بظاہر سادہ و سلیس لیکن موضوعات منفرد ہیں۔ ایک حساس شاعر اپنی مختصر زندگی میں ہزاروں سال کا سفر کرجاتا ہے۔ روس میں سرخ انقلاب کے بانی لینن نے شائد اسی لئے کہا تھا کہ کبھی تو دہائیوں میں کچھ نہیں ہوتا اور کبھی لمحوں میں دہائیوں کا سفر طے ہوجاتا ہے۔
زیرِ نظر شعری مجموعہ میں سے فرانسس تنویر کے چند ایسے منتخب اشعار ملاحظہ فرمائیے ، جن سے ان کے شعری اسلوب کے بارے میں راقم کے موقف کی وضاحت ہوسکتی ہے۔
آج ہم جس مقام پر بھی ہیں …… اس میں شامل سفر ہے پُرکھوں کا
منزلیں پا نہیں سکیں گے کبھی……درد جھلیں گے جو نہ سفر وں کا

یہ آبیاری کریں گے تیری ……دعا میں آنسوبہا رہا ہوں

میں تو تھا موت کے شکنجے میں……موت سے کردیا رہا اُس نے

چاند سورج ستارے محفل میں……خوبصورت نظارے بکھرے ہیں
آنکھ در آنکھ شب کے دامن میں ……روشنی کے نظارے بکھرے ہیں

میں عقیدت سے اس کو پڑھتا ہوں……آسمانی کتاب لگتا ہے

ایک پل میں وہ بھول بیٹھے……آداب سارے ہی دوستی کے

جانے کیوں میرے ہر سوال کا وہ……مجھ کو کامل جواب لگتا ہے
کوئی تو فکر اس کو ہے تنویرؔ……چہرے پہ اضطراب لگتا ہے

کسی دانشور نے کیا خوب کہاہے کہ ‘‘جب تک ہم شعر کی تعریف اور اس کی حدود کا تعین اور اس کے اثرات کا محاکمہ نہ کرلیں غزل یا نظم کے بارے میں کوئی نتیجہ اخذ کرنا یاان اصناف کے مزاج کا تعین کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ فادر فرانسس کی شعری کاوشوں سے ہمیں ان کے شعری مزاج کا بخوبی علم ہوتا ہے۔ اگرچہ ان کی غزلوں کے خیالات اورجذبات میں مماثلت پائی جاتی ہے لیکن ان کے سُخن کی ہیت کئی اعتبار سے مختلف اور جداگانہ ہے۔
عاجزی میں سرفرازی مری……کوئی مجھ کو گرا نہیں سکتا

بتائیں بھی تو بتائیں کیا ہم……بڑے مسائل ہیں اس صدی کے

گھورتی ہے بدن ہر ایک نظر……آپ میرا لباس بن جائیں

کھا لیے جو فریب کھانے تھے……اب نہ ہر گز فریب کھائیں گے
آپ نے تو بھلا دیا ہے ہمیں……آپ کو ہم بھلا نہ پائیں گے

julia rana solicitors

ہمارے شاعر کا شعری اسلوب اور اس میں رچی بسی غزلیں اور اشعار اس کہاوت سے مختلف نہیں ہیں کہ کامیاب شعری سفر مشکل راستوں کا سفر ہے۔ اور ان کا کلام انہی مشکل راستوں اور صحراؤں میں فکر و فن کے نئے اشجار اُگاتا ہوا ان مشکلات کا اظہار و نشاندہی کرتا ہے۔ اُمید ہے کہ ‘‘منظر دل کی آنکھوں میں’’ معیاری ادب کے چاہنے والوں کے ذہن و روح اور بصارتوں کو معطر کرے گا۔ ربّ ِ ذوالجلال فادر فرانسس
تنویر کے منظوم پیغام کو عصر ِ حاضر کے باذوق قارئین تک پہنچائے۔ اور اُن کا خو ش رنگ و شاداب کلام اُردو ادب کے حلقوں میں ایک خو ب صورت اضافہ ثابت ہو۔
میں فادر فرانسس تنویر کو ان کے خوبصورت کلام کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply