خاک کی مہک/ابراہیم ملک

ناصر عباس نیر کی کتاب “خاک کی مہک” میں ایک افسانہ مرنے کے بعد مسلمان ہوا جا سکتا ہے؟میں بھی ایک ایسی ماں ہے جو ایک ایسے قبیلے یا قوم سے تعلق رکھتی ہے جن کا ہونا ہمیشہ ان کے لیے اذیت ہی بنا رہا ہے۔ہم ان کے ساتھ اتنا برا سلوک کرتے ہیں کہ وہ اپنے ہونے پر نادم ہوتے ہیں کہ ہم اس دنیا میں کیا لینے آگئے؟صرف ایک لفظ جس سے ہماری شناخت وابستہ ہے ہمارے لیے اتنی محرومیاں لے کر آئی ہے کہ اگر ہم کسی مذہب میں شامل ہو کر وہ مذہبی وقار بھی حاصل کرنا چاہیں تو لوگ ہمیں قبول نہیں کرتے۔ہمیں ہاتھ ملانے سے گریزاں ہوتے ہیں اور اگر غلطی سے ملا لیں تو پھر ہاتھ مل مل کر دھوتے ہیں،اور حتیٰ کہ اس مذہب کے ماننے والے کہ جن کا آپسی رشتہ ہی بھائی چارے کا ہے۔جب اپنے سے کمتر ذاتوں یا قوموں کی باری آتی ہے تو وہ ان پر اس متن کا اطلاق بھی کرنے کے بارے میں نہیں سوچتے۔اس افسانہ میں ایک ماں کو ایسی ہی مصیبت کا سامنا ہے جس کے بیٹے معذور تھے اور یہ ان کی معذوری کی دعا یا تعویز کے لیے جب جب مولوی صاحب کے پاس حاضر ہوتی تو اسے دھتکار دیا جاتا اور بالآخر وہ بچے مرجاتے ہیں۔اب وہ مولوی صاحب کے پاس بچوں کی دعا کے لیے آتی ہے تو اس کے اور مولوی صاحب کے درمیان کچھ یوں مکالمہ ہوتا ہے۔

‎”مولبی صاحب، میرے بچڑوں کے لیے دعا کرو۔ اب دعا کی کیا ضرورت ہے؟ مولوی صاحب حیران تھے کہ اس کے چاروں بچے خون تھوکتے تھوکتے ،ایک ایک کرکے اللہ کو پیارے ہوگئے تھے، اب وہ کس لیے دعا کروانے آئی تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اسکا گلہ رندھ گیا تھا آپ دعا کریں انھیں وہاں ٹانگیں جلد سے جلد نصیب ہو جائیں ان کا تاپ اتر جاۓ اور وہ سکھی رہیں۔اسے کوئی اور بات نہیں سوجھی۔ یہ … یہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو۔۔۔پھر
‎اچانک مولوی صاحب کو ایک خیال آیا۔ کیا انھوں نے کلمہ پڑھا تھا؟ میرا مطلب ہے ، وہ ہمارے نبی پاک ﷺ کا کلمہ پڑھ لیتے تھے؟ مولوی صاحب کو یاد نہیں کہ کبھی کسی مصلی نے ان کی اقتدا میں نماز پڑھی ہو۔ انھیں کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا کہ اگر کوئی مصلی مسجد میں داخل ہو گیا تو وہ اسے نماز کی اجازت دیں گے یا نہیں۔”آپ یہ دیکھیے کہ مولوی صاحب کو اس سے کوئی پرواہ نہیں کہ بڑھیا کس مشکل میں ہے۔اس افسانے میں “مولوی صاحب”محظ مولوی صاحب نہیں بلکہ ایک رویہ کا نام ہیں اور ایسا رویہ صرف ان “کم ذاتوں”کے ساتھ صرف مولوی صاحب کا نہیں ہے بلکہ گاؤں کی اکثریت انہیں اپنے میں سے نہیں سمجھتے۔اپنے میں سے نہیں سمجھتے یعنی سرے سے انسان ہی نہیں سمجھتے۔جانور برتن چاٹ کے چلے جائیں تو ہمیں اتنا وہم اور تکلیف نہیں ہوتی جتنی تکلیف تب ہوتی ہے جب ان میں سے کوئی ہمارے برتنوں پر محلہ کر دے۔یہ ہمارا عمومی رویہ ہے،اور ایسا رویہ صرف مولوی صاحب کا نہیں ہے بلکہ افسانہ کے الفاظ ہیں کہ “گاؤں کے اکثر لوگ ان لوگوں کے مذہب کے سلسلے میں شک میں مبتلا رہتے تھے۔ ایک بات کا البتہ انہیں یقین تھا کہ وہ نہ تو عیسائی ہیں، نہ ہندو، نہ سکھ۔ یہ ایک ایسی بات تھی، جس نے مصلیوں کے پانچ سات خاندانوں کو گاؤں کے لیے قابل قبول بنایا ہوا تھا، کیوں کہ ان تین مذہبوں سے ہٹ کر وہ کسی مذہب کا تصور نہیں کرتے تھے۔ ”
‎میں یہ سوچتا ہوں کہ ہمارا معاشرہ ایسے برے خیالات اور اعمال رکھتے ہوئے کیسے انسانی ہے اور کن معنوں میں پھر وہ مذہبی ہے؟
‎پچھلے ٹکڑے پر غور کیجیے کہ مولوی صاحب کو حیرت ہونے لگتی ہے کہ وہ ہمارے پاک نبی کا کلمہ بھی پڑھتے تھے؟آگے چل کر ایک ماں مولبی صاحب کو یہ بہانہ دیتی ہے کہ
‎”مولبی صاحب ، وہ بول نہیں سکتے تھے۔سن نہیں سکتے تھے۔ گنگے ڈورے تھے ۔ وہ بے حد ڈر گئی تھی۔
‎تمھیں کلمہ آتا ہے؟ مولوی صاحب نے راست سوال پوچھا۔۔اس نے فرفر پڑھ دیا۔
‎یہ سنتے ہی مولوی صاحب عجیب دبدھے میں پڑ گئے۔۔۔اس نے پہلی مرتبہ ایک پکھی واس مصلن کی زبان سے پاک کلمہ سنا لیکن انہیں سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا
‎کریں”۔
‎یہ افسانہ اس موڑ ہمیں نچوڑتا بھی ہے اور ہمارا سامنا ایک ایسے سوال سے کرواتا ہے کہ اگر یہ لوگ انسان ہے اور عقیدتاً بھی تمہارے ہی ہم ہلہ ہیں تو پھر آخر کون سا ایسا عذر ہے جو ان سے اتنا مانع ہے۔
‎اس افسانہ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ہمارے اندر انسان کو بطور انسان دیکھنا کا رویہ تو مر ہی چکا ہے لیکن اب ہم اپنے سے کم تر ذاتوں کو(جو ہمارے لیے کمتر ہیں) مسلمان یا اپنے مذہب میں بھی نہیں دیکھنا چاہتے۔گویا ہم انہیں اس سہارے سے بھی محروم رکھنا چاہتے ہیں۔

julia rana solicitors london

بشکریہ فیس بک وال

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply