مسلم آزاد ہے (1)-مرزا مدثر نواز

جہاں جہاں اسلام کی کرنیں نہیں پہنچیں‘ وہاں انسان کا کیا حال ہوتا ہے؟ وہ دنیا کے ذرہ ذرہ کو معبود سمجھتا ہے‘ جنگل کا ہر بڑا درخت‘ زمین کا ہر خوفناک کیڑا‘ پہاڑ کا ہر سیاہ پتھر‘ سانپ‘دریا‘ آگ‘ سورج‘ چاند‘ ستارے‘ اللہ کے نیک بندوں کو وہ معبود سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ ایسے ہی جہالت میں ڈوبے ایک معاشرے میں ایک نوجوان اپنے باپ سے یوں مخاطب ہوتا ہے‘
ترجمہ: جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ اباجان! آپ ان کی پوجا پاٹ کیوں کر رہے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں؟ نہ آپ کو کچھ بھی فائدہ پہنچا سکیں۔ (مریم‘42)
قوم سے مکالمے اور گفتگو کے وقت ایک توحیدی جوان کچھ یوں مخاطب ہوتا ہے‘
ترجمہ: پھر جب رات کی تاریکی ان پر چھا گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا آپ نے فرمایا کہ یہ میرا رب ہے مگر جب وہ غروب ہو گیاتو آپ نے فرمایا کہ میں غروب ہو جانے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔ پھر جب چاند کو دیکھا چمکتا ہواتو فرمایا کہ یہ میرا رب ہے لیکن جب وہ غروب ہو گیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر مجھ کو میرے رب نے ہدایت نہ کی تو میں گمراہ لوگوں میں شامل ہو جاؤں گا۔ پھر جب آفتاب کو دیکھا چمکتا ہواتو فرمایا کہ یہ میرا رب ہے یہ تو سب سے بڑا ہے پھر جب وہ بھی غروب ہو گیاتو آپ نے فرمایا بے شک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔میں اپنا رخ اس کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا یکسو ہو کراور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ (الانعام‘76-79)
اس طرح اسلام نے حقیقت انسانی کے چہرہ سے پردہ اٹھایا اور اس نے بتایا کہ اے انسان! تو مخلوقات کا بندہ نہیں۔ تو مخلوقات کا آقا ہے۔ تو ان کے لیے نہیں پیدا کیا گیا۔ وہ تیرے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ تو ان کا غلام نہیں بنایا گیا۔ وہ تیرے غلام بنائے گئے ہیں تو تمام مخلوقات سے اشرف ہے اور تیری ذات ان تمام ہستیوں سے بلند ہے۔ تو صرف خالق مخلوقات کا بندہ ہے اور تمام مخلوقات کا آقا ہے۔ پھر تو جن کا آقا ہے‘ یہ مناسب نہیں ہے کہ ان کو اپنا معبود بنائے اور ان کے آگے غلامی کا سر جھکائے۔
ترجمہ: یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی و تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی۔ (بنی اسرائیل‘ 70)
اے انسان! دنیا تیرے ہی لیے بنی ہے۔ تو اس کی پرستش نہ کر۔
ترجمہ: کیا تم نہیں دیکھتے کہ خدا نے جو کچھ زمین میں ہے تمہارے لیے مسخر کر دیا؟ (الحج‘ 65)
ترجمہ: خدا وہی ذات اقدس ہے جس نے تمہارے لیے تمام زمین کی چیزیں پیدا کیں!۔ (البقرہ‘ 29)
بلکہ آسمان و زمین کی سب چیزیں تیرے ہی لیے ہیں۔ تو ان کے لیے نہیں ہے پس تو ان کو خدا نہ جان۔
ترجمہ: کیا تم نہیں دیکھتے کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں تمہارے لیے خدا نے مسخر کر دیں۔(لقمان‘ 20)
ترجمہ: خدا نے تمہارے لیے آسمان و زمین کی تمام چیزیں مسخر کر دیں۔ (الجاثیہ‘13)
تو دریا کو دیوتا نہ کہہ کہ وہ تو تیری ضروریات کا خزانہ ہے۔
ترجمہ: تمہارے لیے دریا کو مسخر کر دیا تا کہ اس میں خدا کے حکم سے کشتیاں چلیں اور تم اپنے رزق کو تلاش کرو۔ (الجاثیہ‘ 12)
ترجمہ: خدا وہی ذات قدوس ہے جس نے دریا کو مسخر کیا تا کہ تم اس سے تازہ گوشت کھاؤ‘ اس سے اپنی زیب و زینت کی اشیاء نکالو‘ اس میں تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں پانی کو پھاڑتی ہوئی چلتی ہیں‘ تا کہ اس سے خدا کی برکت تلاش کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔ (النحل‘ 14)
تو حیوانات کو دیوتا نہ سمجھ کہ وہ تیرے ہی فائدہ کے لیے مخلوق ہوئے ہیں۔
ترجمہ: کشتی اور جانور تمہارے لیے پیدا کئے تا کہ تم ان کی پیٹھ پر سیدھے سوار ہو‘ پھر اپنے خدا کے احسان کو یاد کرو اور کہو کہ پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے مخلوقات کو مسخر کر دیا! ہم اپنی قوت سے ان کو مسخر نہ کر سکتے۔ (الزخرف‘12-13)
آگ دیوی نہیں وہ تو تیرے ہی لیے پیدا ہوئی ہے۔
ترجمہ: خدا وہ ہے جس نے سبز لکڑی سے تمہارے لیے آگ پیدا کی!۔ (یٰسٓ‘ 80)
پہاڑ دیوتاؤں کا مسکن کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ تو خود انسان کے تابع ہے اور خدا کا فرمانبردار ہے۔
ترجمہ: ہم نے پہاڑوں کو اس کے تابع کر رکھا تھا کہ اس کے ساتھ شام کو اور صبح کو تسبیح خوانی کریں۔ (صٓ‘ 18)
آفتاب و مہتاب اور دیگر ستارے بھی اے انسان تیرے خدا نہیں‘ تو خود ان کا آقا ہے‘ اس لیے ان کو سجدہ نہ کر!
ترجمہ: تمہارے لیے آفتاب و ماہتاب کو مسخر کر دیا جو حرکت کرتے ہیں اور اسی طرح رات اور دن اور ان کے خواص و مؤثرات کو بھی تمہارا تابع فرمان بنا دیا!۔ (ابراہیم‘ 33)
ترجمہ: رات‘ دن‘ سورج‘ چاند سب کو تمہارے تابع کر دیا کیونکہ تمام ستارے خدا کے حکم کے تابع ہیں۔ (النحل‘12)

(جاری ہے)

Facebook Comments

مرِزا مدثر نواز
ٹیلی کام انجینئر- ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply