بات یہ ہے کہ ادب اور ادبی سرگرمیاں اب محض ادب سے وابستہ لوگوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ مانیں یا نہ مانیں، وہی چند ادیب، شاعر اور لکھاری آپس میں مل بیٹھ کر ایک دوسرے کو سنانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ ادب زمانے کی فکری ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ ظاہر ہے اس میں ادب کا کوئی قصور نہیں۔ اگر آج بھی ادب ہماری سماجی ضرورت ہے اور اس کی جمالیاتی اقدار سماجی اہمیت رکھتی ہیں، تو پھر رخنہ کہاں ہے؟ کیا ادیب محدود ہو گیا ہے یا سماج نے اپنی فکری و تنقیدی ضروریات کہیں اور سے پوری کرنی شروع کر دی ہیں؟
ایک زمانہ تھا جب ادیب کی فکر، سوچ اور نظریہ سماج پر براہِ راست اثر انداز ہوتا تھا۔ مارشل لاؤں نے سب سے پہلے ادیب کو قید و بند کا نشانہ بنایا، کیوں کہ ادیب کا دیا ہوا بیانیہ طاقت کے ایوانوں سے جاری بیانیے سے کہیں زیادہ طاقت ور ہوتا تھا۔ اُس وقت ادیب ہی صحافی ہوتے۔ ہر بڑے اخبار کا مدیر براہِ راست یا بالواسطہ ایک ادیب ہی ہوا کرتا تھا۔ وقت نے پلٹا کھایا اور آج صحافیوں نے قوم کی ’’فکری رہنمائی‘‘ کا فریضہ اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ سیدھے سادھے اور اوٹ پٹانگ تبصروں کے ذریعے مین اسٹریم میڈیا پر شام ہوتے ہی محفلیں سج جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ابتدا میں فرد کی ذاتی رائے کو اہمیت حاصل تھی، مگر ہمارا دھیان اس طرف کم گیا کہ صحافی نہایت خاموشی سے سوشل میڈیا پر بھی چھا گئے ہیں اور یہاں بھی ’’فکری رہنمائی‘‘ میں مصروف ہیں۔ البتہ اس کے برعکس روشن خیال دانش وروں کا ایک حلقہ ابھر کر سامنے آیا ہے جو ہلکے پھلکے انداز میں سماجی ویب گاہوں پر مکالمے کی فضا کامیابی سے قائم کر رہا ہے۔
ادیب کہاں ہے؟ ادیب، ادیبوں ہی کو شعر سنا رہا ہے، انہی کو پڑھوا رہا ہے اور انہی سے سن رہا ہے۔ ادبی محفلوں میں وہی گھسے پٹے موضوعات اور بوسیدہ مباحث دن رات بے کار ریاضت کا حصہ بنے دکھائی دیتے ہیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ادب اور سماجی سرگرمیوں کے درمیان پُل بنایا جائے، ورنہ وہ دن دور نہیں جب ادب اور ادبی سرگرمیاں بھاری بھرکم کلاسیکی راگوں کی طرح محض چند افراد تک محدود ہو جائیں گی؛ بالکل ویسے ہی جیسے موسیقی میں گراموفون ریکارڈ محدود ہو کر ریکارڈ رومز کی زینت بن چکے ہیں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں