پختون: مزاحمت اور آزادی کی داستان/ملک گوہر اقبال خان رما خیل

پختونوں کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ ان کے قبائل صدیوں تک مختلف خطوں اور وادیوں میں بکھرے رہے، بالکل ایسے جیسے قیمتی موتی کہیں کہیں پھیلے ہوں۔ یہ بکھرا ہوا سماج رفتہ رفتہ ایک لڑی میں پرویا گیا۔
عزیزانِ من ۔ تاریخ بیان کرتی ہے کہ ملک قیس عبدالرشید نے ان بکھرے موتیوں کو ایک لڑی میں پرو کر پختون قبائل کو ایک قوم کی شکل دینے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اگرچہ ہر قبیلہ نسلاً براہِ راست قیس عبدالرشید کی اولاد نہیں تھا، لیکن سب نے انہیں اپنے اتحاد کی علامت، عظیم قائد اور جد امجد کے طور پر تسلیم کیا۔ یہ عقیدت اور اتحاد ہی پختونوں کو ایک قوم کے طور پر پہچان دینے کا سبب بنی۔
پختون اپنی اصل میں افغان نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کے جس خطے میں بھی پختون آباد ہے، وہ خود کو افغان کہلانے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ چاہے وہ ہندوستان کی ریاستوں یوپی اور بہار میں ہو یا پاکستان و افغانستان کے پہاڑوں اور وادیوں میں، سب یہ نعرہ لگاتے ہیں:
” ہم افغان ہیں!”
یہاں یہ نکتہ ذہن نشین رہنا چاہیے کہ ہر پختون جو پشتو زبان بولتا ہے، لازمی طور پر افغان نسل سے نہیں ہے۔ اسی طرح ہر افغان لازمی طور پر افغانستان کا شہری نہیں ہے۔ “افغان” دراصل ایک قوم کا نام ہے، جبکہ “افغانستانی” اس ریاست کے شہری کو کہا جاتا ہے جو آج کے جغرافیائی افغانستان میں رہتا ہے۔
افغان قوم کے مختلف قبائل مثلاً یوسف زئی، مہمند، خٹک، آفریدی اور دیگر، پاکستان، افغانستان اور ہندوستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں۔ یہ سب تو نسلاً افغان ہیں لیکن اس پختون بیلٹ میں دوسری اقوام بھی صدیوں سے آباد ہیں جیسے سید، گجر، پراچہ وغیرہ کے علاوہ غیر مسلم بھی ہیں ۔ وہ پشتو زبان بولتے ہیں، پختونوں کی سرزمین پر رہتے ہیں اور ثقافتی طور پر پختون سمجھے جاتے ہیں، لیکن نسلاً افغان نہیں ہیں۔
اسی لیے پختونوں کے خان” باچا خان بابا “نے فرمایا تھا:
“پختون وہ ہے جو پختون بیلٹ میں رہتا ہو اور پشتو بولتا ہو۔”
افغان قبائل کا سب سے نمایاں وصف ان کی نسلی وحدت اور اس پر فخر ہے۔ وہ برملا اعلان کرتے ہیں کہ ہم سب ایک نسل کے ہیں، ایک خون کے وارث ہیں۔ اس احساسِ فخر نے انہیں بسا اوقات غرور اور تکبر کی طرف بھی مائل کیا، لیکن ساتھ ہی انہیں غیرت اور آزادی کی ایک انوکھی روح بھی عطا کی۔ یہی وجہ ہے کہ افغان تاریخ میں غلامی کا تصور کبھی قبول نہیں کیا گیا۔ ان کا بنیادی سوال ہمیشہ یہی رہا ہے:
“جب ہم آزاد قوم ہیں تو کسی کی غلامی کیوں کریں؟”
پختونوں کی اس نسلی وحدت کے غرور نے ہمیشہ انہیں مزاحمت پر آمادہ کیا۔ یہی مزاج اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ ان کی تاریخ میں کبھی کوئی متفقہ اور مستقل بادشاہت قائم نہ ہو سکی۔ جب بھی ایسا موقع آیا، ان کی تلواریں آپس میں ایک دوسرے کے خلاف بے نیام ہو گئیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ نسلی وحدت کے اعتبار سے سب برابر تھے، اس لیے وہ اپنی ہی قوم کے کسی فرد کو بادشاہ بنانا گوارا نہیں کرتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ فائدہ ہمیشہ کسی اور کو ملتا۔ اس کی بہترین مثال سب سے بڑا افغان قبیلہ یوسف زئی ہیں، جو سوات، شانگلہ اور بونیر کے خطے کے مالک تھے۔ انہوں نے نسلی برابری کے اسی تصور کے باعث ایک غیر یوسف زئی خاندان کو اپنا حکمران تسلیم کیا، لیکن اپنی قوم کے کسی فرد کو بادشاہ بنانے پر راضی نہ ہوئے۔
اگرچہ نسلی وحدت ان کی طاقت تھی، لیکن بعض مواقع پر یہی ان کی کمزوری بھی ثابت ہوئی۔
تاریخی حوالوں سے بھی دیکھا جائے تو پختونوں نے کبھی کسی کی غلامی قبول نہیں کی۔ سکندر اعظم ہو یا مغل بادشاہت، انگریز سامراج ہو یا جدید دور کی طاقتیں، پختون کا پہلا ردِعمل ہمیشہ مزاحمت رہا۔
دنیا میں پختون وہ واحد قوم ہے جو صدیوں تک بغیر بادشاہت اور بغیر کسی تحریری آئین کے متحد رہی۔ اس اتحاد کی بنیاد ایک غیر تحریری ضابطہ تھا جسے “پختون ولی” کہا جاتا ہے۔ پختون ولی میں عزت، غیرت، پناہ دینا، بدلہ لینا اور جرگہ جیسے اصول شامل تھے۔ ان اصولوں نے قبائل کو ایک ایسے رشتے میں باندھ رکھا تھا کہ کسی بڑے بادشاہ یا سلطنت کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔
پختون مزاحمت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ صدیوں سے آزاد جیتے آئے ہیں۔ غلامی کا لفظ ان کی لغت میں نہیں ہے۔ ان کی سوچ یہ ہے کہ افغان ایک قوم ہے اور یہ نسلی وحدت انہیں ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور ظلم یا جبر کے خلاف کھڑا ہونے کی ہمت دیتا ہے۔
عزیزانِ من ۔
پاکستان میں پختون ایک نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی آبادی بڑی ہے، جغرافیائی پوزیشن نہایت اہم ہے، معیشت پر ان کا نمایاں اثر ہے، جبکہ فوج، عدلیہ، حکومت اور بیوروکریسی میں ان کی بھرپور شمولیت موجود ہے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ باقی قوموں میں بھی وہ مقبول ہیں۔ اگر آپ پنجاب، سندھ، بلوچستان یا کشمیر کے لوگوں سے پوچھیں کہ سب سے زیادہ میل جول اور بھائی چارہ کس قوم کے ساتھ ہے، تو اکثر کا جواب یہی ہوتا ہے کہ: پختون۔
اس کے باوجود پختون بعض اوقات ریاست کے ساتھ ٹکرا جاتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ان کا مخصوص مزاج ہے، جسے ہم ان کے “ڈی این اے” کا حصہ کہہ سکتے ہیں۔ پختون فائدہ یا نقصان دیکھے بغیر مزاحمت کرتے ہیں اور اسے اپنی غیرت اور فخر سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی مزاحمتی تحریک کا آغاز ہوتا ہے تو پختون اس میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ امن مارچ بھی اس انداز سے کرتے ہیں کہ بعض اوقات ریاست کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
آج پختون بیلٹ دہشت گردی کا شکار کیوں ہے اس کے دو بڑے اسباب ہیں:
پہلا سبب پختون معاشرے میں ملاؤں کا حد سے زیادہ اثر و رسوخ ہے۔ بعض اسے دین داری سمجھتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ دین پسندی کم اور ملا پرستی زیادہ ہے۔
اس کی وضاحت یوسف زئی قبیلے کی مثال سے یوں کی جا سکتی ہے کہ جناب عبد الودود باچا صاحب کے حکمران بننے سے پہلے متحدہ سوات پر ایک غیر یوسف زئی شخص حکمران تھا۔ باچا صاحب نے اس کے خلاف ایک ملا کے ذریعے پروپیگنڈا کروایا اور یوں اس کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ ملا نے گلی گلی جا کر تقریریں کیں اور ملا پرست عوام نے انہیں سچ مان کر تسلیم کر لیا۔ اسکے علاوہ
افغان جہاد سے لے کر سوات اور وزیرستان میں دہشت گردی تک، بارہا ملاؤں نے عوام کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا.
میں یوسف زئی قبیلے کی مثال اس لیے دے رہا ہوں کہ یہ پختونوں کا سب سے بڑا قبیلہ ہے۔ باقی قبائل کو بھی انہی پر قیاس کیا جا سکتا ہے، کیونکہ سبھی ملا پرستی میں پیش پیش رہے ہیں اور آج بھی ہیں۔
اور جو دیگر قوم پرست رہنما ہیں وہ اکثر یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ “دہشت گرد ریاست نے پیدا کیے ہیں۔” ایک لمحے کے لیے یہ بات مان بھی لی جائے تو سوال یہ ہے کہ اگر ریاست دہشت گرد بناتی ہے تو بنتے تو آپ ہی ہیں۔ ریاست باہر سے کسی دوسرے ملک کے لوگوں کو لا کر آپ کے بیچ میں نہیں چھوڑتی، یہ سب آپ ہی کے درمیان سے نکلتے ہیں۔
اس بات کو یوں سمجھیں: اگر کوئی شخص شراب بیچ رہا ہو تو کیا محض اس لیے خرید کر پی لینا ضروری ہے کہ وہ دستیاب ہے؟ ہرگز نہیں۔ خریدنے یا نہ خریدنے کا فیصلہ خریدار کا اپنا ہوتا ہے۔ یہی اصول یہاں بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر کوئی آپ کو دہشت گردی کی راہ پر لگا رہا ہے تو سوال یہ ہے کہ آپ خود کو اس راہ پر کیوں ڈال دیتے ہیں؟
اور دوسرا سبب شخصیت پرستی ہے
پختون اگر کسی کو اپنا لیڈر مان لیں تو پھر اس کے ہر قول و فعل کو، خواہ وہ آئین و قانون یا زمینی حقائق کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، درست مانتے ہیں۔ یہی اندھی تقلید ان کی اجتماعی سوچ کو نقصان پہنچاتی ہے۔
اس کی ایک زندہ مثال آج بھی موجود ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید ہونے کے باوجود پختونوں نے انہیں اپنا لیڈر مان رکھا ہے، اور گزشتہ تیرہ برسوں سے پختونخوا میں ان کی حکومت نے تباہی مچائی ہے، جبکہ شخصیت پرست اب بھی ڈٹ کر ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
عزیزانِ من ۔
پختونوں کی تاریخ عزت، غیرت اور آزادی کی داستان ہے۔ انہوں نے ہمیشہ غلامی کو ٹھکرایا اور اپنی ثقافت پر فخر کیا۔ لیکن آج دور بدل گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں ترقی کا راستہ بین الاقوامی اصولوں، تعلیم، جدید علوم میں مہارت اور بہترین حکمت عملی سے ہی کھلتا ہے۔ اگر پختون اپنے ماضی کے فخر کے ساتھ حال کے تقاضوں کو بھی سمجھ لیں، بلا ضرورت مزاحمت ترک کردیں ملا پرستی اور شخصیت پرستی چھوڑ دیں تو ان کا مستقبل یقیناً روشن ہوگا۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply