بونیر اس بار ایک تباہ کن سیلاب کی زد میں آیا جس نے نہ صرف کھیت کھلیان اجاڑ دیے بلکہ بازاروں اور چھوٹے کاروباری طبقے کو بھی بے حال کر دیا۔ خصوصاً چار یونین کونسلوں میں سے پاچا بٹئی، ملک پور اور گوکند کی مرکزی مارکیٹیں اور دکانیں مکمل طور پر پانی کی نذر ہو گئیں۔ وہ کاروباری لوگ جن کے کاروبار برسوں سے رواں تھے، لمحوں میں اپنی دکانیں خالی اور گودام اجڑے ہوئے دیکھنے پر مجبور ہوگئے۔ ایسے حالات میں کیا صرف خیرات اور راشن کی تھیلیاں ان کے زخموں پر مرہم رکھ سکتی ہیں؟ ہرگز نہیں۔ ان کی زندگی کا پہیہ صرف اس وقت دوبارہ چل سکتا ہے جب انہیں بلا سود، آسان اقساط میں کاروباری قرضے میسر آئیں۔
اگر کوئی خدا ترس شخص یا ادارہ آگے بڑھ کر یہ قرضے فراہم کرے تو یہ اجڑے ہوئے تاجر اور کاریگر دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ یہ قرض حسنہ ان کے لیے نئی دکان کی چابی ہوگا، بند کاروبار کا دوبارہ آغاز ہوگا، اور معاشرے کے لیے ایک بار پھر وہی لوگ روزگار کے مواقع پیدا کریں گے جو کل تک خود امداد کے منتظر تھے۔
طریقہ کار نہایت سادہ رکھا جا سکتا ہے۔ قرض خواہ سے ایک مختصر منصوبہ (Business Plan) لیا جائے جس میں کاروبار کی نوعیت، لاگت، ذاتی حصہ اور واپسی کی رفتار واضح ہو۔ اس کے ساتھ ایک معمولی ضمانت، چاہے کسی معتبر فرد کی سفارش ہو یا کوئی چھوٹی دستاویز، کافی ہو۔ مقصد کاغذی کارروائی نہیں بلکہ اعتماد کے ساتھ سہارا دینا ہے۔
قرض کی مختلف سطحیں اور واپسی
پانچ لاکھ روپے: چھوٹے کاروبار جیسے کریانہ دکان، موبائل مرمت یا دستکاری کے لیے۔ واپسی تین سال میں۔
دس لاکھ روپے: ورکشاپ یا زرعی مشینری کی خریداری کے لیے۔ واپسی چار سال میں۔
پندرہ لاکھ روپے: سپر سٹور،جنرل سٹور، پولٹری یا ڈیری فارم یا اس کی شاپ جیسا درمیانی کاروبار۔ واپسی پانچ سال میں۔
بیس لاکھ روپے: بڑی سرمایہ کاری جیسے ہول سیل ،ٹرانسپورٹ،پرایویٹ سکولز، ماربل فیکٹیریز، اسٹور یا چھوٹا صنعتی یونٹ۔ واپسی پانچ سال یا اس سے زیادہ مدت میں
یوں ایک شفاف، سادہ اور انسانی ہمدردی پر مبنی نظام کے ذریعے وہ گھرانے، جن کے رواں کاروبار اور مارکیٹیں سیلاب میں بہہ گئیں، نہ صرف دوبارہ اٹھ کھڑے ہوں گے بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار کے دروازے کھولیں گے۔ یہ قرضے دراصل خیرات نہیں بلکہ عزتِ نفس کے ساتھ دیا گیا سرمایہ ہیں، جو واپس بھی آئے گا اور ساتھ ہی غربت اور بے روزگاری کی دیواریں بھی ڈھا دے گا۔
سوچیے! ایک راشن کی تھیلی ایک دن کا پیٹ بھر سکتی ہے، لیکن ایک کاروباری قرضہ حسنہ پوری زندگی کا پہیہ دوبارہ چلا سکتا ہے۔

بشکریہ فیس بک وال
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں