بھارت کی نرمدا بچاؤ تحریک نے دنیا کو یہ دکھایا کہ ترقی کا مطلب ہمیشہ بڑے انفراسٹرکچر (infrastructure) منصوبے نہیں ہوتے بلکہ اکثر یہ طاقت اور کنٹرول کے بیانیے کو قائم رکھنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ 1985 میں میڈھا پاٹکر اور کسانوں، مزدوروں اور آدیواسی برادریوں نے ’’نرمدا بچاؤ آندولن‘‘ کا آغاز کیا۔ ان کا نعرہ تھا: “وِکاس نہیں، وِنَاش ہے!” (یہ ترقی نہیں بلکہ تباہی ہے)۔ یہ نعرہ صرف احتجاج نہیں بلکہ ترقی کے غالب نوآبادیاتی/ماڈرن بیانیے پر ایک سخت تنقید تھا۔
نوآبادیاتی بیانیہ اور ترقی کی تعریف
نوآبادیاتی دور میں ریاست نے ترقی کو انفراسٹرکچر (infrastructure) ۔۔۔۔۔ ریل، نہریں، ڈیم ، سڑکیں ۔۔۔ سے جوڑ دیا۔ اس بیانیے کے مطابق بڑے منصوبے ہی عوام کو غربت، سیلاب اور قحط سے بچا سکتے ہیں۔ عوام کو passive beneficiaries سمجھا گیا، یعنی وہ صرف ریاست کی مہربانی کے محتاج ہیں۔ فطرت کو قابو پانے اور discipline کا یہ رجحان نوآبادیاتی عقلیت (colonial rationality) کی پیداوار ہے (Scott, 1998)۔
اس غالب بیانیے (hegemonic discourse) میں مقامی متبادل جیسے چھوٹے چیک ڈیمز، پانی بانٹنے کی روایات اور مقامی کمیونل پلاننگ کو غیر اہم یا ’’غائب‘‘ بنا دیا جاتا ہے۔ یہی غالب بیانیہ (hegemonic discourse) ہے جسے نرمدا بچاؤ تحریک نے چیلنج کیا۔
ارون دھتی رائے نے اپنی مشہور تحریر The Greater Common Good (1999) میں بڑے ڈیمز کو ’’ترقی کے نام پر تباہی‘‘ کہا۔ ان کے مطابق یہ صدی کی سب سے بڑی ماحولیاتی اور سماجی ناانصافی ہے، کیونکہ یہ دریا، ماحول اور کمزور طبقات سب کو ختم کر دیتے ہیں۔
یہ تنقید دراصل اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ بڑے منصوبے بظاہر ترقی مگر دراصل تباہی (disaster in disguise) ہیں، جو طاقتور طبقے کے مفاد میں کمزوروں کی قربانی پر کھڑے ہوتے ہیں۔
ڈیم اور طاقت کا رشتہ
ڈیم محض تکنیکی ڈھانچے نہیں بلکہ طاقت کے آلے ہیں۔ پانی اور بجلی پر ریاستی اجارہ داری قائم ہو کر حکومت عام عوام پر کنٹرول بڑھاتی ہے۔ متاثرہ کسان اور غریب آدی واسی شہروں میں سستے مزدور بننے پر مجبور ہوتے ہیں، جبکہ شہروں، صنعتوں اور کارپوریٹ ایلیٹ کو فائدہ ملتا ہے (McCully, 2001)۔
بھارت کے خشک و نیم خشک علاقوں میں غریب دیہات اپنی 80٪ ایندھن کی ضروریات مشترکہ زمینوں (commons: عوامی چراگاہیں اور وسائل) سے پوری کرتے ہیں لکڑیاں، مویشیوں کا چارہ، جنگلاتی پیداوار۔ مگر جب ڈیم ان زمینوں اور چراگاہوں کو ڈبو دیتے ہیں تو یہ وسائل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتے ہیں۔ معاوضہ اکثر ناکافی یا کاغذی نکلتا ہے۔ یوں ڈیم صرف زمین ہی نہیں لیتے بلکہ روزگار، وسائل اور بقا چھین لیتے ہیں۔
یہ صرف معیشت نہیں بلکہ ثقافتی وجود (cultural existence) کا بھی خاتمہ ہے۔ آدیواسی برادریاں اپنی زبان، رسومات، جنگلاتی زندگی اور مقامی ثقافتی شناخت سے محروم ہو جاتی ہیں۔ گھروں اور کھیتوں کے ساتھ ساتھ پورے ثقافتی وجود (cultural existence) کو مٹا دیا جاتا ہے۔
ماحولیاتی بگاڑ اور ہاؤسنگ سوسائٹیز
بڑے ڈیم دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو روک کر مٹی کی زرخیزی ختم کرتے ہیں۔ نیچے کے علاقے بنجر ہو جاتے ہیں، مچھلیوں کی نسلیں معدوم ہوتی ہیں، زیرِ زمین پانی یا تو بالکل خشک ہو جاتا ہے یا غیر معمولی نمی بیماریوں کو جنم دیتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ڈیموں کے اردگرد ہاؤسنگ سوسائٹیز (housing societies) اور نئی کالونیاں تعمیر ہوتی ہیں جو مقامی جنگلات اور قدرتی چراگاہوں (pastures) کو تباہ کر دیتی ہیں۔ ان بستیوں سے مقامی غریبوں کی زمین چھین لی جاتی ہے تاکہ شہری ایلیٹ کو پلاٹس مل سکیں۔ اس طرح ماحول، معاش اور ثقافت۔۔۔تینوں سطحوں پر تباہی برپا ہوتی ہے۔
ڈیم کے ریزروائر میتھین جیسی گرین ہاؤس گیس (greenhouse gas) خارج کرتے ہیں جو ماحولیاتی تبدیلی (climate change) کو تیز کرتے ہیں۔ یوں ترقی کے نام پر بننے والا ڈیم فطرت کے توازن کو بگاڑتا اور انسانی زندگی کو غیر محفوظ کرتا ہے۔
مقامی علم اور طور طریقوں کی تباہی (coloniality of knowledge)
جب ماہرین اور دانشور یہ کہتے ہیں کہ ’’ڈیم ہی واحد حل ہیں‘‘ تو وہ دراصل نوآبادیاتی علمیت (colonial epistemology) کو دہراتے ہیں۔ نوآبادیاتی دور میں بھی یہی کہا جاتا تھا کہ مقامی علم ناقص ہے اور صرف مغربی ماڈلز کارگر ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ مقامی کمیونٹیز نے صدیوں تک سیلاب کے ساتھ زندگی گزارنے کے مقامی indigenous طریقے ایجاد کیے۔۔ seasonal embankments (موسمی پشتے)، مقامی تالاب، اجتماعی پانی بانٹنے کی روایات، حتیٰ کہ collective migration practices (اجتماعی ہجرت کے طریقے)۔ ان سب کو نظر انداز یا رد کرنا ایک طرح کی علمی جبر (epistemic violence) ہے (santoz, 2007)
کیا ڈیم سیلاب روکنے کی گارنٹی دیتے ہیں ؟
اکثر بڑے ڈیم خود ٹوٹنے یا ان کے فلڈ گیٹس کھولنے کی وجہ سے مزید تباہ کن سیلاب لاتے ہیں۔ 1975 میں موروی ڈیم (گجرات) ٹوٹا تو ہزاروں لوگ مارے گئے۔ پاکستان میں 2010 اور 2022 کے سیلاب کے دوران بھی بڑے ڈیمز (تربیلا، منگلا) مکمل طور پر پانی کنٹرول نہ کر سکے۔
فطری سیلابی میدان رکاوٹ نہیں، تحفظ ہیں
دریا صدیوں سے اپنی “فلڈ پلینز” میں پھیل کر زمین کو زرخیز بناتے ہیں۔ جب ہم ڈیم اور بند باندھ کر ان راستوں کو روکتے ہیں تو دریا زیادہ تباہ کن قوت سے دوسری طرف پھٹ جاتا ہے۔
ڈیم بارش کے بڑے اور اچانک بوجھ کو ہمیشہ جذب (absorb) نہیں کر سکتے۔ Climate change کے باعث بارش کا نظام بدل رہا ہے، اور ڈیم اس تبدیلی کا مکمل حل نہیں۔
متبادل نظام زیادہ پائیدار ہیں
چھوٹے تالاب، wetlands، جنگلات اور مقامی واٹر ہارویسٹنگ تکنیکیں بارش کے پانی کو جذب کرکے زیرِ زمین پانی ری چارج کرتی ہیں، جو سیلاب کے خطرے کو کم کرنے میں زیادہ مؤثر ہیں۔
بڑے ڈیم کے بجائے کئی مقامی و پائیدار متبادل موجود ہیں۔
1. چھوٹے چیک ڈیمز اور تالاب (check dams and ponds) ۔۔۔ بارش کا پانی محفوظ کر کے زیرِ زمین پانی recharge۔
2. واٹر ہارویسٹنگ (water harvesting) ۔۔ گھروں و کھیتوں میں بارش کا پانی جمع کرنا۔
3. قدرتی بہاؤ کی بحالی (natural flow restoration) ۔۔ دریا کو ’’زندہ دریا‘‘ سمجھ کر اس کے بہاؤ کو کم سے کم روکنا۔
4. کمیونٹی بیسڈ مینجمنٹ (community-based management) پانی پر ریاستی کنٹرول کے بجائے مقامی کمیونٹیز کا اختیار، جیسا کہ راجستھان کے کسانوں نے تالاب بحال کر کے اپنی پیداوار بڑھائی۔
یہ ماڈلز نہ صرف ماحول دوست اور کم خرچ ہیں بلکہ مقامی ثقافت اور شناخت کو بھی محفوظ رکھتے ہیں۔
تنقیدی نظریہ اور ترقی
فرانکفرٹ اسکول کے مطابق عقلیت (rationality)کو صرف productivity (پیداواری صلاحیت) اور efficiency (کارکردگی) تک محدود کرنا دراصل محض کارکردگی پر مبنی سوچ (instrumental rationality) ہے۔ یہ سوچ اصل power relations (طاقتی تعلقات) کو چھپاتی ہے: کس کو فائدہ ہوگا؟ کس پر نقصان پڑے گا یعنی قیمت کون چکاے گا ؟؟اور طاقت کس کے ہاتھ میں رہے گی ؟؟
اسی لیے سوال یہ ہے کہ مقامی کمیونٹیز نے صدیوں تک flood (سیلاب) کے ساتھ کیسے جینا سیکھا؟ اور ہم کیوں ان کے علم کو نظر انداز کر کے بار بار انہی ناکام نوآبادیاتی ماڈلز کو دہراتے ہیں۔
تاریخ یہ بتاتی ہے کہ انسانی کامیابی ہمیشہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگی میں رہی ہے، اس کے خلاف جنگ میں نہیں۔ قدیم مصر نے نیل کی طغیانی کو زراعت میں بدلا، جاپان نے بارش روکنے کے لیے جنگلات اگائے، وادی سندھ نے نکاسی آب کا بہترین نظام بنایا۔
اس کے برعکس آج ہم نے جنگلات تباہ کر دیے، چراگاہیں ختم کر دیں، اور دریاؤں کے سیلابی میدانوں (floodplains) پر ہاؤسنگ سوسائٹیزاور کالونیاں بسا دیں۔ نتیجہ یہ کہ سیلاب آتا ہے تو شہروں اور کھیتوں کو ڈبو دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صرف ’’قدرتی آفت‘‘ نہیں بلکہ انسانی لالچ اور غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
بڑے ڈیم وقتی ترقی کا خواب تو دکھاتے ہیں مگر اصل میں مستقبل کو گروی رکھتے ہیں۔ اگر ترقی پائیدار ہونی ہے تو وہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب مقامی علم، ثقافتی شناخت اور فطری توازن کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ نرمدا بچاؤ تحریک نے یہی سبق دیا کہ ترقی تبھی ترقی ہے جب وہ سب کو ساتھ لے کر چلے اور کمزوروں کی قربانی پر نہ کھڑی ہو۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں