دیر آید درست آید۔۔سلیم فاروقی/ حصہ اول

SHOPPING

 کہتے ہیں ایک بار ایک شہنشاہ دنیا فتح کرنے کے ارادے سے نکلا ، اس کا گزر ایک ایسی بستی سے ہوا جو دنیا کے ہنگاموں سے دور اور بڑی پرسکون تھی۔ یہاں کے باشندوں نے جنگ کا نام تک نہ سنا تھا اور وہ فاتح اور مفتوح کے معنی سے ناآشنا تھے۔ بستی کے باشندے شہنشاہ معظم کو مہمان کی طرح ساتھ لے کر اپنے سردار کی جھونپڑی میں پہنچے۔ سردار نے اس کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا اور پھلوں سے شہنشاہ کی تواضع کی۔کچھ دیر میں دو قبائلی فریق مدعی اور مدعا علیہ کی حیثیت سے اندر داخل ہوئے۔ سردار کی یہ جھونپڑی عدالت کا کام بھی دیتی تھی۔

مدعی نے کہا،”میں نے اس شخص سے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا تھا، ہل چلانے کے دوران اس میں سے خزانہ برآمد ہوا میں نے یہ خزانہ اس شخص کو دینا چاہا لیکن یہ نہیں لیتا، میں یہ کہتا ہوں کہ یہ خزانہ میرا نہیں ہے کیوں کہ میں نے اس سے صرف زمین خریدی تھی۔ اور اسے صرف زمین کی قیمت ادا کی تھی، خزانے کی نہیں“ مدعا علیہ نے جواب میں کہا۔ ”میرا ضمیر ابھی زندہ ہے۔ میں یہ خزانہ اس سے کس طرح لے سکتا ہوں، میں نے تو اس کے ہاتھ زمین فروخت کردی تھی۔ اب اس میں سے جو کچھ بھی برآمد ہو یہ اس کی قسمت ہے اور یہی اس کا مالک ہے ، میرا اب اس زمین اور اس میں موجود اشیاءسے کوئی تعلق نہیں ہے “

سردار نے غور کرنے کے بعد مدعی سے دریافت کیا، ”تمھارا کوئی لڑکا ہے؟“
”ہاں ہے!“
پھر مدعا علیہ سے پوچھا۔ ”اور تمہاری کوئی لڑکی بھی ہے؟“
”جی ہاں….“ مدعا علیہ نے بھی اثبات میں گردن ہلا دی۔
”تو تم ان دونوں کی شادی کرکے یہ خزانہ ان کے حوالے کردو۔“

اس فیصلے نے شہنشاہ کو حیران کردیا۔ وہ فکر مند ہوکر کچھ سوچنے لگا۔ سردار نے سوچوں میں ڈوبے شہنشاہ سے دریافت کیا۔ ”کیوں کیا میرے فیصلے سے آپ مطمئن نہیں ہیں؟“
”نہیں ایسی بات نہیں ہے۔“ شہنشاہ نے جواب دیا۔ ”لیکن تمھارا فیصلہ میرے نزدیک حیران کن ضرور ہے۔“
سردار نے سوال کیا۔ ”اگر یہ مقدمہ آپ کے رو برو پیش ہوتا تو آپ کیا فیصلہ سناتے؟“
شہنشاہ بولا، ” پہلی تو بات یہ ہے کہ اگر یہ مقدمہ ہمارے ملک میں ہوتا تو زمین خریدنے والے اور بیچنے والے کے درمیان کچھ اس طرح کا جھگڑا ہوتا کہ بیچنے والا کہتا کہ” میں نے اسے زمین بیچی ہے اور اس سے زمین کی قیمت وصول کی ہے ، اب جبکہ خزانہ نکل آیا ہے تو اس کی قیمت تو میں نے وصول ہی نہیں کی ، اس لیے یہ میرا ہے۔“ جبکہ خریدنے والا کہتا کہ ”میں نے اس سے زمین خریدلی ہے ، تو اب اس میں جو کچھ ہے وہ میری ملکیت ہے اور میری قسمت ہے۔“ سردار نے شہنشاہ سے پوچھا کہ ، پھر آپ کیا فیصلہ سناتے؟ شہنشاہ نے اس کے ذہن میں موجود سوچ کے مطابق فوراً  جواب دیا کہ، ”ہم فریقین کو حراست میں لے لیتے اور خزانہ حکومت کی ملکیت قرار دے کر شاہی خزانے میں داخل کردیا جاتا۔“

”بادشاہ کی ملکیت!“ سردار نے حیرت سے پوچھا۔ ”کیا آپ کے ملک میں سورج دکھائی دیتا ہے؟“
”ہاں کیوں نہیں؟“
”وہاں بارش بھی ہوتی ہے….“
”بالکل ہوتی ہے“
”بہت خوب!“ سردار حیران تھا۔ ”لیکن ایک بات اور بتائیں کیا آپ کے ہاں جانور بھی پائے جاتے ہیں جو گھاس اور چارہ کھاتے ہیں؟“
”ہاں ایسے بے شمار جانور ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں۔“
”اوہ خوب! میں اب سمجھا۔“ سردار نے یوں گردن ہلائی جیسے کوئی مشکل ترین بات اس کی سمجھ میں آگئی ہو۔ ”تو اس ناانصافی کی سرزمین میں شاید ان ہی جانوروں کے طفیل سورج روشنی دے رہا ہے اور بارش کھیتوں کو سیراب کررہی ہے۔ “

قارئینِ کرام! یہ واقعہ پڑھنے کے بعد کیا آپ ہماری اس بات سے اتفاق نہیں کریں گے کہ ہمارے ملک میں جو سورج چمک رہا ہے اور جو بارش سے کھیت سیراب ہو رہے ہیں وہ انہی جانوروں کے طفیل ہورہے ہیں جو ہماری زمینوں سے اپنا رزق تلاش کرتے ہیں؟ ورنہ ہمارا حال بھی اس شہنشاہ کی رعیت والا ہی ہے۔ جب کبھی ہمارے اوپر ایسا موقع آئے تو ہمارا رویہ بھی وہی ہوگا جو شہنشاہ کی رعیت کا تھا اور ہماری حکومت کا فیصلہ بھی وہی ہوگا جو شہنشاہ کے ذہن میں تھا۔ اور ہوگا کیا، ہمارے تو ملک کا قانون ہی یہی ہے کہ زمین سے نکلنے والے تمام خزائن اور ذخائر ریاست کی ملکیت تصور کیے جائیں گے، اور کیے جاتے ہیں۔ اس قانون کا نہ تو آج تک ریاست کو کوئی فائدہ ہوا نہ قوم کو۔ ہمارے ملک سے پانی اور معدنیات سمیت نکلنے والے تمام ہی ذخائر سے یا تو حکومت لطف اندوز ہوئی یا اس پر قابض ملک، سردار، چوہدری یا وڈیرے وغیرہ۔ خواہ دریاؤں  میں بہتا پانی ہو یا فلک بوس پہاڑوں سے نکلنے والے قیمتی پتھروں سمیت دیگر معدنیات ان کا بھرپور فائدہ یاتو سرکار نے اٹھایا یا با اثر شخصیات نے۔ ان کی دولت میں تو دن دوگنا اور رات چوگنا اضافہ ہوا لیکن ان زمینوں اور پہاڑوں کے اصل مالکان یعنی وہاں کی عوام کو خاک بھی فائدہ نہ ہوا۔منگلا ،تربیلہ بلکہ خود اسلام آباد کے متاثرین تو آج تک اپنے حق کے لیے عدالتوں میں ٹھوکریں کھاتے نظر آتے ہیں۔

سب سے بڑی مثال تو بلوچستان سے ملنے والی قدرتی گیس کی ہے، جس کے نام پر آج تک ہم اس کو سوئی گیس کہتے ہیں۔ وہاں سے نکلنے والی گیس پورے ملک نے یہاں تک ڈٹ کر استعمال کی کہ اب وہ ذخائر اپنے اختتام پر ہیں۔ اس کی آمدنی میں دو ہی بڑے حصہ دار تھے ایک تو سرکارِ پاکستان اور دوسرے اس علاقے کے سرداران جو سرکار کی گردن پر انگوٹھا رکھ کر اپنے حصے کا ایک ایک پیسہ بلکہ اس سے زیادہ ہی نکلوا لیا کرتے تھے، لیکن اس علاقے کا عام انسان آج بھی تعلیم و صحت تو دور کی بات تین وقت کی روٹی کے بنیادی حق سے بھی نا آشنا ہے۔ اور آج جو بلوچستان میں بد امنی ہے اس کی بڑی وجہ بھی یہی نا انصافی تھی، ”تھی “نہیں بلکہ ”ہے“۔

لیکن گذشتہ دنوں تھرپارکر میں موجود کوئلے کے ذخائر کے دورے کے دوران جو معلومات ملیں وہ انتہائی خوش کُن تھیں۔ یقین نہیں آتا ہے کہ اربابِ حل و عقد نے حالات سے اس حد تک سبق سیکھ لیا ہے کہ مدعی اور مدعاعلیہ کی اولادوں میں رشتہ کروا کر خزانہ ان کے نام کردینے والا فیصلہ کرنا بھی سیکھ لیا ہے۔ تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ گذشتہ دنوں جب ہم نے تھرپارکر کے قصبے اسلام کوٹ میں تھرکول سائیٹ کا دورہ کیا ۔ یہ پراجیکٹ حکومت سندھ، حکومت چین اور پاکستانی کمپنی اینگرو تھر کول کمپنی کی تثلیث کا عمدہ شاہکار ہے۔ وہاں ہمارے لیے تفصیلی اطلاعات کا بھرپور انتظام تھا بلکہ جو دعوے کیے جارہے تھے ان پر جاری کاموں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا بھی انتظام تھا۔ تفصیلات تو بہت زیادہ ہیں شائد ایک کالم میں سما نہ سکیں لیکن پھر بھی ہم یہاں وہ اہم نکات بیان کیے دیتے ہیں جن سے ہمیں یقین ہوگیا ہے کہ اب مدعی اور مدعا علیہ کی اولاد میں باہم رشتہ کرائے بغیر ہم کسی بھی ذخیرے سے اس طرح لطف اندوز نہیں ہوسکتے ہیں کہ پاکستانی قومیت کوبھی مزید استحکام ملے۔

SHOPPING

تھرپارکر پاکستان کا وہ علاقہ ہے جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آج بھی جہاں کی 80% سے زائد آبادی نہ صرف مقروض ہے بلکہ غربت کی لکیر سے بھی کافی نیچے کی زندگی گذارنے  پر مجبور ہے، یہاں پیدا ہونے والے ہر ایک ہزار میں سے 87 بچے پیدا ہوتے ہی موت کی وادیوں میں گم ہوجاتے ہیں اور ایک لاکھ میں سے تقریباً 300 مائیں بچے کی ولادت کے وقت ہی اپنی آخری سانس لے لیتی ہیں۔ یہاں تو خوراک ہی صحیح معنوں میں عیاشی کا درجہ رکھتی ہے، اچھی اور صحت بخش خوارک کا لفظ تو شاید  یہاں کے عوام کی لغت میں موجود ہی نہیں ہے۔ آب نکاسی کے نظام کی ضرورت تو اس وقت ہوگی جب یہاں آبنوشی کا انتظام ہو، جہاں ایک ایک گلاس پانی کے لیے مٹکا سروں پر رکھ کر میلوں کا سفر کرنا پڑے وہاں اتنا پانی استعمال کرنا کہ آب نکاسی کے انتظام کی ضرورت محسوس ہو کسی دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے۔ ایسے حالات میں تعلیم و صحت بڑے شہروں میں استعمال ہونے والے الفاظ ہیں یہاں کے عوام تو شائد ان سے ناواقف ہی ہیں۔ اور یہاں کے عام افراد تو شائد تعلیم کی ”ت“ سے بھی واقف نہیں تھے۔

جاری ہے۔۔
SHOPPING

سلیم فاروقی
سلیم فاروقی
کالم نگار، کہانی نگار، بچوں کی کہانی نگار، صد لفظی کہانی نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”دیر آید درست آید۔۔سلیم فاروقی/ حصہ اول

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *