علم کو جاننے کے اعتبار سے معلوماتی اور تجزیاتی میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ علم کا وہ درجہ جہاں ہم محض معلومات حاصل کرتے ہیں، کسی حقیقت کی تہہ تک پہنچنے کی بجائے اُس کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں، علم کی معلوماتی سطح کہلائے گی۔ کسی حقیقت کی تہہ تک پہنچنے سےمراد ، اُسے تجزیاتی سطح پر جاننے کی کوشش کرنا ہے۔ یہ جاننا کہ کوئی واقعہ یا عمل کس طرح پیدا ہوا ہے، اس کے پس منظر میں کون سے محرکات کام کر رہے ہیں۔ کیا یہ اُسی طرح موجود بھی ہے جس طرح ہمیں دکھائی دے رہا ہے۔ ظاہری بات ہے یہ محض معلومات تک کا علم نہیں، اس کے لیے عقل، قوت فیصلہ اوردانش مندی کا عمل دخل بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔ بلکہ یہ موجود سے لاموجود میں داخل ہونے کا عمل ہے۔ معلومات تک کا علم سطحی علم ہے جب کہ تجزیاتی ہونا ،ایک سطح سے نیچے اتر کےتعبیر، تخلیق یا Synthesis کرنے کا عمل ہے۔
معلوماتی علم یکساں ہوتا ہے۔ ایک ہی طرح کے نتائج مرتب کرتا ہے۔ سب کی دسترس میں آ سکتا ہے مگر تجزیاتی علم یکساں نہیں ہوتا اور ایک ہی طرح کے نتائج بھی مرتب نہیں کرتا۔ اسے ہر کوئی حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ حقیقت کی تعبیر کر تا ہے۔ اُس کے بارے میں اپنی رائے پیش کر تا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ تجزیاتی قوت کا ملکہ ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ اشیا کو جانچنے، پرکھنے اور دانش مندی سے نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت یکساں اور عام فہم نہیں ہوتی۔اسی لیے یہ کُلی طور پر نئی ویژن اور ذوق پر انحصار کرتی ہے حقیقت تک پہنچنے کا عمل یکساں ہو ہی نہیں سکتا کیوں کہ یہ معلومات پر نہیں بلکہ دانش اور ذاتی تجرباتی نتائج پر انحصار کرنے لگتا ہے۔ (ویسے حقیقت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، یہ تو وہ نتیجہ ہے جو تجزیاتی قوت سے حاصل ہوتا ہے) البتہ معلومات ایک جیسی ہو سکتی ہے، ایک جیسے نتائج تیار کر سکتی ہے۔
جس طرح معلوماتی علم اور تجزیاتی علم میں فرق ہے، بالکل اسی طرح علم کو دو شعبوں(disciplines) میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ وہ علوم جو مدد فراہم کرتے ہیں ، محض معلومات دیتے ہیں، انھیں مددگار علوم کہہ سکتے ہیں۔ دوسرے وہ علوم جو تجزیہ کرتے اور کچھ تخلیق کرنے کی قوت رکھتے ہیں، انھیں تخلیقی علوم کا نام دیا جا سکتا ہے۔ عموماً ہم معلوماتی علوم اور تخلیقی علوم میں فرق نہیں کر پاتے۔ معلوماتی یا مددگار علوم چوں کہ بہت سی معلومات اورڈیٹا پر انحصار کر رہےہوتے ہیں، اس لیے وہ بھاری بھرکم دکھائی دیتے ہیں۔ معلوماتی علوم یکساں، فوری سمجھ آ جانے والے اور سامنے دکھائی دیتے ہیں، اس لیےمتاثر کن ہوتے ہیں۔
چلیں آئیے مثالوں سے سمجھتے ہیں:
ایک سائنس دان جب تحقیق کرتے ہوئے کسی ایجادیا تخلیق تک پہنچتا ہے تو اسے بہت سے مددگار علوم اور اشیا سے گزرنا پڑتا ہے۔ مثلاً ایجاد سے متعلقہ معلومات،لیبارٹیریز،ڈیٹا کولیکشن، پہلے سےموجود معلومات کی موجودگی،اپریٹس کی دستیابی اور اس کی فنگشننگ کی معلومات وغیرہ۔مگر وہ جو ایجاد کرنے جا رہا ہے ، وہ ان علوم سے اگلا مرحلہ ہوتا ہے۔ ایسا علم مددگار علوم سے آگے کا مرحلہ یعنی ایجاد یا تخلیق کہلائے گا۔ ظاہری بات ہے مددگار علوم تک ہر کوئی پہنچ سکتا ہے، انھیں جان سکتا ہے، ان کی معلومات اکٹھی کر سکتا ہے مگر ان کی بنیاد پر کوئی ایجاد یا تخلیق تیار کر لینا ہر کسی کے بس میں نہیں۔ اب غور کیا جائے تو معلوماتی علم زیادہ متاثر کن لگے گا۔ پورے سائنسی عمل کو سمجھنے کا عمل محسوس ہوگا مگر ہو سکتا ہے سائنسی ایجاد معمولی سی دکھائی دے یا ناقابلِ توجہ۔
ادبی تخلیق کاری میں بھی بہت سی معلومات درکار ہوتی ہے، عروض کا علم، فکشن کی اقسام کا علم، ادبی تاریخ سے آگاہی، فن پاروں سے آشنائی یا حافظہ وغیرہ، مگر یہ معلومات یا سمجھ ہی ادبی تخلیق نہیں بلکہ اس معلومات یا مدد گار علم سے آگے جانے کا عمل’ تخلیق‘ ہے۔ یہاں بھی معلوماتی یا مدد علم زیادہ بڑا دکھائی دیتا ہے مگر تخلیقی عمل ناقابلِ توجہ یا معمولی دکھائی دیتا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں