سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی کے نام خط۔۔۔اعظم معراج

SHOPPING

تحریک شناخت کے اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے لکھی گئی کتب میں سے ایک کتاب” کئی خط اک متن”
میں سے بائیسواں خط پی ٹی آئی کی اعلیٰ ترین قیادت کے نام۔
عام شریف پاکستانیوں کے لئے یہ ایک فضول خط ہے۔اور پاکستانی معاشرے کو سدھارنے کے لئے کوشاں مذہبی،سیاسی،وسماجی راہنماؤں کے لئے یہ ایک فضول ترین خط ہے۔اس لئے یہ دونوں طبقات اس خط کو پڑھنے سے اجتناب کریں۔ کیونکہ یہ خط کسی کتاب کا حصہ ہے۔ اور کتاب کے بارے کسی نامعلوم شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔۔کہ

آگہی کا عذاب ڈس لے گا
زندگی بھر کتاب سے بچنا

ہاں شیئر کر کے معاشرے میں مزید بگاڑ میں اپنا حصّہ ضرور ڈالیں۔

محترم ارشد داد صاحب 19-07-2019
سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی
سینٹرل سیکریٹریٹ اسلام آباد

السلام علیکم!
ارشد داد صاحب میرا نام اعظم معراج ہے میں تحریک شناخت کا ادنیٰ سا رضا کار ہوں۔ یہ فکری تحریک پاکستانی معاشرے میں پاکستانی مسیحیوں کی قابل فخر شناخت کو اجاگر کرکے ان کے لئے معاشرے میں فکری، شعوری، تعلیمی، معاشی، سماجی، معاشرتی، علمی مذہبی، تہذیبی ، سیاسی ترقی کی راہیں ہموار کرنے کی فکری تحریک ہے۔ اس تحریک کے اغراض و مقاصد کے حصول کے لئے میں پچھلے بائیس سال سے کوشاں ہوں اس مقصد کے لئے کئے گئے دیگر اقدامات کے ساتھ میں نےگیارہ کتب بھی تحریر کی ہیں جن میں سے10شائع ہو چکی ہیں اور ایک زیر اشاعت ہے۔ اس کے ساتھ میں پی ٹی آئی کا ایک خاموش حمایتی ہوں این اے247اور پی ایس111کا رجسٹرڈ ووٹر ہوں اور عمران خان کے سماجی انصاف پر مبنی معاشرے کے خواب کی تعبیر کی تلاش میں کئی دفعہ پی ٹی آئی کو ووٹ بھی دے چکا ہوں ۔ دامے درمے قدمے تو نہیں لیکن سخنے اورفکری طور پرہر فورم پراس فلسفے کو پاکستانی قوم اور معاشرے کی بقا کے لئے اچھا جان کر ہرسطح پر اس سماجی انصاف کے فلسفے کا دفاع کرتا ہوں اور اس بات کا قائل اس دن سے ہوں جب بائیس سال پہلے میں نے ہارون رشید صاحب کے توسط سے عمران خان صاحب سے بات کی اور ان سے پوچھا آپ کے پاس پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کے لئے کیا پروگرام ہے ۔تو انہوں نے جواب دیا کہ” اگر معاشرے میں انصاف ہو گا تو انہیں بھی مل جائے گا“۔ میری تحریک انصاف کے بنیادی فلسفے سے متفق ہونے کی بدولت اورسخنے طور پر اس فلسفے کی ہر سطح پر دفاع کرنے کے عزم اور صلاحیت پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت میں سے بھی چند کو علم ہے(چاہے یہ ان کی غلط فہمی ہی ہو) انہیں میں سے کسی کی بدولت مجھے 16اپریل2019ءکے آپ کے ایک دستخط شدہ خط سے مجھے منیارٹی کی نیشنل کونسل کا ممبر بنایا گیا جسے جلد ہی تحلیل کر دیا گیا پھر 14جون 2019کے خط کے ذریعے غیر مسلم پاکستانیوں کے لئے پی ٹی آئی کی آئین سازی کے لئے سفارشات دینے والی ایک 24رکنی کمیٹی میں میرا نام شامل تھا پھر25جون کو اس فہرست میں کچھ اضافہ ہوا اور پھر اسے بھی تحلیل کر دیا گیا اور قانون سازی کی سفارشات کے اوپن فورم منعقد کئے جانے کا اعلان ہوا۔ ان کمیٹیوں میں میرے نام کی شمولیت میں میری رضا مندی بھی شامل تھی چاہے وہ نیم رضا مندی ہی تھی لیکن بنیادی طور پر میں عملی سیاست کا آدمی بھی نہیں ہوں اور اس بات پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ اوپن فورم فیڈ بیک کے لئے تو بہت ضروری ہوتے ہیں لیکن کسی بھی پالیسی سازی کے لئے یہ مناسب نہیں ہوتے ورنہ غریب پاکستانی قوم کو سینیٹ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے بے تحاشا اخراجات اٹھانے کی کیا ضرورت ہے۔ چوکوں چوراہوں میں ہی آئین سازی کر لینی چاہیے۔اس لئے ان دنوں سیاسی میٹنگوں میں شامل نہیں ہوا پھر آپ نے 16اپریل سے 25جون تک تین دفعہ اس تیزی اور مستعدی سے کمیٹیاں بنائی اور تحلیل کی ہیں کہ پرجوش پی ٹی آئی ورکروں کو ایک دوسرے کومبارکباد دینے کا بھی موقع نہیں ملا اور میرے جیسے سست اور عملی سیاست سے نابلد کے لئے استعفیٰ دینے کا وقت بھی نہیں تھا۔ (میرے اس خط کو تو پچھلی تاریخوں میں میرا استعفیٰ ہی سمجھیں۔ )ان کمیٹیوں میں کئی غیر مسلم ممبران قومی و صوبائی اسمبلی و پی ٹی آئی کی عملی سیاست میں حصہ لینے والے جہاں دیدہ سیاسی کارکن بھی شامل تھے۔لہٰذا امید ہے انہوں نے پاکستانی معاشرے میں غیر مسلمان پاکستانیوں کو درپیش مسائل، خطرات اور ان کی کمزوریوں طاقتوں کے درست تخمینے کی بنیاد پر ضرور بہت اچھی سفارشات مرتب کرکے آپ کو دی ہوں گی۔ لیکن میں بھی انگلی کٹوا کر شہیدوں میں نام لکھوانے کے مترادف چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
سب سے پہلے میں آپ کو پی ٹی آئی کی تنظیم نو کے لئے کئے گئے اقدامات پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اُمید ہے آپ کے ان اقدامات کی بدولت پی ٹی آئی کی حکومت کو پی ٹی آئی کی سیاسی جماعت سے عوام الناس کی توقعات اور امیدوں بارے معلومات ملیں گی۔ کیونکہ تیسری دنیا کا یہ ایک سیاسی المیہ ہے منت سماجتوں اور وعدے دعووں کی بدولت سیاسی لوگ حکومت میں آنے کے بعد خادم سے مخدوم بن جاتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں سیاسی جماعت ہی اپنی حکومت کا عام آدمی سے رشتہ قائم رکھ سکتی ہے۔ ورنہ عام آدمی اور سیاسی حکومتی نمائندوں کے درمیان رابطے کا فقدان ہو جاتا ہے جو عوام اور حکمرانوں میں دوریاں پیدا کرتا ہے اور یہ دوریاں عموماً سیاسی جماعتوں کی مقبولیت کو کم کرتا ہے اور یہ کمی کئی دفعہ سیاسی جماعت کی موت پر ختم ہوتی ہے۔
سب سے پہلے میں نے آپ کا نام آپ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن پر ہی دیکھا تھا اس نوٹیفکیشن میں کیونکہ میرا نام بھی تھا۔اسی وجہ یا نسبت سے میں نے ٹی وی پر آپ کی تقریر غور سے سنی جس سے آپ کی شخصیت کا ایک تاثر جومیں نے قائم کیا اور وہ یقیناً ایک مدبر سیاسی کارکن کا ہی لگا ایک ایسا سیاسی کارکن جس کی پارٹی حکومت میں ہے لیکن وہ اپنی سیاسی جماعت کے نظریے جو کہ یقیناً معاشرے میں ”سماجی و معاشرتی انصاف“ کے علاوہ کچھ بھی نہیں اور یہ ہی دو حرفی بیانیہ اگر پارٹی کے حکومتی عہدے دار پاکستان بھر میں عملی طور پر پہنچادیں ۔تو اس سے بڑھ کر پی ٹی آئی کی کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی۔ لیکن نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تقریباً سال سے پی ٹی آئی حکومت ہے لیکن عملی طور پر سماجی و معاشرتی انصاف کے بارے میں ہمارے سماج اور معاشرے میں شدید فقدان ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ آپ کا اور آپ کے دیگر ساتھیوں کو اس کا ادراک بھی ہو گا۔ کیونکہ آپ پارٹی کی نظریاتی اساس کو زندہ رکھنے کے ذمہ دار ہیں۔اس لئے نہایت ہی عاجزی سے چند مشورے دینا چاہوں گا ۔پہلا میرے خیال میں اب تک پارٹی کے نظریاتی اساس کو عملی جامع پہنانے کے لئے پی ٹی آئی کے عام ورکر کی تربیت صرف خان صاحب نے جلسوں جلوسوں میں ہی کی ہے آپ سے گزارش ہے کہ اب پارٹی کے سماجی و معاشرتی انصاف کے منشور کو حکومتی مشینری کی مدد کے ساتھ ساتھ پارٹی ورکروں کے ذریعے ملک کے طول وعرض میںپہنچانے کے لئے آپ کو ملک بھر میں فکری نشستوں کا پروگرام ترتیب دینا چاہیے جس میں اس بات پر زور دیا جائے کہ حکومتی مشینری کے ساتھ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پارٹی ورکر عام پاکستانی کی زندگیوں کے لئے کس طرح آسانیاں حاصل کر سکتے ہیں اور ساتھ ہی پی ٹی آئی عام پاکستانی کے ذہن میں یہ بات کس طرح بٹھا سکتی ہے کہ ہماری حکومت کے اقدامات پاکستان اور پاکستانیوں کی آنے والی نسلوں کے لئے بہتر ہیں مثلاً آج کل ٹیکس کلیکشن پر قوم تقسیم ہے عام شہری ٹیکس شوق ذوق سے کم اور خوف سے زیادہ دیتے ہیں لیکن یہ بات بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ دنیا میں قومیں وہ ہی عزت سے رہ سکتی ہیں جہاں کی حکومتیں اپنے شہریوں میں ریاست کو ٹیکس دینے کے لئے خوف کے ساتھ ساتھ ذوق بھی پیدا کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں اور خوف تو حکومت پیدا کرتی ہے لیکن ذوق اور شوق فکری طور پر پر جوش سیاسی کارکن ہی پیدا کر سکتا ہے۔ اس طرح کے ہزاروں مسائل اور وسائل کے درمیان خسارے کو فکری شعوری تربیت سے ہی پورا کیا جا سکتا ہے۔ اور سیاسی جماعت کے فکری ورثے کو عام شہریوں تک منتقل کرنے کے لئے سیاسی جماعت کا تنظیمی طور پر مضبوط ہونا بہت ضروری ہے ۔لیکن میں نے حلقہ247 میں عارف علوی کے صدر پاکستان اور عمران اسماعیل کے گورنر سندھ منتخب ہونے کی وجہ سے چند مہینوں کے اندر اندر دو دفعہ ووٹ ڈالنے کے لئے گیا لیکن پی ٹی آئی کی تنظیم مجھے کہیں نظر نہیں آئی لہٰذا اس دفعہ تو عمران خان صاحب کی بائیس سالہ جدوجہد اور سماجی انصاف کا خواب کھمبوں کو بھی جتوا گیا۔ لیکن آئندہ حکومت کی کارکردگی اور پارٹی کے نظریات خاص و عام پارٹی ورکر اورعوام الناس تک انہی نظریاتی طور پر باشعور اور تنظیمی طور پر منظم کارکنوں کے ذریعے پہنچے گی۔
مجھے دو دفعہ حلقہ این اے 247 اور پی ایس 111کے پروگراموں میں شمولیت کا اتفاق ہوا ہے۔ سیف اللہ نیازی تنظیمی طور پر پی ٹی آئی کو منظم کرنے میں ضرور دن رات کوشش کر رہے ہوں گے لیکن ان دونوں پروگراموں میں میں نے پی ٹی آئی میں تنظیم کا شدید فقدان دیکھا تھا حالانکہ دونوں پروگراموں میں پی ٹی آئی کے بہت سے ایم این اے، ایم پی اے بھی موجود تھے۔ سیف اللہ نیازی صاحب کے لئے بس یہ ہی ایک چھوٹا سا مشورہ ہے کہ پی ٹی آئی کا پاور میں آنا ایک انقلاب ہی تھا اور انقلاب کو قائم رکھنے کی تین بنیادی شرائط ہیں۔ پہلی تنظیم، دوسری تنظیم، تیسری بھی تنظیم اور کوئی تنظیم بغیر نظریاتی اساس کے زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ لہٰذا آپ دونوں کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری ہے کیونکہ نظریاتی فلسفے کو تنظیم کے ذریعے ہی عام پاکستانی شہری تک پہنچایا جا سکتا ہے اور اس کے لئے مسلسل تربیت اور ریاضت کی ضرورت ہے اور انہی دونوں عناصر کی بدولت سماجی و معاشرتی انصاف کا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔
گوکہ2018ءکے انتخابات میں پارٹی کو سادہ اکثریت بھی نہ ملنا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پارٹی اپنے نظریئے کی مقبولیت کے باوجود اپنی انتظامی کمزوریوں کی بدولت اس مقبولیت کو ووٹوں میں تبدیل نہیں کر سکی اس کی ایک مثال میں آپ کو دینا چاہتا ہوں سندھ اسمبلی کا حلقہ پی ایس 104 ایک منی پاکستان ہے جہاں پاکستان کے ہر رنگ نسل، مذہب، جغرفیائی، لسانی گروہ بستے ہیں۔ عمران خان جس نے پاکستان کی تقریباً تمام انتظامی اکائیوں سے قومی اسمبلی کا الیکشن جیتا ہے اس کے امیدوار کا یہاں سے ہار جانا علامتی طور پر پی ٹی آئی کی بہت بڑی شکست تھی میری رہائش پچھلے پندرہ سال سے حلقہ پی ایس 111 میں ہے لیکن میرا بچپن لڑکپن جوانی اسی حلقے میں گزری ہے اس لئے میں عملی سیاست سے نابلد ہونے کے باوجودتھوڑا بہت اس حلقے کے سیاسی متحرکات کو جانتا ہوں۔ مجھے الیکشن سے کچھ دن پہلے حلقے میں جانے کا اتفاق ہوا تو پی ٹی آئی کی ملک میں ہوا چلی ہوئی تھی لیکن اس حلقے میں بہت ہی بری حالت تھی مجھے اس بات کا بہت دکھ ہوا اور میں نے شمیم نقوی، علی زیدی سے ملاقاتیں کی اور انہیں اپنے خدشات سے آگاہ کیا اور کچھ زبردستی کے مشورے بھی دیئے جن پر عمل درآمد کروانے کا نہ تو ان کے پاس وقت تھا اور نہ ہی مجھے ان کی نیت لگی کہ وہ میرے مشوروں پر عملدرآمد کریں۔ لہٰذا نتیجہ پی ٹی آئی کے امیدوار کا اس حلقے میں تیسرا نمبر تھا اور اس کے ووٹ صرف10208 تھے جبکہ جیتنے والے امیدوار کو27635 تھے یہ سیٹ ہارنا میری نظر میں علامتی طور پر بہت بڑی ہار ہے کیونکہ پاکستان کا کوئی ایسا صوبائی حلقہ نہیں ہو گا جسے ہم منی پاکستان کہہ سکیں۔ ملک بھر میں جہاں نظریئے کے زور پر پارٹی امیدوار جیت سکتے تھے وہاں پارٹی جیت گئی لیکن جن حلقوں کے متحرکات ایسے تھے وہاں نظریات کو ووٹوں میں بدلنے کے لئے تنظیمی ڈھانچے کی ضرورت تھی وہاں نتائج انتہائی مایوس کن رہے۔ لہٰذا ان نتائج سے سبق سیکھتے ہوئے اب نظریاتی تربیت اور انتظامی امور کے امتزاج کو بہتر سے بہتر بنائیں۔
دوسرا ایک عاجزانہ مشورہ ہے کہ آپ پتہ نہیں ونگ بناتے ہوئے کسان کو کیوں بھول گئے ۔کسان اور مزدور گو کہ بظاہر ایک ہی ہیں لیکن ان کی عملی زندگی کے مسائل میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ اس لئے کسانوں کے لئے علیحدہ پورا ونگ بھی ضروری ہے کیونکہ ہماری آبادی کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے اور ان کے کھیت مزدوروں اور چھوٹے کسانوں کو باشعور اور بااختیار کرکے ہم اپنے ملک سے الیکٹ ایبل جیسے غیر جمہوری عناصر سے بھی چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔
تیسرا مشورہ جو آپ جیسے سیاسی ورکر کو اعلیٰ ترین قیادت کو بتانے کی ضرورت ہے اگر الیکٹ ایبل اور ”باپ بڑا نہ بھیا سب سے بڑا روپیہ“ ڈاکٹرائن نظریاتی، سیاسی جماعت کے لئے اتنا ہی ضروری ہوتا تو پھر کم از کم 2018ءکے الیکشن میں پارٹی کو سادہ اکثریت تو مل جاتی اس لئے اس ڈاکٹرائن سے بچیں۔ یہ فلسفہِ سیاست پاکستان کی کئی قومی اور صوبائی سیاسی جماعتوں کو کھا چکا ہے۔
یہ چندگزارشات میری اپنے آپ کو مکمل پاکستانی شہری سمجھنے کی غلط فہمی کی بدولت پی ٹی آئی کی نظریاتی اساس اور تنظیمی ڈھانچے کو قائم رکھنے والی دونوں شخصیات کے لئے عاجزانہ مشورے یا سفارشات ہیںگوکہ آئین پاکستان میری اس غلط فہمی کو اپنی متعدد آئینی شقوں میں دور کرتا ہے لیکن میں اور میرے جیسے دھرتی کے تقریباً78لاکھ دیگر غیر مسلم پاکستانی اپنی ریاست اور حکومت کی کمزوریوں کی بدولت ان سے صرف نظر کرتے ہیں۔اب میں آئین پاکستان کی روح سے دوسرے درجے کے شہری ہونے کے ناطے چند گزارشات پیش کرتاہوں سب سے پہلے میں پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کو مبارک باد دینا چاہتا ہوں۔ مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں دو ونگز کی قیادت پاکستانی مسیحیوں کے پاس ہے دونوں ہی سیاسی مدبر اور سمجھ بوجھ والے راہنما ہیں۔ لیکن بریگیڈئر سمین سائمن شرف کا لیبرونگ کا کنوینر ہونا ملک قوم اور پی ٹی آئی کے لئے نیک نامی اور مسیحیوں کے لئے باعث فخر ہے وہ پہلے بھی پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں انتہائی اہم ذمہ داریوں کو نبھاتے رہے ہیں اور عموماً غیر مسلمان پاکستانیوں کو ان کے برادری کے مسائل میں ہی الجھا کر ان کی دیگر خوبیوں سے استفادہ حاصل کرنے کا کلچر ابھی ہماری سیاسی جماعتوں میں پیدا نہیں ہوا ہے گو کہ اس کے ذمہ دار کسی حد تک غیر مسلمان پاکستانی سیاسی ورکر بھی ہیں جو ا پنے خول میں ہی بند ہو کر رہ گئے ہیں۔
گوکہ غیر مسلم پاکستانی دھرتی کے بچے بھی ہیں آزادی سندھ و ہند کے سپاہی بھی ہیں قیام پاکستان کی تحریک میں قائد اعظم کے ہم راہی بھی ہیں تعمیر پاکستان میں قوم کے معمار بھی ہیں معلم ہیں معالج ہیں چیف جسٹس بھی ہیںوزیر بھی ہیں سفیر بھی ہیں اور ایسا سفیربھی رہے ہیں جو ہماری ایٹمی پالیسی کے اولین معماروں میں سے ہیں۔ آئی جی بھی رہے تاریخ دان بھی ہیں شاعر بھی ہیں مصور بھی ہیں کھلاڑی بھی ہیںگلوکار ہیں ، وکیل ہیں، فلمساز ہیں، اداکار ہیں، سداکار ہیں۔ غرض کسی بھی ملک و قوم اور معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں حصہ لینے والے ہر شعبے میں ا پنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔سرحدوں کے محافظ ہیں تو سپاہی سے لے کر جرنیل تک ہیں ، محافظ ہیں، غازی ہیں، شہید ہیں تو ایسے بھی ہیںکہ مسیحی تو پاکستان ائر فورس کے واحد شہید ہیں جو دو دفعہ ستارہ جرا¿ت اور ستارہ بسالت ہیں نشان حیدر حاصل کرنے والوں کے ساتھی بھی ہیں 90 شہداءکے وارث ہیں۔
لہٰذا ایسے پاکستانیوں کو مذہب کے نام پر صرف مینارٹی کے خول میں بند کر دینا غیر مناسب سی بات ہے اسی ضمن میں میں اپنا غیر مسلمان پاکستانیوں کے نام لکھا ہوا ایک خط اور پاکستانی مسیحیوں کی پاکستانی معاشرے میں قابل فخر شناخت کو اُجاگر کرنے کے لئے لکھی گئی اپنی دس کتب میں سے دو آپکو بھیج رہا ہوں اس کھلے خط کو میری طرف سے غیر مسلمانوں کے لئے میری سفارشات سمجھ لیا جائے اور اگر آپ ان سفارشات سے متفق ہوں تو پھر پی ٹی آئی کی حکومت اپنے اس حکومتی دور میں اس مسئلے کے آئینی حل کے لئے کوشش کرکے ملک کے اندر اور اقوام عالم میں بھی انصاف پر مبنی نیک نامی کما سکتی ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ آئین پاکستان میں اس ترمیم کے لئے آپ کی حکومت کو حزب اختلاف کی کسی بھی جماعت سے مخالفت کا سامنا بھی نہیں ہو گا۔ اس خط میں میں نے اپنے تئیں، ستر سالوں سے غیر مسلمان پاکستانیوں پر تھوپے گئے انتخابی طریقہ کار کا جائزہ لے کر ملک و قوم کی بہتری کے لئے ایک طریقہ انتخاب بھی تجویز کیا ہے۔مجھے یقین ہے کہ غیر مسلمان پاکستانیوں کو انتخابی نظام دے کر ہم انہیں ان کے نوے فیصد مسائل کو حل کرنے کے لئے خود کفیل کر سکتے ہیں۔
باقی غیر مسلمان پاکستانیوں کو ان کی متعلقہ فیلڈ میں منیارٹی ونگ کے علاوہ باقاعدہ یو سی سے یا اس سے بھی چھوٹے سے چھوٹے سے لے کر پارٹی کے انتہائی اعلیٰ انتظامی یونٹ میں بھی نمائندگی دی جائے۔ چاہے شروع میں نمائندگی کوٹے کی بنیاد پر ہی ہو لیکن ہونی ضرور چاہیے۔ تاکہ اس طرح کی پالیسی سازی میں حصہ لے کر ان کی سیاسی تربیت بھی ہو گی اس اقدام سے معاشرے میں معاشرتی ہم آہنگی بھی پیدا ہو گی۔ اس خط میں درج سفارشات اور غیر مسلم پاکستانیوں کی پی ٹی آئی کی ہر سطح کی تنظیمی کمیٹیوں میں نمائندگی دینے کی سفارش کے علاوہ تیسرا عاجزانہ مشورہ یہ ہے کہ غیر مسلمان پاکستانیوں کی آبادی کے بارے میں بڑی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں گو کہ 2017ءکی افراد شماری کے اعداد و شمار دستیاب ہیں لیکن وہ کافی پڑھے لکھے آدمی کو ہی سمجھ آ سکتے ہیں اس لئے میری آپ کو صلاح ہے کہ متعلقہ محکموں کے ذریعے سے یوسی، تحصیل، ٹاون اضلاع ڈویژن کی سطح تک کے یہ اعداد و شمار ہر خاص وعام غیر مسلمان پاکستانی شہریوں تک پہنچائیں۔ بلکہ ہر انتخابی حلقے کے بھی اعدو شمار دستیاب ہونا چاہیے کہ کس حلقے میں کتنے غیر مسلمان ووٹرز ہونا چاہیے۔ جس سے ریاست پاکستان اور حکومت پاکستان کے بارے میں کئی غلط فہمیاں دور ہوں گی اور یقینا معاشرے سماج میں شفافیت ریاست حکومت ملک و قوم کے لئے نیک نامی کا سبب ہوتی ہے یہ بھی غیر مسلمان پاکستانیوں کا ایک بہت بڑا ابہام ہے پی ٹی آئی کی حکومت یہ دور کرکے بہت بڑی نیک نامی کما سکتی ہے اس سے معاشرے میں کتنے برے اثرات پڑتے ہیں اس کے لئے میں اپنی کتاب دھرتی جائے کیوں پرائے سے ایک مضمون بھی کتابوں اورکھلے خط کے ساتھ بھیج رہا ہوں اس لئے میرے خیال میں غیر مسلمان پاکستانیوں کے لئے یہ بھی ایک بہت طویل المیعاد کام ہو گا جس کے اثرات نہ صرف ریاست، حکومت ملک و قوم اور غیر مسلمان پاکستانیوں پر بھی بہت اچھے پڑے گے۔
پی ٹی آئی کی نظریاتی اساسی اور انتظامی تنظیم سازی کرکے آپ دونوں عمران خان صاحب کی اس کوشش میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں اس کے لئے آپ دونوں یعنی سیکریٹری جنرل اور چیف آرگنائزر کے لئے نیک تمنائیں ہیں۔ مجھے اُمید ہے آپ کی یہ کوشش اس ملک کے اکیس کروڑ لوگوں کے لئے معاشرتی و سماجی انصاف حاصل کرنے کے عمران خان صاحب کے مقصد کو پورا کرنے میں مدد گار ثابت ہو گی۔ میں عملی سیاست کا آدمی نہیں ہوں اور آئینی طور پر دوسرے درجے کا شہری بھی ہوں لیکن تاریخ کے جبر کوتاہ اندیش سیاسی لوگوں کے مجھ پر تھوپے گئے امتیازی قوانین کی بدولت اور پھر ان قوانین کی ضمنی پیداوار (بائے پروڈکٹ) امتیازی مذہبی، سیاسی و سماجی رویوں کی اس آئینی شہری اور انسانی حقوق کی معذوری کے باوجود میں وطن عزیز میں معاشرتی انصاف کے لئے کوشاں دھرتی کے دوسرے بچوں سے اپنے آپ کوکسی طور پر بھی کم نہیں سمجھتا اسی لئے معاشرتی، سماجی انصاف کے لئے کوشاں ہر قوت کے ساتھ ہوں۔
والسلام
اعظم معراج
کاپی
چیئرمین پی ٹی آئی
چیف آرگنائزر پی ٹی آئی
منسلک
1۔کتاب Neglected Christian Children of Indus
2۔مضمون کم علمی، نااہلی، بے ہمتی یا پھر بدنیتی ”کتاب دھرتی جائے کیوں پرائے“ سے اقتباس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کتاب میں اعظم معراج نے تحریک شناخت کے اغراض ومقاصد کے حصول کے لئے  عہد حاضر کے صحافیوں،دانشوروں،اینکرپرسنز، مذہبی،سماجی،سیاسی شخصیات اور ریاستی عہداروں کو لکھے گئے ہزاروں خطوط میں سےچند منتخب خطوط  شامل کیے ہیں۔

نوٹ: یہ خط جولائی 2019 میں  لکھا گیا  تھا،جسے پی ٹی آئی کی حالیہ نیک نامی دیکھ کر دوبارہ شائع  کیا گیا ہے۔

SHOPPING

تعارف:تعارف:اعظم معراج پیشے کے اعتبار سے اسٹیٹ ایجنٹ ہیں ،13 کتابوں کے مصنف ہیںِ جن میں نمایاں پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار،دھرتی جائے کیوں پرائے،شناخت نامہ،اور شان سبز وسفید نمایاں ہیں!

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *