• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • “ماہِ نیم ماہ”؛قاسم یعقوب کا جہانِ غالب سے مکالمہ/ ڈاکٹر راشد سعیدی

“ماہِ نیم ماہ”؛قاسم یعقوب کا جہانِ غالب سے مکالمہ/ ڈاکٹر راشد سعیدی

مدیرِ نقاط قاسم یعقوب ہمارے عہد کے اُن ناقدین میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے اردو تنقید کو محض ایک بیانیہ سرگرمی یا شرح و توضیح تک محدود رکھنے کے بجائے اسے فکری بصیرت اور مکالماتی تناظر سے جوڑنے کی سنجیدہ کاوش کی ہے۔ قاسم یعقوب نہ صرف ادبی متون کی قرأت میں نئی جہتوں کو دریافت کرنے کا سلیقہ رکھتے ہیں بلکہ اردو تنقید کی روایت کو معاصر فلسفیانہ اور ثقافتی سیاق سے جوڑ کر جدید مباحث کے ساتھ ہم آہنگ کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کی نگارشات میں نہ صرف تحقیقی استناد اور عالمانہ سنجیدگی ہے بلکہ ایک تخلیقی تنقیدی ولولہ بھی پایا جاتا ہے جو اُنہیں اپنے ہم عصروں میں منفرد بناتا ہے۔ ان کی تازہ کتاب “ماہ نیم ماہ؛ غالب، شخصیت اور شعریات” اسی فکری بصیرت اور تنقیدی ژرف نگاہی کا مظہر ہے، جس میں وہ غالب کے متنی جہان کو ایک ایسے زاویے سے پڑھتے ہیں کہ قاری کو نہ صرف غالب کی شعریات کا نیا شعور ملتا ہے بلکہ اردو تنقید کی نئی جہتیں بھی آشکار ہوتی ہیں۔
غالب شناسی کی روایت میں وقتاً فوقتاً ایسے رجحانات سامنے آتے رہے ہیں جو محض اشعار کی شرح یا واقعاتی زندگی کے متوازی چلنے کے بجائے غالب کے متن سے ایک تخلیقی اور فکری مکالمہ قائم کرتے ہیں۔ قاسم یعقوب کی کتاب “ماہِ نیم ماہ؛ غالب، شخصیت اور شعریات” اسی تسلسل میں ایک نئی اور معانی آفریں کوشش ہے، جس کی سب سے نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ نہ صرف غالب کے متن کو نئے زاویے سے پڑھنے کا مطالبہ کرتی ہے بلکہ ذات اور “Persona”، شعور اور لاشعور، زبان اور ثقافت، فکر اور جذبہ جیسے بنیادی سوالات کے ساتھ غالب کی شخصیت اور شعریات کو ایک مربوط نظامِ معنی کی صورت میں دیکھنے کی تجویز دیتی ہے۔”غالب کا متن صرف بیان نہیں، سوال بھی ہے۔” یہ جملہ اس کتاب کی روح ہے؛ یعنی قاسم یعقوب متنِ غالب سے مکالمہ کرتے ہیں، سوال تلاشتے ہیں اور جواب کشید کر کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔
یہ کتاب محض ایک تنقیدی بیانیہ نہیں بلکہ فکری طریقۂ کا ر کا اظہار بھی ہے ۔ غالب فہمی کی روایت میں عام طور پر دو دھارے دکھائی دیتے ہیں؛ ایک محض تذکرہ و شرح کا، دوسرا نظریاتی تنقید وتعبیر کا۔ قاسم یعقوب ان دونوں راستوں کو ایک نئے زاویے سے ہم آہنگ کرتے ہیں۔ وہ محض معنی فہمی نہیں کرتے بلکہ معنی کے پس منظر سے ایسے فکری دھارے برآمد کرتے ہیں جن کی گونج صرف غالب کے یہاں نہیں، برصغیر کے اجتماعی ثقافتی شعور میں بھی سنائی دیتی ہے۔ ان کی پیش کش کا حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ وہ غالب کے ہاں “بیان اور معنی کے تضادات” کو عدمِ تکمیلیت کے فلسفہ سے جوڑ کر پڑھتے ہیں اور اسی کے اندر سے شخصیت کی دوئی، لسانی تشکیل، تہذیبی لاشعور اور متن کی پیچیدہ معنویت کو بازیافت کرتے ہیں۔
کتاب بنیادی طور پر مختلف تحقیقی مضامین پر مشتمل ہے لیکن ان مضامین میں موضوعاتی نظم و ضبط اور فکری وحدت ایسے قائم کی گئی ہے کہ وہ مجموعی طور پر ایک “غالبی منطق،غالبی زیست” کی تشکیل کرتی ہے۔ قاسم یعقوب کے نزدیک غالب صرف ایک شاعر نہیں بلکہ ایک ثقافتی-فکری مظہر ہیں۔وہ فکری و لسانیاتی محاکمے کے ساتھ تہذیبی اور نفسیاتی سطح پر بھی متن کی تعبیر کے امکانات روشن کرتے ہیں۔ “ماہِ نیم ماہ “کی ایک اہم جہت غالب کی ذات (Self) اور پرسونا (Persona) کا فکری محاسبہ ہے۔ قاسم یعقوب کے مطابق شخصیت جو ہمیں آشکار دکھائی دیتی ہے، وہ محض ظاہری اور اجتماعی دریافت ہے؛ اصل بازیافت اس ذات کی ہے جس کا بڑا حصہ لاشعور میں پیوست ہوتا ہے۔ یعقوب کا استدلال یہ ہے کہ غالب کا داخلی منطقہ ہندوستانی تہذیبی ethos سے بندھا ہوا تھا، جب کہ ان کی شعری لسانی ہیئت فارسی اسلوب کی نمائندہ تھی۔ اس فرق کو وہ شخصیت کے “جہاتِ دوگانہ” کے طور پر پڑھتے ہیں۔اسی نظری زاویے سے “غالب اور تہذیبی لاشعور” کے عنوان سے ایک فصل میں وہ دکھاتے ہیں کہ کیسے غالب کی روزمرہ زندگی (پتنگ بازی، شطرنج، دلی کی تہذیبی لَے، آوارہ ماضی کی شیرینی) ان کے لاشعور میں ایک ہندی طرزِ زیست کے طور پر محفوظ تھا۔ دوسری طرف ان کی لسانی تربیت فارسی کے اسالیب سے ہوئی، جس کے نتیجے میں بیان و معنی کے مابین وہ تضاد پیدا ہوا جسے بعض ناقدین نے اغماض یا تعقید کا نام دیا۔ قاسم یعقوب اس تضاد کو فکری انبساط سمجھتے ہیں ،وہ دکھاتے ہیں کہ غالب کا شعور فارسی کے بیانیہ کی کائنات سے فیض اٹھاتا ہے، جبکہ لاشعور ہندوستانی معنویت کے امتیاز کے تحت دنیا کو پڑھتا ہے۔
قاسم یعقوب نے اس کتاب میں گوپی چند نارنگ کی کتاب “غالب معنی آفرینی ، جدلیاتی وضع ، شونیتا اور شعریات” سے مکالمہ کرتے ہوئے بحث کو آگے بڑھایا ہے ۔قاسم یعقوب نے غالب کی فکری تشکیل میں ہندی دانش (بودھ مت، ویدانت اور جین مت) کے بنیادی تصورات کو نہایت صراحت اور ربط کے ساتھ موضوع بنایا ہے، خصوصاً تناسخ (Reincarnation)، کرما (Karma)، سنسا‌ر (Samsara)، موکشا (Moksha)اور شونیہ (Emptiness)۔ وہ سمجھتے ہیں کہ غالب کی کائناتی فضا میں عدمِ تکمیلیت (Incompleteness) ایک بنیادی کانسپٹ ہے؛” زندگی میں کوئی چیز بھی مطلق نہیں”زندگی ناقص ہے، وجود مسلسل کم ہوتا رہتا ہے اور حقیقت کسی “مطلق تعین” کی پابند نہیں۔ اس کے برعکس اسلامی،عربی فکر میں انسان کی فطری تکمیل کے زاویے کو وہ مختلف ابواب میں سامنے رکھتے ہیں۔ ان دو تہذیبی فریموں کے تقابل سے قاسم یعقوب غالب کی فکری ساخت میں کثرت اور جدلیاتی وجود کی موجودگی ثابت کرتے ہیں۔ہندی دانش کے زیرِ اثر غم اور دکھ کی معنویت،جسے غالب اپنی شاعری میں “محرکِ حیات” تک بنا دیتے ہیں۔قاسم یعقوب کے نزدیک یہ ایک وجودی المیہ نہیں بلکہ تخلیق کی اصلی قوت ہے۔ مثلاً:
؎قیدِ حیات و بندِ غم، اصل میں دونوں ایک ہیں/موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟
قاسم یعقوب ایسے اشعار کو جدلیاتِ نفی (Dialectics of Negation) کے تحت سمجھتے ہیں،یعنی تجریدی اثبات کے بجائے متضاد کیفیاتی عناصر کی باہمی کشمکش کے اندر سے معنی کا ظہور۔ تاہم ان کی ایک اہم تنقید یہ ہے کہ غالب “شونیہ” کے محض خلا پر نہیں ٹھہرتے، وہ پوزیشن لیتے ہیں، ایک رخ کا انتخاب کرتے ہیں، زندگی سے وابستگی رکھتے ہیں۔یعنی “نفی کے بعد خاموشی نہیں، نیا نظامِ معنی بنتا ہے۔”
کتاب کا ایک اہم باب “متنِ غالب: فکر یا جذبہ؟” ہے، جس میں یعقوب تصریح کرتے ہیں کہ شاعری کی حقیقی تخلیق صرف جذبات سے نہیں، اس کے لیے فکری جستجو بھی ناگزیر ہے۔ لیکن غالب کے ہاں یہ ترتیب فکر سے جذبے کی طرف چلتی ہے، جب کہ میر کے ہاں اس کے الٹ؛یعنی جذبے سے فکردکھائی دیتی ہے۔ قاسم یعقوب کے مطابق غالب ایک فلسفیانہ ذہن کا حامل انسان ہے جو کائنات کی عقلی تفہیم کی طرف بڑھتا ہے، پھر اسے حسّی سطح پر منتقل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں بالخصوص اسلوب، منطق اور تناظر کی پیچیدگی سامنے آتی ہے۔”شعر، جذبہ اور فکر کے باہمی سفر کا نام ہے”یہی ان کا تنقیدی فیصلہ ہے۔یہاں قاسم یعقوب جدید ذہنی علوم؛نیوروسائنس، لسانی نفسیات کی بحث بھی سامنے لاتے ہیں کہ جذبہ امیگڈالا کا فوری ردّعمل ہے، جب کہ پری فرونٹل کارٹیکس میں فکر کی ترتیب بنتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ غالب کے ہاں یہ دونوں سرگرمیاں ایک ہی متن میں ہمہ وقت رواں رہتی ہیں؛ کہیں فکر حاوی ہوتی ہے، کہیں جذبہ۔ ان کے نزدیک یہی بات غالب کو “متنِ کثیرالمعنی” بناتی ہے۔”غالب کا شعر معنی کے ایک سے زیادہ مرکز رکھتا ہے۔”یہ بات پوری کتاب میں بار بار استناد کے ساتھ ثابت کی گئی ہے۔
قاسم یعقوب کے پاس ایک بڑا سوال یہ ہے کہ غالب کے ہاں منظم فکر کیوں پوری فلسفیانہ صورت میں سامنے نہیں آتی،جیسے اقبال کے ہاں۔ وہ اس سوال کا جواب ثقافتی اضافیت (Cultural Relativism)، لسانی جبر، سماجی ساختیات اور خطابیہ طاقت کے نظریات کے ذریعے دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک معنی کبھی مکمل حالت میں ایک ہی نظام میں بند نہیں ہوتے؛ وہ مختلف تہذیبی، زمانی اور نفسیاتی سیاق میں نمودار ہوتے ہیں۔ غالب کے ہاں ایک فکر کو مختلف شعروں میں پھیلتی ہوئی کائنات کی طرح سمجھا جانا چاہیے:
“ہر نفس نو می شود دنیا و ما / بے خبر از نو شدن اندر بقا”(رومی)۔یعنی معانی میں مسلسل تجدد اور باطن میں ایک وحدت۔
اس ضمن میں یعقوب نے “دل” کو بطور علامت مثالی انداز سے پڑھا؛دل کی تراکیب، دل کی معنوی محوریت، دل بطور کائناتی آئینہاور بتایا کہ کیسے غالب کے ہاں ایک چھوٹا لفظ بھی Epiphany یعنی ناگہاں انکشاف کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔”دل تو گویا باطنی کائنات کا طلسمی دروازہ ہے”—یہی ان کا عرفانی نکتہ بھی ہے۔
قاسم یعقوب کا ایک بڑا امتیاز ان کا تاریخی شعور ہے۔ وہ غالب کے عہد اور اس کے سماجی،سیاسی تغیرات (ایسٹ انڈیا کمپنی کا عروج، کلکتہ اور دہلی کی تہذیبی دوئی، دلی کالج اور ایشیاٹک سوسائٹی، بعد ازاں سر سید کی سائنٹفک سوسائٹی)کے توسط سے یہ بتاتے ہیں کہ غالب کی فکری تنہائی دراصل ایک انومیا (Durkheimian Anomie) کی صورت تھی،ایک ایسا خلا جہاں قدیم تعبیر کے سہارے باقی ہیں مگر نئے زمانے کی علّتیں بھی دستک دے رہی ہیں۔”نیا سماج ظاہری تبدیلی تھا، غالب نے اسے باطنی کسوٹی پر جانچا” ۔غالب نے اس عصر میں جدید موضوعات کے ظاہری پرچم اٹھانے کے بجائے معنی کی کائناتی سطح پر سوال اٹھائے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اس کے کلام میں عہد ساز فکری خیالات الفاظ کے پردے میں موجود رہتے ہیں۔
“ماہ نیم ماہ “کئی طرح سے غالب شناسی میں نئے در کھولنے کی کامیاب کوشش ہے ۔ اولاً یہ غالب کے متن میں لسانی، نفسیاتی اور تہذیبی جہات کی بین المتنی ربط سازی کرتی ہے۔ ثانیاً یہ روایتِ نقد پر انحصار کرتی ہے مگر اس کا بیانیہ دقیانوسی نہیں بنتا۔بالخصوص خلیفہ عبدالحکیم، شیخ اکرام اور نارنگ جیسے اہلِ علم کی آراء سے تخلیقی اخذ و استرداد قائم کرتی ہے۔ ثالثاً قاسم یعقوب نے محض توضیحی شرح کی روش نہیں اختیار کی بلکہ یہ کہہ کر کہ “غالب کی شعریات معنی کے اندر معنی پیدا کرنے کا عمل ہے” ،فکری تعبیریت کی نئی فضا بنائی ہے۔
ہاں، ایک تنقیدی جرح یہ ممکن ہے کہ کہیں کہیں ہندی دانش کے مسائل،خصوصاً شونیہ اور نروانکو غالب کے حوالے سے زیادہ اہمیت دے دی گئی ہے، جب کہ غالب کا اسلامی تہذیب و فکری نظام بھی اتنا ہی مرکزیت رکھتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ بات واضح ہے کہ قاسم یعقوب نے ان تصورات کو طریقِ کار (method) کے طور پر پڑھا ہے،اور بخوبی برتا ہے ،”غالب کے ہاں شونیہ خاموشی نہیں،حیات کی ایک اور تعبیر ہے”کتاب یہی تمنائے معنی عطا کرتی ہے۔مختصر یہ کہ “ماہِ نیم ماہ؛ غالب، شخصیت اور شعریات” ایک ایسی کتاب ہے جس نے غالب کے متن، غالب کی ذات اور غالب کے عہد سے نئے طرز کا مکالمہ قائم کیا ہے۔یہ مکالمہ تحقیق بھی ہے، تنقید بھی، فکر بھی اور تخلیق بھی۔ یہ کتاب غالب کو محض شاعر نہیں بلکہ فکری وجود سمجھنے کی دعوت دیتی ہے۔ Qasim Yaqoob قاسم یعقوب نے جس صبر، وسعتِ مطالعہ اور تنظیمِ فکر سے یہ کارنامہ انجام دیا ہے، جو معاصر اردو تنقید میں ایک اہم حوالہ بن سکتا ہے،خصوصاً ان لوگوں کے لیے جو غالب کو نئی زاویۂ نگاہ سے دیکھنا چاہتے ہیں اور جو شاعری میں صرف حُسنِ بیان نہیں بلکہ حُسنِ معنی کی تلاش رکھتے ہیں۔قاسم یعقوب نے غالب کے کلام میں پوشیدہ تہذیبی، نفسیاتی اور فکری پرتوں کی علمی قرأت کے ذریعے غالب شناسی کو مسلسل مکالمہ بنا دیا ہے؛ایک ایسا مکالمہ جو ماہِ نیم ماہ کی طرح نہ مکمل ہے، نہ نامکمل،بلکہ ہمیشہ اپنے ہونے کی طرف سفر کرتا رہتا ہے۔

julia rana solicitors

بشکریہ فیس بک وال

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply