متحدہ قومیت اور دو قومی نظریہ
متحدہ قومیت(composite nationalism) ایک نوآبادیاتی مزاحمتی نظریہ تھا، جو ہندوستان کی “کثرت میں وحدت” کی روایت سے جڑا تھا۔ اس میں مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے لوگ ایک وطن اور اجتماعی مفاد کی بنیاد پر ایک قوم سمجھے جاتے تھے ۔ یہ دو قومی نظریہ کے برعکس تھا، جو مذہب پر زور دیتا تھا۔
یہ تصور انگریزوں کی تقسیم اور حکمرانی کی پالیسی کو چیلنج کرنے کے لیے آیا، مگر 1909 کی مارلے منٹو اصلاحات میں مسلمانوں کو علیحدہ حلقے دینے سے یہ کمزور پڑا۔
مولانا آزاد، حسین احمد مدنی، خان عبدالغفار خان اور گاندھی ، کانگریس وغیرہ اس کے حامی تھے، جبکہ مسلم لیگ، ہندو مہاسبھا، سر سید، ساورکر، مونجے اور جناح دو قومی نظریہ کے قائل تھے۔ اصل بحث نمائندگی اور اقتدار کی تقسیم پر تھی، صرف مذہب پر نہیں۔
متحدہ قومیت کے مقابلے پر برطانوی حکومت نے مسلم لیگ اور ہندو مہاسبھا کو اہم پلیئر کے طور پر استمال کیا ۔
کمیونٹی اور وسائل کی تقسیم
پارتھا چیٹرجی کے مطابق نوآبادیاتی ریاست نے ہمیشہ وسائل اور صوبائی سرحدوں کو اپنے حق میں استعمال کیا۔ مرکز زیادہ وسائل اپنے پاس رکھتا اور صوبوں اور قومیتی اکائیوں کے بیچ مقابلے اور کشیدگی کو مسلسل بڑھایا جاتا ۔ جھگڑوں کو اکثر “لسانی یا شناختی مسئلہ” بنا کر نئی تقسیم یا سرحدیں تجویز کی جاتیں، تاکہ اصل طاقت کو چیلنج نہ ہو۔ یہ “Passive Revolution” تھی، عوام کو لسانی ، شناختی مسائل میں الجھانا ، لڑانا تا کہ اصل اسٹرکچر یا مرکز کی طرف دھیان نہ جائے ۔اور چھوٹی اصلاحات کر کے عوام کو مطمئن کرنا مگر مرکز کو مزید طاقتور بنانا۔
بھارت میں 1950 کی دہائی میں صوبوں کی لسانی بنیاد پر تشکیل (آندھرا پردیش، تمل ناڈو، مہاراشٹر، گجرات وغیرہ) کو ثقافتی شناخت کا احترام کہا گیا، مگر دراصل حدود اس طرح کھینچی گئیں کہ صنعتی، آبی اور زرعی وسائل پر مرکز یا غالب طبقہ کنٹرول رکھ سکے۔ 2000 میں جھارکھنڈ، اتراکھنڈ اور چھتیس گڑھ جیسے نئے صوبے بنائے گئے، جن میں معدنیات اور جنگلات کا کنٹرول الگ ایلیٹ کے پاس آ گیا۔
(پاکستان میں بھی جنوبی پنجاب اور بلوچستان ایسی ہی صورتحال سے دو چار ہیں )
بنگال اور پنجاب کی تقسیم
جویا چیٹرجی ( “The Spoils of Partition: Bengal and India, 1947–1967”) کے مطابق صوبائی حدبندی اور پنجاب و بنگال کی تقسیم صرف مذہب نہیں بلکہ وسائل اور طاقت کی نئی بندربانٹ تھی۔
اگرچہ سرحدیں اس بنیاد پر کھینچی گئیں جہاں مذہبی اکثریت تھی، لیکن زمین، نہریں، تجارتی مراکز اور ریاستی ادارے، سرکاری نوکریاں ، انتظامی امور ، پولیس ، فوج کے اعلی عہدے نئی اشرافیہ کے ہاتھ میں دے دیے گئے، تاکہ عالمی نوآبادیاتی طاقتیں انہی اشرافیائی نمائندوں سے سودا بازی کریں۔ بٹوارے کے نتیجے میں حاصل ہونے والا مال غنیمت نیی اشرافیہ کے ہاتھ آیا ، عوام خالی ہاتھ رہے ۔عام لوگ بے دخل ہوئے، سستی مزدوری پر آ گئے، بٹوارے اور ہجرت کے دکھ اور نفسیاتی صدمات کو مالیاتی اور حکومتی بیانیے تلے دبا دیا گیا ۔
Composite nationalism اور روایتی ڈھانچہ سے طاقت
اگرچہ ریاست نے ترقی ، معیشت کے جدید ڈسکورس میں عوام ، اداروں اور مسائل کو غیر سیاسی (depoliticized )بنا کر مرکز کا کنٹرول قائم کیا اور سماج کو ٹکڑوں میں بانٹا ۔مگر متحدہ قومیت (composite nationality) کا تصور کافی حد تک قائم رہا جس کے تحت مختلف مذہبی، لسانی اور ثقافتی برادریاں اپنی شناخت کے ساتھ قومی سیاست میں شامل رہتی تھیں۔اور وسائل کی حصہ دار بھی رہتی تھیں ۔
یہ ماڈل برابری کے ساتھ ساتھ تنوع کو تسلیم کرتا تھا اور فرق ختم کرنے کے بجائے سب کو ساتھ رکھنے پر زور دیتا تھا۔اسکی بنیاد پر ہر اقلیت اور گروہ کے “مرکز” میں وسائل کی تقسیم کے کوٹے وغیرہ موجود تھے ۔یہی کوٹے اور ریزرویشن marginalized گروہوں کے لئے زندہ رہنے اور نمائندگی حاصل کرنے کا واحد ذریعہ تھے۔
مثال کے طور پربرطانوی نو آباد کار کے خلاف کیی تحریکیں اسی بنیاد پر پرانے روایتی انداز میں شروع ہوئیں
سوادیشی تحریک (1905–09): جو بھی غیر ملکی سامان خریدے اُس کا بائیکاٹ کیا جائے۔
خلافت-عدم تعاون تحریک (1919–22): جو سرکاری افسروں سے تعاون کرے اُسے سماجی طور پر الگ تھلگ کیا جائے۔
یہ بالکل ویسا ہی تھا جیسے ذات توڑنے پر سماجی سزا دی جاتی تھی۔
پوسٹ کولونیل ریاست اور برادری کی سیاست
آج بھی لوگ برادری یا ذات کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں۔ لبرل طبقہ جسے “پس ماندگی” کہتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ مقامی سیکیورٹی اور رشتوں کا پرانا نظام ہے جو لوگوں کو ریاست کے غیر منصفانہ کنٹرول سے بچانے کا ایک ذریعہ رہا ہے۔ جب ریاست سب کے لیے مساوی انصاف دینے میں ناکام ہو، تو لوگ اسی برادری پر انحصار کرتے ہیں جو انہیں روزمرہ تحفظ اور مدد دیتی ہے۔
“خالص سیاست” کا نعرہ
آزادی کے بعد نعرہ یہ دیا گیا کہ “خالص سیاست” (pure politics) ہونی چاہیے جس میں زات یا مذہب شامل نہ ہو۔ترقی اور ڈویلپمنٹ کے نام پر ریاست نے فیصلہ سازی کو “ٹیکنوکریٹس” اور ماہرین کے پاس رکھا، عوامی نمائندوں کو مشکوک یا کرپٹ قرار دیا۔
یوں وسائل (زمین، پانی، صنعت) پر قبضہ مرکز کے ہاتھ میں گیا اور عوام کی bargaining capacity محدود کر دی گئی۔
اس طرح اشرافیہ نے عوامی سیاست یا “grassroots bargaining” کو ناپاک، کرپٹ یا غیر شفاف قرار دے کر مسترد کرنے کا طریقہ بنا لیا۔ جیسا کہ چٹرجی نے کہا کہ “خالص سیاست” (pure politics) کا نعرہ اکثر ان گروہوں کی آواز دبانے کے لیے ہوتا ہے تاکہ طبقاتی اور شناختی سوالات کو پسِ پشت ڈالا جا سکے۔
پسماندہ طبقات کے لئے ریزرویشن یا کوٹہ کی بحث کو بھی “فرقہ وارانہ” یا “نااہل” پالیسی کہہ کر رد کیا گیا۔اسی تسلسل میں ریزرویشن یا مخصوص نشستیں بھی “sectional politics” کہلائیں۔ یعنی اگر کسی کمیونٹی کو تعلیم یا ملازمت میں کوٹہ دیا گیا تو اسے کہا گیا: یہ قومی وحدت کے خلاف ہے، یہ ذات پرستی ہے۔ میرٹ کے خلاف ہے ۔ لیکن در حقیقت ان نعروں کی آڑ میں کمیونٹی کا کوٹہ چھین کر اونچی ذاتوں اور اشرافیہ کو خوش کیا گیا ۔
جیسا کہ میں 1990 میں منڈل کمیشن نے سفارش کی کہ 27% سرکاری نوکریاں اور تعلیمی اداروں میں نشستیں OBCs (نچلے طبقات )کے لیے ریزرو کی جائیں۔ مگر براہمن اور دوسرے اشرافیہ نے اسکو میرٹ کے خلاف کہہ کر بڑا احتجاج کرایا اور خالص سیاست کی آڑ میں کوٹا ختم کرادیا گیا ۔
کامپوزٹ نیشنلزم سے سیکولر ریاست تک
آزادی کے بعد یہ ماڈل سیکولر ریاست کے تصور میں ڈھل گیا، جس نے ایک شہری، ایک قانون اور ایک قومی شناخت کو بنیادی اصول بنا لیا۔ بظاہر یہ برابری اور غیر جانبداری کا وعدہ تھا، مگر حقیقت میں اس سے کمیونٹی کی اجتماعی شناختیں کمزور ہوئیں اور نوآبادیاتی ریاستی ڈھانچہ برقرار رہا۔ کوٹے، نمائندگی اور زبان جیسے اجتماعی حقوق کو “یکساں شہری” کے تصور کے نیچے دبا دیا گیا۔ نتیجتاً اقلیتوں اور چھوٹی قومیتوں کی bargaining power ختم ہوئی، اکثریتی کمیونٹی کو غلبہ ملا ، جبکہ مرکز اور اشرافیہ مزید طاقتور ہو گئے۔
یہ تبدیلی عالمی طاقتوں اور نیو لبرل سرمایہ داری کے لیے موزوں تھی کیونکہ depoliticized افراد ایک آسان consumer اور governable شہری بن گئے۔ یوں متحدہ قومیت کا تصور، جو طاقت کی تقسیم اور تنوع کے احترام پر مبنی تھا، درآمد شدہ سیکولرازم میں بدل کر homogenization، مرکزیت اور اشرافیائی غلبے کا ذریعہ بن گیا۔
یہ نوآبادیاتی ورثہ آج بھی بھارت اور پاکستان کی سیاست پر اثرانداز ہے۔ ایک طرف ریاست “ایک قوم” کے مرکزی خیال کو بڑھاوا دیتی ہے، دوسری طرف جب اشرافیہ کے مفاد میں ہو تو برادریوں اور گروہی تقسیم کو ہوا دیتی ہے۔۔کبھی فسادات بھڑکا کر، کبھی کسی خاص گروہ کو فوقیت دے کر، اور کبھی علاقوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر کے۔
ہندوستان میں اصل قوم پرستی communal شناختوں سے نہیں بلکہ پری نوآبادیاتی لچکدار شناختوں سے طاقت لیتی تھی، جہاں لوگ بیک وقت کئی کمیونٹیز کا حصہ ہو سکتے تھے اور cross-cultural اتحاد بنا سکتے تھے۔ اس طرح کوئی ایک “pure identity” نہیں تھی بلکہ روزمرہ کی زندگی میں مختلف دھاگے جُڑ کر ایک وسیع ہندوستانی تجربہ بناتے تھے۔ یہی composite quality “ہندوستانیت” کا بیج تھی۔
حقیقی قوم پرستی، چاہے وہ سامراج مخالف دور میں ہو یا آج کے بعد از نوآبادیاتی زمانے میں، دراصل سب لوگوں کو ایک ساتھ جوڑنے کا نام ہے۔ اس کا مقصد شناختوں کو مٹانا نہیں بلکہ ان سب کو ایک مشترکہ سیاسی منصوبے میں جگہ دینا ہے، جہاں سب برابری، حقوق اور مشترکہ مقاصد کے ساتھ شریک ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ چندری چیٹرجی، گوہا اور دوسرے مفکرین کہتے ہیں کہ نوآبادیاتی “کمیونل لیڈر” ماڈل دراصل حقیقی قوم پرستی نہیں تھا، کیونکہ وہ گروہوں کو سخت خانوں میں مقید کر کے ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرتا تھا۔ حقیقی قوم پرستی تنوع سے طاقت حاصل کرتی ہے، تقسیموں کے پار اتحاد بناتی ہے اور سب کو اس بات کا شریک مانتی ہے کہ آزادی، استحکام اور عزت صرف اجتماعی شرکت سے ہی ممکن ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں