حبیب اکرم کے نام۔۔میاں حبیب اللہ خان

جناب حبیب اکرم صاحب جب بھی آپکو دنیا نیوز  پر دیکھتا ہوں تو بہت خوشی ہوتی ہے کہ سرگودھا سے آکر آپ نے صحافی کے طور پر عزت حاصل کی ہے اسکی وجہ ایک تو راقم بھی سرگودھا کے Demontmorencyکالج کا گریجوایٹ ہے۔ اور جب میں پنجاب یونیورسٹی میں ماسٹر کلاس میں داخل ہوا تھا تو لاہور کے رہائشی کلاس فیلوز مجھے ایک سال تک سرگودھا کا دیہاتی ہی شمار کرتے رہے آپ کو بھی یقیناً ایسی ہی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا ہوگا۔ مجھے بڑی محنت کر کے لاہوریوں سے منوانا پڑا تھا۔ کیونکہ سرگوھا سے آکر کوئی نہ کوئی بونگی مار ہی بیٹھتا تھا۔

ایسی ہی حالت آپ کی بھی ہے ایک شام کے پروگرام میں  اپنے عمران خان کی حکومت کے تمام لوگوں کو نااہل، اور نالائق قرار دیا تھا۔ اور عموماً آپکا ہر پروگرام شروع ہی عمران خان اور اسکے وزراء کونالائق قرار دینے سے ہوتاہے۔ اس دن آپ نے اپنی ”ذہانت“ کے جوش میں عمران خان کے فنانس کے دونوں صاحبان رضا باقر اور حفیظ شیخ کو یہ تک کہہ  دیا کہ انکو فنانس کے بارے میں کچھ علم نہیں یہ بہت نالائق لوگ ہیں اور اس ملک کے خیر خواہ بھی نہیں ہیں۔ رضا باقر IMFکا ملازم ہے اور پاکستان IMFکو بیچ دے گا۔ حبیب اکرم صاحب جس طرح آپ اس ملک سے محبت کرتے ہیں اسی طرح اس ملک کا ہر شہری اپنے دیس سے محبت کرتا ہے۔ آپ نے ان دونوں معزز حضرات کو مشورہ دیا کہ وہ اگر FAکے کورس کی معاشیات کی کتاب ہی پڑھ لیں تو انکو کافی علم حاصل  ہو جائے گا۔ اس سے بڑی بونگی کوئی نہیں ہوسکتی۔ رضاباقر ہاورڈ یونیورسٹی کا گریجوایٹ ہے اور Economicsمیں بارکلے یونیورسٹی کا PhDہے۔ اسی طرح حفیظ شیخ نے بوسٹن یونیورسٹی سے ماسٹر کرکے PhD کی اور اس کے بعد ہاورڈ یونیورسٹی میں فنانس کا پروفیسر رہا۔
عمران خان نے فنانس کا  شعبہ دو لائق ترین PhDکے حوالے کردیا ہے۔ تمام فیصلے  وہ خود کرتے ہیں۔ یہ دونوں حضرات عمران خان کے رشتہ دار نہیں ہیں۔ نواز شریف جب بھی اقتدار میں آتا تھا اپنے رشتہ دار اسحاق ڈار کو تمام فنانس کے معاملات کا بغیر کسی شرکت کے انچارج بنادیتا تھا۔ جو اسکے گھر کا آدمی تھا۔ اب اس کی قابلیت دیکھیں جو لاہور کے کامرس کالج کا تھرڈ کلاس چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ تھا۔ اور تعلیم کے بعد صرف ایک نوکری نذیر اینڈ کمپنی میں بطور اکاؤنٹنٹ کی۔ جو صرف ٹیکس چوری کرنے کے گُر کے علاوہ کچھ نہ تھی۔Fudgingکا ماہر تھا۔ تمام رپورٹس جعلی بنواتا تھا اور پاکستان ساری دنیا میں ایک فراڈ فنانس کے لئے مشہور تھا۔ ڈالر کی جعلی Valueرکھی ہوئی تھی۔ جسکی وجہ سے جب ڈالر کو Openکیا گیا تو اسکی اصلی Valueآگئی۔ اگر پاکستانی روپیہ مضبوط ہوتا تو ڈالر اس جگہ نہ پہنچتا۔ لیکن اسکی قابلیت کا آپ نے کبھی ذکر نہیں کیا۔اسحاق ڈار کا سب سے پہلا کام ہوتا تھا کہ تمام سرکاری بنکوں میں کوئی خواجہ،ڈار یا کشمیری لگایا جائے جن کو صرف یہ ذمہ داری دی جاتی تھی کہ وہ شریف فیملی کو زیادہ سے زیادہ Loanدیں۔پنجاب بنک میں دس سال تک نعیم الدین کو پریزیڈنٹ بنا کر رکھا جو صرف شریف فیملی کی خدمت گزاری کرتا تھا۔ پنجاب بنک میں جب بھی کوئی President لگا وہ صرف چیف منسٹر پنجاب کی رضا سے ہوتا تھا۔ یہ پنجاب بنک کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ ایک انتہائی لائق بینکرجو کراچی کی ایک معزز پڑھے لکھے امروہی خاندان سے تعلق ہے اسکی تقرری  نہ تو عثمان بزدار کا کوئی عمل ہے اور نہ ہی عمران خان کا۔ یہ صرف Meritپر ہوا ہے اور یہ سب کچھ حفیظ شیخ کا چناؤ ہے۔
آپ بڑے تواتر سے عمران خان کو نالائق نا اہل کہتے ہیں۔ اس سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ آپکی لکھی ہوئی کتابیں ہاورڈ اور برکلے یونیورسٹی میں پڑھائی جاتی ہیں۔
میرے  دوست! آپ اورمجھے ہاورڈ یونیورسٹی جو دنیا کی نمبرون یونیورسٹی ہے اسکے اندر کوئی داخل بھی ہونے نہ دے۔ تو حبیب اکرم لوگوں کو نالائق کہنے سے پہلے ضرور سوچیں کہ کیا آپ اس پوزیشن میں ہیں کہ ہاورڈ یونیورسٹی کے PhDکو نالائق کہیں۔وہاں داخلہ سفارش پر نہیں ملتا۔یہ لائق تھے تو وہاں پہنچے۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ اتنے لائق PhDکارِسرکار میں شامل ہوئے ہیں اس کو کہتے ہیں ”تبدیلی“۔ ہمیں ان قابل لوگوں پر فخر کرنا چاہیے اور ان کی عزت کرنی چاہیے کہ امریکہ اور برطانیہ کی بہت اچھی نوکریاں چھوڑ کر پاکستان کو بہتر بنانے کے لئے آئے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں کو بھی پاکستان سے محبت ہے اور مادرِوطن کے وفادار ہیں جس طرح آپ اور میں ہیں۔
آج کل آپ بقول جناب رؤف کلاسرا کے اپنی چونچ گیلی بلکہ میٹھی کرتے نظر آرہے ہیں۔ جو شوگر مافیا کی حمایت میں کالم لکھ رہے ہیں۔ خوشحالی کیلئے قلندر کو کچھ نہ کچھ جدوجہد توکرنی ہی پڑتی ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *