کہتے ہیں، راستہ منزل سے زیادہ پُرکشش ہوتا ہے۔ امسال قونیہ حاضری قدرے مختلف تھی۔ ایک تویہ کہ بائی روڈ اپنی گاڑی پر سفر تھا اور دوسرا یہ کہ راستہ فی الواقع پُرکشش تھا۔ چناکلے سے قونیہ جاتے ہوئے اچانک جناب یونس ایمرے کے ہاں حاضری ایک مرقع حیرت تھا۔ پھر شارٹ کٹ لگاتے ہوئے ترکی مضافات میں چند گھنٹے کا سنسنی خیز سفر ایک الگ قسم کا تجربہ رہا۔ راستے کو مزید دلکش بنانے کے لیے بیٹے نے گاڑی میں صوفیانہ کلام لگا دیا۔ پہلا کلام ہی دل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کرنے کے لیے کافی تھا۔ مرشدی حضرت واصف علی واصف کا معروف کلام ’’میں نعرہِ مستانہ‘‘ عابدہ پروین کی آواز میں گوش بر آواز ہو کر گوشِ مشتاق کی تاروں کو چھیڑ رہا تھا۔ کلامِ مرشد ہو، ذکر اس خوبرو کا ہو، تو پھر سہیلیاں کیوں نہ یاد آئیں۔ جلترنگ سننے کے لیے ترنگ میں آئی ہوئی سکھیوں کا ہونا ضروری ہے۔ میں نے فوراً ہمدمِ دیرینہ محمد یوسف واصفی کو وڈیو کال پر ساتھ لے کر ہم سفر کر لیا۔ یوسف صاحب نے فی البدیہہ اس سفر کے حوالے سے چند اشعار کہے:
ذکرِ حیدر ہے اور قونیہ کا سفر
کیف و مستی سے ہو گا نہ ہرگز مفر
کیسے قائم رہیں گے یہ ہوش و خرد
اپنے مہماں پہ جب وہ کریں گے نظر
فیضِ تبریز سے ہوں گے لبریز ہم
ہو گی شمسِ جنوں سے خرد کی سحر
قونیہ ہو کہ لاہور و اجمیر ہو
حسنِ حیدر ہوا جا بہ جا جلوہ گر
ایسے معلوم ہو رہا تھا جیسے ہم خود نہیں جا رہے، کوئی ہمیں لیے جا رہا ہے۔ ایسا سفر جس میں کوئی تھکن کے آثار نہ ہوں، اسے کیا کہیں گے سفر یا قیام؟ ہم اس قابل کہاں کہ ہمیں لے جایا جائے، ہاں! ایک نسبت ہے، اسی پر اعتماد کرتے ہوئے سفر و حضر کے مراحل طے ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک بلند نسبت ہے جو سرنگوں نہیں ہونے دیتی۔ ہمارا گرنا، ان کے نام پر دھبہ بھی تو ہے، اس لے شاید تھامنے والے ہمیں گرنے نہیں دیتے۔
القصہ! ہم ترکی کی اوتوبان یعنی موٹر وے، جو انقرہ کو قونیہ سے ملاتی ہے، اس پر بعد از خرابیِ بسیار چڑھ گئے۔ یہاں سے راستہ سیل و سہل تھا۔ یہ مختصر قافلہ رات دو بجے کے قریب قونیہ کی حدود میں داخل ہوا۔ قریب کے ہوٹل میں جا وارد ہوئے۔ وہاں ہاؤس فل تھا۔ لوگ بڑی دور دور سے یہاں زیارت کے لیے آتے ہیں۔ ریسیپشن میں موجود نوجوان نے ہمارے نوجوان کو بتایا کہ ایک اور ہوٹل ہے، وہ
زیارت گاہ کی حدود سے چند قدم کے فاصلے پر، وہ بھی ہمارا ہی ہوٹل ہے، شاہراہ کی بجائے ایک گلی میں ہے، اس لیے لوگوں کی نگاہ سے اوجھل ہے، میں آپ کو وہاں لیے چلتا ہوں، وہاں اسی کرائے میں صبح کا شاندار ناشتہ بھی ملے گا۔ ہم خوش۔ مجھے یہ خوشی تھی کہ یہ بالکل ہی ’’حدودِ حرم‘‘ سے تقریباً متصل تھا۔ رات جتنی بھی باقی تھی، سو کر گزاری۔ حالانکہ جاگ کر گزارنا چاہیے تھی۔ ہم سیاح، نہیں زائر تھے۔ ہم پر فرض تھا کہ صبح تہجد کے لیے اٹھتے، صاحبِ مزار کے لیے دو رکعت ہدیہ کرتے اور پھر صبح حاضری کے لیے جاتے۔ بزرگوں کے پاس جائیں تو کچھ تحفہ ہاتھ میں ساتھ ہونا چاہیے۔ بچے کے تحفے کے جواب میں وہ کوئی بڑا تحفہ ہی دیں گے۔ فایدے میں ہمِیں ہوں گے۔ تساہل، سستی بہت بُری چیز ہے۔ پہلے خیال پر لبیک کہنے کا حکم ہے۔ سستی اور کاہلی پہلے خیال کو نظر انداز کرنے کی سزا ہے۔ ہم جب تساہل کرتے ہیں تو خیال کا طائرِ قدس کہیں اور اڑان بھر لیتا ہے۔ ہم وہ لوگ ہیں، سستی کے مارے، وجود کے جمود سے عاجز، کہ اگر ہمیں معلوم بھی ہو جائے کہ علی الصبح جو شخص شہر میں داخل ہو گا، اس کے سر پر ہما بیٹھ جائے گا، ہماری صبح پھر بھی دس بجے ہو گی۔ مسنون دعاؤں میں کاہلی اور سستی سے نجات کی دعائیں بھی شامل ہیں۔
برخوردار نے صبح نو بجے قونیہ کے نواح میں اپنی کمپنی کے کام نکلنا تھا۔ چنانچہ اس کے ساتھ سرکاری ناشتہ کرنے کے بعد ہم نے اسے الوداع کر دیا۔ وہ گاڑی لے کر نکل گیا اور ہم خراماں خراماں مزارِ اقدس کی طرف چلنے لگے۔ ہماری قیام گاہ کی جانب مزار سے باہر نکلنے کا راستہ تھا، یعنی cikis چکش بمعنی exit تھا۔ گرس Gris یعنی داخلہ entry دوسری طرف تھا۔ چنانچہ ہم قدیم دیوار کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے دوسری طرف گھوم کر گئے، اس مرتبہ داخلہ فری تھا۔ خانقاہ کی قدیم آٹھ سو سال کی عمر کی چوکور سیاہ پتھروں سے بنی ہوئی دیوار کے ساتھ نو بیاہتا جوڑے بھی دیکھے گئے جو سرخ گلابوں کا گلدستہ ہاتھ میں لیے یہاں فوٹو شوٹ کے لیے آئے ہوئے تھے۔ یہاں دلہنیں یورپی انداز میں سفید لباس پہنتی ہیں۔ دلہا میاں یہاں کی طرح سوٹ بوٹ میں ہوتے ہیں۔
احاطے میں داخل ہوئے تو مزار کے اندرونی صحن میں جانے کے لیے دو دروازے تھے۔ پہلے دروازے پر لکھا تھا، ’’بابِ گستاخان‘‘ معلوم نہیں ترکی میں گستاخان کا کیا مطلب ہو گا، ہم نے تو اسے اردو والا گستاخ ہی سمجھا، اور فیصلہ صادر کیا کہ ہم اس دروازے سے داخل نہیں ہوں گے۔ اس کے بعد کچھ دیر چلنے کے بعد ایک دروازہ نظر آیا، اس پر رقم تھا ’’بابِ چلیبان‘‘، یہ کچھ سمجھ میں آ رہا تھا، شاگردوں یا مریدوں کا دروازہ سو! ہم سر جھکا کر اس میں داخل ہو گئے تھے۔ اندرونی احاطے میں داخل ہوں تو بائیں طرف ایک بڑا سا محل نما ہال کمرہ ہے۔ یہاں داخلے سے قبل جوتوں پر ایک لفافہ چڑھانے کے لیے دیا جاتا ہے۔ سب لوگ جوتوں پر یہ مومی لفافہ پہن رہے تھے، میرا روحانی ذوق اس بے ادبی سے متاثر ہو رہا تھا، چنانچہ میں باہر ایک کونے پر بینچ کے نیچے اپنے جوتے اتار کر چوکھٹ کو چومتے ہوئے ننگے پاؤں ہی اندر داخل ہوا۔ اس بڑے سے ہال میں دائیں جانب بلند سی قبریں ہیں اور بائیں جانب تبرکات کا میوزیم ہے۔ مولانا کی تربت کے ساتھ ساتھ ایک قطار میں بہت سی دیگر تربتیں موجود ہیں ، جن میں ان کے والدِ گرامی شیخ بہاؤ الدین ولد، بیٹوں اور ان کے خاص مریدوں کی مرقدیں ہیں۔ تربتوں کے کوہان اتنے بلند ہیں کہ دیکھتے ہوئے ایک ہیبت سی طاری ہو جاتی ہے۔
جس طرح جناب یونس ایمرے کے ہاں حاضری کے دوران میں ملتان کے فہیم مہروی بے محابا یاد آئے، اسی طرح یہاں خانقاہ کی جانب جاتے ہوئے سویٹزر لینڈ کے ڈاکٹر عرفان مخدود نیر اچانک یاد آئے۔ میں نے جھٹ سے کال ملائی اور انہیں بتایا کہ ہم اس وقت مولانا رومی کے ہاں حاضری کے لیے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ’’صوفیا اور محبت قرآن و سنت کی روشنی میں‘‘ ایسی گراں قدر ایک ضخیم تحقیقی کتاب کے مصنف ہیں، اور آج کل مثنوی مولانا روم کے سہل اور آسان ترجمہ و تفہم پر دن رات کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے حسبِ سابق اپنے پُرکیف انداز میں مولانا کا شعر پڑھا۔ مرقدِ اقدس کے ہال کمرے میں داخل ہونے کے سمے اچانک نظر اٹھا کر دیکھا تو چوکھٹ پر وہی شعر رقم تھا۔ سائنس کے لوگ اسے اتفاق کہیں گے، ہم ایسے حسن کے خوگر حسنِ اتفاق! صدر دروازے پر بڑے بڑے حروف میں خط نستعلیق میں ’’حضرت مولانا‘‘ تحریر ہے، اور نیچے وہی شعر ہے:
کعب العشاق باشد ایں مقام
ہر کہ ناقص آمد ایں جا شد تمام
(یہ مقام عاشقوں کا کعبہ ہے، یہاں ناقص بھی آئے تو کامل ہو جاتا ہے۔)
اسی مفہوم کا ناز و ادا سے لبریز دعویٰ کرتا ہوا ایک فارسی شعر حضور داتا گنج بخش علی ہجویری کی خانقاہ ِ اقدس پر رقم ہے۔ یہ دعویٰ دراصل ’’حریص علیکم‘‘ کے مقتدی ہی کر سکتے ہیں۔ع
ناقصاں را پیرِ کامل، کاملاں را رہنما
ہم ایسے ناقصوں کی پناہ گاہیں یہی خانقاہیں ہیں۔ یہاں پہنچ کر بھرپور احساس ہوا کہ خانقاہ دراصل تزکیہ گاہ ہوتی ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں