• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ہندوستان میں ذات پات کا نظام -قدرتی یا نوآبادیاتی سیاسی انجینئرنگ/سائرہ رباب

ہندوستان میں ذات پات کا نظام -قدرتی یا نوآبادیاتی سیاسی انجینئرنگ/سائرہ رباب

جب ہم آج کے بھارت یا برصغیر میں ذات پات (Caste System) کی بات کرتے ہیں تو ذہن میں ایک سخت، جامد اور پورے خطے میں یکساں نظام کا تصور آتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نوآبادیاتی دور سے پہلے ذات پات اتنی سخت اور یکساں نہیں تھی۔ اس کی شکل مختلف علاقوں میں مختلف تھی، اور کئی جگہوں پر برہمنیت (Brahmanism) کی گرفت انتہائی کمزور ہو چکی تھی۔

پارتھا چٹرجی اور دوسرے مؤرخین بتاتے ہیں کہ بنگال، مشرقی بھارت، دکن اور جنوبی ہند سمیت کئی علاقوں میں برہمنیت یا تو کبھی مکمل طور پر قائم ہی نہیں ہوئی یا وقت کے ساتھ کمزور پڑ گئی۔ مقامی قبائل، صوفی تحریکیں، بھکتی اور لوکل مزاحمتی مذہبی گروہ اکثر برہمن دھرم کے اصولوں کو چیلنج کرتے تھے۔ کئی علاقوں میں ہندو اور مسلمان کسان مشترکہ تہوار مناتے اور شادی بیاہ کے اصول زیادہ سخت نہیں تھے۔

صوفی اور بھکتی تحریکوں کے علاوہ اور بھی باغی فرقے موجود تھے۔ مثال کے طور پر سہجیا فرقہ جسمانی پوجا اور روحانی آزادی پر زور دیتا اور وید یا شاستر کے اصول نہیں مانتا۔ ناتھ پنتھی یوگا اور خود نظم (Self Discipline) پر زور دیتے اور ذات پات کو رد کرتے۔ بلارامی فرقہ برہمن کے اختیار کو مسترد کرتا، ہندو اور مسلمان نچلے طبقوں کو یکجا کرتا اور ویدک منتر و برہمنی رسومات کا مذاق اڑاتا۔ اس طرح اکثریت برہمنیت کو اس شکل میں نہیں مان رہی تھی جیسی آج پیش کی جاتی ہے۔

انگریزوں نے آکر اس متنوع اور لچکدار نظام کو ایک “One Unit” ماڈل میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ مقصد یہ تھا کہ مقامی تنوع اور اتحاد کو توڑ کر ایک “مقدس قانون” (Sacred Law) کے تحت ہندو اور مسلم دونوں کے لیے علیحدہ اور سخت پرسنل لاز (Personal Laws) بنا دیے جائیں۔ اس کے نتیجے میں ذات پات کو “قدیم، مقدس اور ناقابلِ تبدیل” بنا کر پیش کیا گیا، بالکل ویسے ہی جیسے مسلمانوں کے لیے صوفی روایت کو ختم کرکے اسلامی فقہ اور شریعت نافذ کی گئی۔

انگریز سمجھتے تھے کہ اگر عوام کو اپنی پرانی، مشترکہ اور لچکدار روایات پر چھوڑ دیا گیا تو وہ سیاسی طور پر جڑ سکتے ہیں اور جمہوریت میں طاقتور اکثریت بن سکتے ہیں۔ اس لیے قانون کے ذریعے انہیں الگ الگ شناختوں میں باندھنا ضروری تھا۔ گرامچی کے مطابق طاقت صرف فوج یا قانون سے نہیں چلتی بلکہ ثقافتی “کامن سینس” سے چلتی ہے، یعنی حکمران طبقہ اپنی سوچ کو اتنا عام کر دیتا ہے کہ لوگ اسے خودبخود سچ ماننے لگتے ہیں۔ انگریزوں نے یہی حربہ استعمال کیا۔

برہمن کو “قدیم روایت کا محافظ” بنا کر پیش کیا گیا۔ مقامی لوگوں کو یہ باور کرایا گیا کہ ذات پات اور مذہبی قوانین “قدرتی” اور “سائنس یا عقل کے مطابق” ہیں، تاکہ تبدیلی کو غیر فطری یا غیر عقلی سمجھا جائے۔ چٹرجی کے مطابق ذات پات کا نظام پورے ہندوستان میں ایک جیسا نہیں تھا۔ ہر علاقے میں مختلف ذاتوں کے نام، رتبے اور تعلقات تھے۔ مثال کے طور پر بنگال میں “ہاڑی” سب سے نچلی ذات سمجھی جاتی تھی، لیکن دوسرے علاقوں میں یہ نام یا تو موجود ہی نہیں تھا یا اس کی حیثیت مختلف تھی۔

کئی علاقوں میں کسان اور زمین دار ایک ہی ذات یا قریبی ذات سے تعلق رکھتے تھے۔ بعض جگہ ہندو اور مسلمان کسان مذہبی فرق کے باوجود مشترکہ گروہ بنا لیتے اور ایک دوسرے کی حمایت کرتے۔ مقامی فرقے جیسے بلارامی، لال بیگی اور کبیر پنتھی کھلے عام وید، شاستر اور برہمنیت کو رد کرتے اور برابری کا پیغام دیتے۔ یہ لچکدار ڈھانچہ سماجی ہم آہنگی اور مشترکہ مزاحمت کا ذریعہ تھا۔

برطانوی مردم شماری نے اس پورے پیچیدہ اور لچکدار ڈھانچے کو ایک سخت، یکساں اور اوپر سے نیچے والے ماڈل (Hierarchical and Unified) میں بدل دیا۔ اس کے مطابق برہمن دھرم نے جو ذاتیں اور درجات مقرر کر دیے ہیں، وہ اٹل اور آفاقی ہیں۔ اس عمل سے وہ ذاتیں جو کسی علاقے میں نسبتاً بہتر پوزیشن رکھتی تھیں، سرکاری ریکارڈ میں ہمیشہ کے لیے “نیچ” درج ہو گئیں۔ مزید یہ کہ ہر شخص کی ذات قانونی دستاویزات میں درج ہونے لگی اور نوکری، زمین، ٹیکس اور عدالت میں فیصلے اس بنیاد پر ہونے لگے۔

اس کے نتیجے میں لوگ اپنی روایتی لچکدار شناختوں کی بجائے برطانوی بنائے ہوئے خانوں میں قید ہو گئے۔ مردم شماری، قوانین اور نوکریوں کے کوٹے اس طرح ترتیب دیے گئے کہ اوپر والی ذاتوں کو انتظامی اختیار ملے اور نچلی ذاتیں ان پر انحصار کرتی رہیں۔ مقصد تھا “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کو آسان بنانا اور برہمن ذات کو انتظامی امور میں برطانوی حلیف بنانا۔

یہ خالصتاً سیاسی کنٹرول کا ہتھیار تھا۔ نوکریاں اور زمین مخصوص ذاتوں کو دی گئیں، سیاسی نمائندگی محدود رکھی گئی اور اتحاد یا بغاوت کے خطرے کو ختم کیا گیا۔ آج بھی بھارتی آئین میں نوآبادیاتی دور کے کئی قوانین اور سماجی ڈھانچے برقرار ہیں، جیسے ریزرویشن سسٹم، پرسنل لاز اور بیوروکریٹک طریقے، جو اسی پرانے کاسٹ گرڈ ماڈل پر چل رہے ہیں۔

زمین اور زرعی وسائل کی تقسیم میں بھی پرانا طاقت کا توازن کافی حد تک برقرار ہے۔ دیہی علاقوں میں زیادہ تر زمین اونچی ذات کے لوگوں کے قبضے میں ہے، جبکہ نچلی ذاتیں مزارع یا مزدور کے طور پر کام کرتی ہیں۔ زرعی قرض، بیج اور منڈی تک رسائی میں بھی ذات کا اثر ہے، اور طاقتور کسان اکثر اوپر کی ذاتوں سے ہیں۔

نچلی ذاتوں کے لیڈرز اور پارٹیاں موجود ہیں، مگر طاقت کا بڑا حصہ اب بھی روایتی ایلیٹ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ صرف مذہبی برہمن نہیں بلکہ دوسرے بالائی طبقات بھی ہیں جو برطانوی دور سے ہی طاقت کے مراکز پر قابض ہیں۔ نتیجہ یہ کہ جمہوریت کے نام پر سماجی و سیاسی تقسیم آج بھی قائم ہے۔

یوں ذات پات کا آج کا سخت اور یکساں ماڈل کوئی صدیوں پرانی “قدرتی” حقیقت نہیں بلکہ نوآبادیاتی سیاسی انجینئرنگ کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد اکثریت کو تقسیم کرنا، برہمنیت کو ریاستی سرپرستی دینا اور تنوع کو ختم کرنا تھا۔ آج بھی ہندوستان میں تعلیم، ملازمت، شادی اور سیاست میں یہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ نئی معیشت بھی پرانے سماجی ڈھانچے کو توڑ نہیں سکی۔

چٹرجی کے مطابق جمہوریت کسی “سائنس” یا “مقدس قانون” کی پابند نہیں، بلکہ عوام اور ان کے تنوع پر چلتی ہے۔ برہمنیت یا کسی ایک کلچر کو “قومی کلچر” بنا دینا جمہوریت کے خلاف ہے۔ اصل جمہوریت تب ممکن ہے جب ریاست قانونی اور سماجی سطح پر تنوع کو قبول کرے اور عوام کو ان کی روایتی، علاقائی اور ثقافتی شناخت کے ساتھ برابر حقوق دے۔

julia rana solicitors london

سورس
The Nation and its Fragments by Partha Chatterjee
Castes of Minds by Nicholas B Dirk

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply