• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مزارِ عمر بن عبد العزیز کی بے حرمتی کی خبر اور ہمارے شیعہ و سنی دوست۔۔ ڈاکٹر محمد شہباز منج

مزارِ عمر بن عبد العزیز کی بے حرمتی کی خبر اور ہمارے شیعہ و سنی دوست۔۔ ڈاکٹر محمد شہباز منج

شام میں نیک سیرت اموی خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار کی بے حرمتی کی خبر کے حوالے سے کل میں نے عرض کیا تھا کہ اس کی ابھی درست تصویر سامنے نہیں آئی ۔ یہ خبر جھوٹی بھی ہو سکتی ہے اور سچی بھی۔ ہو سکتا ہے کہ شیعہ ملیشیا کی کاروائی ہو اور ہو سکتا ہے، داعشی و خارجی گروہ کی۔ میں نےعرض کیا تھا:
“بظاہر یہ اسی داعشی و خارجی فکر کا شاخسانہ ہے، جس کے نزدیک قبریں اور مزارات گرانا نہ صرف یہ کہ کوئی جرم نہیں بلکہ الٹا شرک کا خاتمہ ہے۔ تاہم مختلف انسان مختلف عوامل کے تحت مختلف جرائم کا ارتکاب کر گزرتے ہیں، ٹریک ریکارڈ نہ رکھنے والے بھی اس کارروائی کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں، ہم ان کو بری الذمہ قرار نہیں دے رہے۔ ”

اب ہمیں باوثوق ذرائع سے جو شواہد ملے ہیں وہ خبر کی صداقت کے حق میں جا رہے ہیں اور ان سے اس خیال کو تقویت مل رہی ہے کہ یہ ٹریک ریکارڈ نہ رکھنے والوں ہی کی کارروائی ہے۔ اس پر اگر مگر چونکہ چنانچہ ہو سکتا ہے ،مثلاً یہ کہ داعش اور خارجیوں وغیرہ نے صحابہ کے مزارات کو نقصان پہنچایا، حضرت حجر بن عدی یا حضرت زینب کے مزار پر حملہ کیا تھا تو اس کے رد عمل میں بعض انتہا پسند شیعوں نے ایسا کیا ہوگا۔ بھیر! یہی ہم نے عرض کیا تھا کہ “مختلف انسان مختلف عوامل کے تحت مختلف جرائم کا ارتکاب کر گزرتے ہیں۔” اس لیے کسی کو بھی بطور گروہ کلین چٹ نہیں دی جا سکتی

ہمارے یہ دوست انتہا پسندوں کواس طرح کی کلین چٹ دے کر اپنا بھی نقصان کرتے ہیں اور اپنے مذہبی گروہ کا بھی۔ حق یہ کہ مذہبی انتہا پسند اور دہشت گرد کسی کے دوست نہیں ہوتے ۔ وہ اپنے مذموم مقاصد کے تحت کچھ بھی کر گزرتے ہیں۔مسلکی جنگ لڑنے والوں سے مسلک کے حوالے سے کسی بھی انہونی کی توقع رکھیں اور خواہ مخواہ ان کے دفاع میں توانائیاں نہ کھپائیں۔ایسے لوگ شیعہ ہوں تو ان کی مذمت جیسے سنی کریں ایسے ہی شیعوں کو بھی کرنی چاہیے۔ مذکوہ تحریر میں ہم نے عرض کیا تھا کہ :
“چونکہ الزام اہلِ تشیع اور ایران پر آرہا ہے تو ان کی طرف سے سوشل میڈیا سے آگے جاکر مقتدا شیعہ علما اور سیاسی رہنماؤں نیز ایران کی طرف سے سرکاری طور پر اس کی مذمت آنی چاہیے۔”
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مقتدا اور مقتدر شیعہ حلقوں کی طرف سے اس کی بلا عذر مذمت دیکھنے کو نہیں ملی۔ بس یہی کہ فلاں نے یہ کیا اور فلاں نے وہ کیا۔ او بھی ! دوسرے نے جو کچھ کیا وہی آپ نے کرنا ہے، تو آپ کس لحاظ سے اپنی اخلاقی برتری ثابت کر رہے ہیں۔ (تاہم اس کا اقرار بھی ضروری ہے کہ بعض شیعہ دوستوں نے اس کی غیر مشروط مذمت کی، ہم ان کے جذبات کی قدر کرتے ہیں، ایسے لوگ ہی ہیں جو فرقہ وارانہ آگ کو ٹھنڈا کرنے میں اپنا کرادر ادا کر سکتے ہیں، اور ایسے لوگ ہی صحیح شیعانِ علی ہیں)

آخر میں یہ عرض کر دینا بھی ضروری ہے کہ ہمارے یہاں کے شیعہ و سنی دوستوں کو چاہیے کہ وہ انتہا پسند گروہوں کی لڑائی اپنی صفوں میں   نہ آنے دیں۔ افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ کوئی داعشیوں اور خارجیوں کا دفاع کر رہا ہوتا ہے اور کوئی انتہا پسند شیعہ گروہوں کا۔ بھائیو! آپ دین کے محب ہو تو گروہی تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچا کریں۔ قرآن تمھیں حکم دے رہا کہ کسی کی دشمنی تمہیں حق بات کہنے سے نہ روک دے۔(المائدہ:8)ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے سوشل میڈیا کے اکثر دوست انسانیت کے خیر خواہ ہیں اور دلیل و منطق سے اپنی بات پہنچانے پر یقین رکھتے ہیں۔ انھیں بس اسی رویے پر کاربند رہنا چاہیے، گروہی تعصبات میں پڑ کر ظالموں اور مجرموں کا دفاع نہیں کرنا چاہیے، خواہ وہ ان کے اپنے مسلکی گروہ ہی سے کیوں تعلق نہ رکھتے ہوں کہ اللہ کا دین ہمیں یہ بھی سمجھادیتا ہے: اے ایمان والو! اللہ کی خاطر انصاف کی گواہی دینے والے بن جاؤ، خواہ وہ تمھارے اپنے خلاف جاتی ہو یا والدین اور رشتے داروں کے۔ (النسا: 135)اللہ سمجھ عطا فرمائے۔

Avatar
ڈاکٹر شہباز منج
استاذ (شعبۂ علومِ اسلامیہ) یونی ورسٹی آف سرگودھا،سرگودھا، پاکستان۔ دل چسپی کے موضوعات: اسلام ، استشراق، ادبیات ، فرقہ ورانہ ہم آہنگی اور اس سے متعلق مسائل،سماجی حرکیات اور ان کا اسلامی تناظر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *