آج محمد رفیع کی 39 ویں برسی ہے۔۔۔۔۔اسلم ملک

محمد رفیع کی آواز میں ’’بہارو پھول برساؤ میرا محبوب آیا ہے‘‘ کو بالی وڈ کی تاریخ کا سب سے مقبول گیت قراردیا گیا تھا۔
بی بی سی ایشین نیٹ ورک کی کرائی گئی ووٹنگ میں سامعین نے اس گیت کو سب سے زیادہ پسند کیا جسے حسرت جے پوری نے لکھا اور موسیقی شنکر جے کشن نے ترتیب دی تھی ،

دوسرے نمبرپر راج کپور کی فلم ’’آوارہ‘‘ کا گانا ’’آوارہ ہوں‘‘ رہا جسے مکیش نے اپنے انداز میں گایا تھا،

تیسرے نمبر پر مشہورفلم ’’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘‘ کا گانا ’’تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم‘‘۔

چوتھے نمبر پرفلم ’’دل اپنا اور پریت پرائی‘‘ کا گانا ’’عجیب داستاں ہے یہ کہاں شروع کہاں ختم ‘‘ رہا۔

پانچویں نمبر پر فلم ’’کبھی کبھی‘‘ کا گانا ’’کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے‘‘۔

چھٹے نمبر پر فلم ’’ویر زارا ‘‘ کا گیت ’’تیرے لیے‘‘۔۔

ساتویں نمبر پر سپر ہٹ فلم ’’شعلے‘‘ کا گیت ’’یہ دوستی ہم نہیں  چھوڑیں گے‘‘ رہا۔

آٹھویں نمبر پر فلم ’’مغل اعظم ‘‘ کا گانا ’’جب پیار کیا تو ڈرنا کیا ‘‘۔

نویں نمبر پر فلم ’’دل سے‘‘ کے لیے گلزار کا لکھا گیا گیت ’’چھیاں چھیاں‘‘

اور دسویں نمبر پر کمال امروہوی کی فلم ’’پاکیزہ ‘‘ کا گیت ’’چلتے چلتے‘‘ رہا۔

محمد رفیع 24 دسمبر 1924 کو امرتسر کے کوٹلہ سلطان سنگھ گاؤں میں پیدا ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس وقت ان کی گلی میں ایک فقیر آتا تھا جو بلند آواز میں گیت گاتا تھا رفیع کو اسے گنگناتا دیکھ ان کے بڑے بھائی نے استاد وحید خان کی سرپرستی میں انہیں تعلیم دلائی۔ان کی زندگی کا ابتدائی حصہ لاہور میں گزرا جہاں ان کے بڑے حجام کا کام کرتے تھے۔

پہلا گانا!
رفیع نے لاہور ریڈیو پر پنجابی نغموں سے اپنے سفر کی ابتداء  کی۔ پہلی پنجابی فلم ’گل بلوچ‘ میں انہوں نے اپنا گیت زینت بیگم کے ساتھ ریکارڈ کروایا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز کندن لال سہگل کا پروگرام تھا۔ وہ اپنے وقت کے مشہور گلوکار تھے اور انہیں سننے کے لیے سیکڑوں کا مجمع تھا، مگر بجلی فیل ہونے کی وجہ سے سہگل نےگانے سے انکار کر دیا۔ اسی وقت رفیع کے بھائی نے پروگرام کے منتظمین سے کہا کہ ان کا بھائی بھی ایک گلوکار ہے اور اسے موقع دیا جائے۔

مجمعے کی ناراضی کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے رفیع کو گانے کا موقع دیا۔ 13 سال کی عمر میں انہوں نے اِسٹیج پر گیت گایا۔ اسی پروگرام میں موسیقار شیام سندر موجود تھے۔ انہوں نے ایک جوہری کی طرح رفیع کو پرکھ لیا اور انہیں بمبئی آنے کی دعوت دی۔ بس یہیں سے رفیع کا گلوکاری کا یادگار سفر شروع ہوا۔

تقسیم ہند سے قبل انہوں نے کئی فلموں میں نغمے گائے۔ فلم جگنو میں ملکہ ترنم نورجہاں کے ساتھ ان کا گایا یہ گیت
’یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے‘۔۔۔۔ان کے ہزا رہا یاد گار نغموں میں سے ایک ہے۔

نوشاد سے ملاقات!
رفیع کی زندگی میں سب سے بڑا موڑ اس وقت آیا جب موسیقار اعظم نوشاد نے انہیں گانے کا موقع دیا۔ اس وقت نوشاد علی اور طلعت محمود کی جوڑی بہت کامیاب تھی نوشاد کا ہر گیت طلعت گاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز نوشاد نے طلعت کو گانے سے قبل سگریٹ پیتے دیکھ لیا۔ اصولوں کے پکے نوشاد بہت برہم ہوئے اور انہوں نے طلعت کی بجائے رفیع کو چن لیا۔ رفیع نے زندگی میں کبھی سگریٹ یا شراب کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔

نوشاد کے ساتھ رفیع کی جوڑی بہت کامیاب رہی۔ بیجوباورا کے سارے نغمے ہٹ ہوئے۔
من تڑپت ہری درشن کو آج،
جیسا کلاسیکی گیت ہو یا
چاہے مجھے کوئی جنگلی کہے
کا چنچل نغمہ رفیع کو ہر طرح کے گیت گانے میں مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے وہ نغمے بھی گائے جسے اس وقت کے دوسرے گلوکاروں نے گانے سے منع کر دیا تھا۔ کشور کمار نے ’ہاتھی میرے ساتھی کا گیت
نفرت کی دنیا کو چھوڑ کر۔۔۔گانے سے منع کر دیا تھا کیونکہ اس میں آواز کی لے کافی اونچی تھی لیکن رفیع نے یہ گیت گایا اور بہت مقبول ہوا۔ انہوں نے اردو ، ہندی ، مراٹھی، گجراتی، بنگالی بھوجپوری تمل کے علاوہ کئی زبانوں میں گیت گائے۔ رفیع کی خاصیت تھی کہ وہ جس فنکار کے لیے گاتے اسی کی آواز اور اسی کے انداز کو اپناتے۔

فلم پیاسا میں جانی واکر کے لیے انہوں نے ’تیل مالش’ کا جو گیت گایا اسے سن کر لگتا ہے کہ سامنے جانی واکر ہی گا رہے ہیں اور اس کا اعتراف خود جانی واکر نے بھی کیا تھا۔
رفیع بہت سیدھے اور صاف دل انسان تھے۔ کئی مرتبہ انہوں نے بغیر ایک پیسہ لیے گیت گایا۔ ایک بڑے موسیقار نے رفیع کی موت کے بعد اعتراف کیا کہ ان کے پاس رفیع کو دینے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ گیت ختم ہونے کے بعد انہوں نے رفیع صاحب سے نظریں نہیں ملائیں اور دنیا کو دکھانے کے لیے ایک خالی لفافہ پکڑا دیا۔ رفیع نے اسے لے لیا لیکن بعد میں ملاقات کے بعد کبھی اس کا تذکرہ بھی نہیں کیا جب بھی ملے مسکرا کر ملے۔

گلوکار محمد رفیع دنیائے موسیقی کے ان نامور اور شہرت یافتہ گلوکار رہے کہ جنھوں نے اپنے فنی کیرئیر میں 4516 گیت گا کر بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔ انہوں نے انمول گھڑی، میلہ، انداز، دیدار، بیجو باورہ، دوبیگھا زمین، دیوداس، چوری چوری، پیاسا، کاغذ کے پھول، تیرے گھر کے سامنے، گائیڈ، ارادھنا، ابھیمان، نیا دور، کشمیر کی کلی، مغل اعظم، جنگلی، پروفیسر، چائنا ٹاؤن، تاج محل، میرے محبوب، سنگم، دوستی، وقت، خاندان، جانور، تیسری منزل، میرا سایہ، دل دیا درد لیا، کھلونا، دوستانہ، پاکیزہ، کاروان، لیلیٰ مجنوں سمیت ایک ہزار کے قریب فلموں میں گیت گائے، ان کے یادگار گیتوں میں ’کیا ہوا تیرا وعدہ‘، ’بہاروں پھول برساؤ‘، ’لکھے جو خط تجھے‘، ’چُرا لیا ہے تم نے جو دل کو‘، ’تیری پیاری پیاری صورت کو کسی کی نظر نہ لگے‘، ’دل کے جھرکوں  میں  تجھ کو بٹھا کے ‘، ’چاہے مجھے کوئی جنگلی کہے‘، ’چودھویں کا چاند ہو‘، ’بابل کی دعائیں لیتی جا‘، ’تعریف کروں کیا اس کی‘، ’چاہوں گا میں تمھیں سانجھ سویرے‘، ’یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں‘، ’تیری آنکھوں کے سوا‘، ’چھپ گئے سارے نظارے ‘، ’پردہ ہے پردہ ‘، ’او میری محبوبہ‘، ’یہ ریشمی زلفیں‘، ’آنکھوں ہی آنکھوں میں ‘، ’اٹھرا برس کی تو‘، ’یہ میرا پریم پتر پڑھ کر‘، ’تجھے جیون کی ڈور سے ‘، ’یونہی تم مجھ سے بات کرتی ہو‘، ’مجھے تیری محبت کا سہارا‘، ’بھری دنیا میں آخر دل کو سمجھانے ‘، ’آدمی مسافر ہے‘، ’میرے دشمن تو میری دوستی کو ترسے‘، ’رم جھم کے گیت ساون گائے‘، ’یہ دل تم بن کہیں لگتا نہیں‘، ’آجا تجھ کو پکارے میرے گیت‘، ’سہانی رات ڈھل چکی‘، ’زندہ باد زندہ باد اے محبت‘، ’تمہاری نظر کیوں خفا ہو گئی‘، ’تیری دنیا سے دور‘، ’جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا‘، ’میرے متوا میرے میت رے‘، ’میرے پیار کی آواز پے چلی آنا‘، ’وعدہ کرلے ساجنا‘، ’یہ چاند سا روشن چہرہ‘، ’اکیلے اکیلے کہاں جا رہے ہو‘، ’ایسا موقع پھر کہاں ملے گا‘، ’آنے سے اس کے آئے بہار‘، ’خوش رہے تو سدا‘، ’بار بار دیکھو‘،’باغوں میں بہار ہے‘، ’ہوئے ہم عشق میں برباد ہیں برباد رہیں گے‘، ’میرے دوست قصہ یہ ‘، ’سلامت رہے دوستانہ‘، وغیرہ شامل ہیں.
محمد رفیع 31 جولائی 1980 کو بمبئی میں حرکت قلب بند ہونے سے صرف 56 برس کی عمر میں انتقال کر گئے.

یہ آٹو گرافڈ فوٹو محمد رفیع صاحب نے مجھے، میرے خط کے جواب میں بھیجی تھی، تب میں شاید فرسٹ ائیر میں تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *