آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے، آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں یا کسی اور عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق خواہ کسی مذہب، ذات یا نسل سے ہو، ریاست کو اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ قائدِاعظم محمد علی جناح (11 اگست 1947)
یعنی آزادی محض کسی خطہِ زمین پر جھنڈا لہرانے کا نام نہیں۔ یہ ایک طرزِ فکر، ایک سماجی معاہدہ اور ایک ریاستی وعدہ ہے، جس کے تحت ہر فرد کو معاشرتی، سیاسی، معاشی اور مذہبی آزادی حاصل ہوتی ہے۔ ایک ایسا نظام قائم ہوتا ہے جہاں عوام کو اپنی رائے دینے، فیصلوں میں حصہ لینے، اور اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا پورا حق حاصل ہو۔
لیکن کیا آج کا پاکستان واقعی ایسا ہے؟ کیا ہمیں وہ آزادی حاصل ہے جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا؟ یا یہ صرف یومِ آزادی پر بلند کیے جانے والے نعروں، ترانوں اور آتش بازیوں تک محدود ہو چکی ہے؟ پاکستان نے برطانوی سامراج سے آزادی ایک ایسے وژن کے تحت حاصل کی تھی جس میں انسان کو اس کی عزت، اس کی رائے اور اس کے حقوق کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہونا تھا۔ مگر آج، اس تصور کی جگہ بے بسی، ناانصافی، اور طاقتور طبقات کا راج لے چکا ہے۔ ریاست کی بنیادی ذمہ داریاں—تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف عام شہری کے لیے خواب بن چکی ہیں۔ ایک طرف ایلیٹ کلاس کے لیے پرائیویٹ ہسپتال، مہنگے اسکول اور محفوظ رہائش گاہیں ہیں، تو دوسری طرف عام عوام کو ٹوٹا پھوٹا انفراسٹرکچر، طویل لوڈ شیڈنگ ،گندا پانی، اور بے روزگاری کا سامنا ہے۔ اگر ہم ماضی پر نگاہ ڈالیں تو انگریز دور میں تعمیر کردہ ریلوے نظام، نہری نظام اور سڑکوں کا نیٹ ورک اور سب سے بڑھ پورا عدالتی نظام آج بھی موجودہ حکومتوں کی کارکردگی سے بہتر دکھائی دیتا ہے۔ آج کا المیہ یہ ہے کہ ایک سڑک سال میں کئی بار کھود دی جاتی ہے، لیکن ہر بار ادھوری چھوڑ دی جاتی ہے۔ کراچی، جو کبھی عالمی سطح پر ترقی یافتہ شہروں میں شمار ہوتا تھا، اب ٹوٹ پھوٹ، بدانتظامی اور مافیا گردی کی ایک زندہ مثال بن چکا ہے۔ پولیس، ٹریفک، بلدیاتی ادارے، سب کے سب عوام کی خدمت کے بجائے مخصوص طبقات کے مفاد کی حفاظت میں مصروف ہیں۔ حال ہی میں معروف صحافی سہیل وڑائچ نے گوہر اعجاز کے ادارے کی ایک تحقیق کا حوالہ دیا جس کے مطابق پاکستان میں صرف 35 خاندان ڈالروں میں ارب پتی ہیں۔ ان میں سے 15 خاندان وہی پرانے “22 دولت مند” گھرانے ہیں جو پہلے بھی ملک کے معاشی فیصلوں پر قابض تھے۔ باقی 10 نئے خاندان اسی اشرافیہ میں شامل ہو چکے ہیں۔ یہی 35 خاندان اس وقت پاکستان کی معیشت پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری، کاروباری سودے، حتیٰ کہ حکومتی پالیسی سازی بھی اکثر انہی کے مفاد میں ہوتی ہے۔ عوام؟ وہ صرف ووٹ دینے، ٹیکس دینے اور قربانی دینے کے لیے ہیں۔
لہذا تو سوال بنتا ہے کہ یہ کیسی آزادی ہے؟ اگر آزادی کا مطلب صرف جھنڈے لہرانا، قومی ترانہ گانا، اور ایک دن کے لیے حب الوطنی کی تصویریں لگانا ہے تو ہم واقعی “آزاد” ہیں۔ لیکن اگر آزادی کا مطلب یہ ہے کہ ہر شہری کو تعلیم، صحت، انصاف، روزگار اور تحفظ حاصل ہو، تو ہم آج بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں—فرق صرف اتنا ہے کہ اب حاکم کی شکل تبدیل ہو چکی ہے۔ بحیثیت قوم ہر پاکستانی کو خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ یا ہم نے اپنی آزادی ان چند خاندانوں کے ہاتھوں گروی رکھ دی ہے؟ قائداعظم کا خواب محض تقریروں اور کتابوں میں نہیں، بلکہ زمینی حقیقت میں جھلکنا چاہیے۔ جب تک ہر پاکستانی کو برابر کا شہری نہ سمجھا جائے، تب تک یہ آزادی صرف ایک خوش فہمی ہے—ایک ایسی فریبِ نظر جس میں صرف نعرے گونجتے ہیں، اور سچائی دب جاتی ہے۔ یومِ آزادی کے موقع پر عوام کا عزم یہ ہونا چاہیے کہ ہم صرف جھنڈے نہ لہرائیں گے، بلکہ اس آزادی کو حقیقت کا روپ دینے کی جدوجہد بھی کریں گے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں