یہ میری ہند کیلئے تیسری یاترا تھی اور یہ بھی مفتے میں تھی۔ امر تسر کی ایک بڑی سماجی اور فلاحی شخصیت ہر بھجن سنگھ برا ر جو میاں میر فاؤنڈیشن امر تسرکے سرگرم اور فعال ممبر ہیں۔حضرت میاں میرصاحب کے حوالے سے ایک پروگرام کر رہے تھے۔ لاہور سے کوئی دس بارہ اور پنجاب سے چالیس کے قریب لوگ مدعو تھے۔مزے کی بات کہ نیلم احمد بشیر کو ویزہ نہیں ملا ۔ ان کی والدہ مودی بشیر کو مل گیا۔ دوست اور وہ بھی نیلم جیسی کے ساتھ سفر کا اپنا ہی مزہ ۔سیماں بھی نہیں جارہی تھی۔سوچا کہ نہ جاؤں ۔ مگر نیلم کا اصرار ۔
‘‘امی جانا چاہتی ہیں۔پلیز تم چلی جاؤ۔مجھے تسلی رہے گی۔’’
‘‘تمہیں تو تسلی رہے گی اور میں کیا کروں گی ’’۔
میں ہنسی ۔‘‘ تم سیوا کرنا ماسی کی ۔سُنی نہیں وہ حدیث ۔ماں نہ ہو تو ماسی کا دم غنیمت سمجھو ۔’’ اسکے انداز میں ہمیشہ والا لا اُبالی پن اور تمسخر تھا۔
واہگہ بارڈر پر میں خوشی و مسرت اور دُکھ و تاسف کی دونوں کیفیات سے یکے بعد دیگرے دوچار ہوئی تھی۔نئی نکور لشکارے مارتی کسٹم امیگریشن کی عمارت دیکھ کر رگ رگ میں طمانیت و سرشاری کی لہروں نے رقص کیا تھا۔ جتنی بار بھی ہندوستان گئی پاکستانی کسٹم کی
پٹری واسوں جیسی عمارت نے تکلیف دی تھی۔چلو خدا کا شکر ہے۔ پر جونہی کرنسی ایکسچینج والوں نے سو کے بدلے 58روپے ہاتھوں میں تھمائے تو جیسے جھٹکا کھا کر تڑپنے والی بات تھی۔
‘‘75سے58پر آگئے ہیں۔یا اللہ کہاں جارہے ہم۔’’
دُکھ جیسے اندر ہی اندر کھولتے پانی کی طرح پیچ و تاب کھارہا تھا۔
اٹاری بارڈر پر لوگ گاڑیاں اور گیندے کے ہار لیئے استقبال کو موجود تھے۔ڈھول والے بھی تھے۔ڈھول والوں کی صحبت میں آگے بڑھے ۔گاڑیوں میں بیٹھے اور پولیس کی چھتر چھاؤں میں سفر شروع ہوا۔
سردیوں کے دن تھے اور امر تسر کی سڑک کے دونوں اطراف میں گندم کے کھیتوں نے تا حد نظر گویا سرسبز قالین بچھا رکھے تھے۔دل نے تسلی دی،دلداری کی۔
‘‘ گھبراؤ نہیں۔ خوش ہونا سیکھو۔تمہاری طرف بھی ایسے ہی لش پش ہے۔’’
خفت کا سا احساس ہوا۔‘‘ کیا کریں۔ہندوستان سے مقابلے بازی کی عادت نہیں جاتی ۔’’
قیام برار ہوسٹل میں ہوا ۔ جو خالصہ کالج اور پبلک سکول کے بالمقابل امر تسر کی ایک مضافاتی کالونی میں تھا۔
ہوسٹل کے ٹھنڈے ٹھار کمروں نے گویا رگ رگ میں یخ لہروں کی ایک ر و سی دوڑا دی تھی۔ میں اور آنٹی ایک کمرے میں بستروں پر سکڑے بیٹھے صورت حال کا جائزہ لیتے تھے ۔گو کمبل تھے اور رضائیاں بھی ۔مگر ٹھٹھرنے والی بات تھی۔ہم لوگ ہیٹروں کے عادی ۔ سردی کو ماننے زیادہ لگے تھے۔ تاہم یہ بھی بات تھی کہ بوڑھے ہو رہے تھے اور بڑھاپے میں سردی گرمی دونوں زیادہ محسوس ہوتی ہیں۔
خدا جانے میزبانوں کے پروگرام کیا تھے۔عفت علوی سے پوچھا۔اُس نے کندھے اُچکائے۔محبت سے مسکرئی اور بولی
‘‘آپا ابھی تو مجھے خود بھی نہیں معلوم۔’’
سوچا دفع کرو انہیں۔چپکے سے اپنی سیر پر نکل چلو ۔گولڈن ٹمپل بھی ابھی تک نہیں دیکھا ۔’’
ناشتہ چائے پراٹھے والا تھا۔ پراٹھا تو تھوڑا تھوڑا لیا ۔ ہاں چائے پی اور ہم دونوں نکل پڑیں ۔
سائیکل رکشے پر جیسے آنٹی کو بٹھایا گیا۔ اُس کا کریڈٹ مجھ سے زیادہ رکشے والے
کو جاتا تھا کہ وہ منحنی سا ہونے کے باوجود اندر سے بڑا مظبوط تھا۔یا شاید تکنیکی مہارت حاصل کیئے ہوئے تھا۔ اُترائی بھی ایسے ہی ہو گئی ۔
ایک عظیم الشان عبادت گاہ ہمارے سامنے تھی۔گورونانک جیسی عظیم ،روحانی،دینی اوردنیوی علم سے مالا مال ہستی کے پیروکاروں کا مرکز عبادت۔
موجودہ امر تسر زمانوں پہلے ایک گھنا جنگل تھا ۔ایک بڑا تالاب بھی اسمیں تھا۔ روایت ہے کہ کہیں لارڈ بُدھا یہاں سے گزرے اور کچھ وقت یہاں ٹھہرے ۔ماحول دیکھ کر انہوں نے کہا یہ تو بدھ بھکشوؤں کے نروان کیلئے بہترین جگہ ہے۔ گورونانک بھی کچھ عرصہ یہاں رہے۔اُن کے اندر بھی ایسی ہی خواہش مچلی تھی۔
کہہ لیجیئے کہ ایشیاکی عبادت گاہوں وہی درگاہوں اورخانقاہوں والا مخصوص ماحول تھا ۔ امر تسر کے بازاری سلسلے دائیں بائیں پھیلے ہوئے تھے۔سویرے سویرے ہی زائرین کی کثرت نے میلے کا سا سماں پیدا کر رکھا تھا۔
عبادت گاہ کی بڑی خوبی رضاکارانہ کام کرنے والوں کی بھی تھی۔کہ جن کی
آنکھوں میں عقیدتوں کے دئیے جلتے تھے۔چہرے پر ہر کہ خدمت کرداُو مخدوم شد والے اثرات بکھرے تھے۔ہاتھوں میں برقی قوت دوڑتی تھی۔ صفائی ستھرائی انتہا درجے کی۔جوتیاں رکھنے اور پرشاد کے برتنوں کی دھلائی سکھائی جیسے سب کام جذبو ں اور عقیدتوں کے مرہون منت تھے۔
ٹمپل میں داخلے سے قبل اُس شفاف بہتے پانی میں پاؤں دھونے پڑتے ہیں جو ایک اتھلے سے نالے کی صورت بہتا ہے۔گزرگاہ کے ساتھ ہی مرکزی سکھ میوزیم ہے۔جسے دیکھے بغیر ہم آگے بڑھ گئے تھے۔صبح خوشگوارمیٹھی سی سونے رنگی دھوپ میں ڈوبی ہوئی تھی۔
ایک وسیع و عریض تالاب میں ہلکورے لیتا سبزی مائل پانی جسکے بیچوں بیچ کھڑی ایک حسین عمارت اور اسکے گُنبدیوں لشکارے مارتے تھے کہ جیسے سارے میں سونا ہی سونا بکھرا ہوا ہو۔ اطراف میں دودھیا عمارتوں کے سلسلے پانیوں میں اپنے عکس چھوڑتے تھے۔ پورا ماحول ایک الوہی سکون اور تقدس کے رنگ میں ڈوبا پڑا تھا۔
گرنتھ صاحب کی بایناں موسیقی کے پروں پر سوار سارے ماحول میں بکھر کر فسوں کی سی کیفیت پیدا کرتی تھیں۔ سری مندر کو جانے والے راستے پر اگر زائرین کی کثرت تھی تو واپسی کا راستہ بھی اٹا پڑا تھا۔ پانیوں پر تیرتے یہ راستے دل کش نظر آتے تھے۔ بڑا خوبصورت ،من موہ لینے اور فسوں خیزی والا ماحول تھا۔
گرنتھ صاحب پوجا پاٹھ کا عمل جاری تھا۔لوگوں میں نظم و ضبط تھا۔ سونے کے گنبد تلے زائرین گرنتھ پاٹھ کو تھوڑی دیر سُنتے اور پھر دوسری جانب سے نکل جاتے۔
میں نے آنٹی سے لنگر کھانے کا پوچھا۔
میرا تو پراٹھا ابھی سینے پر دھرا ہے۔تھوڑا سا پرشاد کھا لیں گے۔
اُن کے قدموں میں مجھے تھکاوٹ واضح محسوس ہوئی تھی۔
گولڈن ٹمپل میں اکال تخت کی عمارت بڑی اہم سمجھی جاتی ہے کہ یہاں ایک شاندار کنوپی جو ہیرے جواہرات سے سجی ہوئی ہے۔رکھی ہوئی ہے۔گرنتھ صاحب سکھو ں کی مذہبی کتاب اسی اکا ل تخت میں رکھی جاتی ہے۔جسے ہرروز منہ اندھیرے خوبصورت پالکی میں عقیدتوں اور محبتوں کے جلو میں یہاں لایا جاتا ہے۔شام کو اسی اندازمیں اسکی واپسی اکال تخت کی طرف ہوتی ہے۔اِس رسم کا بھی دیکھنے سے تعلق ہے۔میں نے اوقات معلوم کیئے تو وہ ایسے تھے کہ بغیر کسی کی مدد کے اس منظر کو دیکھا نہیں جاسکتا تھا۔
گوروارجن سنگھ کا یہ ہری مندر اب گولڈن ٹمپل ہے۔
گولڈن ٹمپل پر لٹریچر پڑھتے ہوئے مجھے اِس مندر کی حملہ آوروں کے ہاتھوں تباہی کی داستانوں نے ملول کیا۔پر بلیو سٹار آپریشن اور بابری مسجد کی شہادت جیسے واقعات کی یادوں نے تسلی دی کہ انسانی فطرت کا وحشیانہ پن کب اِس فلسفے پر دھیان دیتا ہے کہ جنکی مذاہب تعلیم دیتے ہیں۔ فاتح مصر حضرت عمر بن العاص کو خلیفہ وقت حضرت عمر کی جانب
سے پیغام ملا تھاکہ ایک بھی درخت نہیں کٹنا چاہیے۔
تو اب جلیا نوالہ باغ بھی دیکھنا ضروری تھا۔ امر تسر کے شہر میں آپ ہوں اور اِسے نہ دیکھیں کیسے ممکن ہے۔ آنٹی کچھ پس و پیش کی کیفیت میں تھیں ۔میں نے ہلا شیری دی ذرا حوصلہ ،ذرا سی دلیری ۔
‘‘ارے احمد بشیر جیسے جرنلسٹ اور لکھاری کی بیوی آزادی کی اِس عظیم یادگار کو دیکھے بغیر چلی گیئں تو انکی سر فروشی کو بٹہ لگنے والی بات ہو جائے گی۔ چلیئے چلیئے۔ تاریخ بھی کیسی ظالم ہے۔دنوں ،ہفتوں ،سالوں چھوڑ گھنٹوں اور منٹوں کا بھی حساب رکھ لیتی ہے۔ واقعات اور شخصیات کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے۔اُسے کوئی غرض نہیں کون کیسا تھا۔ جنرل ڈائر جیسا ظالم یا غریب ہندوستانیوں جیسے غریب مظلوم
لوگ۔دن تو بہت خوبصورت تھا یوں اسے خوفناک بھی کہا جاسکتا ہے۔
13اپریل 1919۔ بیساکھی کا موسم تھا۔ خوشیوں بھرا ۔کسانوں نے اپنے پھڑولے بھر لیئے تھے اور کچھ ابھی بھر رہے تھے۔ میلے ٹھیلوں کے رنگ آنکھوں میں روشن تھے۔ کیسے یہ رنگ بُجھے ۔ بڑی المناک داستان تھی جو جلیا نوالہ باغ کے درودیوار پر پھیلی ہوئی تھی۔
شہد ا کی یاد میں جلنے والے شعلے کو دیکھتے ہوئے ماحول پر نگاہ ڈالی۔دروازے کے ساتھ ہی بورڈوں پر تفصیلات درج تھیں۔اُنہیں پڑھا۔
انڈین گورنمنٹ نے اُس جگہ ایک شاندار کالم بنایا ہے۔جہاں لوگوں کے ایک ہجوم نے آزادی کی جنگ لڑی ۔ اپنے حق کیلئے آواز بلند کی ۔ اپنے دیش کی غلامی پر احتجاجی آوازیں اُٹھائیں۔یہی ان پر گولی چلی تھی۔یہیں مظلوم لوگوں کا خون بہا تھا۔یہیں تاریخ بنی تھی جسے مجھ جیسی آج دیکھنے آئی تھی۔
دو رویہ درختوں اور آہنی باڑھ میں سے گزر کر وہاں پہنچے۔ دیوار پر گولیوں کے واضح نشان دیکھے۔شہدا کا کنوئیں جسمیں چھلانگیں لگا ئی گئی تھیں۔آزادی کے رہنماؤں کی تصویریں شہدا گیلری میں سجی ہوئی تھیں۔ اُدھم سنگھ ،بھگت سنگھ جیسے جیالے یہی وہ ہیں جو مر کر بھی زندہ رہتے ہیں۔
یادگار سے نکل کر وہیں ہم نے گرم گرم سموسے کھائے ۔جلیبیوں سے منہ میٹھا کیا ۔ واپس آئے تو ہوسٹل ویران پڑا تھا۔
آنٹی تو تھک کر لیٹ گئیں۔پر میں بے چین رُوح ۔ نہ لیٹ سکوں نہ کمرے کے یخ بستہ سے ماحول میں بیٹھ سکوں ۔وضعداری پاؤں پکڑے بیٹھی تھی۔گروپ کے لوگ میرے خیال میں کانفرنس میں تھے ۔ کھانے پینے کا بھی وہیں انتظام تھا۔ انہیں رضائی اوڑھا
کر میں نے کچن میں جاکر چائے بنائی۔ انہیں پلائی۔ انکے خراٹوں کی آواز آئی توہوسٹل سے نکل کر مرکزی شاہراہ پر آگئی ۔
سامنے خالصہ کالج تھا۔ سرسبز لانوں اور قدیم گیروے رنگی عمارت کے سر پر کھڑا سجا سنورا آنکھوں کو کتنا بھلا لگا تھا۔ اندر گئی۔کسی نے روکا نہیں، ٹوکا نہیں۔ آگے بڑھتی گئی۔ کمروں کو دیکھا ۔امرتسر کی خوشبو میں سانس کھینچتی رہی ۔
دیر بعد سڑک پر آکر آٹو رکشے پر بیٹھی۔یہ ہمارے ہاں کے چنگ چی جیسا ہی تھا۔آمنے سامنے چھ سواریوں ،ہرسٹاپ پر رکنے، سواریاں بٹھانے اور اتارنے والا ۔ایک نوجوان لڑکی ایک سٹاپ سے بیٹھی۔کسی ٹیوشن سینٹر میں شاید پڑھنے جارہی تھی۔ آگے سٹاپ سے ایک نوجوان لڑکا سوار ہوا۔وہ لڑکی والی سائیڈ پر بیٹھ گیا۔میری آنکھوں میں جیسے سوکن کی سی آنکھ فٹ ہوگئی تھی۔دیکھوں تو سہی ہمسائیوں کے ہاں گھورنے اور چھیڑ خانیوں کی شرح کیا ہے؟مجال ہے جو اُس نے لڑکی پر ٹوٹی پھوٹی بھی نگاہ ڈالی ہو ۔دو سٹاپ بعد لڑکا اُتر گیا۔
اب اگلے سٹاپ سے مزید دو افراد ایک لڑکا اور ایک مرد بیٹھے۔عجب بات تھی انہوں نے بھی ہم دونوں کو قطعی توجہ کے قابل نہ سمجھا۔ لڑکی اُتری ۔بس ریلوے اسٹیشن تک یہی سلسلہ چلا۔بڑی رجی پجی نظریں ہیں ہمسائیوں کے چھوکروں اور مردوں کی ۔کہنے کو ہم مسلمان ہیں جنکا مذہب مردوں کو نظریں نیچی رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ہم اپنے مردوں کی آنکھوں کا کیا علاج کریں؟ اُنکا بس چلے تو آنکھوں کی راہوں سے ہی نوخیز بچیوں کو سمولچا نگل جائیں۔
مجھے اب یا د نہیں کہ وہ کونسی جگہ تھی جہاں میں اُتری تھی۔شاید آخری سٹاپ تھا۔یہاں بہت بڑی عوامی مارکیٹ دیکھنے کو ملی ۔یہاں لنڈا زوروں پرتھا ۔ گول گپے اور دہی بھلے والی ریڑھیوں پر رش تھا۔
لنڈے کو دیکھتے ہی میری تو آنکھوں میں جیسے ستارے ناچ اٹھے ۔ کئی ریڑھیوں پر ٹہری ۔ ٹھیٹ پنجابی بولتے ہوئے پھولا پھرولی کی۔ بھاؤ تاؤ کیئے۔کِسی کو بھنک بھی نہ پڑی کہ یہ جو اتنا ٹر ٹر بول رہی ہے۔ سرحد پار کی عورت ہے۔ کئی دکانوں میں گُھسی ۔
لنڈے نے جب مجھے رجا دیا ۔پھر میں نے پاپڑیاں والے دہی بھلے کھائے۔
حغظان صحت کے اصولوں پر دو حرف لعنت کے بھیجے یہ کہتے ہوئے کہ ارے اِس ہیپا ٹائٹس کے وہم میں اُلجھ کر یہ پاپڑیوں والے دھی بھلّے نہ کھاؤں تو خود پر کتنا ظلم ہوگا؟یہ تو ایسا ہی ہے کہ بازار جاؤں اور چاٹ کھائے بغیر لوٹ آؤں ۔ بھئی یہ نہیں ہوگا ۔اللہ مالک ہے۔ مولا مالک ہے۔ یوں بھی ہم کو نسا ہائی فائی قسم کے لوگ ہیں۔ساری عمر گند بلا ہی کھاتے رہے ہیں۔چلو شکر ہے اُس کا یہاں تک آہی گئے ہیں۔
وہاں سے قریبی مندر میں گئی ۔ عبادت کے رونق میلے دیکھے۔ کچھ وقت وہاں گزارا ۔
زمانوں سے امر تسر کو دیکھنے، اُسکی ہواؤں کو سونگھنے، اسکے نظاروں کو لوٹنے کیلئے بے تاب تھی۔سو ہر خواہش گھومتے پھرتے ،یہاں وہاں، بیٹھتے اٹھتے پورا کر رہی تھی۔ چیزوں کی قیمتوں سے دونوں ممالک میں مہنگائی کی شرح زیر غور تھی۔ حساب کتاب نے مجھے سمجھایا تھا کہ پاکستان مقابلے میں کچھ اتنا مہنگا نہیں۔ چیزوں کا اُتار چڑھاؤ ہر جگہ ہوتا رہتا ہے۔
مغرب کے وقت واپسی ہوئی۔
اگلے دن صبح کا سیشن اٹینڈ کیا ۔اور شام کو پرانے امر تسر کے گلی گوچوں میں گھومتی، اے حمیدمنٹو اور عطاالحق قاسمی کو یاد کرتی رہی کہ اُنکے گھر کہاں تھے؟
تیسرا دن ہم نے مدھو کے گھر گزارا۔ریلوائی میں ملازم مدھو اسکا شوہر اسکے دو
بچے جنہوں نے ہندو ہونے کے باوجود ہمیں چکن کڑاھی کھلائی اور خود بھی کھائی ۔
اگلے دن میں نے اور آنٹی نے میزبانوں سے اجا زت لیکر واپسی کی ۔مدھو نے کسی کی گاڑی میں ہمیں اٹاری تک ڈراپ کیا۔مدھو جیسے محبت کرنے والے لوگ جب بھی یاد آتے ہیں۔ آنکھیں بھگودیتے ہیں۔
جاری ہے
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں