ن لیگ کی بڑھتی مقبولیت کا راز۔۔عبیداللہ چوہدری

پاکستانی معاشرے کے اپنے ہی معیار ہیں۔ یہ معیار دراصل ایک کلاسیکل قبائلی اور جاگیردارانہ نظام کی حقیقی تصویر کشی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کون کتنا طاقتور ہے؟ اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جاتا ہے کہ وہ کتنا بڑا قانون شکن ہے! یہ معیار ٹریفک سگنل توڑنے سے کسی بے گناہ کے قتل تک ہو سکتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے میں اب اور بہت سارے نووارد طاقتور بھی میدان میں آ گئے ہیں۔ اب یہ فیصلہ کرنا کہ کون سب سے زیادہ طاقتور ہے تھوڑا مشکل ہو رہا تھا ؟ اس کے توڑ کے لیے قانون شکنی کے معیار اور بھی بلند کر دئیے گئے ہیں۔ مثلاً  دوسرے کی جائیداد اور دوسرے کی عورت پر قبضہ، پولیس کی ٹھکائی، ہر طرح کی دھونس اور دھاندلی۔ کرپشن اور سب سے زیادہ دولت کیلئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ ۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ!لیکن چند لاڈلے اس معیار سے بھی مزید آگے بڑھ کر نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ مثلاً ۔ریاست کے سب سے طاقتور اداروں کو للکارنا، اب جو فوج کو بھی للکارے اور اعلی عدلیہ کو بھی لتاڑے ، اس کی تو ہو گئی بلے بلے۔۔۔۔ کئی دن سے سوچ رہا تھا کہ چاہے سرکاری سواری میں لائے جاتے ہیں لیکن حکومتی سیاسی جماعت کے جلسے بڑے پر جوش ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی تو راز ہے؟ آخر ایسا کیوں ہے؟

اب یہی بات سمجھ آ رہی ہے کہ عام لوگوں کے سامنے ہیرو بننے کا ایک نسخہ کیمیا حکومتی سیاسی جماعت کے ہاتھ لگ گیا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آگے بڑھنے کیلئے جمہوریت ہی واحد نظام اور سب سے موثر راستہ ہے۔ ریاستی اداروں کا اپنی حدود میں رہ کر کام کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی نہیں ، تاہم ضرورت سے زیادہ احتیاط برتنے سے یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ دال میں کچھ تو کالا ہے ۔ طاقتور ادارے اتنا کچھ کہے جانے کے باوجود بھی چپ ہیں؟ اس سے حکومتی سیاسی جماعت جہاں اپنے خلاف فیصلے کو مشکوک بنانے میں کامیاب ہو رہی ہے وہاں مزید طاقت ور ہونے کا کامیابی سے اشتہار بھی لگا رہی ہے۔ وہ یہ بھی تاثر دینے میں کامیاب ہو رہی ہے کہ اس ملک میں کوئی بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا؟ وہ ببر شیر ہیں۔ اور اس “جنگل” پر راج کرنا صرف ان کا ہی حق ہے۔ اور عام لوگوں کو طاقت کا یہ مظاہرہ متاثر کر رہا ہے۔ دوسری طرف باقی سیاسی جماعتیں خاص طور پرحزب اختلاف ، مذہبی راہنما، صحافی اور میڈیا مالکان بھی ہر طرح کی قانون شکنی میں مکمل آزاد ہیں ۔یہ کچھ بھی کر لیں۔ کچھ بھی کہہ دیں ۔۔ لیکن حکومت اور قانون ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا! یاد رہے ماضی میں طالبان بھی طاقت حاصل کرنے کا یہی طریقہ کامیابی سے آزما چکے ہیں۔

یہ صورتحال کسی بھی معاشرے کیلئے بڑی سنگین ہوتی ہے۔   معاشرے میں بے پناہ طاقت کا ارتکاز ہی سب سے بڑا بگاڑ ہوتا ہے۔ جب تک چیک اینڈ بیلنس کا نظام رائج نہیں ہو گا۔ طاقت کا غلط استعمال بڑھتا ہی رہے گا۔ عوام تو آ واز اٹھا ہی رہے ہیں جہاں عوام کی آواز کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے وہاں بڑے پیمانے پر جمہوری، حکومتی اور ریاستی اداروں کی تنظیم نو اور ان کو آزاد اور فعال کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔

عبیداللہ چودھری
عبیداللہ چودھری
ابلاغیات میں ماسٹر کرنے کے بعد کئی اردو اخباروں میں بطور سب اڈیٹر اور روپوٹر کے طور پر کام کیا۔ گزشتہ18سال سے سوشل سیکٹر سے وابستگی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *