“اگر غربت نہ ہوتی، تو شاید میں جگت باز نہ بنتا، میں نے ہنسنا سیکھا بھوک کو منہ چڑاتے ہوئے۔”
امان اللہ خان کا یہ جملہ ان کی پوری ابتدائی زندگی کا خلاصہ ہے۔ وہ صرف ایک فنکار نہ تھے، وہ اس دھرتی کے ان بے آواز لوگوں کی آواز تھے جن کے پاس نہ دولت ہوتی ہے، نہ طاقت، مگر وہ مسکرانا نہیں بھولتے۔
امان اللہ خان 1950ء کے عشرے کے آخر یا 60ء کے اوائل میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ علاقہ تھا جو ابھی ثقافتی اور تہذیبی طور پر ایک گاؤں کی شکل رکھتا تھا۔ گلیوں میں خاک اڑتی تھی، چھوٹے چھوٹے گھروں میں کئی کئی خاندان بستے تھے، اور زندگی سخت تھی، بہت سخت۔ یہی وہ دھرتی تھی جس نے پاکستان کے سب سے بڑے مزاح نگار کو جنم دیا۔
امان اللہ کا بچپن آسان نہ تھا۔ ان کے والد ایک چھوٹے درجے کے مزدور تھے۔ ماں ایک سادہ گھریلو خاتون، جن کی تعلیم صفر، لیکن مزاج میں شفقت کا سمندر۔ غربت کی انتہا یہ تھی کہ امان اللہ نے باقاعدہ اسکول کبھی نہیں دیکھا۔ ان کی زندگی کا پہلا “مدرسہ” لاہور کی گلیاں تھیں اور پہلا “نصاب” زندگی کی تلخیاں۔
وہ خود بتاتے تھے، “ہم تو پتنگ بیچتے تھے،کبھی لوگ ہنستے تھے، کبھی پتنگ لے کر بھاگ جاتے تھے، مگر میں نے ہارنا سیکھا نہیں تھا۔”
امان اللہ کے قہقہے کی بنیاد بچپن کی بھوک تھی۔ جب دوسروں کے گھروں سے سالن کی خوشبو آتی تو ان کے گھر میں چپاتیاں بھی بانٹ کر کھائی جاتیں۔ ماں اگر دو چپاتیاں بناتی تو ایک بچے کو، اور دوسری ماں خود نہ کھاتی تاکہ باقی بچوں کا پیٹ بھرے۔ انہی دنوں امان اللہ نے سیکھا کہ “دوسروں کو خوش دیکھنا” اصل دولت ہے۔
امان اللہ کے اندر مزاح کا بیج بچپن سے ہی موجود تھا۔ وہ اپنی گلی کے بچوں کو جمع کرتا، کوئی کردار ادا کرتا، کوئی پرانی فلم کی نقل کرتا، کبھی کوئی لطیفہ، تو کبھی کوئی محاورہ الٹا کر کے سناتا۔ لوگ ہنستے، اور وہ اس ہنسی کو اپنی کامیابی سمجھتا۔
مگر فن کو سمت دینے والا کوئی نہ تھا۔ زندگی ایک اندھیری سرنگ کی طرح چل رہی تھی، جس کے اختتام پر روشنی دکھائی نہیں دیتی تھی۔ ایسے میں ایک واقعہ پیش آیا جو ان کی زندگی کا پہلا بڑا موڑ تھا۔
لاہور کے ایک چھوٹے تھیٹر “نیلا گنبد” میں ایک دن ایک فنکار نہیں آیا۔ وہاں موجود کسی بندے نے مذاق میں امان اللہ سے کہا، “اوئے تو آجا، جگتیں ہی تو کرنی ہیں!”
امان اللہ نے بغیر جھجک اسٹیج پر قدم رکھا، اور پہلے ہی دن اس نے سامعین کے قہقہے لوٹ لیے۔ وہاں موجود ہدایتکار حیران رہ گیا۔ اس نے فوراً امان اللہ کو اپنے اگلے ڈرامے میں کاسٹ کر لیا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب “امان اللہ” صرف ایک بچہ نہیں رہا، وہ “امان اللہ خان” بن گیا۔
مگر اس راہ میں مشکلات کم نہ تھیں۔ تھیٹر کی دنیا اُس وقت بدنام تھی۔ خاص طور پر مزاح نگار کو کمتر سمجھا جاتا تھا۔ لوگ کہتے، “یہ وہی لڑکا ہے نا جو نچلے درجے کے اسٹیج پر جگتیں کرتا ہے؟”
مگر امان اللہ نے یہ طعنے کبھی دل پر نہ لیے۔ وہ کہا کرتا، “او بھائی، میں تمہیں ہنسا رہا ہوں، یہ کام سب کے بس کا نہیں…”
یہی غیرت، یہی عزتِ نفس، امان اللہ کا اصل سرمایہ تھا۔ وہ محض جگت باز نہیں تھا، وہ ایک معمار تھا۔مسکراہٹوں کا معمار۔
ان کے ابتدائی ڈرامے جیسے “جی کردا اے”، “بیگم ڈش انٹینا” اور “آلو کے پراٹھے” وغیرہ نے لوکل سٹیج پر دھوم مچا دی۔ ان ڈراموں میں امان اللہ نے ایسے کردار نبھائے جو ناظرین کے دلوں کو چُھو گئے۔ وہ کبھی محلے کا سادہ سا شوہر بنتا، کبھی نوکر، کبھی ٹانگے والا، اور ہر کردار میں ایسا رنگ بھر دیتا کہ اصل معلوم ہوتا۔
امان اللہ کی خاص بات یہ تھی کہ وہ سکرپٹ سے زیادہ اپنی حاضردماغی پر انحصار کرتا تھا۔ وہ اسٹیج پر جملے گھڑتا تھا، سچ بولتا تھا، مزاح میں کڑوا سچ شامل کرتا تھا۔ مثلاً ایک بار ڈرامے میں کسی کردار نے کہا،
“روٹی نہیں مل رہی”
امان اللہ نے فوراً کہا،
“ساہنوں کی، ویسے ایداں تے حکومتاں نوں وی فکر نہیں”
یہ طنز، یہ جملہ، وہی بول سکتا تھا جو خود غربت کی آگ میں جلا ہو۔
اسی دور میں امان اللہ نے لاہور کے مختلف تھیٹروں میں پرفارم کرنا شروع کیا۔ ریگل، الفلاح، ناز، تماثیل,ہر اسٹیج پر وہ چھا گیا۔ لوگ اس کے نام پر ٹکٹ خریدتے، لائنوں میں کھڑے ہوتے۔
“امان اللہ آج ڈرامے میں ہے؟”
“ہاں جی، تو پھر دو ٹکٹ دے دو”
یہ تھی اس کی مقبولیت۔
اس کا پہلا کمرشل بریک “ڈبہ نمبر 8” سے آیا۔ اس ڈرامے میں امان اللہ نے عام پاکستانی کی نمائندگی کی۔ سادگی، مزاح، جفاکشی، اور بے بسی ،یہ سب اس کے کردار میں نظر آیا۔ یہی وہ ڈرامہ تھا جس نے اسے “عوامی فنکار” بنا دیا۔
اسی زمانے میں اس کے مداحوں میں ایک اضافہ ہواغریب مزدور، رکشہ ڈرائیور، دکان دار، فیکٹری ورکر، وہ سب جو خود کو امان اللہ میں دیکھتے تھے۔
امان اللہ کہتا تھا،
“میں جگت نہیں مارتا، میں لوگوں کی آنکھوں سے درد پڑھ کر بات کرتا ہوں، اور وہ ہنسی میں ڈھل جاتی ہے
کبھی کبھی قدرت کسی انسان کے منہ میں ایسا قہقہہ رکھ دیتی ہے جو صرف آواز نہیں ہوتا، وہ زمانے کی دکھتی رگ پر نرم سی چوٹ ہوتا ہے۔ امان اللہ خان کی آواز بھی ایسی ہی تھی۔ وہ جب بولتا تھا تو لگتا تھا کوئی پرانا دوست ہنسی کے پردے میں اپنے دل کی گہرائی سنانا چاہتا ہے۔ اس کا لب و لہجہ، چہرے کے تاثرات، بات کرنے کا انداز، سب کچھ کسی بڑے فن پارے کی طرح ترتیب سے بنا ہوا تھا۔
اس نے اسٹیج پر آنے کے بعد جس تیزی سے عوامی مقبولیت حاصل کی، وہ شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ اُس دور میں جب فنکار کے لیے مقام حاصل کرنا برسوں کا سفر ہوتا تھا، امان اللہ نے صرف چند مہینوں میں شائقین کے دلوں پر راج کرنا شروع کر دیا۔ اس کی باتیں سادہ تھیں مگر دل کو چھوتی تھیں، وہ عام آدمی کی زبان بولتا تھا، اور اسی لیے ہر خاص و عام کے دل میں اترتا چلا گیا۔
پنجابی زبان کا یہ بیٹا اسٹیج پر جب کسی کردار میں داخل ہوتا، تو ایسا لگتا جیسے وہ خود وہی شخص ہے۔ کبھی نائی، کبھی مزدور، کبھی چوکیدار، اور کبھی شوہر۔ ہر کردار میں ایسا گھل جاتا کہ لوگ حقیقت اور اداکاری کے فرق کو بھول جاتے۔ وہ جسمانی حرکات سے لے کر آواز کی تھرتھراہٹ تک، ہر انداز میں اپنے کردار کو مجسم کر دیتا تھا۔ وہ صرف بولتا نہیں تھا، وہ اپنے جملوں کو جیتا تھا۔
لاہور کے تھیٹروں میں اس کی جگتیں گونجتی تھیں۔ ہر اسٹیج پر اس کی موجودگی ٹکٹوں کی فروخت کی ضمانت ہوتی تھی۔ لوگ صرف اس کے لیے آتے تھے۔ اشتہارات پر اس کا نام سب سے نمایاں ہوتا۔ شو شروع ہونے سے پہلے تماشائیوں کی نظریں دروازے پر ہوتیں، کہ کب وہ داخل ہوگا۔ اور جب وہ آتا، تو جیسے سارا تھیٹر زندہ ہو جاتا۔
اس کے ڈرامے صرف ہنسی کے طوفان نہیں ہوتے تھے، بلکہ ان میں زندگی کی تلخ سچائیاں لپٹی ہوتیں۔ وہ غریبی، جہالت، شادی، طلاق، ساس بہو کے جھگڑے، سیاسی چالاکیاں، مہنگائی، رشوت، سب کو ایک جگت میں لپیٹ کر یوں پیش کرتا کہ لوگ پہلے ہنستے اور پھر سوچتے۔
اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ کسی پر ہنسی نہیں اُڑاتا تھا، وہ لوگوں کو ان کی حالت زار دکھا کر ہنسانے والا فنکار تھا۔ اس کی جگت میں زہر نہیں، مٹھاس ہوتی تھی۔ اس کا مزاح چبھتا نہیں تھا، مسکراہٹ میں لپٹا ہوتا تھا۔ وہ کم بولتا، مگر ہر جملہ سیدھا دل میں اترتا۔ مثلاً ایک بار ڈرامے میں کہا، “ہمیں روز روٹی مل جائے، تو حکومت کا شکریہ ادا کریں؟ اتنے گئے گزرے ہو چکے ہیں کیا؟” پورا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا، مگر ہر قہقہے کے پیچھے ایک کرب بھی چھپا تھا۔
ڈرامہ بیگم ڈش انٹینا میں اس نے ایک بیوی کے ساتھ جیتے جاگتے شوہر کا کردار ادا کیا، جو ٹی وی کے نشے میں مبتلا تھا۔ اس کردار میں امان اللہ نے معاشرتی لاتعلقی پر ایسا طنز کیا کہ پورے ملک میں یہ کردار مشہور ہو گیا۔ شیدا ٹلی”میں اس کی سادہ لوحی اور جگتوں نے تماشائیوں کے پیٹ میں بل ڈال دیے۔ جی کردا اے، ڈبہ نمبر 8، آلو کے پراٹھے،چوہدری بے باک ہو گیا،بابا کرسی توڑ،یہ سب وہ ڈرامے تھے جن میں امان اللہ نے فن کی وہ بلندی چھوئی جو صرف اصل فنکاروں کو نصیب ہوتی ہے۔
وہ صرف ایک اچھا اداکار نہیں تھا، وہ جگت کا ایک مکمل مکتب تھا۔ اس کی جگتیں کسی زبان دانی کی محتاج نہیں تھیں، وہ ہر خاص و عام کو سمجھ آتی تھیں۔ اس کی زبان میں تلخیاں نہ ہوتیں، اس کے جملوں میں جگت کی جگہ حکمت ہوتی۔ وہ کہتا، میں جگت اس لیے کرتا ہوں تاکہ لوگ اپنے غم بھول جائیں۔ اور سچ یہی ہے کہ کئی لوگوں نے امان اللہ کے ڈرامے دیکھ کر وہ غم بھی بھلا دیے، جو دوائیاں نہیں بھلا سکتیں۔
اس کی کئی جگتیں آج بھی زبان زد عام ہیں۔ ساہنوں کی؟ ساڈی تے ویسے ای روٹی نئیں پکی،اوئے توں تے ایڈا معصوم لگدا جیویں بینک چ نواں نوٹ۔
ایسے جملے اس نے نہ لکھے تھے، نہ رٹے تھے، یہ اس کے اندر سے نکلتے تھے، جیسے دل سے نکلی کوئی سچائی۔
امان اللہ نے اپنی فنی صلاحیتوں کا دائرہ صرف اسٹیج تک محدود نہ رکھا۔ جیسے ہی پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز آئے اور نیوز و مزاح کا امتزاج شروع ہوا، تو امان اللہ ان پروگرامز کی جان بن گیا۔ حسب حال،خبرناک اور خبرزار، جیسے پروگراموں میں اس نے اپنے مخصوص انداز میں سیاسی و سماجی کرداروں پر ایسا طنز کیا جو نہ صرف ہنسی پیدا کرتا بلکہ قوم کی آنکھ بھی کھولتا۔
وہ بابا کا کردار بناتا، لمبی سی داڑھی، ماتھے پر تل، جھکی ہوئی کمر، اور پھر جب بولتا تو لگتا جیسے کسی دانا صوفی کی باتیں سن رہے ہوں، مگر بات کے آخر میں قہقہہ چھپا ہوتا۔ وہ کہتا،اوئے دنیا بڑی خراب ہو گئی اے، بچپن وی ٹک ٹاک تے لبھدا اے ہن، ایسے جملے جو آج بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہیں، وقت کی عکاسی کرتے ہیں اور فنکار کی فہم و فراست کو ظاہر کرتے ہیں۔
وہ صرف اپنے کردار میں جیتا نہیں تھا، وہ ایک ایسا فنکار تھا جو اپنے ناظرین کی آنکھوں میں چھپی مسکراہٹ کو تلاش کرتا تھا۔ وہ صرف جملے نہیں بولتا تھا، وہ لوگوں کے دل کے چھپے دکھ کو پہچانتا، اور اس پر مرہم رکھتا۔
امان اللہ نے مزاح کو سطحی ہنسی سے نکال کر ایک باوقار فن بنایا۔ اس نے مزاح کو فکری ہتھیار میں بدل دیا۔ اس کا کمال یہ تھا کہ وہ کسی کو شرمندہ کیے بغیر اس کی غلطی کی طرف اشارہ کرتا، اور یوں معاشرتی برائیوں پر تنقید بھی کرتا اور لوگوں کو اپنی حالت پر ہنسنے کا موقع بھی دیتا۔
اس کی موجودگی کسی بھی پروگرام میں ایک نعمت ہوتی تھی۔ لوگ اسے صرف اس لیے بلاتے تھے کہ وہ محفل میں رنگ بھر دے گا، باتوں میں خوشبو بھر دے گا، اور جاتے جاتے سب کو کچھ سکھا جائے گا۔
فنکار تو بہت ہوتے ہیں، مگر امان اللہ جیسے فنکار صدیوں میں ایک آدھ پیدا ہوتے ہیں۔ وہ صرف اداکار نہیں تھا، وہ فن کے ماتھے کا جھومر تھا۔ اس کا فن صرف اداکاری نہیں تھا، اس کا فن انسانوں کو انسانوں کے قریب لانا تھا، دلوں کو جوڑنا تھا، غموں کو بھلانا تھا۔
اور یہی وہ کارنامہ ہے جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ وہ اپنے فن کے بل پر نہ صرف زندہ ہے، بلکہ زندہ رہے گا۔ امان اللہ خان، تم نے اسٹیج کو زندگی دی، جگت کو عزت دی، اور ہنسی کو فہم بخشا۔
جاری ہے
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں