“اب طاقتور اور کمزور برابر ہیں”
یہ جملہ اس شخص کا ہے جس نے انگلی کی ایک جنبش سے پوری انسانی تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ وہ کوئی پیغمبر نہ تھا، نہ کوئی بادشاہ، نہ کوئی فلسفی وہ فقط ایک کاریگر تھا، نام تھا سیموئل کولٹ۔ اور اس کا خواب تھا ایسا ہتھیار بنانا، جو جسمانی طاقت، شجاعت، جثے، حسب نسب اور اونچی آواز کو برابر کر دے۔ اور جب وہ ہتھیار بنا، تو اس نے انصاف اور ناانصافی، نیکی اور بدی، حق اور باطل کے درمیان جو فرق تھا، اسے بھی ایک جیسا کر دیا۔
ھم بات کر رہے ہیں ریوالور کی، اس ہتھیار کی جو شاید تلوار سے زیادہ تباہ کن ہے، اور قلم سے زیادہ مہلک۔
دنیا ریوالور سے پہلے بھی موجود تھی، لوگ زندہ بھی تھے، حکومتیں قائم ہو رہی تھیں اور ٹوٹ بھی رہی تھیں۔ مگر طاقت کا تصور الگ تھا۔ میدان جنگ میں فتح کا دارومدار جسمانی قوت، گھوڑے کی رفتار، یا تلوار کی دھار پر ہوتا تھا۔ دلیر وہ کہلاتا تھا جو دشمن کے قریب جا کر وار کرتا۔ فوجیں سینہ تان کر لڑتی تھیں، اور کسی سپاہی کو مارنے کے لیے بہادری کی ضرورت ہوتی تھی۔ مگر کولٹ نے اس فاصلے کو ختم کر دیا۔ اب بہادری کی جگہ چالاکی نے لے لی۔
ریوالور کی ایجاد سے پہلے قتل ایک عمل ہوتا تھا، اور بعد میں یہ ایک سہولت بن گیا۔
1836میں سیموئل کولٹ نے پہلا کولٹ پیٹنٹ ریوالونگ پستول متعارف کروایا۔ یہ ایک چھوٹا سا ہتھیار تھا، مگر اس کے پیچھے ایک بہت بڑی سوچ تھی۔ اس سے پہلے جو ہتھیار تھے، وہ ایک وقت میں ایک ہی گولی چلاتے تھے۔ دشمن اگر سامنے آ بھی جاتا، اور گولی خطا بھی ہو جاتی، تو دوبارہ چارج کرنے میں وقت لگتا۔ دشمن کی مہلت ہوتی تھی۔ مگر کولٹ نے اس تاخیر کو مٹا دیا۔
اب بندوق چھ بار گولیاں چلاتی تھی، بغیر رکے، بغیر دوبارہ بھرے۔ یہ محض آتشیں اسلحہ نہیں تھا، یہ نفسیاتی جنگ کا ہتھیار تھا۔ جس کے پاس یہ تھا، اس کے اندر شیطان بس جاتا تھا، اور جس کے سامنے یہ ہوتا، وہ فرشتہ بن جاتا۔
یہ ایک ایسے زمانے کی ایجاد تھی جب امریکہ اپنی داخلی خانہ جنگی سے گزر رہا تھا، مغربی دنیا نوآبادیاتی توسیع کے جنون میں مبتلا تھی، اور طاقت کا مفہوم ڈرانا بن چکا تھا۔ریوالور نے طاقت کو جسم سے آزاد کر دیا
کولٹ نے ریوالور کو صرف ایجاد نہیں کیا، اس نے اسے بیچا بھی۔ وہ پہلا شخص تھا جس نے اسلحے کو برانڈ کیا۔ کولٹ نے سمجھا کہ لوگ ہتھیار نہیں طاقت خریدتے ہیں، اعتماد خریدتے ہیں، اپنی انا کا تسکین خریدتے ہیں۔ وہ صرف بندوق نہیں دیتا تھا، وہ کہتا تھا یہ لو، اب تم خدا ہو۔
اس نے اشتہارات بنوائے، پوسٹر چھپوائے، یہاں تک کہ پستول کو خوبصورتی کے ایسے معیار پر لے آیا کہ اسے زیور سمجھا جانے لگا۔ امریکہ کے مغربی علاقوں میں کولٹ کا ریوالور ایک ایسا فیشن بن گیا جیسے آج کا آئی فون۔ رینچرز، پولیس، ڈاکو، سیاستدان، سب کے پاس کولٹ تھا۔ یہاں تک کہ مشہور قاتلوں کے لیے بھی کولٹ ایک فخرکی علامت بن چکا تھا۔
جنگوں میں ریوالور نے وہ کردار ادا کیا جو شاید کسی بھی سیاسی نظریے نے نہیں کیا۔
دنیا میں ہر ایجاد دو دھاری تلوار کی طرح ہوتی ہے۔ جیسے ایٹم بم سائنس کی معراج تھا، ویسے ہی ریوالور طاقت کی انتہا۔ مگر دونوں نے انسانیت کو اپنے زخموں سے لہولہان کر دیا۔
ریوالور نے کمزور کو موقع دیا کہ وہ طاقتور سے بدلہ لے سکے۔ کسان، مزدور، غلام سب کو ایک برابر سطح پر کھڑا کر دیا۔ مگر اسی نے ڈاکو، بدمعاش، ٹھگ، اور قاتل کو بھی ہتھیار دے دیا۔ یوں طاقت کا توازن بگڑ گیا۔ اب وہ زندہ رہتا تھا جو پہلے گولی چلاتا تھا، نہ کہ وہ جو زیادہ سچا یا زیادہ بہادر ہوتا تھا۔
انصاف کا مطلب قانون سے بدل کر گولی ہو گیا۔ عدالت کی کرسی سے زیادہ اہم وہ بیلٹ بن گئی جس میں ریوالور ٹنگا ہوتا تھا۔
کولٹ سے پہلے لوگ ہتھیار سے نہیں، کردار سے ڈرتے تھے۔ کولٹ کے بعد لوگ کردار سے نہیں، ہتھیار سے ڈرنے لگے۔
امریکہ میں ریوالور نے نہ صرف نوآبادیاتی نظام کو مستحکم کیا، بلکہ غلامی کی تحریکوں کو بھی دبایا۔ پولیس فورس نے اسے اختیار کا نشان بنایا۔ پھر یہ ہتھیار آہستہ آہستہ پوری دنیا میں پھیلتا گیا۔ آج دنیا کا کوئی ایسا خطہ نہیں جہاں یہ ہتھیار نہ پہنچا ہو، نہ کوئی ایسی قوم جہاں اس کا زخم نہ ہو۔
کولٹ کی ایجاد نے ہر انسان کے اندر چھپا قابیل جگا دیا۔ اب ضمیر کمزور ہے، اور انگلی میں طاقت ہے۔ اب قتل ایک آپشن ہے، اور برداشت ایک مجبوری۔ یہ ہتھیار ہمیں ایک ایسے دور میں لے آیا جہاں دلیل کی جگہ دھماکہ، اور اختلاف کی جگہ گولی نے لے لی۔
یہ سوال ہمیشہ کے لیے کھلا ہے۔ کیا وہ شخص جو ہتھیار بناتا ہے، وہ بھی قاتل ہوتا ہے؟ کیا وہ موجد جو آلہ قتل ایجاد کرے، وہ بھی کسی کا خون بہاتا ہے؟ یا وہ صرف ایک کاروباری ہوتا ہے؟
کولٹ تو مر گیا، مگر اس کی ایجاد آج بھی زندہ ہے۔ اور زندہ ہتھیار کبھی مر نہیں سکتے۔ وہ ہر روز کسی نہ کسی کا خون پی رہے ہوتے ہیں۔
دنیا آج جس دور میں ہے، وہاں آواز صرف اسی کی سنی جاتی ہے جس کے ہاتھ میں ریوالور ہے۔ باقی سب تماشائی ہیں۔ ہم ترقی کے نام پر ہتھیار بیچتے ہیں، امن کے نام پر جنگ کرتے ہیں، اور انصاف کے نام پر گولیاں برساتے ہیں۔
ریوالور محض ایک آلہ نہیں، یہ انسان کی وہ تصویر ہے جو خوف، طاقت، غرور اور خودغرضی سے بنائی گئی ہے۔ سیموئل کولٹ نے شاید یہ سوچا ہو کہ وہ دنیا کو طاقتور بنا رہا ہے، مگر درحقیقت اس نے دنیا کو خوفزدہ کر دیا۔
سیموئل کولٹ نے صرف ریوالور ایجاد نہیں کیا۔ اس نے انسانی ضمیر کو “لوڈ” کر کے دنیا کو “فائر” کرنا سکھایا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں