دھنک نما۔۔سارہ منان

ذہن کے کینوس پر پھیلے لکیروں،لفظوں اور رنگوں کے نمونے ادراک  و آگہی،علم و گیان کے رنگوں میں ڈوبی انگلیوں کا ماحصل ہوتے ہیں۔علمیت کی زیر تکمیل تصویر کے تشنہ نقطوں کو اپنے اپنے انداز سے باہم کرنے کی ہر کوشش،ہر سعی میں،میری تمام تر تعظیم و احترام کے موجب میرے اساتذہ کا مہا کردار ہے۔
انہی فیروزاں چراغوں میں ایک چراغ سر شاہد اقبال ہیں ۔اردو کے استاد جنہیں آرٹسٹ کہنا ان کی ذات کے خاکے کو صحیح رنگ دیتا ہے ۔ایک ہمہ جہت فنکار جو ہر فن میں منفرد ہے۔اگر آرٹ کے عدسے سے دیکھا جائے تو صادقین کی شبیہ بنتی ہے ۔”اکڈیمک صادقین” جوبا ذوق استاد ،بہترین منتظم ، ذی حس انسان ہیں ۔ اگرچہ میرے lexicon پر ان کے فن کے سٹروکس کھوجنا مشکل ہے لیکن میری یہ قلم آرائی ان کے روئیت فن کی کتھا ہے۔

جدیدیت کی یورش میں فارمیٹ ہوتی اردو کا سوفٹ وئیر طلبا کے اندر اصل حالت میں بحال رکھنا، بظاہر سہل نہیں لگتا ،لیکن سر بخوبی یہ کردار نبھا رہے ہیں۔
ان کے پاس موجود مانوس و اجنبی سی بیاض نما کتاب ، شستہ اردو لسانی،شگفتہ و بے ساختہ جملے ان کے لیکچر کے اہم جزو ہیں۔ کتاب مانوس اس لئے کہ ان کی رفیقہ تدریس کی حیثیت سے کلاس میں عموماً ان کے ساتھ ہوتی ہے، اجنبی ہوں کہ اس کے ٹائٹل کی حدود سے آگے دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا ۔ البتہ ظاہری شکل و صورت کی نسبت سے قیاس ہے کہ یہ اردو کی پہلی کتاب ہے، جس کے صفحات کے فٹ نوٹ بیک وقت دیوان و لغت کا منظر پیش کرتے ہوں گے ۔ ان کے پڑھانے کا طریقہ اس طور ممتاز ہے کہ نثر محمد حسین آزاد کی ہو یامشتاق احمد یوسفی کی، شاعری  میر تقی میر کی ہویا انور مسعود کی،تخیل کو متشکل کر کے تاثرات کی روح پھونک دینا ان کی خاصیت ہے۔ خصوصاً غزل میں ابہام و ایلام،رمزیت و ایمائیت کی پرتیں الٹتے ہوئے ناسٹلجیا کی انجانی کیفیت طاری ہوتی محسوس ہوتی ہے۔

شگفتہ مزاجی ان کی کتاب ذات کا عنوان ہے۔ برجستگی کی نیام سے جملوں کی تلوار نوعیت اور کیفیت کے زیراثر نمکینی و شیرنی کی دھار لئے برآمد ہوتی ہے ۔ انگریز مصنفG.Y.T Greig نے اپنی کتابThe psychology of laughter and comedyمیں تین سو سے زائد ایسی کتابوں کا حوالہ دیا ہے جو کامیڈی سے متعلق بحث کرتی ہیں۔
مذکورہ تصنیف میں مزاحیہ فطرت کو اصل میں انسان کے اندر حبس سے لبریز فضا کاشاخسانہ قرار دیا ہے۔
تضمین کاری, لفظوں کے ادل بدل سے بات میں مزاح برپا کر نے ایسی مشترک خصوصیات دیکھ کر انسان کی سطح خیال پرمشتاق احمد یوسفی کا عکس ابھرتا ہے۔
ایک روز کسی گفتگو میں میں نے یوسفی جی کی تحریر “ہوئے مر کے ہم جورسوا”کی مندرجہ ذیل سطر کا حوالہ دیا
“چھوٹوں کو تعظیماً پہلے مر جانا چاہیے”
اس پر یک بہ  یک جواب ملا “بڑوں کو اخلاقاً پہلے مر جانا چاہیے”۔

معروف نقاد نثار احمد فاروقی نے گردو پیش کی بے ہنگم باتوں پر ہنسنے حتی کہ خود اپنابھی خاکہ اڑانے کو گہرے عرفان ذات،معاشرے کے شعور سے مربوط کیا ہے۔ یعنی مزاح دراصل حساس فطرت کا رد عمل ہے۔

غرض ان کے اندر طنز ومزاح کا سلوشن اپنے پیندے میں گہری سنجیدگی کے precipitates لئے ہوئے ہے۔ دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنا اصل میں خدا کا دیعت کردہ فن ہے۔ ان کے کاٹ دار فقروں پر یوسفی جی کے ابن انشا کے لئے لکھے گئے الفاظ ذہن میں آتے ہیں کہ
” بچھو کا کاٹا روتا ہے سانپ کا کاٹا سوتا ہے۔ انشاجی کا کاٹا سوتے میں بھی مسکراتا ہے”

سر کی شخصیت کا ایک رنگ شعر گوئی بھی ہے۔ انقلابی نظریات سے متاثر اپنی مندرجہ ذیل نظم میں بھی وہ روشنیاں، مسکراہٹیں خوشیاں پھیلانے کی بات کرتے ہیں۔۔

سن لو اے زمینی خداؤ
آج یہ نئی نسل کہتی ہے
جھکے ہیں ناں جھکیں گے
شمع ہیں،پھول ہیں
بجھے ہیں نہ بجھیں  گے
روشنی بکھیریں گے
مٹے ہیں نہ مٹے گے
خوشبوئیں پھیلائیں گے
مگر سجیں گے تیری ظالم ہوا کے آگے
اداسیوں کی گھڑیاں بھی ختم ہوں گی
نفرتیں اب محبتیں ہوں گی
فضائیں اب آزاد ہوں گی
مسکراہٹیں آباد ہوں گی
تیری ہوس کو تیرے ہی گلے کا پھندا بنائیں گے
نشان عبرت بنا کے
دنیا کو دکھائیں گے
دیکھ لو اے زمینی خداؤ
کہ نئی نسل اب سنبھل رہی ہے۔

دعا ہے کہ سر شاہد اقبال اردو کے اجالے پھیلانے کو یوں ہی اپنے حصے کی شمع جلاتے رہیں ۔ ان کی شگفتہ   طبع کو دوام ہو۔
دعا ہے کہ اس نام دیو کے باغ میں کبھی شہد کی مکھیاں نہ  آئیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *