آپ کو اندازہ بھی نہیں کہ روزانہ سرکاری ہسپتال کی ایمرجنسی میں کتنے نوجوان لڑکے لڑکیاں خودکشی کی کوشش کے ساتھ آتے ہیں۔ کسی نے گندم کی گولیاں کھائی ہوتی ہیں ، کسی نے رگ کاٹی ہوتی ہے ، کوئی پنکھے سے لٹکا ہوتا ہے۔
یہ سب دیکھ کر یہ سوال بار بار ذہن کی دیواروں سے ٹکراتا ہے کہ آخر یہ نوجوان اپنی جان لینے پہ کیوں تُل گئے۔ آخر کیوں ان میں جینے کی امنگ ختم ہو گئی، انھیں موت اتنی پسند کیوں آنے لگی۔ آخر ان کی عمر ہی کیا ہے کہ یہ اپنی جان لینے کا فیصلہ کر لیں۔
مجھے تو ایسا لگتا ہے انھیں اندر کی گھٹن اس نہج تک لے آتی ہے۔ کسی شدید خواہش کے پورا نہ پانے کی گھٹن ، کسی دوسرے کے خود کو نہ سمجھ پانے کی گھٹن ، اپنے مختلف ہونے کے عذاب کی گھٹن ، کسی اپنے کے رویے سے ملے دکھ کی گھٹن اور ایسی ہر گھٹن کے نہ کہہ پانے کی محرومی انھیں اس نہج پہ لے آتی ہے کہ ان کے سامنے زندگی اپنی وقعت کھو دیتی ہے۔ وہ اس زندگی کو ختم کر کے اپنی تکلیف ، اپنی گھٹن سے نجات پانا چاہتے ہیں۔
کبھی آپ نے سوچا کہ آپ کے نوجوان بچوں کی ضروریات کیا ہیں؟ کیا صرف روٹی کپڑا مکان ان کی ضروریات کے لیے کافی ہے؟ بلوغت کے وقت اور اس سے اگلے دس بارہ سال کے لیے ان کے جسم میں جو ہارمونز کا طوفان آتا ہے ، وہ کس طرح ان پہ جسمانی اور جذباتی طور پہ اثر انداز ہوتا ہے۔ آپ نے کبھی سوچا کہ جوان ہوتے بچے کی جسمانی ضروریات کیسے بدلتی ہیں ، اس کے اندر جنسی خواہشات کیسے پروان چڑھتی ہیں۔ وہ کیوں اس عمر میں تھرل حاصل کرنے کے لیے اوٹ پٹانگ حرکتیں کرنے لگتا ہے، وہ اوٹ پٹانگ حرکتیں بائیک کی ون ویلنگ ہو یا والدین سے بلاوجہ کی بغاوت ۔۔ کیا آپ نے کبھی اپنے جوان ہوتے بچوں کی ضروریات کو سمجھنے کی کوشش کی؟
یہ جذباتی عمر ہے ، شدید حساسیت کی عمر ہے ، اس عمر میں نوجوان دوراندیشی سے نہیں سوچتے۔ ان کے نزدیک چھوٹی چھوٹی باتیں زندگی موت کا مسئلہ بن جاتی ہیں۔ کوئی میٹرک کا رزلٹ اچھا نہ آنے پہ خودکشی کر لیتا ہے ، کوئی پسند کا رشتہ نہ ہونے پہ۔ کسی کو دوست کا روٹھنا اپنی جان لینے پہ مجبور کر دیتا ہے تو کسی کو اپنے جنسی رجحانات زندگی ختم کرنے پہ مائل کر دیتے ہیں۔
کیا آپ نے کبھی اپنے بچوں کا علاج کروایا ہے؟ علاج کرواتے ہوئے کبھی انھیں ٹیکا لگوایا ہے؟ کیا وہ ٹیکا لگواتے ہوئے بچے کو تکلیف نہیں ہوتی؟ لیکن آپ پھر بھی بچے کو وہ ٹیکا لگواتے ہیں، اسے سمجھا کر ، لالچ دے کر ، تھوڑا ڈانٹ کر ، سارے حربے استعمال کر کے اسے تکلیف پہنچاتے ہیں تاکہ وہ کسی بڑے نقصان سے بچ جائے۔ لیکن آپ بچے کو یہ احساس ضرور دلاتے ہیں کہ یہ تکلیف اس کے فائدے کے لیے ہے۔ اگر وہی بچہ نوجوانی میں اپنی کسی شدید خواہش کا اظہار کرتا ہے اور آپ اسے پورا نہیں کر سکتے تو اسے دھتکاریے مت۔ اس کی خواہش پوری کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے لالچ دیجیے، سمجھائیے، ڈانٹیے، مگر اسے احساس ضرور دیجیے کہ خواہش کے ٹوٹنے کی یہ تکلیف اس کے فائدے کے لیے ضروری ہے۔ اسے بتائیے کہ آپ اس کی خواہش کو سمجھ رہے ہیں، اس کی تکلیف کو سمجھ رہے ہیں، آپ اس کے ساتھ ہیں لیکن یہ خواہش اس کے لیے درست نہیں۔
اس کے اندر گھٹن نہ اکٹھی ہونے دیجیے ورنہ یہ گھٹن اسے کسی بھی غلط رستے پہ لا سکتی ہے ، اس سے کوئی بھی نقصان کروا سکتی ہے۔ وہ اپنی پسند کا رشتہ بتاتا ہے تو اسے اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائیے ، اس رشتے کو اچھی طرح دیکھ بھال لیجیے۔ وہ اپنے جذباتی مسائل بتاتا ہے تو انھیں نظر انداز نہ کیجیے۔ اس کی طرف ہمدردی کا ہاتھ بڑھائیے۔ اگر اس سے کوئی جذباتی جنسی غلطی ہو گئی ہے تو اس پہ قہر بن کر مت ٹوٹیے ، اس کی صورت حال کو سمجھ کر اس سزا دیجیے، اسے بہتری کی طرف لائیے۔ آپ کا نوجوان بچہ ہیجڑہ نکل آتا ہے یا کوئی ہم جنس پرست، اسے اس کی صورت حال کے مطابق سمجھیے۔ اسے صحیح غلط کی تفریق بتائیے، اسے اس کی حدود سمجھائیے۔ اس کی تذلیل کر کے اس کے اندر وہ گھٹن نہ اکٹھی کیجیے جو اسے خودکشی کی طرف لے جائے۔ آپ کا بچہ پیپر میں ناکام ہو جاتا ہے یا کسی رزلٹ میں فیل ہو جاتا ہے تو اس کی ناکامی کو کھلے دل سے قبول کیجیے، وہ اگر پہلے ہی دکھی ہے تو اس پہ مزید بوجھ مت لادیے۔
پسند کی شادی سے لے کر امتحانات میں ناکامی تک، اگر آپ اپنے بچے کو نہیں اپنائیں گے تو وہ اپنی جان لینے کی طرف بڑھے گا یا باغی ہو کر گھر سے بھاگ جائے گا۔ جو دونوں کام نہیں کر سکے گا وہ گھٹ گھٹ کر نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو جائے گا اور زندگی بھر نفسیاتی معاملات سے لڑتا ہی رہے گا۔ اپنے بچوں کو، اپنے نوجوانوں کو تباہ ہونے سے بچائیے، انھیں سمجھیے ، انھیں عزت دیجیے، اہمیت دیجیے، انھیں تنہا مت کیجئے ، ان کے اندر گھٹن مت اکٹھی ہونے دیجیے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں