فلسفے، سائنس اورمذہب کے درمیان پائے جانے والے مختلف تنازعات میں بنیادی جھگڑا علم کی اقسام کا ہے۔ ایک گروہ کا دعویٰ ہے کہ علم کی واحد قسم عقلی ہے اورتجربی علم بھی بنیادی طورپر عقلی ہے، یعنی تجربی مشاہدات کو سمجھنے اور ان سے نتائج اخذ کرنے کے لیے عقلی فریم ورک کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسرے گروہ کا کہناہے کہ نہیں عقلی وتجربی دونوں الگ الگ علم ہیں۔ تیسرا گروہ کہتاہے کہ علم کی ایک تیسری قسم وجدانی علم بھی ہے۔ اس گروہ کے کچھ لوگوں کا کہناہے کہ وجدانی علم حقیقی ہے اور یہ صرف ارتقائےحیات کا نتیجہ ہے۔ اسی گروہ کے کچھ اورلوگوں کا کہناہے کہ وجدانی علم کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جو ارتقائے حیات کا نتیجہ ہے اور دوسرا وہ جو وحی کی صورت انبیأ کو عطاہوتاہے۔ اسی گروہ میں لوگوں کی ایک تیسری قسم بھی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ وحی اور وجدان میں ماہیت کا کوئی فرق نہیں، صرف نوعیت کا فرق ہے، یعنی وہی چیز صاحب الہام کے لیے وجدانی علم ہے جو انبیأ کے لیے وحی کہلاتی ہے۔ لیکن اس کا مخالف گروہ کہتاہے، فرق ماہیت کا بھی ہے اور نوعیت کا بھی۔ صوفی کا الہام ایک آوارہ خیال یا خواب جیسی چیزہے ، جبکہ نبی کی وحی خالقِ کائنات کا براہِ راست ربط و مکالمہ ہے۔ ایک اورگروہ دعویٰ کرتاہے حقیقی علم صرف وحی کا علم ہے، باقی تمام اقسامِ علم غیرحقیقی بایں ہمہ باطل ہیں۔

اسی لیے مختصراً عرض کردیاتھاکہ فلسفے، سائنس اورمذہب کے درمیان پائے جانے والے مختلف تنازعات میں بنیادی جھگڑا علم کی اقسام کا ہے۔ یعنی اگر کسی طرح کوئی ایک گروہ کسی دوسرے گروہ کے نظریۂ علم کو درست مان لے ان کے درمیان یہ جھگڑا باقی نہیں رہےگا۔
لیکن یہ مباحث فلسفیوں کے درمیان جب گہرے سے گہرے ہونا شروع ہوتے ہیں تو بہت سے ایسے سوالات بھی سامنے آنے لگتےہیں جنہیں بظاہر معمولی سمجھاجاتا تھا یا ’’سمجھا ہی نہیں جاتاتھا‘‘۔ ان سوالات میں ایک سوال عقلِ خالص یا عقلِ محض(Pure Reason) کا بھی ہے۔ عقلِ خالص کا نہایت نمایاں اورتفصیلی تجزیہ جرمن فلسفی ایمانوئل کانٹ نے اپنی کتاب، ’’تنقیدِ عقلِ محض(Critique of Pure Reason)‘‘ میں کیا ہے۔ عام طورپر تسلیم کیا جاتاہے کہ کانٹ نے بالآخر عقلِ خالص یا عقلِ محض کی حدود کا حتمی طورپر تعین کردیا۔ لیکن پہلاسوال تو یہ ہے کہ عقلِ خالص کہتے کسے ہیں؟
عقلِ خالص کی ترکیب سے عمومی مفہوم یہی اخذ کیا جاتا ہے کہ عقلِ خالص وہ عقل ہے جو جذبات، احساسات، یا خواہشات کے اثرات سے پاک ہو ، مثلاً کمپیوٹر یا مصنوعی ذہانت (AI) کی ’’عقل‘‘ جیسی، یعنی ایک ایسی عقل جو محض ریاضیاتی، منطقی اور تجزیاتی عمل پر قائم ہو، بغیر کسی داخلی جذبے یا وابستگی کے۔ لیکن کانٹ کے ہاں “عقلِ خالص” کا یہ مفہوم درست نہیں۔
کانٹ کے نزدیک عقلِ خالص وہ فیکلٹی ہے جو تجربے سے پہلے ہی کچھ ایسے تصورات رکھتی ہے جن کے بغیر کوئی بھی تجربہ ممکن ہی نہیں، جیسے زمان و مکان، اور علیّت (Causality)۔ کانٹ کے الفاظ کا انگریزی مفہوم کچھ یوں ہے،
“Causality is not derived from experience, but is the condition for experience”
یہ وہ عقلی ساخت ہے جو صرف انسانی ذہن کو حاصل ہے۔ اس بات کو ہم فلسفے کی بجائے لسانیات کی ایک جدید مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتےہیں۔ انسانی دماغ میں بعض حصے صرف زبان کے ادراک کے لیے مختص ہیں، جیسے بروکا ایریا (جو بولنے کے عمل سے متعلق ہے) اور ورنیکا ایریا (جو مفہوم سمجھنے سے تعلق رکھتا ہے)۔ اگر بروکا ایریا متاثر ہو تو شخص بولنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے، اور اگر ورنیکا کو نقصان ہو تو وہ سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے۔ توجس طرح انسانی دماغ کے یہ حصے کام کرتے ہیں، یعنی ہرانسان پیدائشی طورپر بولنے اور بامعنی انداز میں بولنے کی صلاحیت رکھتاہے، بعینہ اسی طرح انسانی دماغ کی کچھ اور بھی ایسی صلاحتیں ہیں جن کے لیے اسے کسی سے سیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ پیدائش کے بعد چند ہی دنوں یا مہینوں میں انسانی بچے میں وہ صلاحیتیں ظاہرہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ ان صلاحیتوں میں علیّت(causality) اورزمان و مکاں کا علم بھی شامل ہے۔
علیّت یا کازیلٹی ، علت و معلول یا کاز اینڈ ایفیکٹ کا علم ہے۔ انسانی بچہ اپنی نشوونماکے آغاز میں ہی جان جاتاہے کہ کچھ چیزوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے سے کچھ اور چیزیں ہوجاتی ہیں۔ جیسے آگ کے شعلے کو چھونے سے ہاتھ جل جاتاہے، یا بٹن دبانے سے کھلونا گانے لگتاہے، وغیرہ۔ وہ جان جاتاہے کہ ایک چیز دوسری چیز کا سبب بن سکتی ہے۔ چنانچہ بچہ شروع میں ہی سیکھ لیتاہے کہ ہرعمل کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ہوتاہے۔ اب علت و معلول کا یہ تعلق کسی ایک آدھ علت یا ایک آدھ معلول کی حدتک تو بندروں اور کوّوں میں بھی دیکھاگیاہے، لیکن اسباب کی پوری فہرست جو کسی زنجیر کی طرح مرتب کی جائے ، یہ صرف انسانی دماغ کا ہی خاصہ ہے۔ انسان کی بنائی ہوئی ایک عام مشین اس کی بہترین مثال ہے، جس میں ہرپرزہ کسی نہ کسی مرحلے پر علت و معلول کی صورت کام کررہاہے اور اسباب و علل کا یہ سلسلہ کسی زنجیر کی طرح مربوط ہے۔ چنانچہ انسان کی اس صلاحیت پر فلسفیوں کے درمیان دوقسم کی آرأ پائی جاتی ہیں۔
نمبرایک یہ کہ نومولود کا ذہن خالی سلیٹ(Tabula Rasa) کی طرح ہوتاہے اورجوں جوں وہ علت و معلول کا مشاہدہ کرتا جاتاہے اس کے ذہن میں علت و معلول کا علم داخل ہوتاجاتاہے اور اس لیے ایسا کوئی علم پیدائش طورپر انسان کو نہیں ملا ہوا۔ اس نظریے کے ماننے والوں میں ڈیوڈ ہیوم اور جان لاک وغیرہ مشہور ہیں۔
نمبردو یہ کہ نہیں، علم کے پارچے یعنی جزیات تو ظاہر ہے نہیں ملے، لیکن دماغ کی بناوٹ میں ایسے اجزأ ضرور رکھے گئے ہیں جن کی موجودگی میں ہی علت و معلول اورزمان و مکاں کا ادراکی علم ظاہرہوسکتاہے۔ یعنی دماغ کے وہ حصے اور ان میں موجود وہ خاص اجزأ ہی دراصل علت و معلول کی شناخت کرتے ہیں اور اس علم کا تعلق مشاہدے یا تجربے کے ساتھ نہیں ہے۔ یہ کانٹ کے خیالات ہیں اور جدید نیوروسائنس اس کے بعض پہلوؤں کی کی تائید کرتی ہے۔ کانٹ کے بقول:
“Causality is not derived from experience, but is the condition for experience”
یہ جو دوسرا مؤقف ہے، اس مؤقف کے ماننے والوں میں یہ نظریہ پایا جاتاہے کہ عقل کی ایک قسم خالص بھی ہے۔ یہ وہ قسم ہے جو انسان کو پیدائشی طورپر عطاہوئی ہے اور اس کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ اس میں کلیات (Universals) کا علم پہلے سے موجود ہے۔ جدید دور میں نوم چومسکی وہ ماہرِ لسانیات ہے جس نے اس کے ساتھ ملتا جلتا نظریہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ الفاظ و معانی کی تشکیل کا عمل انسانی دماغ کی مخصوص ساخت کا نتیجہ ہے۔ نوم چومسکی کے اس نظریہ کو ’’جنریٹوزم‘‘ اور’’یونیورسل گرامر ‘‘ کا نظریہ کہاجاتاہے۔ یوں گویا نوم چومسکی بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ ماقبل تجربی(a priori) علم وجود رکھتاہے۔
یہاں نوم چومسکی کے جنریٹوزم کی مثال کواگربنظرِ غائردیکھیں تو کچھ کچھ احساس ہونے لگتاہے کہ علم کی یہ قسم ’’وجدانی علم‘‘ سے زیادہ دُور نہیں ہے۔ جس طرح بچے کے ابتدائی مہینوں میں ہی اس پر زمان و مکاں اورعلت و معلول اس پر کھلنا شروع ہوجاتے ہیں ، یا وہ یونیورسل گرامر کے افعال و اسمأ کو پہچاننے لگتا ہے، تو اس سے ایسا لگتاہے کہ یہی تو وجدانی علم ہے۔ دراصل وجدانی علم اور عقلِ خالص ایک چیز نہیں ہیں اور ان میں بہت فرق ہے، لیکن یہ بہرحال طے ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کی کسی نہ کسی درجے میں تائید ضرور کرتے ہیں۔
وجدانی علم کو ارتقائے حیات کا نتیجہ قرار دینے والوں میں برگسان کا نام نمایاں ہے۔ برگساں کے مطابق، عقل بھی ارتقائے حیات کا نتیجہ ہے جو ہمیں مادی دنیا کو سمجھنے اور اس میں عمل کرنے کے قابل بناتا ہے۔ عقل اشیاء کو تقسیم کرتی ہے، انہیں جامد تصورات میں ڈھالتی ہے، اور ہمیں ان پر قابو پانے کے لیے تجزیاتی سوچ فراہم کرتی ہے۔ سائنس اسی عقلی طریقے پر مبنی ہے۔ عقل ہمیں دنیا کے ’’خارجی‘‘ اور ’’مفید‘‘ پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے، لیکن یہ زندگی کے مسلسل بہاؤ (duration) اور اس کی حقیقی ماہیت کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتی۔ برگساں کے نزدیک، وجدان جبلت (Instinct) کی ہی ایک اعلیٰ اور خود آگاہ شکل ہے۔ جس طرح جبلت کسی جاندار کو اپنے ماحول میں بقا کے لیے ضروری علم اور عمل فراہم کرتی ہے، اسی طرح وجدان اس جبلت کی توسیع ہے جو خود کو سمجھ سکتی ہے، اپنے مقصد پر غور کر سکتی ہے اور اسے لامحدود وسعت دے سکتی ہے۔ وجدان ہمیں حقیقت کی ’’اندرونی‘‘ اور ’’مستقل‘‘ فطرت تک براہ راست رسائی فراہم کرتا ہے۔ یہ ہمیں Élan vital کے مسلسل بہاؤ اور زندگی کی اصلیت کو براہ راست محسوس کرنے کی صلاحیت دیتا ہے، جو عقل کے لیے ممکن نہیں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں